Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
31 - 157
قول: ضرب ۲۳۶: محض جھوٹ ہے، تابعین و تبع تابعین میں تو لکھو کھا مقلدین تھے ہی، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں بھی ہزاروں حضرات خصوصاً اعراب و اکثر طلقاء  مقلد تھے۔ قرونِ ثلثہ کے کروڑوں مسلمانوں میں ہر شخص کو مجتہد جاننا آپ ہی جیسے فاضل اجہل کا کام ہے ایمان سے کہنا قرونِ ثلثہ میں کبھی کسی کا کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا اور وہ جو فرمائے اس پر عمل کرنا ہوا یا نہیں، بے شک ہوا اور ہر قرن میں ہوا اور شب و روز ہوتا رہا، اور تقلید کس چیز کا نام ہے، اگر کبھی خواب میں بھی کتبِ حدیث کی ہوا لگی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ عوام و علماء کا یہ استفتاء  وافتاء نہ صرف زمانہ صحابہ بلکہ زمانہ رسالت سے ہمیشہ رائج رہا۔
ضرب ۲۳۷: اہل زمانہ غیر مقلد ین کے بارے میں سوال کریں کہ ان کے پیچھے نماز کیسی ہے؟ علمائے سنت جواب فرمائیں کہ ممنوع و مکروہ ہے، اس سوال و جواب کو ائمہ مجتہدین پر حمل کرنا، جہالت نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ حرامزدگی ہے، غیر مقلد اس طائفہ تالفہ ضالہ حائفہ کا نام ہے جو بتقلیدِ شیطانِ لعین تقلیدِ ائمہ دین سے انکار رکھتا ہے، مقلدین ائمہ کو مشرک کہتا ہے اپنے ہر خرنا مشخص کو بے اتباع ارشادات ائمہ اپنی عقل  ناقص پر چلنے کا حکم دیتا ہے ناموں کے معانی لغوی لے کر غیر مسمّٰی پر حمل کرنا کیسی حماریت  کبری ہے، یہ وہی مثل ہوئی کہ قارور ے کو قارورہ کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ اس میں پانی کا قرار ہے تو تمہارا پیٹ بھی قارورہ ہوا کہ اس میں بھی پانی کا قرار ہوتا ہے۔ جرجیر کو جرجیر کیوں کہتے ہیں اس لیے کہ وہ تجرجر یعنی حرکت کرتا ہے تو تمہاری داڑھی بھی جرجیر ہوئی کہ اسے بھی جنبش ہوتی ہے۔
ضرب ۲۳۸: اگر بفرض باطل لفظ غیر مقلدین ائمہ مجتہدین کو بھی شامل مانیے تو لفظ کے مصداق جب دو قسم ہوں ایک محمود، دوسری مذموم ، اور محمود زمانہ سلف میں تھے اب تنہا مذموم باقی ہیں تو اب حکم مذمت میں قید و تخصیص کی ضرورت نہیں ہر عاقل کے نزدیک حکم انہیں موجودین کے لیے ہوگا اسے عام سمجھنے والا یا مکابر سرکش ہے یا مسکین بارکش، مثلاً ہر مسلمان کہتا ہے کہ یہود و نصارٰی کافر ہیں اس پر شخص جو اعتراض کرے کہ زمانہ موسوی کے یہود، عصرِ عیسوی کے نصارٰی کہ دین حق پر قائم تھے مومنین تھے تم نے سب کو کافر کہہ دیا، تو یہ معترض انہیں دو حال سے خالی نہیں یا حرامزادہ وہ شریر ہے یا خر مسکین۔

قولہ:  تقلید ایک امر مستحدث ہے اور چوتھی صدی میں ایجاد ہوئی۔
اقول: ضرب ۲۳۹: سخت جھوٹے ہو بلکہ تقلید واجب واجب شرعی ہے، قرآن و حدیث نے لازم کی، زمانہ رسالت سے رائج ہوئی،
قال اﷲ تعالٰی: فاسئلوااھل الذکران کنتم لاتعلمون  ۱ ؎
اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تم خود نہیں جانتے۔(ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم  ۱۶/۴۳ و ۲۱/ ۷)
وقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم: الاسألوااذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال ۔۱؂
انہوں نے خود نہ جاننے پر پوچھا کیوں نہیں کیوں کہ عاجز کا علاج پوچھنا ہے۔(ت)
( ۱ ؎ سنن  ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المجذور یتیمم آفتاب عالم پریس لاہو ر        ۱/ ۴۹)
ہاں تمہارے طائفہ گمراہ کی غیر مقلدی بہت نوپیدا حدث ہے کہ ابن عبدالوہاب نجدی نے بارھویں صدی میں نکالی، دیکھو سردار علمائے مکہ معظمہ شیخ العلما حضرت سیدنا احمد زین قدس سرہ کا رسالہ
الدررالسنیہ فی الردعلی الوھابیہ ۔
ضرب ۲۴۰: ہم اہلسنت کو ان گمراہوں سے نزاع اوّلاً تقلید کو شرک بتانے، ثانیاً اس کے حرام ٹھہرانے ، ثالثاً بے لیاقت اجتہاد اس کا ترک جائز بتانے میں ہے، یہ چالاک عیار تینوں کو چھوڑ کر تقلید شخصی میں الجھنے لگتے ہیں، یہ ان مکاروں کا قدیم طریقہ جان بچانے کا ہے، یہ نئی پرواز کے پٹھے بھی یہی چال چلے پھر بھی چوتھی صدی جھوٹ بنالی، ان کے شیخ مقتول اسمعیل مخذول کے دادا اور دادا استاد اور پردادا پیر شاہ ولی اللہ صاحب رسالہ انصاف میں انصاف کر گئے کہ:
بعد المائتین ظہر بینھم التمذہب للمجتہدین باعیانھم وقل من کان لایعتمد علی مذہب مجتہد بعینہ و کان ھذا ھوالو اجب فی ذٰلک الزمان ۔۲؂
یعنی دو صدی کے بعد خاص ایک مجتہد کے مذہب کا پابند بننا اہل اسلام میں ظاہر ہوا کہ کم ہی کوئی شخص تھا جو ایک امام معین پر اعتماد نہ کرتا ہو اور یہی واجب تھا اس زمانے میں ۔
 ( ۲ ؎ رسالہ انصاف شاہ ولی اللہ  باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعۃ الخ  مکتبہ دارالشفقت استنبول ترکی ص ۱۹ )
قولہ : اور جوبات امورِ دین میں بعد قرونِ ثلثٰہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے
وکل بدعۃ ضلالۃ۔
ضرب ۲۴۱: جیسی تمہاری غیر مقلدی کہ تین چھوڑ بارھویں قرن میں قرن الشیطان کے پیٹ سے نکلی،

ضرب ۲۴۲: شیر کے بن میں ڈکرا نے والا بیل اپنی موت اپنے منہ مانگتا ہے ، اﷲ تعالٰی کے لیے مکان ثابت کرنا بتا تو دے کہ قرون ثلثہ میں کس نے مانا، تو تیرا قول بدتر از بول تیرے ہی منہ سے بدعت و ضلالت و فی النار اور تو بدعتی گمراہ مستحق  نار ہے۔
ضرب ۲۴۳: اﷲ عزوجل کے احاطہ ذاتیہ کا انکار قرون ثٰلثہ میں کس نے کیا، یہ بھی تیری بدعت و ضلالت ہے۔

ضرب ۲۴۴: صفاتِ الہیہ میں صرف علم کو محیط ماننا جس سے اس کی قدرت ، اس کے سمع اس کی بصر، اس کی مالکیت، اس کی خالقیت کے احاطے کا انکار ثابت ہوتا ہے،قرونِ ثلثہ میں کون اس کا قائل تھا، یہ بھی تیری گمراہی و بدمذہبی ہے۔
ضرب ۲۴۵: استواء کے وہ تین معنی کہنا اور ان کے سوا چوتھے کو بدعت بتانا قرون ثلثٰہ میں کس کا قول تھا۔ یہ بھی تیری ضلالت و بددینی ہے۔

ضرب ۲۴۶: فضائلِ اعمال کے ثبوت کو حدیث صحیح میں منحصر کردینا قرون ثلثٰہ میں کس کا مذہب تھا، یہ بھی تیری بدعت جسارت و بدزبانی ہے۔

ضرب ۲۴۷: بدعت کے یہ معنی لینا کہ جو بات امورِ دین میں بعد قرونِ ثلثہ کے حادث ہوئی اور اسے بالاتفاق بدعتِ ضلالت کہنا اُمتِ مرحومہ پر افتراء ہے، اس کی تحقیق علماء اہلسنت اپنی تصانیف کثیرہ میں فرماچکے ، وہ بحث لکھئے تو دفتر طویل ہو، اور پھر مخاطب ناقص العقل کیا قابلِ خطاب ، مگر مدعی اپنے اس دعوٰی اطلاق پر امت کا اتفاق مسند معتمد سے دکھائے ورنہ اپنی جہالت و ضلالت کا آپ سر کھائے۔
قولہ : مفتی بریلی جو تقلید کو امر دینی سمجھتا ہے یقینی مبتدع ہوا اور اس کے فتوے کے مطابق اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوا کما ھو ظاہر افسوس کہ اس نادان دوست نے اپنے ائمہ رحمہم اﷲ تعالٰی کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کو ناجائز کردیا۔
شادم کہ ازرقیباں دامن کشاں گز شتی

گو مشتِ خاک ماہم برباد رفتہ باشد 

نعوذ باﷲ من ھفواتہ
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئے اگرچہ میری مشتِ خاک بھی برباد ہوگئی، اللہ تعالٰی اس کی بے ہودہ باتوں سے بچائے۔(ت)
ضرب ۲۴۹:

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد	میلش اندر طعنہ پاکاں زند
 (جب اﷲ تعالٰی کسی کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہے تو پاک لوگوں پر طعنہ میں اسے مشغول کردیتا ہے۔ت)

مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ لفظ مبتدع کے مستحق معاذ اﷲ علمائے اہلسنت میں یا یہ بددین گمراہ کہ اﷲ کو مکانی مانتا جسمانی جانتا اس کی قدرت و سمع و بصرو خالقیت و مالکیت وغیرہا کو محیط نہیں سمجھتا ائمہ دین سے باقرار خود رقابت رکھتا ہے عیاذاً باﷲ وہ  مبتدع ہیں یا اس وہابیہ کے نئے پٹھے کا پرانا گرو گھنٹال شیخ  مقتول اسمعیل مخذول جس کے کفریات میں رسالہ مبارکہ
  الکوکبۃ الشہابیۃ علٰی کفریات ابی الوھابیۃ ،
تصنیف ہوا اور علمائے عرب و عجم نے اس کے ضلال بلکہ علمائے حرمین طیبین نے اس کے کفر پر فتوٰی دیا، یہاں اسے یہ دکھانا ہے کہ جب تقلید کو امر دینی سمجھنے والا معاذ اﷲ مبتدع ہوا تو اب شاہ ولی اﷲ کی خبریں کہیے جو نہ مطلق تقلید بلکہ دو صدی کے بعد خاص تقلید شخصی کو واجب کہتے ہیں جس کی عبارت ابھی گزری۔
ضرب ۲۵۰: اور جناب مجددیت مآب کی نسبت کیا حکم ہوگا جو تقلید نہ مطلق تقلید بلکہ خاص تقلید شخصی کو ایسا سخت ضروری و مہم ترامر عظیم دینی مانتے ہیں کہ اس کے ترک کو الحادو بے دینی جانتے ہیں، عبارت اوپر گزری، اور سنئے کہ وہ صحیح و مستفیض حدیثوں کو فقہی روایت کے مقابل نہیں سنتے اور روایت بھی کیسی کہ خود مختلف آئی اور اختلاف بھی کیسا کہ اپنے ہی ائمہ کا فتوٰی تک مختلف امام محمد کی کتاب میں خود اس کے خلاف ، اور حدیثوں کے مطابق اپنا ا ور حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب مذکور کہ التحیات میں اشارہ کیا جائے اور اس پر بھی ائمہ فتوٰی نے  دیا مگر صرف اس بنا پر کہ یہ روایت ہمارے امام سے مشہور نہیں احادیث پر عمل کرنا جائز نہیں بتاتے، اس سے بڑھ کر تقلید اور وہ بھی خاص شخصی کو دینی ضروری سمجھنا اور کیا ہوسکتا ہے،
مکتوبات جلد اول مکتوب ۳۱۲ میں فرماتے ہیں:
مخدوما احادیث نبوی علٰی مصدرہا الصلوۃ والسلام درباب جو از اشارت سبابہ بسیار واردشدہ اندوبعضے ازروایات فقہیہ حنفیہ نیز دریں باب آمدہ وانچہ امام محمد گفتہ کان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یشیر ونصنع کما یصنع النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ثم قال ھذا قولی و قول ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالٰی عنہما از روایاتِ نوادرست مامقلدان رانمی رسد کہ بمقتضائے احادیث عمل نمودہ جرأت دراشارت نمائیم اگر گویند کہ علمائے حنفیہ برجواز اشارت نیز فتوٰی دادہ اندگویم ترجیح عدمِ جواز راست اھ ملتقطاً ۔۱؂
اے ہمارے مخدوم! تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کی کثیر احادیث وارد ہیں اور بعض حنفی حضرات کی اس بارے میں روایات فقہیہ بھی آئی ہیں، اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے جو فرمایا کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اشارہ فرماتے تھے اور ہم وہ کریں گے جو نبی پاک  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کرتے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا میرا اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہی قول ہے ، تو یہ نادر روایات میں سے ہے، تو ہم مقلد لوگوں کو براہِ راست حدیث پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کہ اشارہ کرنے کی جرات کریں، اگر کہا جائے کہ حنفی علماء نے اشارہ کے جواز پر فتوے دیا ہے تو میں کہوں گا کہ ترجیح عدمِ جواز کو ہے اھ ملتقطاً (ت)
 ( ۱ ؎ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوب ۳۱۲    مطبوعہ نولکشور لکھنو   ۱ /۴۴۸ تا ۴۵۱)
اب مبتدعی کہ خبریں کہیے اور تقریر سابق بھی یاد رکھیے کہ ان کی شان میں کوئی کلمہ کہا اور ساتھ لگے شاہ ولی اﷲ شاہ عبدالعزیز صاحب بھی گئے اور بلا پس ہو تینوں کو جانے دو وہ سب میں چہیتے اسمعیل جوگئے اور ان کے صدقے گیہوں کے گھن ، اور تمہارے سب طائفے والے جہنمِ بدعت و ضلالت کے قعر میں پہنچے، افسوس کہ اس نامرد ہاتھی نے اپنی ہی فوج کا زیاں کیا اس کچی پیندی نے اپنے سفرہ و دستار خوان کا نقصان کیا، اسمعیل اور سارے طائفہ مردود و ذلیل کو بدعتی گمراہ جہنمی مان لیا ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز کردیا۔ ؂
شآدم کہ از رقیباں دامن کشاں گز شتی	گو جائے ذکر ماہم آں تنگ دل ندارد
مجھے خوشی ہے کہ تم رقیبوں سے دامن بچا کر گزر گئے، اگرچہ ہمارے ذکرپر بھی وہ تنگ دل نہیں ہوتے۔ت)
نعوذ باﷲ من ھفواتہ وھمزات اسمعیل وہناتہ رب انی اعوذبک من ھمزات الشیطین، واعوذبک ان یحضرون o واخردعونا ان الحمد ﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علٰی سید المرسلین سیدنا محمد واٰ لہ واصحابہ اجمعین امین
ہم اﷲ تعالٰی کی پناہ چاہتے ہیں اس کے لغویات اور اسمعیل کی وسوسہ انگیزیوں اور باعثِ شرم باتوں سے۔ اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتاہوں شیطان کی وسوسہ انگیزیوں سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی حاضری سے ، اور ہماری آخری بات یہ ہے تمام حمدیں اﷲ تعالٰی رب العالمین کے لیے ہیں، اور صلوۃ وسلام ہو، رسولوں کے سردار ہمارے آقا محمد اور انکی آل و اصحاب سب پر، آمین (ت)
الحمد ﷲ کہ یہ مختصر اجمالی جواب پانزدہم شہر النور و السرور ماہِ مبارک ربیع الاول ۱۳۱۸ھ ہجریہ قدسیہ علٰی صاحبہا الصلوۃ والتحیہ کو باوصف کثرتِ کار وہجوم اشغال تعلیم و تدریس و مجالس مبارکہ میلاد سراپا تقدیس وقت فرصت کے قلیل جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ
قوارع القہار علی المجسمۃ الفجار
نام ہوا اس التزام کے ساتھ کہ مسئلہ مکان میں صرف اسی شخص کی سنداً گنائی ہوئی کتابوں کی عبارتیں پیش کروں گا، عدد ڈھائی سو ضرب تک پہنچا اور اس کی مستند کتابوں میں بھی تفسیر ابن کثیر موجود نہ تھی ورنہ ممکن تھا کہ عدد اور بڑھتا ، یونہی کتاب العلو مضطرب منہافت اور اس کے علاوہ پاس بھی نہ تھی اور اگر قلم کو اس مخالف کی اس قدر جائے تنگ میں محصور نہ کیا جاتا تو ضربوں کی کثرت لطف دکھاتی، پھر بھی اُن معدود سطور پر ڈھائی سو کیا کم ہیں۔
وباﷲ التوفیق، واﷲ سبحنہ وتعالی الہادی الی سواء الطریق وصلی اللہ تعالٰی علی النبی الکریم محمد واٰلہ وبارک وسلم امین۔
Flag Counter