اور ہر امر کے ثبوت میں اکثر آیات قرآنی موجود ہیں ، تو پس کیونکر خلاف مشیت پروردگار کوئی امر ظہور پذیر ہوسکتا ہے ، کیونکہ مشیت کے معنی ارادہ پروردگار عالم کے ہیں ، تو جب کسی کام کا ارادہ اللہ تعالی نے کیا تو بندہ اس کے خلاف کیونکر کرسکتا تھا۔ اور اللہ نے جب قبل پیدائش کسی بشر کے ارادہ اس کے کافر رکھنے کا کرلیا تھا توا ب وہ مسلمان کیونکر ہوسکتا ہے
کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس امر کی طرف اس کی خواہش ہوگی وہ ہوگا ۔ پس انسان مجبور ہے اس سے باز پرس کیونکر ہوسکتی ہےکہ اس نے فلاں کام کیوں کیا، کیونکہ اس وقت اس کو ہدایت ازجانب باری عزاسمہ ہوگی وہ اختیار کرے گا۔ علم اور ارادہ میں بین فرق ہے، یہاں من یشاء سے اس کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔ پھر انسان باز پرس میں کیوں لایاجائے، پس معلوم ہوا کہ جب اللہ پاک کسی بشر کو اہل جنان سے کرنا چاہتا ہے تو اس کو ایسی ہی ہدایت ہوتی ہے۔
الجواب : اللھم ھدایۃ الحق والصواب ، ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب، رب انی اعوذبک من ھمزات الشیٰطین واعوذ بک رب ان یحضرو ن۔
اے اللہ ! میں تجھ سے حق اور درستگی کا طلبگار ہوں ، اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت دی ، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا کر، بیشک تو ہے بڑا دینے والا، اے میرے رب! تیری پناہ شیاطین کے وسوسوں سے ، اور اے میرے رب ! تیری پناہ اس سے کہ وہ میرے پاس آئیں ۱۲(ت)
اللہ عزوجل نے بندے بنائے ، اور انھیں کان، آنکھ ،ہاتھ ،پاؤں ، زبان وغیرہا آلات و جوارح عطافرمائے اور انھیں کا م میں لانے کا طریقہ الہام کیا۔ اور ان کے ارادے کا تابع وفرماں بردار کردیا کہ اپنے منافع حاصل کریں اور مضرتوں سے بچیں ۔
پھر اعلی درجہ کے شریف جوہر یعنی عقل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حیوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا۔ عقل کو ان امور کے ادراک کی طاقت بخشی ۔ خیر وشر، نفع وضرر یہ حواس ظاہری نہ پہچان سکتے تھے ۔ پھر اسے بھی فقط اپنی سمجھ پر بے کس وبے یاور نہ چھوڑا ، ہنوز لاکھوں باتیں جن کو عقل خودادراک نہ کرسکتی تھی ، اور جن کا ادراک ممکن تھا ان میں لغزش کرنے ،ٹھوکر کھانے سے پناہ کے لئے کوئی زبردست دامن ہاتھ میں نہ رکھتی تھی۔ لہذا انبیاء بھیج کر ، کتابیں اتار کر ذراذرا بات کا حسن و قبح خوب جتاکر اپنی نعمت تمام وکمال فرمادی کسی عذر کی جگہ باقی نہ چھوڑی
" لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل" ۱؎
(کہ رسولوں کے بعداللہ کے یہاں لوگوں کو کوئی عذر نہ رہے ت)
(۱ القرآن الکریم ۴/ ۱۶۵)
حق کا راستہ آفتاب سے زیادہ واضح ہوگیا ۔ ہدایت وگمراہی پر کوئی پردہ نہ رہا
" لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی" ۔۱
کچھ زبردستی نہیں دین میں بے شک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے (،ت)
(۱القرآن الکریم ۲ / ۲۵۶)
باایں ہمہ کسی کا خالق ہونا، یعنی ذات ہو یا صفت ، فعل ہو یاحالت ، کسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینا، یہ اسی کاکام ہے ، یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھا، کہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیں ، ایک نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکے ، ہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہے ، ہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیرے ،مولا تعالی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے مثلا اس نے ہاتھ دئےان میں پھیلنے ،سمٹنے ،اٹھنے ، جھکنے کی قوت رکھی ، تلوار بنائی ، اس میں دھار ، اور دھار میں کاٹ کی قوت رکھی ۔ اس کا اٹھانا ،لگانا ، وار کرنا بنایا،د وست دشمن کی پہچان کو عقل بخشی ، اسے نیک وبد میں تمیز کی طاقت عطا کی ، شریعت بھیج کر قتل حق و ناحق کی بھلائی برائی صاف جتادی ۔ زید نے وہی خدا کی بتائی ہوئی تلوار ،خدا کے بنائے ہوئے ہاتھ ،خداکی دی ہوئی قوت سے اٹھانے کا قصد کیا ۔ وہ خدا کے حکم سے اٹھ گئی اور جھکاکر ولید کے جسم پر ضرب پہنچانے کا ارادہ کیا ، وہ خدا کے حکم سے جھکی او رولید کے جسم پر لگی ۔ تو یہ ضرب جن امور پر موقوف تھی سب عطائے حق تھے، اور خود جو ضرب واقع ہوئی بارادہ خدا واقع ہوئی ۔ اور اب جو اس ضرب سے ولید کی گردن کٹ جانا پیدا ہوگا یہ بھی اللہ کے پیدا کرنے سے ہوگا ۔ وہ نہ چاہتا تو ایک زید کیا تمام انس وجن وملک جمع ہو کرزور کرتے تو اٹھنا درکنار ، ہرگز جنبش نہ کرتی اور اس کے حکم سے اٹھنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا تو زمین ،آسمان ، پہاڑ سب ایک لنگر بنا کر تلوار کے پیپلے(نوک) پر ڈال دیے جاتے ، نام کو بال برابر نہ جھکتی ۔ اور اس کے حکم سے پہنچنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا گردن کٹنا تو بڑی چیز ہے ممکن نہ تھا کہ خط بھی آتا۔
لڑائیوں میں ہزاروں بار تجربہ ہوچکا کہ تلواریں پڑیں اور خراش تک نہ آئی ،گولیاں لگیں اور جسم تک آتے آتے ٹھنڈی ہوگئیں ، شام کو معرکہ سے پلٹنے کے بعد سپاہیوں کے سر کے بالوں میں سے گولیاں نکلی ہیں ۔ تو زید سے جو کچھ واقع ہوا سب خلق خدا و بارادہ خدا تھا ۔ زید کا بیچ میں صرف اتنا کام رہا کہ اس نے قتل ولید کا ارادہ کیا اور اس طرف اپنے جوارح کو پھیرا اب اگر ولید شرعا مستحق قتل ہے تو زید پر کچھ الزام نہیں رہا بلکہ بارہا ثواب عظیم کا مستحق ہوگا کہ اس نے اس چیز کا قصد کیا اور اس طرف جوارح کو پھیرا جسے اللہ عزوجل نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے اپنی مرضی ، اپنا پسندیدہ کام ارشاد فرمایا تھا۔ اور اگر قتل ناحق ہے تو یقینا زید پر الزام ہے اور عذاب الیم کامستحق ہوگا کہ بمخالفت حکم شرع اس شےکا عزم کیا ، اور اس طرف جوارح کو متوجہ کیا جسے مولی تعالی نے اپنی کتابوں کے واسطے سے اپنے غضب اپنی ناراضی کاحکم بتایا تھا ، غرض فعل انسان کے ارادہ سے نہیں ہوتا بلکہ انسان کے ارادہ پر اللہ کے ارادہ سے ہوتا ہے یہ نیکی کا ارادہ کرے اور اپنے جوارح کوپھیرے اللہ تعالی اپنی رحمت سے نیکی پیدا کردے گا اور یہ برے کا ارادہ کرے اور جوارح کو اس طرف پھیرے اللہ تعالی اپنی بے نیازی سے بدی کو موجود فرما دے گا ۔ دو پیالیوں میں شہد اور زہر ہیں اور دونوں خود بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں ، شہد میں شفاء ہے اور زہر میں ہلاک کرنے کا اثر بھی اسی نے رکھا ہے ۔ روشن دماغ حکیموں کو بھیج کر بتا بھی دیا ہے، کہ دیکھو یہ شہد ہے اس کے یہ منافع ہیں اور خبردار ! یہ زہر ہے اس کے پینے سے ہلاک ہوجاتا ہے ۔ ان ناصح اور خیر خواہ حکمائے کرام کی یہ مبارک آوازیں تمام جہان میں گونجیں اور ایک ایک شخص کے کان میں پہنچیں ۔ اس پر کچھ نے شہد کی پیالی اٹھاکر پی اور کچھ نے زہر کی ۔ ان اٹھانے والوں کے ہاتھ بھی خدا ہی کے بنائے ہوئے تھے ، اور ان میں پیالی اٹھا نے ، منہ تک لے جانے کی قوت بھی اسی کی رکھی ہوئی تھی ۔منہ اور حلق میں کسی چیز کو جذب کرکے اندر لینے کی قوت ۔ اور خود منہ اور حلق اور معدہ وغیرہ سب اس کےمخلوق تھے ، اب شہد پینے والوں کے جوف میں شہد پہنچا، کیا وہ آپ اس کا نفع پیدا کرلیں گے ؟ یا شہد بذات خود خالق نفع ہوجائے گا؟ حاشا ہر گز نہیں ، بلکہ اس کا اثر پیدا ہونا یہ بھی اسی کے دست قدرت میں ہے اور ہوگا تو اسی کے ارادہ سے ہوگا ۔ وہ نہ چاہے تومنوں شہد پی جائے کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ چاہے تو شہد زہر کا اثردے ، یونہی زہر والوں کے پیٹ میں زہر جاکر ، کیا وہ آپ ضرر کی تخلیق کرلیں گے یا زہر خود بخود خالق ضرر ہوجائیگا، حاشا ہر گز نہیں بلکہ اس کا اثر پیدا ہونا یہ بھی اسی کے قبضہ اقتدار میں ہے اور ہوگا تو اسی کے ارادے سے ہوگا ، بلکہ وہ چاہے تو زہر شہد ہوکر لگے ،باایں ہمہ شہد پینے والے ضرور قابل تحسین وآفرین ہیں ، ہر عاقل یہی کہے گا کہ انھوں نے اچھا کیا ،ایسا ہی کرنا چاہے اور زہر پینے والے ضرور لائق سزا و نفریں ہیں ، ہر ذی ہوش یہی کہے گا کہ یہ بد بخت خودکشی کے مجرم ہیں۔
دیکھو اول سے آخر تک جو کچھ ہو اسب اللہ ہی کے ارادے سے ہوا ۔ اور جتنے آلات اس کام میں لئے گئے سب اللہ ہی کے مخلوق تھے اور اسی کے حکم سے انھوں نے کام دیے، جو تمام عقلاء کے نزدیک ایک فریق کی تعریف ہے اور دوسرے کی مذمت ، تمام کچہریاں جو عقل سے حصہ رکھتی ہوں ان زہر نوشوں کو مجرم بنائیں گی ،پھر کیوں بناتی ہیں ، نہ زہر ان کا پیدا کیا ہوا نہ زہر میں قوت اہلاک ان کی رکھی ہوئی ، نہ ہاتھ ان کا پیداکیا ہوا نہ اس کے بڑھانے اٹھانے کی قوت ان کی رکھی ہوئی ، نہ دہن وحلق ان کے پیدا کئے ہوئے نہ ان میں جذب و کشش کی قوت ان کی رکھی ہوئی ،نہ حلق سے اتر جانا ان کے ارادے سے ممکن تھا ،آدمی پانی پیتا ہے اور چاہتا ہے کہ حلق سے اترے مگر اچھو ہو کر نکل جاتا ہے اس کا چاہانہیں چلتا۔ جب تک وہی نہ چاہے جو صاحب سارے جہاں کا ہے۔