Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
35 - 157
مسئلہ ۷۲ : مرسلہ موضع بہوبت پور ڈاکخانہ اتراؤں ضلع الہ آباد سائل امیر اﷲ قصاب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عالم صاحب قیام محفل میلاد شریف کو منع کرتے ہیں جو ہر وقت ذکر ولادت سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ اس کا ثبوت کہیں نہیں ہے ونیز یہ بھی کہتے ہیں کہ نام جب آتا ہے تو لوگ انگوٹھا چومتے ہیں اس کا بھی کہیں ثبوت نہیں یہ سب بیجا ہے اور گناہ ہے، ایسے عالم کے لیے کیا حکم ہے؟ اور ان سے مرید ہونا اور انکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور یہ امور مذکورہ یعنی قیام اور بوسہ دینا انگوٹھے کا بروقت نامِ پاک آنے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے، کیا اس کا کہیں ثبوت ہے؟ امید کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیا جائے، یہاں پر سخت جھگڑا اس کی بابت ہے، لہذا جواب جلد مرحمت ہو۔
الجواب

ایسا شخص عالم نہیں ہوسکتا جسے اتنی تمیز نہ ہو کہ منع کرنے اور گناہ کہنے کو ثبوتِ منع درکار ہے جس چیز سے اﷲ تعالٰی اور رسول اﷲ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا یہ منع کرنے والا کون اس کے لیے عدمِ ثبوت کافی جاننا سخت جہل شدید ہے، ثبوت تو منع کا بھی نہیں، تو اُسی کے منہ ثابت ہوا کہ وہ اس ممانعت کے سبب گنہگار ہے، آج کل ان چیزوں کے مانعین اکثر وہابی ہوتے ہیں، اور وہابی بے دین ہیں ان کی بات سننا حرام ہے، اور ایسے شخص کا مرید ہونا سخت اشد گناہِ کبیرہ ہے اور اس کے پیچھے نماز باطل محض ۔
کما حققناہ فی النھی الاکید
 (جیسا کہ ہم نے (رسالہ النہی الاکید میں اسکی تحقیق کی ہے۔ت)قیام کا ثبوت ہمارے رسالہ
اقامۃ القیامہ
میں ہے، اور بوسہ انگشت میں ہماری مبسوط کتاب منیرالعین ہے جسے طبع ہوئے ۲۳ برس ہوئے واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۷۳ :از شہر بانس منڈی دُکان عزیز اﷲ مرسلہ کریم بخش چمڑہ فروش ۱۹ رمضان ۱۳۳۶ھ

زید نے کہا کہ جو شخص روزہ رکھے گا نماز پڑھے گا اور جتنے ارکانِ شرعی ہیں وہ سب ادا کرے گا وہ رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُمت میں ہے اور وہ بہشت میں جائے گا اور جو رسول مقبول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے برخلاف ہوگا وہ دوزخ میں جائے گا اور نہ اس کی بخشش ہے او ر نہ وہ اُمت میں ہے۔ بکر نے کہا جو روزہ نہ رکھے نماز نہ پڑھے جتنے ارکان شرعی ہیں وہ سب نہ ادا کرے مگر کلمہ گوہو وہ بخشا جائے گا۔
الجواب : دونوں قول گمراہی وضلالت ہیں، پہلا قول خارجیوں کا ہے کہ مرتکب کبیرہ کو کافر کہتے ہیں، دوسرا نیچریوں کا ہے کہ نِری کلمہ گوئی کافی جانتے ہیں، مسلمانان اہلسنت کا مذہب یہ ہے کہ جو ضروریاتِ دین میں سے کسی شے کا منکر ہو یا عزوجل یا قرآن عظیم یا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یا کسی نبی یا ملک کی توہین کرے غرض کوئی قول یا فعل نافی و منافی ایمان وقطعاً قاطع اسلام کرے وہ کافر ہے اگرچہ لاکھ کلمہ گو نمازی روزہ دار ہو، اور جو عقیدہ و دین میں مسلم سالم ہے، اگر ایک وقت کی نماز قصداً یا ایک فرض روزہ عمداً ترک کرے یا کسی گناہ کا مرتکب ہو اﷲ عزوجل چاہے تو اس پر عذاب کرے اور یہ اس کا عدل ہے چاہے بخش دے اور یہ اس کا فضل ہے۔
ان اﷲ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء واﷲ تعالٰی اعلم ۔ ۱؎
بے شک اﷲ تعالٰی اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(ت) واﷲ تعالی اعلم۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم  ۴/ ۴۸ و ۴ / ۱۱۵)
مسئلہ ۷۴: ازاردہ نگلہ ڈاک خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ     مرسلہ صادق علی خان صاحب ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ

زید کا یہ عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالٰی ذاتِ پاک رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برابر پیدا کرسکتا ہے مگر بموجب اپنے وعدہ کے پیدا نہیں کرے گا۔ زید کا امامِ نماز ہونا محققین علماء کے نزدیک درست ہے یا نہیں؟
الجواب : حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بہت فضائل جلیلہ وخصائص کریمہ ناقابل اشتراک ہیں جیسے افضل الانبیاء خاتم النبیین، سید المرسلین ، اول خلق اﷲ ، افضل خلق اﷲ، اول شافع، اول مشفع، نبی الانبیاء صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم۔ اگر اس وقت اس طرف قائل کا ذہن نہ گیا محض عموم قدرت پیش نظر تھا اُسے تفہیم کی جائے ، اگر تابعِ حق وطالبِ حق ہوگا ضرور سمجھ جائے گا۔ اور اپنی غلطی سے باز آئے گا۔اور اگر باوصفِ تفیہم عناد و استکبار و لداد و اصرار کرے تو ضرور بذمذہب ہے، اسے امام بنانا ہر گز جائز نہیں اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب،یہ بھی اس وقت ہے کہ قول مذکور بعلت وہابیت نہ ہو، ورنہ اب دیوبندیوں نے وہابیہ میں اسلام کا نام نہ رکھا جو ان کے مثل اﷲ ورسول کی شدید واضح و قابل تاویل توہینیں کرتے ہیں خود کافر ہیں، ورنہ اتنا ضرور ہے کہ ان توہینوں کے کرنے والوں کو کافر نہیں کہتے یہ ان کے صدقے میں کافر ہوئے علمائے حرمین شریفین دیوبندیوں کی نسبت تحریر فرماچکے کہ
من شک فی کفرہ فقد کفر ۔۲؂
جوان کے کفر میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔والعیاذ باللہ تعالٰی (اللہ بچائے ۔ت) واللہ تعالی اعلم
 ( ۲ ؎ حسام الحرمین  مکتبہ نبویہ لاہور  ص ۱۳ )
مسئلہ ۷۵: از کلکتہ ڈاک خانہ بالی گنج کڑایاوڈ نمبر۱۰۱ مسؤلہ فیض محمد تاجر دربازار مستری ہادی مرحوم۔ 

حضور قطب الاقطاب سیدنا ومولانا محبوب سبحانی غوث الصمدانی رحمۃ اﷲ علیہ نے جو اپنے رسالہ غنیۃ الطالبین میں مذہبِ حنفیہ کو گمراہ فرقہ میں مندرج فرمایا ہے اس کو اچھی طرح سے حضور واضح فرما کر تسکین و تشفی بخشیں کہ وسوسہ و خطراتِ نفسانی و شیطانی رفع ہوجائیں ، عبدالعظیم نامی ضلع غازیپور کے باشندے نے ایک رسالہ تصنیف کیا ہے جس میں رسالہ تقویۃ الایمان عرف تفویۃ الایمان کے مضمون کو مکتوبات مخدوم الملک رحمۃ اﷲ علیہ و مجدد الف ثانی رحمۃ اﷲ علیہ  اور بھی بزرگان دین کے مکتوبات سے دکھلایا ہے وثابت کیا ہے کہ ان بزرگوں نے اپنے مکتوبات میں تقویۃ الایمان سے بھی سخت سخت الفاظ نام بنام لکھاہے کہ اﷲ چاہے تو فلاں کو مردود کردے و فرعون و نمرود کو چاہے مقبول کرے، سینکڑوں کعبہ تیار کردے وغیرہ وغیرہ۔

اب خاکسار عرض کرتا ہے کہ یا تو کوئی رسالہ ان کے جواب میں شائع فرمایا ہو تو بذریعہ ریلوے ڈاک پارسل ارسال ہو یا واضح خلاصہ جواب ارقام ہو والسلام مع الاکرام۔

غنیۃ الطالبین کے مضامین سے زیادہ اس لیے انتشار ہے کہ دونوں حضرات سے تعلق و رشتہ و ایمان و ایقان کا سلسلہ ملحق ہے، حنفی اگر مذہب ہے تو قادری مشرب ہے، اب ذرا بھی ان دونوں پیشوا کی طرف سے ریب و شک دامنگیر ہوا کہ بہت بڑا حملہ ایمان پر ہونے کا خوف و ڈر ہے، ﷲ میرے حالِ زار پر رحم فرمائیں اس وقت میرے لیے بہت بڑا امتحان مدنظر ہے۔ زیادہ حد ادب۔
الجواب : بسم اﷲ الرحمن الرحیم    نحمدہ  ونصلّی علٰی رسولہ الکریم 

مکرم کرم فرما اکرمکم اﷲ تعالٰی وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
اولاً کتاب غنیۃ الطالبین شریف کی نسبت حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ سرے سے حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تصنیف ہی نہیں مگر یہ نفی مجرد ہے۔ اور امام حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے تصریح فرمائی کہ اس کتاب میں بعض مستحقین عذاب نے الحاق کردیا ہے،
فتاوٰی حدیثیہ میں فرماتے ہیں:
  وایّاک ان تغتربما وقع فی الغنیۃ لامام العارفین و قطب الاسلام والمسلمین الاستاذ عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فانہ دسہ علیہ فیہا من سینتقم اﷲ منہ والا فہو برئ من ذلک  ۔۱؂
یعنی خبردار دھوکا نہ کھاناا اس سے جو امام اولیاء سردارِ اسلام و مسلمین حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غنیہ میں واقع ہوا کہ اس کتاب میں اسے حضور پر افتراء کرکے ایسے شخص نے بڑھا دیا ہے کہ عنقریب اللہ عزوجل اس سے بدلہ لے گا ، حضرت شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ اس سے بَری ہیں۔
 ( ۱ ؎  الفتاوی الحدیثیۃ مطلب ان مافی الغنیۃ للشیخ عبدالقادر      مطبعۃ الجمالیہ مصر     ص ۱۴۸)
ثانیاً اسی کتاب میں تمام اشعریہ یعنی اہلسنت و جماعت کو بدعتی ، گمراہ ، گمراہ گر لکھا ہے کہ:
خلاف ماقالت الاشعریۃ من ان کلام اﷲ معنی قائم بنفسہ واﷲ حسیب کل مبتدع ضال مضل ۔۲؂
بخلاف اس کے جو اشاعرہ نے کہا کہ اﷲ تعالٰی کا کلام ایسا معنی ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور اﷲ تعالٰی ہر بدعتی، گمراہ و گمراہ گر کے لیے کافی ہے۔(ت)
( ۲ ؎  الغنیۃ لطالبی طریق الحق     فصل فی اعتقاد ان القرآن حروف مفہومۃ  داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱/ ۹۱)
کیا کوئی ذی انصاف کہہ سکتا ہے کہ معاذ اﷲ یہ سرکار غوثیت کا ارشاد ہے جس کتاب میں تمام اہلسنت کو بدعتی ، گمراہ گمراہ گر لکھا ہے اس میں حنفیہ کی نسبت کچھ ہو تو کیا جائے شکایت ہے۔ لہذا کوئی محلِ تشویش نہیں۔
ثالثاً  پھر یہ خود صریح غلط اور افترا بر افترا ہے کہ تمام حنفیہ کو ایسا لکھا ہے غنیۃ الطالبین کے یہاں صریح لفظ یہ ہیں کہ:
ھم بعض اصحاب ابی حنیفۃ ۔۳؂
وہ بعض حنفی ہیں۔
 ( ۳ ؎ الغنیۃ لطالبی طریق الحق فصل واما الجہمیۃ الخ ادارہ نشرو اشاعت علوم اسلامیہ پشاور   ۱/ ۹۱ )
اس نے نہ حنفیہ پر الزام آسکتا ہے نہ معا ذا للہ حنفیت پر ، آخر یہ تو قطعاً معلوم ہے اور سب جانتے ہیں کہ حنفیہ میں بعض معتزلی تھے، جیسے زمخشری صاحبِ کشاف و عبدالجبار و مطرزی صاحبِ مغرب و زاہدی صاحبِ قینہ و حاوی و مجتبےٰ ، پھر اس سے حنفیت و حنفیہ پر کیا الزام آیا۔ بعض شافعیہ زیدی رافضی ہیں اس سے شافعیہ و شافعیت پر کیا الزام آیا۔ نجد کے وہابی سب حنبلی ہیں پھر اس سے حنبلیہ و حنبلیت پر کیا الزام آیا، جانے دو رافضی خارجی معتزلی وہابی سب اسلام ہی میں نکلے اور اسلام کے مدعی ہوئے پھر معاذ اﷲ اس سے اسلام و مسلمین پر کیا الزام آیا۔
رابعاً کتاب مستطاب بھجۃ الاسرار میں بسندِ صحیح حضرت ابوالتقی محمد بن ازہرصریفینی سے ہے مجھے رجال الغیب کے دیکھنے کی تمنا بھی مزارِ پاک امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور ایک مرد کو دیکھا دل میں آیا کہ مردانِ غیب سے ہیں وہ زیارت سے فارغ ہو کر چلے یہ پیچھے ہوئے ان کے لیے دریائے دجلہ کا پاٹ سمٹ کر ایک قدم بھر کا رہ گیا کہ وہ پاؤں رکھ کر اس پار ہوگئے انہوں نے قسم دے کر روکا اور ان کا مذہب پوچھا، فرمایا:
حنفی مسلم وما انا من المشرکین
  ہر باطل سے الگ مسلمان، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں،(ت)
یہ سمجھے کہ حنفی ہیں ، حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بارگاہ میں عرض کے لیے حاضر ہوئے حضور اندر ہیں دروازہ بند ہے ان کے پہنچتے ہی حضور نے اندر سے ارشاد فرمایا : اے محمد ! آج روئے زمین پر اس شان کا کوئی ولی حنفی المذہب نہیں ۔۱؂
 ( ۱ ؎ بہجۃ الاسرار  ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشیئ من عجائب احوالہ مختصرا  دارالکتب العلمیہ بیروت   ص ۱۵۲)
کیا معاذ اﷲ گمراہ بدمذہب لوگ اولیاء اﷲ ہوتے ہیں جن کی ولایت کی خود سرکار غوثیت نے شہادت دی، وہ وہابی رسالہ نظر سے نہ گزرا، یہاں چند امور واجب اللحاظ ہیں۔
اولاً وہ کلمات جو ان کتب سے مخالف نے نقل کیے اسمعیل دہلوی کے کلمات  ملعونہ کے مثل ہوں ورنہ استشہاد مردود ، یہاں یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض متحمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکم قرآن انہیں معنی حسن پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح تو ہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:
کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اﷲ تعالٰی ۔
ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جوا س کے اندر ہوتا ہے، امام حجر مکی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
ثانیاً  وہ کتاب محفوظ مصؤن ہونا ثابت ہو جس میں کسی دشمنِ دین کے الحاق کا احتمال نہ ہو جیسے ابھی غنیۃ الطالبین شریف میں الحاق ہونا بیان ہوا، یونہی امام حجۃ الاسلام غزالی کے کلام میں الحاق ہوئے اور حضرت شیخ اکبر کے کلام میں تو الحاقات کا شمار نہیں جن کا شافی بیان امام  عبدالوہاب شعرانی نے کتاب الیواقیت والجواہر میں فرمایا او ر فرمایا کہ خود میری زندگی میں میری کتاب میں حاسدوں نے الحاقات کیے، اسی طرح حضرت حکیم سنائی و حضرت خواجہ حافظ و غیرہما اکابر کے کلام میں الحاقات ہونا شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناء عشریہ میں بیان فرمایا ، کسی الماری میں کوئی قلمی کتاب ملے اس میں کچھ عبارت ملنی دلیل شرعی نہیں کہ بے کم و بیش مصنف کی ہے پھر اس قلمی نسخہ سے چھاپا کریں تو مطبوعہ نسخوں کی کثرت کثرت نہ ہوگی اور ان کی اصل وہی مجہول قلمی ہے جیسے فتوحات مکیہ کے مطبوعہ نسخے۔
ثالثاً  اگر بہ سند ہی ثابت ہو تو تو اترو تحقیق درکار  امام حجۃ الاسلام غزالی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لاتجوز نسبۃ مسلم الٰی کبیرۃ من غیر تحقیق، نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیّا فان ذٰلک ثبت متواترا۔۱؂
بلا تحقیق مسلمان کی طرف گنا ہِ کبیرہ کی نسبت کرنا جائز نہیں ، ہاں یوں کہنا جائز ہے کہ ابن ملجم نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قتل کیا، کیونکہ یہ خبر متواتر سے ثابت ہے۔(ت)
 ( ۱؎ احیاء العلوم     کتاب آفات اللسان  الافۃ الثامنۃ اللعن  مطبعۃ المشہد الحسینی  القاہرہ    ۳/ ۱۲۵)
جب بے تحقیق تام عام مسلمان کلمہ گو کی طرف گناہ کی نسبت ناجائز ہے تو اولیاء کرام کی طرف معاذ اﷲ کلمہ کفر کی نسبت بلا ثبوت قطعی کیسے حلال ہوسکتی ہے۔
رابعاً  سب فرض کرلیں تو اب وہابی کے جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی توہین بری نہیں کہ فلاں فلاں نے بھی کی ہے کیا یہ جواب کوئی مسلمان دے سکتا ہے، بفرض غلط توہین جس سے ثابت ہو وہ ہی مقبول نہ ہوگا نہ یہ کہ معاذ اﷲ اس کے سب توہین مقبول ہوجائے ۔
ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالٰی اعلم ۔
نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر بلند وعظمت والے اﷲ کی توفیق سے ، واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
Flag Counter