مسئلہ ۱۰۲و ۱۰۳ : ازکھنڈل پوسٹ آفس کیوکٹو ضلع اکیاب مرسلہ محمد عبدالسلام مدرس چہارم گورنمنٹ اسلامیہ اردو اسکول ۱۴جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض وہابی عالم کہتے ہیں کہ درود تاج پڑھنا حرام ہے اور رسول اﷲصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حق میں
دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والالم
(مصیبت، وباء قحط سالی، بیماری اور دُکھ کو دُور کرنے والا۔ت) کا استعمال نازیبا بلکہ شرعاً ممنوع اور ایمان جانے کا خوف ہے۔ نعوذ باﷲ من ذٰلک، یہ قول حق ہے یا باطل؟ اگر حق ہو تو منکرین پر شرعاً کیا حکم؟
الجواب : رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بے شک دافع ہر بلا ہیں، ان کی شان عظیم توارفع واعلٰی ہے، اُن کے غلام دفع بلا فرماتے ہیں،
ابن عدی وابن عساکر عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
میرا نام اَحْیَدْ اس لیے ہوا کہ میں اپنی اُمت سے آتش دوزخ کو دفع فرماتا ہوں۔
( ۱ ؎ تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ اسمائہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۱)
دوزخ سے بدتر اور کیا بلاہوگی جس کے دافع رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہیں۔
بیہقی دلائل النبوۃ اور ابوسعد شرف المصطفی میں راوی، خفاف بن نضلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ حاضرِ بارگاہِ ہو کر عرض کی۔
حتی وردت الی المدینۃ جاھدا کیما اراک فتفرج الکربات ۔۲
میں کوشش کرتا ہوا مدینہ میں حاضر ہوا کہ زیارت اقدس سے مشرف ہوں تو حضور میری سب مشکلیں کھول دیں۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن کی عرض پسند کی اور تعریف فرمائی۔
( ۲ ؎ دلائل النبوۃ للبیہقی جماع ابواب المبعث سبب اسلام خفاف بن نضلہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۲۶۱)
(شرف المصطفی ذکر اسلام خفاف بن نضلہ حدیث ۵۳ دارالبشائر الاسلامیہ ۱/ ۲۳۴)
منح المدح امام ابن سید الناس میں ہے حرب بن ریطہ صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی:
ابن شاذان عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جنازے پر فرمایا۔
یا حمزہ یا کاشف الکربات یا حمزۃ یا ذاب عن وجہ رسول اﷲ ۔۲
اے حمزہ اے دافع البلا اے حمزہ اے چہرہ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے دشمنوں کے دفع کرنے والے۔
( ۲ ؎انسان العیون المعروف بالسیرۃ الحلبیۃ ذکرغزوہ احد المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ۲/ ۲۴۷)
کتب سابقہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر شریف میں ہے ان کے دو نائب ہوں گے ایک سِن رسیدہ یعنی صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور دوسرے جوان یعنی فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ
اما الفتی فخواض غمرات و دفاع معضلات ۔۳
وہ جو جوان ہیں وہ سختیوں میں گھس پڑنے والے اور بڑے دافع البلا بڑے مشکل کشا ہوں گے۔
(۳)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من کنت ولیہ فعلی ولیہ ۴؎ قال المناوی فی شرحہ یدفع عنہ مایکرہ ۔۵
یعنی میں جس کا مددگار ہوں علی المرتضٰی اس کے مددگار ہیں کہ ہر مکروہ کو اس سے دفع کرتے ہیں،
( ۴ ؎ الجامع الصغیر حدیث ۹۰۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۵۴۲)
( ۵ ؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث من کنت ولیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۴۴۲)
شاہ ولی اﷲ دہلوی ہمعات میں لکھتے ہیں:
ازثمراتِ ایں نسبت است درمہالک و مضایق صورت آں جماعت پدید آمدن وحل مشکلات وے بآں صورت منسوب شدن ۔۶
ہلاکتوں اور تنگیوں میں اس جماعت ( اولیاء اللہ) کی صورت کا ظاہر ہونا اور حل مشکلات کا اس کی طرف منسوب ہونا اس نسبت کے ثمرات میں ہے ۔ت)
( ۶ ؎ ہمعات ہمہ ۱۱ شاہ ولی اﷲ اکیڈمی حیدر آباد ص ۵۹)
قاضی ثناء اﷲ تذکرۃ الموتٰی میں لکھتے ہیں:
ارواحِ ایشاں یعنی اولیادر زمین وآسمان و بہشت ہر جا کہ خواہندمی روند و دوستان و معتقدان رادردنیا و آخرت مددگاری مے فرمایندو دشمناں را ہلاک می نمایند ۔۱
اولیاء اﷲ کی روحیں زمین ، آسمان اور جنت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں اور دنیا وآخرت میں اپنے دوستوں اور عقیدتمندوں کی مدد کرتی ہیں اور دشمنوں کو ہلاک کرتی ہیں (ت)
(۱ تذکرۃ الموتی باب در مقر ارواح مطبع محمدی لاہور ص ۳۰ )
اس مسئلہ کی کافی تفصیل ہماری کتاب
الامن والعلٰی لناعتی المصطفٰی بدافع البلا
میں ہے۔ درود تاج پڑھنے کو حرام کی طرف نسبت وہی کرے گا جو خود منسوب بحرام ہو۔ وہابیہ مرتدین ہیں ان کی بات سُننی جائز نہیں۔ وا ﷲ تعالٰی اعلم ۔
سوال ثانی : ازیں مقام وازیں سائل (سوال دوم اُسی جگہ سے اسی سائل کی طرف سے۔ت)
باادب داخل ہو اے دل محفل میلاد میں خود بدولت خود میں شامل محفلِ میلاد ہیں
ہمارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا محفل ِ مولود میں جلوہ افروز ہونا اس شعر سے صادق آتا ہے لیکن وہابی کہتا ہی کہ نہیں ہوسکتا۔ جلوہ افروز نہ ہونے کی کیا دلیل ؟
الجواب : وہابی کذاب جھوٹا ہے، امام خاتم الحفاظ جلال الملّۃ والدّین سیوطی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ تنویر میں فرماتے ہیں۔
قد اخبرنی الثقات من اھل الصلاح انھم شاھدوہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مرارا عند قراء ۃ المولود الشریف وعندختم القرآن وبعض الاحادیث ۔۲
مجھے ثقہ صالحین نے خبر دی کہ انہوں نے بارہا حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو مجلس میلاد شریف و جلسہ ختمِ قرآن عظیم و بعض احادیث میں مشاہدہ کیا۔
(۲ تنویر الحوالک )
نیز امام ممدوح تنویر پھر امام محمدث جلیل زرقانی شرح المواہب شریفہ میں فرماتے ہیں:
انہ وسائر الانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیھم وسلم اذن لھم فی الخروج من قبورھم للتصرف فی الملکوت العلوی والسفلٰی۔ ۱؎
بے شک رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اجازت ہے کہ آسمان و زمین کی سلطنت الہٰی میں تصرف فرمانے کے لیے اپنے مزارات طیبہ سے باہر تشریف لے جائیں۔
یعنی اس کے مثل امام احمد قسطلانی نے مواہب شریفہ میں جا بجا تصریح فرمائی ہے۔
امام ابن حجر مکی فتاوی کبرٰی باب الجنائز میں فرماتے ہیں:
روح نبیّنا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ربما تظہرفی سبعین الف صورۃ ۔۳
ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روح اقدس ستّر ہزار صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے۔
(۲؎ )
( ۳ ؎ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الصلوۃ باب الجنائز دارالکتب العلمیہ بیروت ۲/ ۹)
حضور عین نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شانِ اقدس تو بلند و بالا ہے، امام اجل عبداﷲ بن مبارک و ابوبکر بن ابی شیبہ استاد بخاری ومسلم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے وقفاً اور امام احمد مسند اور حاکم صحیح مستدرک اور ابونعیم حلیہ میں بسندِ صحیح حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے رفعاً راوی،
جب مسلمان کا انتقال ہوتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جاتا ہے۔
( ۴ ؎ اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب ذکر الموت دارالفکربیروت ۱۰/ ۲۲۷)
ہم نے اپنے رسالہ
اتیان الارواح لدیار ھم بعد الرواح
میں اس پر بہت روایات ذکر کیں بلکہ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مجالس طیبہ میں تشریف لانا بایں معنی نہیں کہ نہ تھے اور تشریف لائے کہ وہ تو ہر وقت مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرماہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
ملا علی قاری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں:
لان روح النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاضرۃ فی بیوت اھل الاسلام ۔۱
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی روحِ اقدس ہر مسلمان کے گھر میں تشریف فرما ہے۔
( ۱ ؎ شرح الشفاء لملاّ علی القاری علی ہامش نسیم الریاض فصل فی المواطن الخ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۳ /۴۶۴)
بلکہ یہ معنی کہ مجلس مبارک میں تجلی خاص فرماتے ہیں، یہ اُن کے کرم پر ہے ہر جگہ ضرور نہیں اورجس ذلیل سے ذلیل بندے کو نوازیں کچھ دور نہیں۔
اگر بادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ سلبت مکن
(اگر بادشاہ بوڑھی عورت کے دروازے پر تشریف لائے تو اے سردار ! مونچھ مت اکھاڑ، ت)
وہابی کہ اسے محال مانتا ہے کیا دلیل رکھتا ہے اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین ۔۲
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۱۱ و ۲۷/ ۶۴)
دلیل کچھ نہیں سوا اس کے کہ ع
انبیارا ہمچوخود پنداشتند
(نبیوں کو وہ اپنے جیسا سمجھتے ہیں ۔ت)
وسیعلم الذین طلموا ای منقلب ینقلبون ۔۳ واﷲ تعالٰی اعلم
عنقریب ظالم جان جائیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳ ؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
مسئلہ ۱۰۴: از کانپور مرسلہ مولانا محمد آصف صاحب ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ۔
یا حبیب محبوب اﷲ روحی فداک، قبلہ کونین و کعبہ دارین دامت فیوضہم بعد تسلیمات فدویانہ و تمنائے حصول سعادت آستانہ بوسی ، التماس اینکہ بفضلہ تعالٰی
کمترین بخیریت ہے صحتوری حضور کی مدام بارگاہِ احدیث سے مطلوب۔ گرامی نامہ صادر ہو کر موجب عزت و سرفرازی ہوا۔ فدوی نے اس آیت قرآنی
فمنھم شقی وسعید ۔۴
( تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب۔ت) کی تفسیر ، تفسیر کبیر میں دیکھی۔
واما الذین سعد وا ففی الجنۃ خٰلدین فیہا مادامت السمٰوٰت والارض الا ماشاء ربّک عطاء غیر مجذوذ ۔ ۱ ؎
اور جو خوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہی کبھی ختم نہ ہوگی۔(ت)کے متعلق لکھا ہے:
الاستثناء فی باب السعداء یجب حملہ علٰی احدالوجوہ المذکورۃ فیما تقدم وھناوجہ اٰخروھوانہ ربما اتفق لبعضھم ان یرفع من الجنۃ الی العرش والی المنازل الرفیعۃ التی لایعلمھا الا اﷲ تعالٰی ۔۲
خوش نصیبوں کے بارے میں استثناء کو ماقبل میں مذکور وجوہ میں سے کسی ایک پر محمول کرنا لازم ہے اور یہاں پر ایک دوسری وجہ ہے وہ یہ کہ بسا اوقات بعض کے لیے یہ اتفاق ہوتا ہے کہ اسے جنت سے عرش اور ان بلند منزلوں کی طر ف رفعت بخشی جاتی ہے جن کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔(ت)
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۸)
(۱ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۸)
(۲ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت آیت ۱۱/ ۱۰۸ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۱۸/ ۶۷)
اگر کوئی کہے کہ الفاظ غیر مجذوذ سے معلوم ہوا کہ عطا غیر منقطع ہوگی مگر استثناء ماشاء ربک ہے قدرت منقطع کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز ہر گز مشیئت منقطع کرنے کے لیے متعلق نہ فرمائے گا تو اس کا کیا جواب ہے حضور کا رسالہ جلد اول سبحن السبوح فدوی کے پاس ہے۔
مولانا مولوی امجد علی صاحب سے چند کتابیں مثل ظفر الطیب وغیرہ ونیز جلد ثانی سبٰحن السبوح کی کمترین نے بذریعہ ویلوطلب کی ہیں کتاب صیانۃ الناس عن وساوس الخناس تصنیف مولانا نذیراحمد خاں صاحب مرحوم رامپوری میں لکھا ہے۔ اخبارِ وعدہ ثواب کا قطعی ہونا اور مشیت پر مبنی نہ ہونا واجب ہے کہ اس کے خلاف میں لوم ہے جس سے خدائے تعالٰی پاک ومنزہ ہے۔
قال عبدالحکیم فی الحاشیۃ علی الخیالی لعل مراد ذٰلک البعض بقولھم ان الخلف فی الوعید کرم ان الکریم اذا زجر بالوعید فاللائق بحالہ و مقتضی کرمہ ان یبتنی اخبارہ علی المشیۃ فجمیع ا لعمومات الواردفی الوعید متعلقۃ بالمشیۃ وان لم یصرح بھا زجر اللعاصین ومنعاً لھم فلا یلزم الکذب والتبدیل بخلاف وعدالکریم فانہ یجب ان یکون قطعیا لان الخلف فیہ لوم فلا یجوز تعلیقہ بالمشیۃ ۔۱
ملا عبدالحکیم نے خیالی کے حاشیہ مین کہا، شاید اس بعض کی مراد اپنے اس قول سے کہ وعید میں خلف کرم ہے یہ ہو کہ کریم جب وعید کے ساتھ زجر فرمائے تو اس کے حال کے لائق اور اس کے کرم کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وعید کے بارے میں اس کی خبر مشیت پر مبنی ہو۔ چنانچہ وعید کے سلسلے میں وارد تمام عمومات مشیت کے ساتھ منسلک ہیں اگرچہ نافرمانوں کی زجرو توبیخ اور انہیں گناہ سے باز رکھنے کی خاطر کریم نے اس کی تصریح نہ کی ہو لہذا اس میں جھوٹ اور تبدیلی لازم نہیں آتی بخلاف کریم کے وعدے کے اس کا قطعی ہونا واجب ہے اس لیے کہ اس میں خلف لوم ہے چنانچہ اس کو مشیت پر معلق کرنا جائز نہیں(ت)
دوسرا خط عریضہ ملفوف تخمیناً بارہ روز ہوئے ہوں گے، فدوی روانہ خدمت فیضد رجت کرچکا ہے ہنوز جواب سے محروم ہے، اُس عریضہ میں متعلق آیت فمنھم شقی وسعید دریافت کیا تھا کہ اہل جنت کی بابت بعد
مادامت السموٰت والارض
( جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ت) کے
الاماشاء ربک
( مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ ت) سے اگر کوئی شبہہ کرے کہ قدرت خلود ابدی کے خلاف کرنے پر معلوم ہوتی ہے اگرچہ ہر گز خلاف وعدہ نہ فرمائے گا چنانچہ صراحۃً بھی عطاء غیر مجذوذ کے فرمادیا ہے تو کیا شبہہ ہے۔
تفسیر ابن جریرو عرائس البیان میں ہے:
قال ابن مسعود لیا تین علی جہنم زمان تخفق ابوابھا لیس فیھا احد ۔ ۲؎
ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ جہنم پر ضرور ایک ایسا زمانہ آئے گا جب اس کے تمام دروازے خالی ہوجائیں گے اور اس میں کوئی ایک شخص بھی نہیں رہے گا۔(ت)اس کا کیا مطلب ہے؟
( ۲ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر) تحت آیت ۱۱/۱۰۷ داراحیاء التراث العرابی بیروت ۱۲ /۱۴۲)
الجواب : بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلیّ علٰی رسولہ الکریم مولانا المکرم اکرمکم
میں آج کل متعدد رسائل رَدوہابیہ خذلہم اﷲ تعالٰی میں مشغول تھا۔ خبر الہی مثل علم الہی ہے ان میں سے کسی کا خلاف ممکن نہیں، مگر یہ استحالہ بالغیر ہے، نفی قدرت نہیں کرتا علم الہی ازلی میں تھا کہ یہ زید کو فلاں وقت پیدا کرے گا اب واجب ہوا کہ زید اس وقت پیدا ہو، اگر نہ پیدا ہو تو معاذ اللہ جہل لازم آئے لیکن اس سے یہ لازم نہ آیا کہ مولا تعالٰی اس کو پیدا کرنے پر مجبور ہوگیا، نہ پیدا کرنے پر قادر نہ رہا ورنہ پھر جہل لازم آئے کہ علم میں تو یہ تھا کہ اپنی قدرت سے اسے پیدا کرے گا اور یہ نہ ہوا بلکہ معاذ اﷲ مجبور ہوگیا۔ حاشا بلکہ زید کا وجود وفنا ازلاً ابداً تحتِ قدرت ہے اور تعلق علم کے سبب جس وقت اس کا وجودِ علم الہی میں تھا وجود واجب ہے اور جس وقت فنا فنا واجب ہے کہ خلاف ہو تو جہل ہو اور جہل محال بالذات ہے اس محال بالذات نے ان ممکنات کو اپنے اپنے وقت میں واجب بالغیر کردیا اس سے معاذ اللہ نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ جہل ممکن، بعینہ یہی بات خبر الہی میں ہے اس نے خبر دی کہ اہل جنت کو جنت میں ہمیشہ رکھے گا ان کا خلود واجب ہوگیا۔ اگر نہ ہو تو معاذ اللہ کذب لازم آئے۔ مگر اس سے انقطاع پر قدرت مسلوب نہ ہوئی خلودو انقطاع دونوں ازلاً ابداً زیر قدرت ہیں مگر تعلق خبر نے خلود کو واجب بالغیر کردیا اس سے نہ قدرت مسلوب ہوئی نہ معاذ اﷲ کذب ممکن۔ کذب کے محال بالذات ہونے ہی نے تو اس ممکن کو واجب بالغیر کردیا اگر اس سے کذب ممکن ہوجائے تو اسے واجب کون کرے، مولا عزوجل کے وعدو وعید کسی میں تخلف ممکن نہیں خود وعید ہی کے لیے ارشاد ہوا ہے۔
مایبدل القول لدی ۔۱
میرے یہاں بات بدلتی نہیں۔ت) جیسے وعدہ کوفرمایا :
لن یخلف اﷲ وعدہ ۔۲؎
(اور اﷲ تعالٰی ہر گز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا۔ت) بعض کے کلام میں کہ خلف وعید کا لفظ واقع ہوا تصریحات ہیں کہ اس سے مراد عفو ہے، یہ اگر معاذ اللہ امکانِ کذب ہو تو امکان کیسا وقوع ہوا کہ عفو یقیناً واقع ہوگا، اس کی مفصل بحث سبحٰن السبوح میں ہے آیہ کریمہ
الا ماشاء ربک ۔۳
( مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ت) کے وہ معنی بعونہ تعالٰی ذہنِ فقیر میں ہیں جن کے بعد ہر گز ہر گز کسی تاویل کی حاجت نہیں ، معنی ظاہر پر بلا تکلف مستقیم ہیں خلودِ اہل دارین کو عمر آسمان و زمین سے مقدر فرمایا ہے
مادامت السموت والارض ۔۴
( جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ت) ظاہر ہے کہ اس سے یہ بقائے آسمان وز مین مراد نہیں جو نفخِ صور پر منقطع ہے بلکہ سماء و ارض کہ روزِ قیامت اعادہ کیے جائیں گے اُن کی عمر مراد ہے جو ابدی ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس کی مقدار جنتیوں کے جنت دوزخیوں کے دوزخ میں رہنے کی مقدار سے صدہا سال زائد ہے کہ انتہا نہ ان کو نہ اس کو، مگر اس کی ابتداء ان کی ابتداء سے سینکڑوں برس پہلے ہے شروع روزِ قیامت میں آسمان و زمین پیدا ہوجائیں گے لیکن جنتی جنت اور دوزخی دوزخ میں بعد حساب جائیں گے اور باہم بھی مقدار میں مختلف ہوں گے فقراء اغنیاء سے پانچسوبرس پہلے جنت میں جائیں گے تو جانب ابتدا میں ان کا خلود اُن سموات وارض کے دوام سے کم ہوا کسی کا مثلاً ہزار برس کم جیسی جس کے لیے مشیت ہوگی کسی کا دو ہزار برس کم، الٰی غیر ذلک اس کو فرماتا ہے ۔
الا ماشاء ربک۱
( مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا۔ ت) روایت
لیا تیّن علٰی جہنم ۲ الخ
دوزخ کے طبقہ اولٰی کے لیے ہے جس کا نام جہنم ہے اگرچہ مجموعہ کو بھی جہنم کہتے ہیں یہ طبقہ عصاۃ موحدین کے لیے ہے یہ بیشک ایک روز بالکل خالی ہوجائے گا جب لا الہ اﷲ کہنے والا کوئی اس میں نہ رکھا جائے گا۔، واﷲ تعالٰی اعلم۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۰ ۵ /۲۹)(۲ ؎ القرآن الکریم ۲۲ /۴۷)(۳؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷ و ۱۰۸)
( ۴؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷ و ۱۰۸)( ۱ ؎ القرآن الکریم ۱۱/ ۱۰۷ و ۱۰۸)
(۲ ؎ جامع القرآن (تفسیر ابن جریر) تحت آیت ۱۱/ ۱۰۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۲/ ۱۴۲)