Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
45 - 157
مسئلہ ۱۱۳تا۱۱٧ : ا زدھولقہ ضلع احمد آباد ملک گجرات فتح حسن کا پول مولوی نور نبی ابن حاجی ولی محمد صاحب ۱۶رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و علٰی اٰ لہ وسلم، امّابعد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں:

(۱) روح بعد خروج جسم کے دُنیا میں آتی ہے یا نہیں؟ خصوصاً جب کہ حیاتِ انبیاء واولیاء و شہداء ثابت ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ پاک دنیا میں میلادو مجلس شریف میں آسکتی ہے یا نہیں؟ اور کوئی ان کی پاک روح کی تشریف آوری کو بعیداز امکان سمجھے وہ شخص دائرہ اسلام میں کیسا سمجھا جائے گا؟

(۲) کوئی شخص قبورِ اہل اﷲ کی زیارت اوراُن پر پھول چڑھانے کو بدعت بتلائے تواس کی نسبت اہل اسلام کا کیسا خیال ہوگا؟
 (۳) حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو علمِ غیب تھا یا نہیں؟ اور کوئی شخص کہے جناب رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو مطلق غیب نہ تھا بلکہ تمام انسان کو جتنا علم ہوتا ہے، اُتنا ہی آپ کو علم تھا غرض علم حضور کا انکار کرے وہ کیسا سمجھاجائے گا؟

(۴) وقت اذان کے اشہدان محمدا رسول اﷲ کہا جائے اس وقت ہاتھ کے انگوٹھے چومنا کیسا ہے؟ کوئی شخص انکار کرے وہ کیسا سمجھا جائے گا؟

(۵) جو شخص عمداً ترکِ جماعت کرے اس کی نسبت اہلِ اسلام کا کیا خیال ہوگا؟
الجواب

(۱) مسلمان کی روح بعد انتقال جہاں چاہے جاتی ہے، حدیث میں ہے:
اذا مات المؤمن یخلی سربہ یسرح حیث یشاء  ۔۱؂
جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔
 ( ۱ ؎  اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب ذکر الموت فضیلۃ ذکر الموت دارالفکر بیروت ۱۰/ ۲۲۷)
اس کا مفصل بیان ہماری کتاب  حیات الموات فی بیان سماع الاموات  میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شانِ اقدس تمام جہاں سے ارفع و اعلٰی ہے وہاں یہ سوال کرنا بھی بے جا ہے، امام ابن حجر مکی رحمۃ اﷲ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک وقت میں ستّر ہزار جگہ تشریف فرما ہوسکتے ہیں۔۱؂
 ( ۱ ؎ الفتاوٰی الکبرٰی         لابن الحجرالہیتمی             باب الجنائز         دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۲/ ۹)
امام جلال الدین سیوطی خاتم حفاظ الحدیث فرماتے ہیں:
  اذن للانبیاء ان یخرجوا من قبورھم ویتصرفوا فی العالم العلوی و السفلی  ۔۲؂
تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اختیار ملا ہے کہ اپنے مزاراتِ طیبہ سے باہر تشریف لائیں اور جملہ عالم آسمان و زمین میں جہاں جو چاہیں تصرف فرمائیں۔
 ( ۲ ؎الحاوی للفتاوٰی         تنویر الحوالک فی امکان رؤیۃ النبی والملک  دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۲/ ۲۶۳)
روح اقدس کی تشریف آوری کوبعید از امکان جاننا اگر براہِ جہل و بے علمی ہے تو جرات و بے ادبی ہے، اوربربنائے وہابیت ہے تو وہابیت خود کفرِ جلی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم

(۲) زیارتِ قبور سنّت ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الا فزوروھا فانہا تزھدکم فی الدنیا وتذکرکم الاٰخرۃ ۔ ۳ ؎
سُن لو، قبور کی زیارت کرو کہ وہ تمہیں دنیا میں بے رغبت کرے گی اور آخرت یاددلائے گی۔
 ( ۳ ؎ سنن ابن  ماجہ    ابواب الجنائز     باب ماجاء فی زیارۃ القبور     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۱۴)
خصوصاً زیارتِ مزارات اولیاء کرام کہ موجب ہزاروں ہزار برکت وسعادت ہے، اسے بدعت نہ کہے گا مگر وہابی نابکار، ابن تیمیہ کا فضلہ خوار۔ وہاں جاہلوں نے جوبدعات مثل رقص ومزامیر ایجاد کرلیے ہیں وہ ضرور ناجائز ہیں، مگر اُن سے زیارت کہ سنت ہے بدعت نہ ہوجائے گی۔جیسے نماز میں قرآن شریف غلط پڑھنا، رکوع وسجود صحیح نہ کرنا، طہارت ٹھیک نہ ہونا عام عوام میں جاری و ساری ہے اس سے نماز بُری نہ ہوجائے گی۔

قبرمسلمان پر پھول رکھنا مستحب ہے، ائمہ دین فرماتے ہین، وہ جب تک تر ہے تسبیح الہی کرے گا اس سے مردے کا دل بہلے گا۔إ
  کما فی فتاوٰی الامام فقیہ النفس وغیرھا
( جیسا کہ امام فقیہ النفس کے فتاوٰی وغیرہ میں ہے۔ت)
فتاوٰی عالمگیر یہ وغیرہا میں ہے:
وضع الورد والریاحین علی القبور حسن  ۔۱؂
قبروں پر گلاب وغیرہ خوشبو دار پھول رکھنا اچھا ہے۔ت)
 ( ۱ ؎  فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السادس عشر    نورانی کتب خانہ پشاور        ۵/ ۳۵۱)
اسے بدعت کہنا بھی آج کل وہابیہ ہی کی ضلالت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم 

(۳) اﷲ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو
تمام اولین و آخرین و شرق وغرب وعرش وفرش وماتحت الثری و جملہ ماکان ومایکون الٰی آخر الایام
کے ذرے ذرے کا علم تفصیلی عطا فرمایا اس کا بیان ہمارے رسالہ
انباء المصطفٰی و خالص الاعتقاد والدولۃ المکیہ وغیرہا
میں ہے۔
جو کہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کوعلم غیب مطلقاً نہ تھا یا حضور کا علم اور سب آدمیوں کے برابر ہے وہ کافر ہے،
امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابرفرماتے ہیں:
النبوۃ ھی الاطلاع علی الغیب ۔۲؂
نبوت کا معنی غیب پر مطلع ہونا ہے۔ت)
( ۲ ؎المواہب اللدنیہ     المقصدالثانی الفصل الاول     المکتب الاسلامی بیروت     ۲/ ۴۷)
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
عٰلم الغیب فلا یظھر علٰی غیبہ احدا الامن ارتضٰی من رسول  ۔۳؂
غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم         ۷۲/ ۲۶ و ۲۷)
(۴) اذان میں نامِ اقدس سُن کر انگوٹھے چُومنا حسبِ تصریح کتبِ فقہ ردالمحتار حاشیہ درمختار و جامع الرموزشرح نقایہ وفتاوٰی صوفیہ وکنزالعباد مستحب ہے۔ اس کا مبسوط بیان ہماری کتاب
منیر العین فی حکم تقبیل الا بھا مین
میں ہے اس پر انکار بھی آج کل شعارِ وہابیہ ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۵) بلاوجہ شرعی عمداً ترکِ جماعت گناہ ہے اور اس کا عادی فاسق گمراہ ہے صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
ولوانکم صلیتم فی بیوتکم کما یصلی ھذاالمتخلف فی بیتہ لترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم سنۃ نبیکم ولو ترکتم  سنۃ نبیکم لضللتم ا ھ ای ضلال عن سبیل المتقین وان استحلہ او استخفہ فضلال فی الدین ، والعیاذ باﷲ رب العالمین
اور اگر تم نے گھروں میں نماز پڑھی جیسا کہ یہ تارک جماعت اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی سنت چھوڑو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو گمراہ ہوجاؤ گے ا ھ یعنی متقی لوگوں کے راستے سے ہٹ جاؤ گے اور اگر کسی نے ترکِ جماعت کو حلال جانا یا ہلکا سمجھا تو یہ دین سے گمراہ ہونا ہے۔ اﷲ رب العالمین کی پناہ (ت)

واﷲ تعالٰی اعلم۔
( ۱ ؎ صحیح مسلم کتاب المساجد باب بیان فضل الجماعۃالخ        قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۲۳۲)
ایک یہ بات نہایت ضروری و بکار آمد ہے کہ دیوبندیوں سے کوئی مسئلہ پوچھنا یا کسی مسئلہ میں اُن کی بات پر کان رکھنا ہر گز ہرگز جائز نہیں، تمام علمائے حرمین طیبین بالاتفاق دیوبندیوں کو مرتد لکھ چکے اور فرمادیا۔
من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر  ۔۲؂
 (جس نے اس کے کفرو عذاب میں شک کیا وہ بھی کافر ہوگیا۔ت) جو اُن کے اقوالِ ملعونہ پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جاننا درکنار ان کے کفر میں شک بھی کرے وہ بھی کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین شریف۔ واﷲ الہادی۔
 (۲ ؎ حسام الحرمین     مکتبہ نبویہ لاہور    ص ۱۳        مکتبہ اہل سنت بریلی  ص ۹۴)
مسئلہ ۱۱۸تا ۱۲۰ : ازمیونڈی ڈاکخانہ شاہی ضلع بریلی مرسلہ سیّدامیر عالم حسن صاحب ۱۲ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:

(۱) زید کہتا ہے جو ہوا اور ہوگا سب خدا کے حکم سے ہی ہوا اور ہوگا پھر بندہ سے کیوں گرفت ہے اور اس کو کیوں سزا کا مرتکب ٹھہرایا گیا اس نے کون سا کام کیا جو مستحق عذاب کا ہوا جو کچھ اس نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہوتا ہے کیونکہ قرآن پاک سے ثابت ہورہا ہے کہ بلاحکم اُس کے ایک ذرّہ نہیں ہلتا۔ پھر بندے نے کون سا اپنے اختیار سے وہ کام کیا جو دوزخی ہوا یا کافر یا فاسق، جو بُرے کام تقدیر میں لکھے ہوں گے تو بُرے کام کرے گا اور بھلے لکھے ہوں گے تو بھلے، بہرحال تقدیر کا تابع ہے پھر کیوں اس کو مجرم بنایا جاتا ہے ؟ چوری کرنا، زنا کرنا، قتل کرنا، وغیرہ وغیرہ جو بندہ کی تقدیر میں لکھ دیئے ہیں وہی کرنا ہے ایسے ہی نیک کام کرنا ہے۔
 (۲) جب کسی عورت نے کسی شخص سے قربت کی اور اس کو حمل رہ گیاتو اس حمل کو حملِ حرام کیوں کہا گیا اور اس کے اس فعل قربت کو زنا کیوں کہا گیا؟ اور جب اس حمل سے بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کو حرامی کیوں کہا جائے؟ کیونکہ جتنے افعال بندہ کرتا ہے وہ سب تقدیر سے اور حکمِ خدا سے ہوتے ہیں تو اب اس عورت نے کیا اپنی قدرت اور حکم سے ان فعلوں کو کرلیا، نہیں وہی کیا جو تقدیر میں لکھ دیا تھا پھر اس کو زنا یا حرام کہنا کیونکر ہے؟

(۳) اُس بچے کی روح پاک تھی یا ناپاک؟ یا اُن روحوں میں کی روح تھی جو روزِ ازل میں پیدا ہوئی تھیں یا کوئی اور؟اور اس کا کیا سبب جو بچہ حرامی ہوگیا اور روح پاک رہے نہیں روح بھی ایسی ہے جیسا بچہ حرامی کیونکر ہوسکتا ہے؟فقط
الجواب : (۱) زید گمراہ بے دین ہے، اُسے کوئی جوتا مارے تو کیوں ناراض ہوتا ہے، یہ بھی تو تقدیر میں تھا۔ اس کا کوئی مال دبالے تو کیوں بگڑتا ہے، یہ بھی تقدیر میں تھا۔ یہ شیطانی فعلوں کا دھوکا ہے کہ جیسا لکھ دیا ایسا ہمیں کرنا پڑتاہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے اُس نے اپنے علم سے جان کر وہی لکھا ہے۔

(۲) یہ وہی ابلیس ملعون کا دھوکا ہے جو بددینوں کو دیا کرتا ہے علم کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ عورت زنا کرنے والی تھی اس لیے اس کایہ آئندہ حال اس نے اپنے علم غیب سے جان کر لکھ لیا۔ اگر وہ حلال کرنے والی ہوتی تو اسے حلال والی ہی لکھا جاتا۔

(۳) رُوحیں ازل میں پیدا نہ ہوئیں، ہاں جسم سے دو ہزار برس پہلے بنیں، ولدالحرام کا اپنا قصور نہیں مگر جبکہ وہ حرام سے پیدا ہوا ولد الحرام ہونے میں کیا شک ہے، نہ اس سے اس کی روح کی ناپاکی لازم۔ روح کفر و ضلالت سے پاک ہوتی ہے، بددین کی روح ناپاک ہے اگرچہ ولدالحلال ہو ۔ اور دیندار کی رُوح پاک ہے اگرچہ اس کی ولادت حرام سے ہو، روح کے پاک ہونے سے جسم کا نطفہ حرام سے بننا کیونکر مٹ گیا۔ بے علم کو ایسی جہالتوں اور ایسی باتوں میں خوض سے فائدہ نہیں ہوتا سوا اس کے کہ شیطان کسی گھاٹی میں راہ مار کر ہلاک کردے۔ واﷲ تعالٰی۔
Flag Counter