Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
32 - 157
مسئلہ ۵۲: از شہر مدرسہ اہلسنت و جماعت منظر اسلام مسئولہ مولوی اکبر حسن خان رامپوری طالب علم مدرسہ مذکور ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

کمترین خدمت خدامان حضرت میں عارض ہے انگریزوں کے یہاں بدلائل عقلیہ ثابت ہے کہ آسمان کوئی چیز نہیں اور یہ جو نیلگوں شے محسوس ہوتی ہے وہ فضا ہے، اور اختلافِ لیل و نہار سب حرکت ارض ہے۔ اور نہ ستاروں کی حرکت ہے، ہر ستارہ کی کشش دوسرے کو روکے ہوئے ہے جس طرح مقناطیس امید کہ کوئی قوی دلیل عقلی و نقلی وجودِ آشمان پر افادہ فرمائی جائے۔
الجواب 

وجود آسمان پر آسمانی کتابوں سے زیادہ کیا دلیل درکار ہے تمام آسمانی کتابیں اثبات وجودِ آسمان سے مالا مال ہیں، قرآن عظیم میں تو صدہا آیتیں ہیں جن میں آسمان کا ابتداء میں دھواں ہونا بستہ چیز پھر رب العزت کا اسے جدا جدا کرنا پھیلانا، سات پر بنانا، اس کا چھت ہونا اس کا نہایت مضبوط بنائے مستحکم ہونا، اس کا بے ستون قائم ہونا، اللہ تعالٰی کا اسے اور زمین کو چھ دن میں بنانا، روز قیامت اس کا شق ہونا، اٹھا کر زمین کے ساتھ ایک بار ٹکرا دیا جانا، پھر اس کا اور زمین کا دوبارہ پیدا ہونا وغیرہ وغیرہ صاف روشن ارشاد ہیں کہ ان کا انکار نہیں کرسکتا مگر وہ جو اللہ ہی کا منکر ہے، نیز قرآن عظیم میں جا بجا یہ بھی تصریح ہے کہ جو ہم کو نظر آرہا ہے یہی آسمان ہے تو اس میں گمراہ فلسفیوں کا رد ہے جو آسمانوں کا وجود تو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ وہ نظر نہیں آسکتے یہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ کرہ بخار ہے ۔ ان نصرانیوں اور ان یونانیوں سب بطلانیوں کے رد میں ایک آیہ کریمہ کافی ہے کہ:
الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۱؂۔
کیا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے پاک خبردار۔ بنانے والا جو فرمارہا ہے وہ تو نہ مانا جائے اور دل کے اندھے سمجھ کے اوندھے جو اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ سنی جائیں، اس سے بڑھ کر گدھا پن کیا ہوسکتا ہے، یہ بائیبل جو اب نصارٰی کے پاس ہے اس کی پہلی کتاب کا پہلا باب آسمان و زمین کے بیان پیدائش ہی سے شروع ہے رہی دلیل عقلی، ذرا انصاف درکار، اتنا بڑا جسم جسے کروڑوں آنکھیں دیکھ رہی ہیں اس کا وجود محتاج دلیل ہے یا جو کہے یہ معدوم محض یہ سب آنکھوں کی غلطی ہے یہ نِری دھوکا کی ٹٹی ہے اس کے ذمے ہے کہ دلیل قطعی سے اس کا عدم ثابت کرے یوں تو ہر چیز پر دلیل عقلی قائم کرنی ہوگی  آفتاب جسے نصارٰی بھی مانتے ہیں کیا دلیل ہے کہ یہ فی نفسہ کوئی وجود رکھتا ہے اور نگاہ کی غلطی نہیں غرض محسوسات سے بھی امان اٹھ کر دین و دنیا کچھ قائم نہ رہیں گے عنادیہ کا مذہب آجائے گا۔
  ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم واﷲ تعالی اعلم ۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم  ۶۷ / ۱۴)
مسئلہ ۵۳: از لاہور حویلی میاں خان نزد مکان حکیم محمد انور صاحب مرسلہ اﷲ دیا شاعر ۱۶ جمادی الاو لٰی ۱۳۳۶ھ)

میں ایک حنفی المذہب شخص ہوں میں نے ایک مجمع میں جس میں غیر مقلد و مرزائی وغیرہ شامل تھے یہ کہا کہ رسول اکرم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات لایزال ہے اور اس کو زوال نہیں جس پر انہوں نے مجھے کافر مشرک اور بے دین کہا یہ بھی کہا کہ کسی عالم نے آج تک اس مسئلہ پر کچھ نہیں لکھا اس واسطے تم جھوٹے ہو، آپ کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ اس کے متعلق فتوٰی عنایت فرمائیں میں نے لاہور کے چند علماؤں سے اس کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم راستی پر ہو اور انہوں نے مجھے فتوی بھی دیئے۔ اب میری یہ آرزو ہے کہ میں ان فتوؤں کو جمع کرکے چھپوادوں، چونکہ آپ ہماری جماعت حقہ کے حکیم حاذق ہیں اور ہمیں آپ کی ذات بابرکت پر بڑا فخر و ناز ہے۔
الجواب : بے شک حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات و صفات و فضائل و کمالات کبھی زوال پذیر نہیں بلکہ ہمیشہ مترقی ہیں،
قال اﷲ تعالٰی۔ والاخرۃ خیر لک من الاولٰی ۔۲؂
اور بے شک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے۔(ت) یہاں کسی عاقل مسلم کی یہ مراد نہیں ہوسکتی کہ حرکت و انتقال منتفی ہے، نہ کوئی مسلمان اس کی نفی کرے گا۔
 ( ۲؎ القرآن الکریم  ۹۳ / ۴)
تصدیق وعدہ الہٰیہ کے لیے جو ایک آن کے لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو طریان موت ہو کر معاً حیاتِ حقیقی ابدی روحانی جسمانی بخشی جاتی ہے، یہ حضور کے لیے نہ ہوئی بلکہ اس سے حضور کی برزخ میں حیاتِ ابدی اور فضائل اقدس میں ترقی دوامی مراد ہوگی بلاشبہہ اُس تصدیقِ وعدہ کے بعد سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے ابدیت ذات حاصل ہے۔
نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون  ۔۱؂
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔(ت)
 ( ۱ ؎  شرح الصدور              باب احوال الموتٰی فی قبور ہم الخ    خلافت اکیڈمی منگورہ سوات         ص۷۸)

(مسند ابی یعلٰی                حدیث ۳۴۱۲        مؤسسۃ علوم القرآن بیروت         ۳/ ۳۷۹)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
  ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء فنبی اﷲ حی یرزق ، ۔۲؂
بے شک اﷲ تعالٰی نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے چنانچہ اﷲ تعالٰی کا نبی زندہ ہوتا ہے اس کو رزق دیا جاتا ہے۔(ت)
( ۲ ؎ سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز          باب ذکروفاتہ الخ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی            ص ۱۱۹)
باوصف قرب معنی صحیح مسلمان کے کلام کو معنی قبیح بلکہ کفر صریح پر حمل کرنا مسلمان کا کام نہیں۔ واﷲ تعالٰی ۔
مسئلہ ۵۴: ازرادھن پور گجرات قریب احمد آباد مرسلہ حکیم محمد میاں صاحب ۔ ۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

گیارھویں کے لیے آپ کیا فرماتے ہیں، گیارھویں کے روز فاتحہ دلانے سے ثواب زیادہ ہوتا ہے یا آڑے دن فاتحہ دلانے سے، بزرگوں کے دن کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا کیسا ہے؟
الجواب : محبوبان  خدا کی یادگاری کے لیے دن مقرر کرنا بے شک جائز ہے ۔حدیث میں ہے:
کان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یا تی قبور شہداء اُحد علی راس کل حول  ۔۳؂
نبی کریم  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہر سال کے اختتام پر شہدائے احد کی قبروں پر تشریف لاتے تھے۔(ت)
 ( ۳ ؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر)         تحت آیۃ ۱۳/ ۲۴         داراحیاء التراث العربی بیروت             ۱۳/ ۱۷۰)
شاہ عبدالعزیز صاحب نے اسی حدیث کو اعراس اولیاء کرام کے لیے مستند مانا، اور شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا:
ازینجاست حفظ اعراس مشائخ  ۔۱؂
مشائخ کے عرس منانا اس حدیث سے ثابت ہے (ت)
( ۱ ؎ ہمعات ہمعہ ۱۱    شاہ ولی اللہ اکیڈمی حیدر آباد پاکستان         ص ۵۸)
گیارھویں شریف کی تعیین بھی اسی باب سے ہی مگر ثواب کی کمی بیشی اس پر نہیں جب کریں ویسا ہی ثواب ہوگا۔ ہاں اوقاتِ فاضلہ میں اعمال فاضلہ زیادہ نورانیت رکھتے ہیں،
واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵۵: از بریسال ڈاکخانہ مہر گنج محلہ چڑ لکھی مکان منشی عبدالکریم ۔ مرسلہ محمد حسن صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

 آناں بملک مابرائے چند کلام نزع برفع اند اولاً مابین علمائے چند فریق شدہ اند یک دیگرے راوہابی گویند و درپیش آں صلوۃ خوانی مکروہ تحریمی و عقائد قوم و جماعت وہابیہ اینکہ مولود خوانی و زیارتِ قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل وعرس کردن ایں سب امور راحرام گویندو انجا افعال کنندہ را بدعتی گویند درپیش ایں جماعت رانمازنمی خواند وایں ہر دو جماعت ہمیچال فساد می کنند لکن کیفیت وہابی و سنی چیست نہ معلوم اند۔
ہمارے ملک میں چند اختلافی باتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں جن میں سے پہلی یہ کہ علماء کے درمیان کچھ گروہ ہیں جو ایک دوسرے کو وہابی کہتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔ وہابی قوم کے عقائد یہ ہیں کہ وہ میلاد خوانی زیارتِ قبور، فاتحہ ، تسبیح و تہلیل اور عرس کرنے کو حرام کہتے ہیں، اور ایسے افعال کرنے والے کو بدعتی کہتے ہیں ، اور انکی جماعت میں نماز نہیں پڑھتے ۔ یہ دونوں جماعتیں اس طرح فساد کرتی ہیں لیکن وہابی اور سنی کی کیفیت کیا ہے یہ معلوم نہیں(ت)
الجواب :

 دریں دیار منکراں میلاد خوانی و زیارتِ قبور و فاتحہ و تسبیح و تہلیل جزو ہابیہ نہ باشند وہمچناں منکران نفس عرس، اما عرسیکہ مشتمل بر رقص باشد خود نارواست نماز پس وہابیہ جائز نیست ، درفتح قدر است روی محمد عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللہ تعالٰی عنہم ان الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔۲؂ انکار امور مذکورہ شعار وہابیہ است ہمچناں استمداد از انبیاء و اولیاء علیہم الصلوۃ والسلام و یارسول اللہ ویا علی گفتن راشرک می گویند وخلاصہ مذہب ایشاں آنست کہ امام آنہا در تقویۃ الایمان ۱؂گفت کہ جز خدا ہچ کس را قائل مباش و مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم را خود ہمیں بزرگی داشت چنانکہ برادر کلاں رابر برادر خورد و ازیں قسم بسیار سخنہائے گستاخی بانبیاء و اولیاء خود حضور سیدالانبیاء علیہم الصلوۃ والثناء  چادیدہ است حاصل مذہب ایں خبثا آنست کہ حضرت مولوی قدس سرہ در منثوی شریف فرمود

ہمسری با انبیاء برداشتند  	اولیاء راہمچو خود پندا شند ۲؎
اس ملک میں میلاد خوانی ، زیارتِ قبور ، فاتحہ اور تسبیح و تہلیل کا منکر وہابیوں کے سوا کوئی نہیں، یونہی نفس عرس کا منکر بھی ان کے علاوہ کوئی نہیں، رہا قص پر مشتمل عرس تو وہ خود ناجائز ہے، وہابیوں کے پیچھے نماز جائز نہیں، فتح القدیر میں ہے: امام محمد نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی کہ بے شک بدمذہبوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔امور مذکور کا انکار وہابیوں شعار ہے، اسی طرح اولیاء اللہ اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے مدد مانگنے اور یارسول اللہ اور یا علی کہنے کو شرک قرار دیتے ہیں، ان کے مذہب کا خلاصہ وہ ہے جو ان کے امام نے تقویۃ الایمان میں کہا کہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی کا قائل مت ہو، اور محمد مصطفی  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خود پر صرف اتنی بڑائی دیتے ہیں جتنی بڑے بھائی کو چھوٹے بھائی پر۔ اس قسم کی بہت سی گستاخانہ باتیں نبیوں، ولیوں اور خود حضور سید الانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ پر چسپاں کرتے ہیں۔ان خبیثوں کے مذہب کاحاصل وہ ہے جوحضرت مولوی (مولانا روم) قدس سرہ نے مثنوی شریف میں فرمایا ہے انہوں نے نبیوں کے ساتھ برابری کا دعوٰی کھڑا کردیا اور اولیاء اﷲ کو اپنے جیسا سمجھ لیا ہے۔(ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۲ ؎  فتح القدیر     کتاب الصلوۃ         باب الامامۃ          مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر             ۱/ ۳۰۴)

(۱ ؎ تقویۃ الایمان  الفصل الخامس  مطبع علیمی اندرون لوہاری دروازہ لاہور ص ۴۱)

(۲؂ مثنوی معنوی  حکایت مردبقال الخ موسسۃ انتشارات اسلامی لاہور دفتراول ص ۵۸)
Flag Counter