Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
30 - 157
ساتواں تپانچہ
الحمدُ ﷲ مسئلہ عرش ورَدِّ مکان سے فراغ پایا کہ یہی رسالے کا موضوع اصلی تھا اب تحریر وہابیت تخمیر کے دو حرف اخیر دو مسئلہ دیگر کے متعلق باقی ہیں اُن کی نسبت بھی سرسری دو چار ہاتھ لیجئے کہ شکایت نہ رہے۔
قولہ مسئلہ : فرضوں کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔

الجواب :کسی صحیح حدیث قولی وفعلی وتقریری سے فرضوں کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا ثابت نہیں۔

اقول: ضرب ۲۱۶: کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے اﷲ تعالٰی کا عرش کے سوا اور کہیں نہ ہونا ثابت نہیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا بے حدیث صحیح بدعت مگر خدا پر حکم لگادینے کو صرف تیرے زبان ادعا کی حاجت ع
نجدی بے شرم شرم ہم بدار
 ( بے شرم نجدی! کچھ شرم کر)
ضرب ۲۱۷: کسی صحیح حدیث قولی وفعلی و تقریری سے عرش کا امکانِ الہٰی ہونا ثابت نہیں، اپنے رب کے حضور التجا کے لیے ہاتھ پھیلانے کو حدیثِ صحیح کی ضرورت ، مگر اﷲ عزوجل کو گالی دینے اس کی مخلوقات سے مشابہ بنادینے کو فقط تیری بدلگام زبان حجت ع
مکن خود رامکان درقعرِ نار
 (اپنا مکان مت بنا آگ کی گہرائی میں۔ت)
ضرب ۲۱۸ : کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے فرضوں کے بعد دُعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی ممانعت ثابت نہیں۔ پھر تم لوگ کس منہ سے منع کرتے ہو، کیا منع کی شریعت تمہارے اپنے گھر کی ہے یا جواز کے لیے حاجت دلیل ہے ممانعت دلیل سے مستغنی ہے۔
ضرب ۲۱۹: اگرصحیح سے مقابل حسن مراد تو ہر گز حجت اس میں منحصر نہیں، صحیح لذاتہ و صحیح لغیرہ و حسن لذاتہ وحسن لغیرہ سب حجت اور خود مثبت احکام ہیں، اور اگر حسن کو بھی شامل تو انکار صرف بنظر خصوص محل ہے، یابمعنی عدم ثبوت مطلق ثانی قطعاً باطل، بکثرت صحیح و معتمد احادیث قولی وفعلی و تقریری سے نماز کے بعد دعا مانگنا نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ۔ یونہی ہاتھ اٹھا نا دعا کے آداب سے ہونا بکثرت احادیث صحیحہ و معتبرہ قولی و فعلی و تقریری سے ثابت، یہ سب حدیثیں صحاح و مشکوۃ و اذکار و حصن حصین وغیرہا میں مروی و مذکور، اور بعد ثبوت اطلاق بے اثبات تخصیص ممانعت خاص قاعدہ علم سے دور و مہجور ۔
ضرب ۲۲۰: مقام مقامِ فضائل ہے اور اس میں ضعاف بالاجماع مقبول ، دیکھو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کا رسالہ
الہادالکاف فی حکم الضعاف تو مطالبہ صحت سراسر جہل و اعتساف۔
اقول: مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث جو بطریق اسود عامری بعض اہل بریلی کے فتوے میں منقول ہے۔ وہ باتفاق محدثین ضعیف و پایہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ اسود عامری مجہول العین و الحال ہے۔
اقول: ضرب ۲۲۱ : ادعائے اتفاق محض کذب وا ختلاق، مجہول العین بہت ائمہ محققین کے نزدیک مقبول ہے اور مجہول الحال میں بھی بعض اکابر کا مذہب قبول ہے، 

امام نووی مقدمہ منہاج میں فرماتے ہیں:
المجہول اقسام مجہول العدالۃ ظاھرا وباطنا ومجہولہا باطنا مع وجود ھا ظاہرا وھوالمستور والمجہول العین فاما الاول فالجمہور علٰی انہ لایحتج بہ و اما الاخران فاحتج بہما کثیرون من المحققین  ۔۱؂
مجہول کی کئی اقسام ہیں، مجہول العدالۃ ظاہراً وباطناً ، مجہول العدالۃ باطناً مع وجود العدالۃ ظاہراً ، یہ مستور ہے اور مجہول العین ، صرف پہلی قسم کو جمہور دلیل نہیں بناتے لیکن آخری دو قسموں کو محققین میں سے کثیر نے دلیل بنایا ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎ مقدمہ منہاج للنووی مع صحیح مسلم، قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۱۷)
 ( زیادہ تفصیل درکار ہو تو حضرت عالم اہلسنت مدظلہ العالی کی کتاب مستطاب منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین افادہ دوم صدر کتاب و فائدہ چہارم آخر کتاب کے مطالعے سے مشرف ہو)
ضرب ۲۲۲: اسود کی نسبت میزان الاعتدال میں صرف اس قدر ہے:
ماروی عنہ سوی ولدہ دلھم لہ حدیث واحد  ۔۱؂
اس کے بیٹے دلھم کے بغیر اس سے کسی نے روایت نہیں کی اور محدثین کے ہاں اس کی ایک حدیث ہے۔(ت)
 ( ۱ ؎  میزان الاعتدال             ترجمہ ۹۸۲  اسود بن عبداﷲ         دارالمعرفۃ بیروت،        ۱/ ۲۵۶)
اس سے فقط جہالت  عین ظاہر ہوتی ہے وہ جہالت حالی کو مستلزم نہیں کہ مجہول العین بہت محققین کے نزدیک مقبول اور مجہول الحال مجروح تو جہالت حال کا حکم آپ کی اپنی جہالت ہے یا ائمہ معتمدین سے روایت علی الثانی ثبوت دیجئے علی الاول آپ کیا اور آپ کی جہالت کیا، آپ کا علم تو جہل ہے جہل کیا ہوگا، آپ اﷲ عزوجل ہی کو نہیں جانتے ہیں کہ اس کے لیے مکان مانتے ہیں۔
ضرب ۲۲۳: ذہبی نے بھی یہ قول اپنی طرف سے لکھا اور اُن کی نفی نفی ائمہ کے مثل نہیں ہوسکتی، اب یہیں دیکھئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اسود کے لیے ایک حدیث ہے، میں کہتا ہوں ان کی ایک حدیث تو یہی ہے کہ ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کی، دوسری حدیث ان سے سنن ابی داؤد میں ہے جس میں وفادت لقیط بن عامر کا ذکر فرما کر حدیث کے دو لفظ مختصر
بطریق عبدالرحمن بن عیاش سمعی عن دلھم بن الاسود عن ابیہ عن عمہ ۲؂
ذکر کیے اور تمام و کمال ایک ورق طویل میں متضمن بیانات علم غیب و حشر و نشر و حوض کوثر وغیرہا بطریق مذکور عبداﷲ بن الامام کے زوائد مسند میں ہے۔
 ( ۲ ؎مسند احمد بن حنبل        حدیث ابی رزین العقیل لقیط بن عامر الخ    المکتب الاسلامی بیروت    ۴/ ۱۳)
ضرب ۲۲۴: محدث صاحب ! آپ نے حافظ الشان کا قولِ منقح بھی دیکھا وہ تصریح فرماتے ہیں کہ اسود عامری مقبول ہیں جاہل مجہول اگر جہل سے معذور تو زبان کھولنی کیا ضرور۔
ضرب ۲۲۵: حافظ الشان سے سو ا وجہ اجل وا عظم لیجئے امام اجل ابوداؤد نے سنن میں حدیث مذکوراسود عامری سے روایت کی اور اُس پر اصلاً جرح نہ فرمائی تو حسبِ تصریحات ائمہ حدیث صحیح یا حسن یا لا اقل صالح تو ہوئی خود امام ممدوح اپنے رسالہ مکیہ میں فرماتے ہیں:
مالم اذکرہ فیہ شیئا فہو صالح و بعضہا اصح من بعض ۔۱؂
جس میں کوئی علت بیان نہ کروں وہ حدیث درست ہوگی اور ان میں بعض سے بعض اصح ہوں گی۔ت
 ( ۱ ؎ مقدمہ سنن ابی داؤد الفصل الثانی آفتاب عالم پریس لاہو ر        ۱/ ۴)
اب اپنی جہالت کبرٰی دیکھ کہ ائمہ کرام تو اسود کو مقبول اور ان کی حدیث کو صالح فرمائیں اور تجھ جیسا بے تمیز بے ادراک پایہ اعتبار سے ساقط بتائے۔
ضرب ۲۲۶: بالفرض اگر آپ کی جہالت مان بھی لیں اور بفرضِ غلط یہ بھی تسلیم کرلیں کہ مجہول الحال بالاتفاق نامقبول، پھر بھی بالاتفاق پایہ اعتبار سے ساقط بتانا مردود و مخذول ، محدث مسکین ابھی احتجاج و اعتبار ہی کا فرق نہیں جانتے اور چلے حدیثوں پر جرح کرنے، محدث صاحب ! مجہول اگر ساقط ہے تو پایہ احتجاج سے نہ کہ پایہ اعتبار سے، دیکھو رسالہ الہادِ الکاف ، اور یہاں پایہ اعتبار تک ہونا کافی ووافی ہے بلا خلاف۔
ضرب ۲۲۷: یہ سب کام اس تسلیم پر ہے کہ اسود مذکور فی المیزان ہوں مگر حاشا اس کا تمہارے پاس کیا ثبوت ، بلکہ دلیل اس کے خلاف کی طرف ناظر کہ اُ ن اسود کے باپ صحابی نہیں مجہول ہیں
کما نص علیہ الحافظ
 ( جیسا کہ حافظ نے اس پر نص کی ہے۔ت) اور اس اسود کے باپ صحابی
کما ذکر فی نفس الحدیث صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الفجر
 (جیسا کہ اسی حدیث میں ذکر ہے کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی(ت)
قولہ : اور ابن السنی کے
عمل الیوم واللیلہ
کی حدیث جو بروایت انس فتوی مذکور میں منقول ہے۔ موضوع ہے کیونکہ اس میں عیسٰی راوی کذاب ہے، یہ دونوں حدیثیں میزان الاعتدال کے اخیر میں موجود ہیں۔
اقول ضرب ۲۲۸: عیسٰی تو کذاب نہیں مگر تم ضرور کذاب ہو اس کی سند میں عیسی کوئی راوی ہی نہیں ؎
ولے از مفتری نتواں برآمد	کہ اواز خود سخن می آفریند
 (افترا پر داز سے چھٹکارا نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات بنالیتا ہے)

ضرب ۲۲۹: حکم بالوضع بے دلیل و مردود ہے۔

ضرب ۲۳۰: میزان الاعتدال میں ان احادیث کا ذکر نہیں، کیا بلاوجہ بھی جھوٹ کی عادت ہے اور فاصبر کیا موقع پر ہے۔

قولہ مسئلہ : غیر مقلدوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنا ۔
الجواب : جو شخص کسی مسلمان کو بلاثبوت شرعی فاسق یامبتدع یا کافر کہے خود اسی کا مصداق ہے۔

اقول: ضرب ۲۳۱: بھلا کسی مسلمان کو بلاثبوت برا کہنا ، یہ جرم ہوا اور جو ناپاک بے باک اپنی گمراہی کی ترنگ میں مسلمانوں کے رب کے لیے نہ صرف بلا ثبوت بلکہ قطعاً بر خلاف ثبوت شرعی مکان بتائے اسے اس کی مخلوق محتاج کے مانند بنائے وہ مردود کس لفظ کا مصداق ہے اسے کس سزا کا استحقاق ہے۔
ضرب ۲۳۲: اپنے پیر مغان اسمعیل دہلوی علیہ ما علیہ کی خوب خبر لی وہ اور اس کی تمام ذریت اہلِ توہب و نجدیت اسی مرض مہلک میں گرفتار ہیں کہ مسلمانوں کو بلا ثبوت شرعی محض بزور زبان وزور بہتان مشرک بدعتی بنانے کو تیار ہیں
قاتلھم اﷲ انی یوفکون ۔۱؂
 ( اﷲ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ت) مردک نے خود ہی شرک کی تعریف کی کہ جو باتیں خدا نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کی ہیں وہ دوسروں کے لیے بجالانا اور پھر شرک کی مثالوں میں گنا دیا، کسی کی قبر پر شامیانہ کھڑا کرنا، کسی کی قبر کو مورچھل جھلنا، الحمدﷲ کہ تم جیسے سپوتوں نے اس مردک کے خود مشرک ہونے کا اقرار کردیا۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم  ۶۳/۴ )
ضرب ۲۳۳: یونہی تم نئی پود والے جن پرانوں سیانوں کے گر گے ہو یعنی یہی دہلوی اور اس کے اذناب غوی تم سب کا مسلک ناپاک ہے کہ تقلید ائمہ کو بلا ثبوتِ شرعی شرک اور مقلدین کو مشرک ک کہتے ہو ، الحمدﷲ کہ تم خود اپنے منہ آپ مشرک بنے کہ کرد کہ نیافت۔
ضرب ۲۳۴: تمہارے طائفہ غیر مقلدین کا فساق مبتدعین ہونا بے ثبوت شرعی نہیں بلکہ علمائے عرب و عجم بکثرت دلائل قاہرہ سے ثابت فرماچکے سینہ زوری سے نہ ہاروتو اس کا کیا علاج۔
ضرب ۲۳۵: جناب شیخ مجدد الف ثانی رسالہ مبدو معاد میں فرماتے ہیں:
مدتے آرزوئے آں داشت کہ  وجہے پیدا شود وجیہ در مذہب حنفی تادر خلف امام قراء تِ فاتحہ نمودہ آید امابواسطہ رعایت مذہب بے اختیار ترک قراء ت میکردوایں ترک رااز قبیل ریاضت مجاہدہ می شمرد، آخر الامرسبحانہ تعالٰی بہ برکت رعایت مذہب کہ نقل از مذہب الحادست ، حقیقتِ مذہب حنفی در ترکِ قراء ت ماموم ظاہر ساخت و قراء ت حکمی ازقراء ت حقیقی در نظر بصیرت زیبا تر نمود ۔۱؂
مدت تک یہ آرزو رہی کہ حنفی مذہب میں قرات خلف الامام کی کوئی صورت بن جائے تاہم غیر اختیاری طور پر مذہب کی رعایت میں امام کی اقتداء میں قراء ت نہ کی، اس ترکِ قراء ت کو تکلف محسوس کرتا رہا ، بالاخر مذہب کی رعایت کی برکت سے مقتدی کے لیے ترکِ قراء ت کی حقیقت ظاہر ہوگئی جب کہ اپنے مذہب سے دوسرے مذہب میں منتقل ہونا الحاد ہے، چنانچہ حقیقی قرء ات سے حکمی قراء ت نظرِ بصیرت میں خوب تر معلوم ہوئی۔(ت)
( ۱ ؎ مبدء ومعاد مجدد الف ثانی  مطبع مجددی امرتسر انڈیا  ص ۳۷)
یہاں حضرت ممدوح غیر مقلدوں کو صاف صاف ملحد فرمارہے ہیں، آپ کے نزدیک یہ فرمانا مطابق ثبوت شرعی ہے جب تو آپ اور آپ کے سارے طائفے کو الحاد و بے دینی کا خلعت مبارک ، پھر آپ فاسق و مبتدع کہنے پر کیوں بگڑیں۔، ہاں شاید یوں بگڑے ہو کہ مرتبہ گھٹا دیا ملحد زندیق سے نرا فاسق مبتدع رکھا، اور اگر یہ فرمانا بے ثبوت شرعی ہے تو آپ کے طور پر حضرت شیخ مجدد معاذ اﷲ ملحد قرار پائیں گے جلد بتاؤ کہ دونوں شقوں سے کون سی شق تمہیں پسند ہے، ہنوز بس نہیں، جب جناب شیخ ایسے ٹھہریں گے تو شاہ ولی اﷲ و شاہ عبدالعزیز صاحب کہاں بچیں گے کہ یہ ان کے مرید ان کے معتقدہیں انہیں اکابر اولیاء سے جانتے ہیں اور جو کسی ملحد کو مسلم کہے خود ملحد ہے نہ کہ امامِ اسلام وولی والا مقام کہنے والا، اور ابھی انتہا کہاں، جب یہ سب حضرات ایسے ہوئے تو وہابیہ مخذولین کا شیخ مقتول اسمعیل مخذول علیہ ماعلیہ کدھر بھاگے گا، یہ تینوں کا مداح تینوں کا غلام تینوں کو ولی کہے تینوں کو امام ، تو یہ خود ملحددر ملحد ملحدوں کا ملحد ہوا، اور اب تم کہاں جاتے ہو تم اس ایک کے ویسے ہی ہو جیسا وہ اُن تین کا تو دیگ الحاد کی پچھلی کھرچن الحادی بوتل کی نیچے کی تلچھٹ تم ہوئے اب کہو کون سی شق پسند رہی ، ہر شق پر الحاد کی آفت تمہارے ہی ماتھے گئی۔

 قولہ :ائمہ دین و مسلمانان قرونِ ثلثہ سب غیر مقلد تھے۔
Flag Counter