مسئلہ ۱۱۰: از رمضان پور ڈاک خانہ خاص ضلع بدایوں مرسلہ عبدالصمد عرف صوفی قادری برکاتی نوری ابوالحسینی ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کو جس وقت دفن کرکے واپس آتے ہیں کتبہائے سابقہ سے یہ بات ثابت ہے کہ ملائکہ قبر میں آتے ہیں پھر میت کو زندہ کرکے حساب لیتے ہیں اس بات کا ثبوت کس نص صریح میں ہے یعنی اشارۃ النص یا دلالۃ النص، ایک فرقہ جدید پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو اہل قرآن ظاہر کرتے ہیں وہ ا س بات کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ زندہ کرنے کا ایک وقت معینہ مقرر ہے جس کو قیامت کہتے ہیں باقی سب لغویات ہیں سائل بڑے فکر و تردد میں ہے کہ کس طرح سے جواب اس فرقہ بد کو دیا جائے۔
الجواب : سوال رُوح سے ہوتا ہے اور رُوح کبھی نہیں مرتی، رہا یہ کہ روح بدن میں اعادہ کی جاتی ہے یا نصف بدن میں آتی ہے یا بدن و کفن کے درمیان رکھی جاتی ہے اس کی تفصیل قطعیات سے نہیں نہ تفتیش کی حاجت اور یہ جدید فرقہ جو بنام قرآنی نکلا ہے ، اسلام سے خارج ہے اس کی بات سننی نہ چاہیے، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۱: از شہر بریلی بی بی جی کی مسجد مسؤلہ حشمت علی صاحب طالبِ علم مدرسہ منظرالاسلام ۷ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے حقانیین اہل سنت و جماعت کثر ہم اﷲ نصر ہم و امداد ہم مسئلہ ذیل میں کہ زید بحمد اﷲ تعالٰی کسی ضروری دینی کا انکار بلکہ اس میں شک بھی نہیں کرتا بلکہ ایسے شخص کو بھی کافر و مرتد جانتا ہے۔ باوجود اس کے اُس کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدّنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اگرچہ افضل الناس بعد الانبیاء ہیں لیکن بحکم
مامن عام الاوقد خص منہ البعض ۔۱
(کوئی عام نہیں مگر اس میں سے بعض افراد کو خاص کیا گیا ہے۔ت) اس ناس سے حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما مستثنٰی ہیں ، کیونکہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالٰی عنہما شاہزادگان دورمانِ نبوت ہیں اور حضرات خلفائے اربعہ وزرائے شہ سریر رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں اور وزراء سے شاہزادوں کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما خلفائے اربعہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم سے افضل ہیں۔ اس پر عمر کہتا ہے کہ سیدنا مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ بلکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرتبہ کے بعد ہیں، تو کیا حسنین رضی اللہ تعالٰی عنہما اپنے والد ماجد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی افضل ہوجائیں گے، زید جواباً کہتا ہے کہ یہ محال نہیں بلکہ ممکن بلکہ واقع ہے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کا استدلال کیسا ہے اور اس عقیدہ سے اس کی سنیت میں تو کوئی نقص نہ آیا۔
(۱ التوضیح علی التلویح فصل فی حکم العام میر محمد کتب خانہ کراچی ص ۲۰۹ )
الجواب : اگر وہ یہ کہتا کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ تعالی عنہما بوجہ جزئیت کریمہ ایک فضل جزئی حضرات عالیہ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم پر رکھتے ہیں اور مرتبہ حضرات خلفاء کا اعظم و اعلٰی ہے تو حق تھا مگر اس نے اپنی جہالت سے فضل کلی سبطین کو دیا اور افضل البشر بعد الانبیاء ابوبکر الصدیق کو عام مخصوص منہ البعض ٹھہرایا اور انہیں امیر ا لمومنین مولٰی علی سے افضل کہا یہ سب باطل اور خلاف اہلسنت ہے اس عقیدہ باطلہ سے توبہ فرض ہے ورنہ وہ سنی نہیں اور اس کی دلیل محض مردود و ذلیل، اگرجزئیت موجب افضلیت مرتبہ عند اﷲ ہو تو لازم کہ آج کل کے بھی سارے میر صاحب اگرچہ کیسے ہی فسق و فجور میں مبتلا ہوں اﷲ عزوجل کے نزدیک امیر المومنین مولٰی علی سے افضل واعلٰی ہوں اور یہ نہ کہے گا مگر جاہل اجہل مجنون یا ضال مضل مفتون
اﷲ بلند فرمائے گا تم میں سے مومنوں اور بالخصوص عالموں کے درجے ۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۵۸/ ۱۱)
تو عنداﷲ فضل علم فضلِ نسب سے اشرف و اعظم ہے، یہ میر صاحب کہ عالم نہ ہوں اگرچہ صالح ہوں آج کل کے عالم سُنی صحیح العقیدہ کے مرتبہ کو شرعاً نہیں پہنچتے نہ کہ ائمہ نہ کہ صحابہ نہ کہ مولٰی علی نہ کہ صدیق و فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین،
تنویر الابصار و درمختار میں ہے:
للشاب العالم ان یتقدم علی الشیخ الجاھل ولو قریشا، قال تعالٰی والذین اوتواالعلم درجٰت فالرافع ھو اﷲ فمن یضعہ یضعہ اﷲ فی جہنم ۔۱
نوجوان عالم کو بوڑھے جاہل پر تقدم کا حق حاصل ہے اگرچہ وہ (جاہل) قرشی ہو، اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اﷲ تعالٰی عالموں کے درجے بلند فرمائے گا۔ چونکہ بلندی عطا فرمانے والا اﷲ تعالٰی ہے لہذا جو اس کو گھٹائے گا اﷲ تعالٰی اس کو جہنم میں ڈالے گا۔(ت)
کونہ قرشیا لایبیح لہ التقدم علی ذی العلم مع جھلہ اذکتب العلم طافحۃ بتقدم العالم علی القرشی ولم یفرق سبحٰنہ وتعالٰی بین القرشی وغیرہ فی قولہ تعالی ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون ۔۲
جاہل کا قرشی ہونا عالم پر اس کے تقدم کو مباح نہیں کرتا، کیونکہ علم کی کتابیں عالم کے قرشی پر تقدم کے حق سے بھری پڑی ہیں اور اﷲ سبحنہ و تعالٰی نے قرشی و غیر قرشی کے درمیان اپنے اس ارشاد میں کوئی فرق نہیں، فرمایا کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔(ت)
والعالم یقدم علی القرشی الغیر العالم والدلیل علٰی ذلک تقدم الصھرین علی الختنین و ان کان الختن اقرب نسبا منھم ۔۱
قرشی غیر عالم پر عالم کو تقدم حاصل ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سسُر آپ کے دامادوں پر مقدم ہیں حالانکہ نسب کے اعتبار سے داماد بنسبت سسر کے اقرب ہوتا ہے۔(ت)
ولہذا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سرداری حضرات سبطین کریمین کو حفظ تعمیم کے لیے جوانان اہلِ جنت سے خاص فرمایا۔
الحسن والحسین سید ا شباب اھل الجنۃ ۔
حسین و حسین رضی اللہ تعالے عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔(ت)
کہ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کو شامل نہ ہو، اور متعدد صحیح حدیثوں میں اسی کے تتمہ میں فرمادیا۔
وابوھما خیر منھما حسن و حسین جوانانِ اہلِ جنت کے سردار ہیں اور ان کا باپ ان سے افضل ہے۔
رواہ ابن ماجۃ والحاکم ۲ عن ابن عمر والطبرانی فی الکبیر عن قرۃ بن ایاس بسندحسن وعن مالک بن الحویرث والحاکم وصحہ عن ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم ۔
اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں قرہ بن ایاس سے سندِ حسن کے ساتھ مالک بن حویرث و حاکم سے روایت کیا ہے اور ابن مسعود نے اس کی تصحیح کی ہے رضی اللہ عنہم (ت)
( ۲ ؎ سنن ابن ماجہ فضل علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲ )
(المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۶۷)
(المعجم الکبیر حدیث ۶۵۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۹ /۲۹۲)
اور ارشاد ہوا:
ابوبکر و عمر خیر الاولین والاخرین و خیر اھل السموٰت وخیر اھل الارضین الاالنبیین والمرسلین ۔۳
ابوبکر و عمر سب اگلوں پچھلوں سے افضل ہیں اور سب آسمان والوں اور سب زمین والوں سے افضل ہیں سوا انبیاء مرسلین کے علیہم الصلوۃ والتسلیم (ت)
مسئلہ ۱۱۲: از سیتاپور محلہ تامین گنج مرسلہ مرسلہ حکیم غلام حیدر صاحب ۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جناب خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اپنے مؤلفہ کتاب یزید نامہ میں اپنے عقائد کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو افضل ترین امت بعد رسول خدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سمجھتا ہوں اور دعوٰی کیا ہے کہ یہی عقیدہ حقہ تمامی اہلسنت کا ہے جن کی چشم بصیرت بینانہیں اُن سے قطع نظر تمام صوفیہ کرام واولیائے عظام وبزرگان دین کا یہی عقیدہ و مسلک ہے۔ بحوالہ فتوحاتِ مکیہ حضرت ابن عربی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا ہے۔ حضرت امیر معویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حالات میں بہت کچھ لکھا ہے کل نقل باعثِ طوالت ہے، آخری فیصلہ یہ لکھا ہے کہ ہم کو ان کے کفر و بے دینی کے ثبوت تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کرنا چاہیے لہذا اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرتے ہیں، مولانا شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی طاب ثراہ اپنی کتاب ازالۃ الخفا میں اس عقیدہ والے کو فرقہ تفضیلی و بدعتی و مستحق تعزیر قرار دیتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا قول متعدد طرق سے نقل فرماتے ہیں کہ فرمایا حضرت علی نے کوئی شخص مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما پر فضیلت نہ دے ورنہ تہمت و افتراء پر دازی کے جرم میں اسی درے لگاؤں گا۔۱
اس نازک زمانہ میں اس استفتاء کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ یزید نامہ کو دیکھ کر عقائد سے ناواقف سنی جن میں اعلٰی درجے کے تعلیم یافتہ و گریجوایٹ حضرات بھی شامل ہیں اسی عقیدہ کو عقیدہ حقہ اہلسنت سمجھیں گے اُن کو واضح ہونا چاہیے کہ یہ عقائد فرقہ تفضیلیہ کے ہیں عقائد اہلسنت کو اس سے واسطہ نہیں امید کہ علمائے اہلسنت اس پر کافی توجہ فرمائیں گے۔
( ۱ ؎ ازالۃ الخفاء مقصد اول فصل چہارم مسند علی رضی اللہ تعالٰی عنہ، سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۶۷ و ۶۸)
الجواب
حاشا یہ ہر گز اہلسنت کا مذہب نہیں روافض کا مذہب ہے ا سے اہلسنت کا مذہب کہنا بعینہ ایسا ہے کہ کوئی کہے رافضیوں کا مذہب تفضیل شیخین ہے یعنی صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہا، کو رافضی تمام امت سے افضل و اعلٰی مانتے ہیں جیسا اس کا قائل صریح جھوٹا مفتری ہے یونہی یہ کہنے والا کہ تمام اہلسنت کا عقیدہ مولا علی کو سب سے افضل جاننا ہے بلاشبہہ سخت کذاب جری ہے، امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے پہلا شعار اہلسنت کا یہ بتایا ہے
ان تفضل الشیخین ۔۲
یہ کہ تُو صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما کو تمام اُمت سے افضل مانے، یہ عقیدہ حمید ہ خود امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے اسّی (۸۰) صحابہ تابعین نے روایت کیا اس میں ہماری حافل کافل کتاب
مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین
ہے جس میں اس مطلب شریف پر قرآن عظیم و احادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین وآثارِ اہلبیت کرام و صحابہ عظام و ارشاداتِ امیرالمومنین حیدر رضی اللہ عنہم و نصوصِ ائمہ و علماء و اولیاء و عرفا قدست اسرار ھم سے دریا لہرا رہے ہیں۔ ہر بچہ جانتا ہے کہ اہل سنت کی تمام کتب عقائد میں
افضل البشربعد الانبیاء ابوبکر الصدیق ۔۱
(انبیاء کے بعد سب سے افضل انسان ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔اگر نہایت صاف دن میں کف دستِ میدان میں منہ پر آنکھیں ہوتے ہوئے ٹھیک دوپہر کو انکار آفتاب روا ہے تو اس کا انکار (عہ) بھی اُسی منکر کا سا مجنون کرسکتا ہے یونہی حضرات اولیائے کرام قدسنا اﷲ تعالی باسرار ہم کی طرف اس عقیدہ باطلہ کی نسبت کھلا افترا ہے۔
عہ: بددینی و گمراہی دوسری چیز ہے مگر ذی عقل مشہور کی طرف ایسے انکار آفتاب کی نسبت سے یہ سہل معلوم ہوتا ہے کہ کسی یزیدی نےیزید نامہ لکھ کر اُس کے نام کردیا یا کم از کم ایسی وقاحتیں اس میں ملادیں۱۲ منہ
( ۲ ؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر افضل الناس بعدہ علیہ الصلوۃ والسلام الخ مصطفی البابی مصر ص ۶۳)
( ۱ ؎ شرح العقائد النسفیہ دارالاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ص۱۰۷)
دلیل الیقین من کلمات العارفین
میں افضلیت مطلقہ حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کو صرف ارشادات اولیائے کرام سے ثابت کیا ہے اور خود ظاہر کہ جب یہ عقیدہ اہلسنت ہے اور عقیدہ میں اہلسنت کا مخالف مبتدع اور مبتدع کا ولی ہونا محال، تو اس کے خلاف اعتقاد اولیاء کیونکر ہوسکتا ہے۔
ولکن الظلمین یفترون وفی الحق بعد ماتبین یمترون
(لیکن ظالم جھوٹ گھڑتے اور حق ظاہر ہوجانے کے بعد اس میں شک کرتے ہیں۔ت) اسی زمرہ میں فتوحات مکیہ پر بھی افترا جڑا ،
فتوحات کے صریح لفظ یہ ہیں:
اعلم انہ لیس فی امۃ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم من ھو افضل من ابی بکر غیر عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام ۔۲
یعنی یقین جان کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُمت میں کوئی ایسا نہیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے افضل ہو سوا سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ وہ حضور کے امتی ہیں اور صدیق سے افضل ہیں کہ نبی ہیں۔
( ۲؎ الفتوحات المکیۃ)
حدیث امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اجلّہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم سے ہیں، صحیح ترمذی شریف میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھد بہ ۔۱
الہٰی ! اسے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دے۔
صحابہ کرام میں کسی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یا گمراہ بددین، عزیز جبار واحد قہار جل وعلا نے صحابہ کرام کو دو قسم کیاایک وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہِ خدا میں خرچ وقتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اللہ عزوجل نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ اللہ کو تمہارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو باینہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا۔ یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہنوں، بیباکوں، بے ادب، ناپاکوں کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں وہ بشرطِ صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی اُن سب سے حسنٰی کا وعدہ فرمایا ، تو اب جومعترض ہے اللہ واحدقہار پر معترض ہے جنت ومدارج عالیہ اس معترض کے ہاتھ میں نہیں اﷲ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سرکھاتار ہے گا اور اللہ نے جو حُسنی کا وعدہ اُن سے فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزاپائے گا وہ آیہ کریمہ یہ ہے:
لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا وکلا وعد اﷲ الحسنٰی واﷲ بما تعملون خبیر ۔۲
اے محبوب کے صحابیو! تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ وقتال کیا وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں، اور دونوں فریق سے اﷲ نے حُسنی کا وعدہ کرلیا، اور اﷲ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
اب جن کے لیے اﷲ کا وعدہ حسنٰی کا ہولیا اُن کا حال بھی قرآن عظیم سے سنئے:
بے شک جن کے لیے ہمارا وعدہ حُسنٰی کا ہوچکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں اس کی بھِنک تک نہ سُنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے۔وہ بڑی گھبراہٹ قیامت کی ہلچل انہیں غم نہ دے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے یہ کہتے ہوئے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱۰۱ و۱۰۲ )
یہ ہے جمیع صحابہ کرام سیدالانام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام کے لیے قرآن کریم کی شہادت امیرالمومنین مولٰی المسلمین علی مرتضٰی مشکلکشا کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا:
اولٰئک اعظم درجۃ ۔۲
اُن کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیں، اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہم قسم دوم میں ہیں، اور حسنٰی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کوشامل۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۵۷/ ۱۰)
ولہذا امیر المومنین مولٰی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
تکون لاصحابی زلّۃ یغفرھا اﷲ لھم لسابقتھم معی ثم یأتی قوم بعد ھم یکبھم اﷲ علی مناخرھم فی النار ۳؎
میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اﷲ عزوجل معاف فرمائے گا اُس سابقہ کے سبب جو اُ ن کو میری بارگاہ میں ہے پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گی کہ انہیں اﷲ تعالٰی ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا۔
یہ ہیں وہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔