اب حلق سے اترنے کے بعد تو ظاہر ی نگاہوں میں بھی پینے والے کا اپنا کوئی کام نہیں ،خون میں اس کا ملنا اور خون کا اسے لے کر دورہ کرنا اور دورہ میں قلب تک پہنچنا اور وہاں جاکر اسے فاسد کردینا یہ کوئی فعل نہ اس کے ارادے سے ہے نہ اس کی طاقت سے بہتیرے زہر پی کر نادم ہوتے ہیں ، پھر ہزار کوشش کرتے ہیں جو ہونی ہے ہوکر رہتی ہے ۔ اگر اس کے ارادہ سے ضرر ہوتا تو اس ارادہ سے باز آتے ہی زہر باطل ہوجانا لازم تھا، مگر نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے اثر ہے پھر اس سے کیوں باز پرس ہوتی ہے ؟ ہاں ، باز پرس کی وہی وجہ ہے کہ شہد اور زہر اسے بتادیے تھے ، عالی قدر حکمائے عظام کی معرفت سے نفع نقصان جتادیے تھے ، دست ودہاں وحلق اس کے قابو میں کردیے تھے ، دیکھنے کو آنکھ ،سمجھنے کو عقل اسے دے دی تھی ، یہی ہاتھ جس سے اس نے زہر کی پیالی اٹھا کر پی ، جام شہد کی طرف بڑھاتا اللہ تعالی اسی کا اٹھنا پیداکردیتا ، یہاں تک کہ سب کام اول تا آخر اسی کی خلق و مشیت سے واقع ہو کر اس کے نفع کے موجب ہوتے مگرا س نے ایسا نہ کیا بلکہ کاسہ زہر کی طرف ہاتھ بڑھایا ور اس کے پینے کا عزم لایا وہ غنی بے نیاز دونوں جہان سے بے پروا ہے وہاں تو عادت جاری ہورہی ہے کہ یہ قصد کرے اور وہ خلق فرمادے ، اس نے اسی کا سہ کا اٹھنا اور حلق سے اترنا دل تک پہنچنا وغیرہ وغیرہ پیدا فرمادیا پھر یہ کیونکر بے جرم قرار پا سکتا ہے۔ انسان میں یہ قصد و ارادہ واختیار ہونا ایسا واضح و روشن وبدیہی امر ہے جس سے انکار نہیں کرسکتامگر مجنون ، ہر شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں اور پتھر میں ضرور فرق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان کےچلنے پھرنے ،کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے وغیرہ وغیرہ افعال کے حرکات ارادی ہیں ہر شخص آگاہ ہےکہ انسان کا کام کرنے کے لئے ہاتھ کو حرکت دینا اور وہ جنبش جو ہاتھ کو رعشہ سے ہو ، ان میں صریح فرق ہے ہر شخص واقف ہےکہ جب وہ اوپر کی جانب جست کرتا اوراس کی طاقت ختم ہونےپر زمیں پر گرتا ہے ان دونوں حرکتوں میں تفرقہ ہے اوپر کودنا اپنے اختیار و ارادہ سے تھا اگر نہ چاہتا نہ کودتا اور یہ حرکت تما م ہوکر اب زمیں پر آنا اپنے ارادے واختیار سے نہیں۔
ولہذا اگر رکنا چاہے تو نہیں رک سکتا ، بس یہی ارادہ ، یہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانا، یہی مدار امر و نہی وجزا وسزا وعقاب وپرسش وحساب ہے ، اگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقینا یہ ارادہ واختیار بھی اللہ عزوجل ہی کا پیدا کیا ہو ا ہے جیسے انسان خود بھی اسی کا بنایا ہوا ہے آدمی جس طرح نہ آپ سے آپ بن سکتا تھا نہ اپنے لئے آنکھ ، کان ، ہاتھ، پاؤں ،زبان وغیرہا بنا سکتا تھا ، یو نہی اپنے لئے طاقت ، قوت ،ارادہ ،اختیار بھی نہیں بنا سکتا ، سب کچھ اس نے دیا اور اسی نے بنایا ، مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ جب ہمارا ارادہ و اختیار بھی خدا ہی کا مخلوق ہے تو پھر ہم پتھر ہوگئے قابل سزاوجزاوباز پرس نہ رہے ، کیسی سخت جہالت ہے ، صاحبو ! تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ؟ ارادہ و اختیار ، تو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ ۔ صاحب اختیار ہوئے یا مضطر ، مجبور ،ناچار ،صاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھا، یہ کہ وہ ارادہ واختیار نہیں رکھتا اور تم میں اللہ تعالی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیا ،اسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے ؟ اللہ تعالی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے ہوئے نہ کہ معاذاللہ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئے ،نہ کہ الٹے مجبور۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ جب وقتا فوقتا ہر فرد اختیار بھی اسی کی خلق اسی کی عطا ہے ہماری اپنی ذات سے نہیں تو مختار کردہ ہوئے خود مختار نہ ہوئے پھر اس میں کیا حرج ہے ؟ بندے کی شان ہی نہیں کہ خودمختار ہوسکے نہ جزا وسزا کے لئے خود مختار ہونا ہی ضرور ۔ ایک نوع اختیار چاہیے ، کس طرح ہو ، وہ بداہۃ حاصل ہے۔
آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام ۔ اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اللہ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد (سرکشی) والے مذموم وملزم ہو کر سزا پائیں گے۔
پھر بھی جب تک ایمان باقی ہے
یغفرلمن یشاء ۔ ۱
(جسے چاہے بخش دے ۔ت) باقی ہے۔
(القرآن الکریم ۲ / ۲۸۴)
والحمد للہ رب العٰلمین ، لہ الحکم و الیہ ترجعون ۔
اور سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا ، حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تمھیں لوٹنا ہے۔(ت)
قرآن عظیم میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان اشخاص کو زیادہ ہدایت نہ کرو ۔۔۔۔ ہاں یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہدایت ضلالت سب اس کے ارادہ سے ہے ، اس کا بیان بھی ہوچکا اور آئندہ ان شاء اللہ تعا لی اور زیادہ واضح ہوگا۔
نیز فرمایا:
ان الذین کفروا سواء علیہم ء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون۔ ۱
وہ علم الہی میں کافر ہیں انھیں ایک سا ہے چاہے تم ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
(۱ القرآن الکریم ۲ / ۶)
ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام جہان کے لئے رحمت بھیجے گئے جو کافر ایمان نہ لاتے ان کا نہایت غم حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ہوتا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
فلعلک باخع نفسک علی اٰثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا ۔ ۲
شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان پر کھیل جاؤگئے اس غم میں کہ وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں ۔
(۲ القرآن الکریم ۱۸ / ۶)
لہذا حضور کی تسکین خاطر اقدس کو یہ ارشاد ہوا ہےکہ جو ہمارے علم میں کفر پر مرنے والے ہیں والعیاذ باللہ تعالی وہ کس طرح ایمان نہ لائیں گے ، تم اس کا غم نہ کرو۔لہذا یہ فرمایا کہ تمھارا " سمجھانا نہ سمجھانا "ان کو " یکساں ہے ۔ یہ نہیں فرمایا کہ " تمھارے حق میں " یکساں ہے ، کہ ہدایت معاذاللہ امر فضول ٹھرے ۔ ہادی کا اجر اللہ پر ہے ، چاہے کوئی مانے نہ مانے ۔
وما علی الرسول الا البلاغ المبین ۔ ۳
اور رسول کےذمہ نہیں مگر صاف پہنچادینا (ت)
(۳ القرآن الکریم ۲۴ /۵۴)
وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العالمین ؕ۴
اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا ، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہاں کا رب ہے .
(۴القرآن الکریم ۲۶/ ۱۰۹)
اللہ خوب جانتا ہے اور آج سے نہیں ازل الآزال سے کہ اتنے بندے ہدایت پائیں گے اور اتنے چاہ ضلالت میں ڈوبیں گئے،مگر کبھی اپنے رسولوں کو ہدایت سےمنع نہیں فرمایا کہ جو ہدایت پانے والے ہیں ان کے لئے سبب ہدایت ہوں اور جو نہ پائیں ان پر حجت الہیہ قائم ہو ۔
وللہ الحجۃ البالغۃ
(اور اللہ ہی کی حجت پوری ہے ۔ت)
ابن جریر عن انس رضی اللہ تعالی عنہ قال لما بعث اللہ تعالی موسی علیہ الصلاۃ والسلام الی فرعون نودی لن یفعل ، فلم افعل ؟ فقال فناداہ اثنا عشر ملکا من علماء الملئکۃ : امض لما امرت بہ ، فانا جھدنا ان نعلم ھذا فلم نعلمہ ۔۱
ابن جریر نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ جب سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو مو لی عزوجل نے رسول کرکے فرعون کی طرف بھیجا موسی علیہ السلام چلے تو ندا ہوئی مگر اے موسی فرعون ایمان نہ لائے گا ، موسی نے دل میں کہا پھر میرے جانے سے کیا فائدہ ہے ؟ اس پر بارہ علماء ملائکہ عظام علیہم السلام نےکہا اے موسی آپ کو جہاں کا حکم ہے جائیے ، یہ وہ راز ہے کہ باوصف کوشش آج تک ہم پر بھی نہ کھلا ۔
(۱)
اور آخر نفع بعثت سب نے دیکھ لیا کہ دشمنان خدا ہلاک ہوئے ،دوستان خدا نے ان کی غلامی ، ان کے عذاب سے نجات پا ئی ایک جلسے میں ستر ہزار ساحر سجدہ میں گرگئے اور ایک زبان بولے :
اٰمنا برب العالمین رب موسی وھارون ۲
ہم اس پر ایمان لائے جو رب ہے سارے جہاں کا ، رب ہے موسی وہارون کا .
(۲ القرآن الکریم ۷/ ۱۲۱و۱۲۲)
مولی عزوجل قادر تھا اور ہے کہ بے کسی نبی وکتاب کے تمام جہان کو ایک آن میں ہدایت فرمادے۔
ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی فلا تکونن من الجٰھلین ۳
اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے ! تو ہرگز نادان نہ بن ۔
(۳ القرآن الکریم ۶/ ۳۵)
مگر اس نے دنیا کو عالم اسباب بنایا ہے اور ہر نعمت میں اپنی حکمت بالغہ کے مطابق مختلف حصہ رکھا ہے وہ چاہتا تو انسان وغیرہ جانداروں کو بھوک ہی نہ لگتی ، یا بھوکے ہوتے تو کسی کا صرف نام پاک لینے سے ، کسی کا ہوا سونگھنے سے پیٹ بھرتا ، زمین جوتنے سے روٹی پکانے تک جو سخت مشقتیں پڑتی ہیں کسی کو نہ ہوتیں ،مگر اس نے یونہی چاہا اور اس میں بھی بے شمار اختلاف رکھا کسی کو اتنا دیا کہ لاکھوں پیٹ اس کے در سے پلتے ہیں، اورکسی پر اس کے اہل وعیال کے ساتھ تین تین فاقےگزرتے ہیں ۔
غرض ہر چیز میں
اھم یقسموں رحمۃ ربک ۔ نحن قسمنا بینھم ۴
( کیا تمھارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ،ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا ۔ت)
(۴ القرآن الکریم ۴۳/ ۳۲)
کی نیرنگیاں ہیں۔ احمق ،بد عقل،یا اجہل بددین وہ اس کے ناموس میں چون وچرا کرےکہ یوں کیوں کیا یوں کیوں نہ کیا؟ سنتا ہے اس کی شان ہے
یفعل اللہ مایشاء ۵
اللہ جو چاہے کرتا ہے
(۵ القرآن الکریم ۱۴ / ۲۷)
اس کی شان ہے
ان اللہ یحکم مایرید ۶
اللہ جو چاہے حکم فرماتا ہے ۔
(۶ القرآن الکریم ۵ /۱)
اس کی شان ہے
لا یسئل عما یفعل وھم یسئلون ۱
وہ جو کچھ کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں اور سب سے سوال ہوگا
(۱القرآن الکریم ۲۱ /۲۳)
زید نے روپے کی ہزار اینٹیں خریدیں ، پانچسو ۵۰۰ مسجد مں لگائیں، پانسو ۵۰۰ پاخانہ کی زمین اور قد مچوں میں کیا اس سے کوئی الجھ سکتا ہے کہ ایک ہاتھ کی بنائی ہوئی ، ایک مٹی سے بنی ہوئی ،ایک آوے سے پکی ہوئی ایک روپے کی مول لی ہوئی ہزار اینٹیں تھیں ، ان پانسو میں کیا خوبی تھی کہ مسجد میں صرف کیں ، اور ان میں کیا عیب تھا کہ جائے نجاست میں رکھیں اگر احمق اس سے پوچھے بھی تو وہ یہی کہے گا کہ میری ملک تھیں میں نے جو چاہا کیا۔
جب مجازی جھوٹی ملک کا یہ حال تو حقیقی سچی ملک کا کیا پوچھنا۔ ہمارا اور ہماری جان ومال اور تمام جھان کا وہ ایک اکیلا پاک نرالا سچا مالک ہے۔ اس کے کام ، اس کے احکام میں کسی کو مجال دم زدن کیا معنی ! کیا کوئی اسکا ہمسر یا اس پر افسر ہے جو اس سے کیوں اور کیا کہے۔مالک علی الاطلاق ہے ، بے اشتراک ہے ، جو چاہا کیا اور جو چاہے کرے گا، ذلیل فقیر بے حیثیت حقیر اگر بادشاہ جبار سے الجھے تو اسکا سر کھجایا ہے ، شامت نے گھیرا ہے اس ہر عاقل یہی کہے گا کہ او بد عقل ، بے ادب !اپنی حد پر رہ ، جب یقینا معلوم ہے کہ بادشاہ کمال عادل اور جمیع کمال صفات میں یکتا وکامل ہے تو تجھے اس کے احکام میں دخل دینے کی کیا مجال!
گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش نظام مملکت خویش خسرواں دانند ۲
(تو خاک نشینی گداگر ہے اے حافظ ! شور مت کر ، اپنی سلطنت کے نظام کو بادشاہ جانتے ہیں ت)
(۲ دیوان حافظ ردیف شین معجمہ سب رنگ کتا ب گھر دہلی ص ۲۵۸)
افسوس کہ دنیوی ، مجازی ،جھوٹے بادشاہوں کی نسبت تو آدمی کو یہ خیال ہو اور ملک الملوک بادشاہ حقیقی جل جلالہ کے احکام میں رائے زنی کرے ، سلاطین تو سلاطین اپنا برابر زئی بلکہ اپنے سے بھی کم رتبہ شخص بلکہ اپنا نوکر یا غلام جب کسی صفت کا استاد ماہر ہو اور خود یہ شخص اس سے آگاہ نہیں تو اس کے اکثر کاموں کو ہر گز نہ سمجھ سکے گا، یہ اتنا ادراک ہی نہیں رکھتا ، مگر عقل سے حصہ ہے تو اس پر معترض بھی نہ ہوگا۔ جان لے گا کہ یہ اس کام کا استاد وحکیم ہے ، میرا خیال وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔
غرض اپنی فہم کو قاصر جانے گانہ کہ اس کی حکمت کو ۔ پھر رب الارباب ، حکیم حقیقی ، عالم السر والخفی عزجلالہ کے اسرار میں خوض کرنا اور جو سمجھ میں نہ آئے اس پر معترض ہونا اگر بے دینی نہیں جنون ہے۔ اگر جنون نہیں بے دینی ہے ،
والعیاذ باللہ رب العالمین۔
اے عزیز ! کسی بات کو حق جاننے کےلئے اس کی حقیقت جاننی لازم نہیں ہوتی ، دنیا جانتی ہے کہ مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے ، اور مقناطیسی قوت دیا ہوا لوہاستارہ قطب کی طرف توجہ کرتا ہے۔ مگر اس کی حقیقت و کنہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس خا کی لوہے اور اس افلاکی ستارے میں کہ یہاں سے کروڑوں میل دور ہے باہم کیاالفت ؟ اور کیونکر اسے اس کی جہت کا شعور ہے ؟ اور ایک یہی نہیں عالم میں ہزاروں ایسے عجائب ہیں کہ بڑے بڑے فلاسفہ خاک چھان کر مرگئے اور ان کی کنہ نہ پائی۔ پھر اس سے ان باتوں کا انکار نہیں ہوسکتا ،آدمی اپنی جان ہی کو بتائے وہ کیا شیئ ہے جسے یہ " میں " کہتا ہے ، اور کیا چیز جب نکل جاتی ہے تو یہ مٹی کا ڈھیر بے حس وحرکت رہ جاتاہے۔