Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
37 - 157
مسئلہ۸۴ تا  ٨٧ : مولوی افضل صاحب بخاری طالب علم مدرسہ منظر الاسلام بریلی ۲۱ صفر ۱۳۳۶ھ

(۱) عرض اینست کہ وردخواندن شرائط بسیار مذکور ست عقل بعیدمی پندارد تاکہ در وقت خواندن درنفس خطرات پیدا می شود یعنی کہ حضرت مآب آیا می بیند ومی شنود۔
 (۱) عرض یہ ہے کہ وِرد پڑھنے میں شرائط بہت زیادہ مذکور ہیں جن کو عقل بعید سمجھتی ہے یہاں تک کہ ورد پڑھتے وقت دل میں خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں، یعنی کیا رسالتماب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دیکھتے اور سنتے ہیں؟
 (۲) جناب سید کائنات خود رحمت وبروحِ اقدس او رحمت فرستادن چہ فائدہ ؟
 (۲) سیدکائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب خود رحمت ہیں تو ان پر رحمت (درود ) بھیجنے کا کیا فائدہ ہے ؟
 (۳) پروردگارِ عالم چرا برانبیاء علیہم السلام فرمود کہ اگر محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم برزمان ہریک اگر مبعوث شد تو بروے ایمان آورد وغیرہ چرا کہ بروے معلوم بود کہ زمانہ خاص جلوہ افروز میشود۔
 (۳) پروردگار  عالم نے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کو کیوں ارشاد فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اگر ان کے زمانہ میں مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر ایمان لائیں حالانکہ اﷲ تعالٰی کو معلوم تھا کہ آپ ایک خاص زمانے میں جلوہ افروز ہوں گے۔
 (۴) عرض اینست کہ اگر شخصے ایں عقیدہ داشتہ باشدبایں طور کہ براﷲ تعالٰی چیزے واجب نیست ازجانب غیر لکن از طرف رحمت وفضل اگر خود برخود واجب کردہ باشد جائز ست چگونہ۔
 (۴) عرض یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ کسی غیر کی جانب سے اﷲ تعالٰی پر کوئی شیئ واجب نہیں لیکن وہ خود اگر اپنی رحمت و فضل سے اپنے ذمہ کرم پر کچھ واجب کرلے تو جائز ہے، یہ کیسا ہے؟
الجواب :

(۱) بلاشبہہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام می بیند و می شنود انّی ارٰی ما لاترون واسمع مالاتسمعون اطّت السّماء وحق لہا ان تئط۱؂ آواز اطیط آسمان از پانصد سالہ راہ می شنود ازراہ دویک ماہ چنان نشنود ان اﷲ تعالٰی قدر فع لی الدنیا فانا انظر الیھاو الی ماھو کائن فیہا الی ٰ یوم القیمۃ کانّی انظر الٰی کفی ھذہ ۲؂ انچہ تا قیامت آمدنی ست ہمہ را ہمچو کف دست مبارکش می بیند آنچہ از حالاموجود ست چرانہ بیند علیہ من الصلوات افضلہا ومن التحیات اکملہا۔ اینہارا عقل بعید نمی پندارد بلکہ وہم و ظن اکذب الحدیث ست چہ جائے وہم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
بلاشبہہ حضو ر اقدس علیہ الصلوۃ والسلام دیکھتے اور سنتے ہیں(فرمان رسول ہے) بے شک میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان نے چیخ ماری ہے اور اس کو چیخ مارنی چاہیے۔ جب وہ پانچ سوسال کی راہ سے آسمان کی چیخ کی آواز سنتے ہیں تو ایک دو ماہ کی راہ سے کیوں نہیں سنتے۔(فرمان  ر سول ہے) بے شک اﷲ تعالٰی نے دنیا کو میری طرف بلند کردیا تو میں اس کی طرف اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے اس کی طرف دیکھ رہا ہوں گویا کہ میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ جب وہ قیامت تک ہونے والی چیزوں کو اپنے دستِ مبارک کی ہتھیلی کی طرح دیکھتے ہیں تو جو کچھ اب موجود ہے اس کو کیوں نہیں دیکھ سکتے ، ان پر افضل و اکمل درود و سلام ہوں۔ عقل اس کو بعید شمار نہیں کرتی بلکہ وہ، اور جب ظن اکذب الحدیث ہے تو وہم کس گنتی میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۱ ؎ جامع الترمذی کتاب الزہد باب ماجاء فی قول النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لو تعلمون ما اعلم امین کمپنی دہلی ۲/ ۵۵)

( ۲ ؎ کنزالعمال     حدیث ۳۱۹۷۱        موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱ /۴۲۰)
(۲) حق سبحنہ وتعالےٰ خود پاک وسبوح ست برائے او تسبیح گفتن چہ فائدہ ؟ فائدہ خود ماراست ؎

من نگردم پاک ازتسبیح شاں		پاک ہم ایشاں شوندو درنشاں

ہمچناں اینجا فائدہ ماراست کہ من صلی علی واحدۃً صلی اللہ علیہ عشرا ۔۱؂ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، وھو اعلم۔
 (۲) حق سبحنہ وتعالٰی جب خود پاک اور منزہ ہے تو پھر اس کی تسبیح (پاکی) بیان کرنے کا کیا فائدہ ؟ فائدہ درحقیقت خود ہمارا ہے۔ میں ان کی تسبیح سے پاک نہیں ہوتا۔(بلکہ تسبیح سے) وہ خود پاک اور ممتاز ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہاں ( درود بھیجنے میں) بھی ہمارا اپنا فائدہ ہے، ( فرمانِ رسول ہے) کہ جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا اﷲ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اﷲ تعالٰی آپ پر درود و سلام بھیجے، اور وہ خوب جانتا ہے۔
 ( ۱ ؎  صحیح مسلم    کتاب الصلوۃ  باب الصلوۃ علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعد التشہد    قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۷۵)
 (۳) مقصود اظہار عزت و عظمت و سیادت مطلقہ واصالت کلیہ حضور پُرنور علیہ افضل الصلوۃ والسلام بود تاہمہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام رادر دائرہ نبوت مطلقہ اش فراگیرد وامتی اوگرداند ، صلی اللہ تعالٰی علیہم اجمعین و وبارک وسلم۔
 (۳) حضور پُر نور علیہ افضل الصلوۃ والسلام کی عزت عظمت، سیادت مطلقہ اور اصالت کلیہ کو ظاہر کرنا مقصود تھا تاکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو آپ کی نبوتِ مطلقہ کے دائرہ میں لے کر آپ کا امتی بنادے۔ ان سب پر اﷲ تعالٰی درود وسلام وبرکت نازل فرمائے۔
 (۴) صحیح است وآں وجوب نیست تفضل ست
کتب ربکم علٰی نفسہ علٰی نفسہ الرحمۃ ۲؂ وکان حقاً علینا نصر المؤمنین ۔۳؂
واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴) یہ صحیح ہے، اور وہ وجوب نہیں بلکہ اس کا فضل ہے۔(فرمانِ الہی ہے) تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔(مزید فرمایا) اور ہمارے ذمہ کرم پر ہے مسلمانوں کی مدد فرمانا(ت) (واﷲ تعالٰی اعلم)
 ( ۲ ؎  ا لقرآن الکریم    ۶ /۵۴) ( ۳ ؎  القرآن الکریم   ۳۰ /۴۷)
مسئلہ ۸۸: ازشہر محلہ قلعہ متصل جامع مسجد مرسلہ حامد حسین خان صاحب    ۷ ربیع الاخر شریف۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ آیا ولایت مطلقہ افضل ہے نبوت خاص سے یا نبوت خاص افضل ہے ولایت سے؟ اور صحابہ کرام رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کون صحابی دارائے ولایت تھے؟ اور تمام صحابہ کرام مرتبہ ولایت پر فائز تھے یا بعض اُن میں سے مفصل اور مشرح ارشاد ہو۔
الجواب :  نبوت مطلقاً ہر ولی غیر نبی کی ولایت سے ہزاروں درجے افضل ہے کیسے ہی اعظم مرتبہ کاولی ہو، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ نبی کی نبوت خود اس کی اپنی ولایت سے افضل ہے یا اس کی اپنی ولایت اس کی نبوت سے، اور اس اختلاف میں خوض کی کوئی حاجت نہیں، پہلی بات ضروریات دین سے ہے اس کا اعتقاد مدارِ ایمان ہے جو کسی ولی غیر نبی حتی کہ صدیق کو کسی نبی سے افضل یا ہمسر ہی کہے کافر ہے
کما قدنص علیہ الاکابر الائمۃ فی غیرماکتاب ۔
(جیسا کہ اکابر امت نے متعدد کتابوں میں اس پر نص فرمائی ہے۔ت) صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سب اولیائے کرام تھے ۔
قال اﷲ تعالٰی: لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولٰئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا و کلاًّ وعد اﷲ الحسنی واﷲ بما تعملون خبیر، ۔۱؂
تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ کیا اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے اﷲ تعالٰی جنت کا وعدہ فرماچکا ہے، اور اﷲ تعالٰی کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(ت)
( ۱ ؎  ا لقرآن الکریم         ۵۷/ ۱۰)
وقال اﷲ تعالٰی : ان الذین سبقت لہم منا الحسنٰی اولئٰک عنہا مبعدون oلایسمعون حسیسہا وھم فی مااشتھت انفسھم خٰلدون oلایحزنھم الفزع الاکبر وتتلقّٰھم الملئکۃ ھٰذا یومکم الذی کنتم توعدون۲؂ o
بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی کا وعدہ پہلے ہوچکا وہ اس ( جہنم) سے دور رکھے گئے ہیں و ہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور جو کچھ وہ چاہیں گے ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ، اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔(ت)
 ( ۲ ؎  القرآن الکریم         ۲۱/ ۱۰۱ تا ۱۰۳)
وقال اﷲ تعالٰی  : والذین اٰ منوا باﷲ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشہداء عند ربھم لھم اجرھم ونورھم  ۔۱؂
اور وہ جو اﷲ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں ان کے لیے ان کا ثواب اور ان کا نور ہے۔(ت)
وقال اﷲ تعالٰی : یوم لایخزی اﷲ النبی والذین اٰمنوا معہ نور ھم یسعی بین ایدیھم وبایمانھم  ۔۲؂
جس دن اﷲ تعالٰی رسوا نہ کرے گا نبی اور ان کے ساتھ کے ایمان والوں کو، ان کا نور دوڑتا ہوگا اُن کے آگے اور ان کے دائیں۔ (ت)
صحابہ کرام میں سب سے افضل و اکمل و اعلٰی واقرب الی اﷲ خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم تھے اور انکی افضلیت ولایت بترتیبِ خلافت ، یہ چاروں حضرات سب سے اعلٰی درجے کے کامل مکمل ہیں اور دارائے نیابت نبوت ہونے میں شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کا پایہ ارفع ہے اور دارائے تکمیل ہونے میں حضرت مولا علی مرتضٰی شیرِ خدا مشکل کُشا کا،
رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ، واﷲ اعلم۔
مسئلہ ۸۹: قصبہ بشارت گنج ضلع بریلی فتح محمد ۱۲ جمادی الاخر ۱۳۳۶ھ     یوم ہفتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پارہ ۹ سورہ اعراف میں یہ آیہ کریمہ آتی ہے ۔
ولوکنت اعلم الغیب لا ستکثرت من الخیروما مسّنی السُّوء ان انا الا نذیروبشیرلقوم یؤمنون  ۔۳؂
اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی، میں تو یہی ڈر اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔(ت)

اس کے کیا معنی ہیں اور اس کا شانِ نزول کیا ہے اور اس سے علمِ غیب کی نفی ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب : اگر میں اپنی ذات سے بے خدا کے بتائے غیب جانتا تو بہت سی خیر جمع کرلیتا اور مجھے کوئی برائی تکلیف نہ پہنچتی ، میں تو ایمان والوں کو ڈر اور خوشخبری ہی سنانے والا ہوں کافروں کے مہمل سوالات پر اتری تھی۔ اس سے علمِ غیب ذاتی کی نفی ہوتی ہے کہ بے خدا کے بتائے مجھے علم نہیں ہوتا اور خدا کے بتائے سے نہ ہونا مراد لیں تو صراحۃً قرآن مجید کا انکار اور کھلا کفر ہے۔ اس کی تفصیل ہمارے رسائل علمِ غیب میں دیکھو، واﷲ اعلم۔
مسئلہ  ۹۰  تا ٩١ : از قصبہ شیش گڑھ ڈاک خانہ خاص بریلی مسؤلہ سید محمد سجاد حسین صاحب ۲۹ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ

(۱) زید باوجود ادعائے صدیق الوارثی کے اسمعیل دہلوی کو حضرت مولانا مولوی محمد اسمعیل صاحب شہید رحمۃ اﷲ علیہ لکھتا ہے۔

(۲) بکر اپنے آپ کو چشتی حیدری بتاتا ہے اور مندرجہ ذیل امور پر اعتقاد رکھتا ہے یعنی مسلمان جو حضرات پیرانِ پیر جناب شیخ سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی گیارہویں شریف مقرر کرکے ان کی رُوح پر فتوح کو ثواب پہنچاتے ہیں اس کی بابت کہتا ہے کہ گیارھویں تاریخ مقرر کرنا مذموم ہے۔ ماہِ رجب کی بابت لکھتا ہے کہ اس ماہ کے نوافل، صلوۃ وصوم وعبادت کے متعلق بڑے بڑے ثوابوں کی بہت سی روایتیں ہیں اُن میں صحیح کوئی بھی نہیں ۔ اور یہ بات بالکل غلط اور بے سند ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم ماہِ رجب میں ہوا تھا۔ ماہِ شعبان میں حلوا پکانا یا تیرھویں کو عرفہ کرنا، عید کے دن کھانا تقسیم کرنا ممنوع ہے۔ ماہِ محرم میں کھچڑا یا شربت خاص کرکے پکانا ، پلانا اور اماموں کے نام کی نیاز دلانا اور سبیل لگانا بہت بری بدعتیں ہیں، ماہِ صفر میں کسی خاص ثواب یا برکت کا خیال رکھنا جہل ہے، سید احمد رائے بریلوی کو نیک ، بزرگ بلکہ ولی جانتا ہے۔پس کیا فرماتے ہیں علمائے دین ایسے اشخاص کے حق میں کہ ان کا اصلی مذہب کیا ہے؟ اور امور مذکورہ بالا کی اصلیت مفصل طور سے تحریر فرمائی جائے۔
الجواب :

(۱) صورت مذکورہ میں زید گمراہ بددین نجدی اسمعیلی ہے اور بحکم فقہائے کرام اس پر حکمِ کفر لازم ، جس کی تفصیل کتاب
  الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوھابیہ
سے ظاہر، واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲) بکر ہو شیار وہابی معلوم ہوتا ہے، گیارھویں شریف کو مذموم، شعبان کے حلوے ، تیرھویں کے عرفے، عید کے کھانے کو مطلقاً بلا ممانعت شرعی ممنوع، محرم شریف کے کھچڑے ، شربتِ ائمہ اطہار کی سبیل کو مطلقاً بدعتِ شنیعہ کہنا شعارِ وہابیہ ہے۔ اور وہابیہ گمراہ ، بددین ، احادیثِ اعمال رجب کو صحیح نہ کہنا بڑی چالاکی ہے، اصطلاح محدثین کی صحت یہاں درکار نہیں ، فضائلِ اعمال میں ضعاف بالاجماع مقبول ہیں۔ رجب میں کشتی بنانے کا حکم نہ ہوا تھا بلکہ رجب میں کشتی چلی اور اعداء  پر قہر اور محبوبوں پر
  وحملنٰہ علٰی ذات الواح ودسر o تجری باعیننا جزاء لمن کان کفر  ۔۱؂
 ( ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں اور کیلوں والی پر کہ ہماری نگاہ کے رُوبرو بہتی، اس کے صلہ میں جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔ت) کا فضل اسی مہینہ میں ظاہر ہوا۔ یہ عبداللہ بن عباس و غیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی حدیثوں سے ثابت ہے۔
( ۱؎  القرآن الکریم          ۵۴/۱۳ و ۱۴)
صفر و سرُمہ عاشورہ کی نسبت اس کا قول رَد نہ کیا جائے اگرچہ ثانی میں اختلاف کثیر ہے۔ اگر صراط مستقیم کے کلماتِ باطلہ کو باطلہ، کفر یہ کو کفریہ، اسمعیل دہلوی کو گمراہ بددین جانتا ہے وہابیت سے جدا ہے تو سید احمد کو صرف بزرگ جاننے سے وہابی نہ ہوگا۔ ورنہ
وقدبینا الایات لقومہ یعقلون کما ھدا نا ربنا تبارک وتعالٰی عما یصفون
 ( تحقیق ہم نے عقلمند قوم کے لیے نشانیاں ظاہر کردی ہیں، جیسا کہ ہمارے رب نے ہمیں ہدایت دی ہمار اپروردگار ان کی باتوں سے بلند و بالا ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter