اقول : طرفہ تماشا ہے جب اس گمراہ نے سب مصائب اپنے سر پر اوڑھ لیے اپنے معبود کو مکانی کہہ دیا، جسم مان لیا، عرش پر متمکن ٹھہر اکر جہت میں جان لیا، پھر یہ کیا خبط سوجھا کہ اور کہیں نہیں کہہ کر طرح طرح اپنے ہی لکھے سے تناقض کیا۔
ضرب ۱۸۳: سچا ہے تو قرآن و حدیث سے ثبوت دے کہ اللہ تعالٰی عرش پر تو ہے اور عرش کے سوا کہیں نہیں، یہ اور کہیں نہیں، کون سی آیت حدیث میں ہے ؟
ام تقولون علی اﷲ مالا تعلمون ۔۱
یا یہود کی طرح بے جانے بوجھے دل سے گھڑ کر خدا پر حکم لگادیتے ہو۔
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۸۰)
ضرب ۱۸۴: جب تُو اس سبوح و قدوس جل جلالہ کو مکان سے پاک نہیں مانتا تو اب کوئی وجہ نہیں کہ اور آیات و احادیث جن کے ظاہر الفاظ سے اور جگہ ہونا مفہوم ہو اپنے ظاہر سے پھیری جائیں۔ تیرے طور پر اُن سب کو معنی لغوی حقیقی ظاہر متبادر پر عمل کرنا واجب ہوگا، اب دیکھ کہ تو نے کتنی آیات و احادیث کا انکار کردیا اور کتنی بار اپنے اس لکھے سے کہ جو شرع میں وارد ہے اس سے سکوت نہ ہوگا، صاف تناقض کیا سب میں پہلے تو یہی
حدیثِ صحیح بخاری وھو مکانہ ۔۲
ہے جس میں تُو نے بزورِ زبان ضمیر حضرت عزت جل شانہ کی طرف ٹھہرادی اور پھر مکانہ سے محض زبردستی عرش مراد لے لیا حالانکہ وہاں سدرۃ المنتہٰی کا ذکر ہے تو عرش ہی پر ہونا غلط ہوا کبھی سدرہ پر بھی ٹھہرا ہے۔
(۲ ؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰)
ضرب ۱۸۵: صحیح بخاری حدیثِ شفاعت میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
فاستاذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ۔۳ ؎
میں اپنے رب پر اذن طلب کروں گا اس کی حویلی میں تو مجھے اس کے پاس حاضر ہونے کا اذن ملے گا۔
ظاہر ہے کہ تخت کو حویلی نہیں کہتے، نہ عرش کسی مکان میں ہے، بلکہ وہ بالائے جملہ اجسام ہے ، لاجرم یہ حویلی جنّت ہی ہوگی۔
( ۳ ؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الٰی ربہا ناظرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی، ۲/ ۱۱۰۸)
ضرب ۱۸۶: صحیحین میں ابوموسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جنتان من فضۃ اٰنیتہما وما فیھما، وجنتان من ذہب اٰنیتھما وما فیھما وما بین القوم وبین ان ینظروا الٰی ربھم عزوجل الارداء الکبریاء علی وجہہ فی جنۃ عدن ۔۱
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان چاندی کا ہے، دو جنتیں ہیں جن کے برتن اور تمام سامان سونے کا ہے اللہ تعالٰی کے دیدار اور قوم میں صرف کبریائی کی چادر ہوگی جو جنتِ عدن میں اس کے چہرے پر ہوگی، حائل ہوگی۔(ت)
یہاں جنت عدن میں ہونے کی تصریح ہے۔
( ۱ ؎ صحیح البخاری کتاب التفسیر ۲/ ۷۳۴ وکتاب التوحید ۲/ ۱۱۰۹ قدیمی کتب خانہ کراچی)
(صحیح مسلم کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۰۰)
ضرب ۱۸۷: بزار و ابن ابی الدنیا اور طبرانی بسند جید قوی اوسط میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیثِ دیدار اہل جنت ہر روز جمعہ میں مرفوعاً راوی :
فاذا کان یوم الجمۃ نزل تبارک و تعالٰی من علیین علٰی کرسیّہ ثم حف الکرسی بمنابر من نور و جاء النبیون حتی یجلسوا علیہا ۔۲ الحدیث
جب جمعہ کا روز ہوگا تو اللہ تبارک و تعالٰی علیین سے کرسی پر نزول فرمائے گا پھر ا س کے گرد نور کے منبر بچھائے جائیں گے، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تشریف لا کر ان منبروں پر جلوہ گر ہوں گے۔ الحدیث (ت)
( ۲ ؎ الترغیب و الترھیب فصل فی نظر اہل الجنۃ الی ربھم حدیث ۱۲۹ مصطفی البابی مصر ۴/ ۵۵۴)
(کشف الاستار عن زوائد البزار باب فی نعیم اہل الجنۃ حدیث ۳۵۱۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۹۵)
(المعجم الاوسط حدیث ۶۷۱۳ مکتبۃ المعارف الریاض ۷/ ۳۶۷)
یہاں علیین سے اُتر کر کرسی پر حلقہ انبیاء و صدیقین و شہداء وسائر اہل جنت کے اندر تجلی ہے۔
ضرب ۱۸۸: قال تعالٰی :
ء امنتم من فی السماء ۔۳
(کیاتم اس سے نڈر ہوگئے ہو جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۶۷/ ۱۶)
ضرب ۱۸۹: قال تعالٰی
ام امنتم من فی السماء ۔۱
( کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۷ / ۱۷)
ضرب ۱۹۰: احمد و ابن ماجہ و حاکم بسند صحیح ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث قبض روح میں مرفوعاً راوی۔
فلایزال یقال لہا ذلک حتی تنتہی بہا الی السماء التی فیہا اﷲ تبارک و تعالٰی ۔ ۲ ؎
روح کو یہ کہا جاتا رہے گا حتی کہ وہ اس آسمان تک پہنچ جائے جس میں اللہ تعالٰی ہے۔(ت)
(۲ ؎ مسند احمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ دارالفکر بیروت ۲/ ۳۶۴)
(سنُن ابن ماجہ باب ذکر الموت والاستعدادلہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۲۵)
(کنزالعمال حدیث ۴۲۴۹۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۵/ ۲۳۰)
ضرب ۱۹۱: مسلم ابوداؤد و نسائی معویہ بن حکم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث جاریہ میں راوی:
قال لہا این اﷲ قالت فی السماء قال من انا قالت انت رسول اللہ قال اعتقہا فانہا مؤمنۃ۔۳
لونڈی کو فرمایا اﷲ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں، پھر پوچھا میں کون ہوں؟ تو اس نے کہا آپ رسول اﷲ ہیں، تو آپ نے مالک کو فرمایا اس کو آزاد کردو کیونکہ مومنہ ہے۔(ت)
( ۳ ؎ صحیح مسلم کتاب المساجد باب تحریم الکلام فی الصلوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۴)
(سنن ابوداؤد باب تشمیت العاطس فی الصلوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۳۴)
ضرب ۱۹۲: ابوداؤد و ترمذی بافادہ تصحیح عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارحموا من فی الارض یر حمکم من فی السماء ۔۴
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : زمین والوں پر رحم کرو تم پر رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔(ت)
( ۴ ؎ جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ امین کمپنی کتب خانہ رشید یہ دہلی ۲/ ۱۴)
(سنن ابوداؤد کتاب الادب باب فی الادب آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۱۹)
ضرب ۱۹۳: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ مامن رجل یدعو امراتہ الٰی فراشہا فتابٰی علیہ الاکان الذی فی السماء ساخطا علیہا حتی یرضٰی عنہا ۔۱
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب کوئی خاوند اپنی بیوی کو جماع کے لیے طلب کرتا ہے اور وہ انکار کرتی ہے تو وہ ذات جو آسمان میں ہے بیوی پر ناراض ہوتی ہے۔(ت)
( ۱ ؎صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم امتناعھامن فراش الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۶۴)
ضرب ۱۹۴: ابویعلٰی وبزار و ابونعیم بسندِ حسن ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما القی ابراہیم فی النار قال اللھم انت فی السماء واحدوانا فی الارض واحد أعبدک۔۲
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : جب براہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ تو آسمان میں ایک ہے اور میں زمین میں ایک ہوں، تیری عبادت کرتا ہوں۔(ت)
ضرب ۱۹۵: ابویعلٰی و حکیم و حاکم و سعید بن منصور و ابن حبان و ابونعیم اور بیہقی کتاب الاسماء میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعاً راوی ، اللہ عزوجل نے فرمایا:
یاموسٰی لو ان السمٰوٰت السبع و عامر ھن غیری، والارضین السبع فی کفۃ ولاالہ الا اﷲ فی کفۃ مالت بھن لا الہٰ الا اﷲ۔۳
اے موسٰی اگر ساتوں آسمان اور ان میں موجود ہر چیز میرے سوا، اور سات زمینیں ایک پلڑے میں ہوں اور دوسرے پلڑے میں
لاالٰہ الا اﷲ ہو تو لا الہٰ الا اﷲ
والا پلڑا سب پر بھاری ہوگا۔(ت)ان آیات و احادیث سے آسمان میں ہونا ثابت ہوا۔
ضرب ۱۹۶: ہر رات آسمانِ دُنیا پر ہونے کی حدیث گزری اور احادیث اس باب میں بکثرت ہیں۔
ضرب ۱۹۷: قال اﷲ تعالٰی:
ھواﷲ فی السمٰوٰت وفی الارض ۱ ؎
وہ اﷲ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۳ )
ضرب ۱۹۸: قال تعالٰی :
ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ۲ ؎
ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۵۰/ ۱۶)
ضرب ۱۹۹: قال تعالٰی:
واسجدواقترب ۳ ؎
سجدہ کر اور قریب ہو۔(ت)
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۹۶/ ۱۹ )
ضرب ۲۰۰: قال تعالٰی:
اذا سألک عبادی عنّی فانّی قریب ۴ ؎
جب آپ سے سوال کریں میرے بندے میرے متعلق تو میں قریب ہوں۔(ت)
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۸۶)
ضرب ۲۰۱: قال تعالٰی:
انہ سمیع قریب ۵ ؎
وہ سمیع و قریب ہے۔(ت)
( ۵ ؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۵۰ )
ضرب ۲۰۲: قال تعالٰی:
ونادینٰہ من جانب الطور الایمن و قربنہ نجیا ۶ ؎
اور ہم نے ان کو ندادی طور کی دائیں جانب سے اور اس کو ہم نے قریب کیا مناجات کرتے ہوئے۔(ت)
( ۶ ؎ القرآن الکریم ۱۹/ ۵۲)
ضرب ۲۰۳: قال تعالٰی۔
فلما جاء ھا نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا وسبٰحن اﷲ رب العٰلمین ۔ ۷ ؎
جب وہاں آئے تو ندا دی گئی کہ جو آگ میں ہے اس کو برکت دی گئی اور اس کے اردگرد والوں کو، اﷲ پاک رب العالمین ہے(ت)
( ۷ ؎ القرآن الکریم ۲۷/ ۸)
معالم میں ہے:
روی عن ابن عباس وسعید بن جبیر والحسن فی قولہ بورک من فی النار قدس من فی النار وھو اﷲ تعالٰی عنی بہ نفسہ علٰی معنی انہ نادٰی موسٰی منہا واسمعہ کلامہ من جھتہا ۔۱
ابن عباس ، سعید بن جبیر اور حسن رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا گیا کہ من بورک فی النار کے بارے میں، یعنی برگزیدہ ہے جو آگ میں ہے اور وہ اﷲ کی ذات ہے جس کو اپنی ذات کے بارے میں فرمایا یعنی یہ ہے کہ موسٰی نے ندا کی تو اس کو اپنا کلام سنایا اس جانب سے ۔(ت)
ضرب ۲۰۵: صحیحین میں ابو موسٰی اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
یایہا الناس اربعواعلٰی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا انکم تدعونہ سمیعا قریبا وھو معکم ۔۳
اے لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، تم تو پکارتے ہو سمیع قریب کو، وہ تمہارے پاس ہے۔(ت)
( ۳ ؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب مایکرہ من رفع الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۲۰)
(صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶)
اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے:
والذی تدعون اقرب الی احد کم من عنق راحلۃ احدکم ۴ ؎
و ہ ذات جسے تم پکارتے ہو وہ تمہاری سواری کی گردن سے بھی قریب تر ہے۔(ت)
( ۴ ؎ صحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء باب استحباب خفض الصوت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۴۶)
ضرب ۲۰۶: مسلم، ابوداؤد، و نسائی ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روای ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اقرب ما یکون العبد من ربہ وھوساجد فاکثرواالدعاء ۱ ؎
بندہ اﷲ تعالٰی کے قریب ترین ہوتا ہے جب وہ سجدہ کرتا ہے، تو دُعا زیادہ کرو۔(ت)
( ۱ ؎ صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۱)
(سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب الدعافی الرکوع والسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۱۲۷)
(سنن النسائی اقرب مایکون العبدمن اﷲ عزوجل نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۱۷۰)
ضرب ۲۰۷: دیلمی ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قال اﷲ تعالٰی انا خلفک واما مک وعن یمینک وعن شمالک یا موسٰی انا جلیس عبدی حین یذکر نی وانا معہ اذا دعانی ۔۲
اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اے موسٰی ! میں تیرے پیچھے ، آگے دائیں اور بائیں ہوں، میں بندے کا ہم نشین ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے۔ (ت)
( ۲ ؎ الفردوس بما ثور الخطاب حدیث ۴۵۳۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۱۹۲)
ضرب ۲۰۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ عزوجل فرماتا ہے:
انا عندظن عبدی بی وانا معہ اذا ذکرنی ۳ ؎
میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے (ت)
( ۳ ؎ صحیح البخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی ویحذرکم اﷲ نفسہ قدیمی کتب کتب خانہ کراچی ۳/ ۱۱۰۱)
(صحیح مسلم کتاب الذکروالدعاء ۲/ ۳۴۳ وکتاب التوبۃ ۲/ ۳۵۴ )
ضرب ۲۰۹: مستدرک میں بروایت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث قدسی ہے۔
عبدی انا عند ظنک بی وانا معک اذا ذکرتنی ۴ ؎
اے بندے میں تیرے گمان کے ساتھ ہوں جو تو میرے متعلق کرتا ہے اور میں تیرے ساتھ ہوتا ہوں جب تُو مجھے یاد کرتا ہے۔(ت)
( ۴ ؎ المستدرک للحاکم کتاب الدعا باب قال عزوجل عبدی انا عند ظنک بی دارالفکر ۱/ ۴۹۷)
ضرب ۲۱۰: سعید بن منصور ابوعمارہ سے مرفوعاً راوی:
الساجد یسجد علی قدمی اللہ تعالی ۱
سجدہ کرنے والا اللہ تعالٰی کے قدموں پر سجدہ کرتا ہے۔(ت)
ان آیات و احادیث سے زمین پر اور طُور پر اور ہر مسجد میں اور بندے کے آگے پیچھے دہنے بائیں اور ہر ذاکر کے پاس اور ہر شخص کے ساتھ اور ہر جگہ اور ہر ایک کی شہ رگ گردن سے زیادہ قریب ہونا ثابت ہے۔
ضرب ۲۱۱: قال اﷲ تعالٰی :
ان طہرابیتی ۲ ؎
(تم دونوں میرے گھر کو صاف کرو،ت) یہاں کعبے کو اپنا گھر بتایا۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲/۱۲۵)
ضرب ۲۱۲: معالم میں ہے مروی ہوا کہ توریت مقدس میں لکھا ہے:
جاء اﷲ تعالٰی من سیناء واشرف من ساعین واستعلی من جبال فاران ۔۳
اللہ تعالٰی سیناء کے پہاڑ سے آیا اور ساعین کے پہاڑ سے جھانکا اور مکہ معظمہ کے پہاڑوں سے بلند ہوا۔
ذکرہ تحت اٰیۃ بورک
(اسے آیہ بورک کے تحت ذکر کیا۔ت)
( ۳ ؎ معالم التنزیل (تفسیر البغوی ) تحت الایۃ ۲۷/ ۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۳۴۸)
ضرب ۲۱۳: طبرانی کبیر میں سلمہ بن نفیل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انی اجد نفس الرحمن من ھٰھنا و اشارالی الیمن ۔ ۴؎
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: بے شک میں رحمان کی خوشبو یہاں سے پاتا ہوں۔
ضرب ۲۱۴: مسند احمد و جامع ترمذی میں حدیثِ سابق ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لوانکم دلیتم بحبل الی الارض السفلی لھبط علی اﷲ عزوجل ، ثم قرأھوالاول والاخروالظاھر والباطن وھو بکل شیئ علیم o ۔۱
اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم سب سے نچلی زمین تک رسّی لٹکاؤ تو وہ رسیّ اﷲ تعالٰی پر گرے گی، پھر آپ نے
ھوالاول والاٰخروالظاھر والباطن وھو بکل شیئ علیم
کو تلاوت کیا۔(ت)یہاں سے ثابت کہ سب زمینوں کے نیچے ہے۔
( ۱ ؎ جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ الحدید حدیث ۳۳۰۹ دارالفکربیروت ۵/ ۱۹۵)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۷۰)
ضرب فیصلہ (عہ) ضرب ۲۱۵:
اقول : یہی آیات و احادیث ہر مجسم خبیث کی دہن دوزی اور ہر مسلم سُنّی کی ایمان افروزی کو بس ہیں اس مجسم سے کہا جائے کہ اگر ظاہر پر حمل کرتا ہے تو ان آیات و احادیث پر کیوں ایمان نہیں لاتا۔
افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض ۲ ؎
(قرآن پاک کی بعض آیتوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو،ت)
عہ: لفظِ فیصلہ کے بھی ۲۱۵ عدد ہیں منہ ۔
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۸۵)
دیکھ تیرے اس کہنے میں کہ عرش پر ہے اور کہیں نہیں کتنی آیتوں حدیثوں کا صاف انکار ہے، اور اگر ان میں تاویل کی راہ چلتا ہے تو آیاتِ استوا وحدیث مکان میں کیوں حد سے نکلتا ہے، اب یہ تیرا بکنا صریح جھوٹ اور تحکم ٹھہرا کہ تیرا معبود مکان رکھتا اور عرش پر بیٹھتا ہے، اور مومن سُنی کو ان سے بحمداﷲ یوں روشن راستہ ہدایت کا ملتا ہے کہ جب آیات واحادیث عرش و کعبہ و آسمان و زمین و ہر موضع و مقام کے لیے وارد ہیں تو اب تین حال سے خالی نہیں، یا تو ان میں بعض کو ظاہر پر محمول کریں اور بعض میں تفویض و تاویل، یا سب ظاہر پر ہوں یا سب میں تفویض و تاویل، اول تحکم بیجا و ترجیح بلامرجح اور اﷲ عزوجل پر بے دلیل حکم لگادینا ہے، اور شق دوم قطع نظر اُن قاطعہ قاہرہ دلائل زاہرہ تنزیہ الہی کے یوں بھی عقلاً ونقلاً ہر طرح باطل کہ مکینِ واحد وقتِ واحد میں امکنہ متعددہ میں نہیں ہوسکتا تو ہر جگہ ہونا اُسی صورت پر بنے گا کہ ہوا کی طرح ہر جگہ بھرا ہو اور اس سے زائد شنیع و ناپاک اور بداہۃً باطل کیا بات ہوگی کہ ہر نجاست کی جگہ، ہر پاؤں کے تلے ہر شخض کے منہ، ہر مادہ کے رحم میں ہونا لازم آتا ہے۔ اور پھر جتنی جگہ مکانوں پہاڑوں وغیرہ اجسام سے بھری ہوئی ہے بعینہ اس میں بھی ہو تو تداخل ہے اور نہ ہو تو اس میں کروڑوں ٹکڑے پرزے جوف سوراخ لازم آئیں گے، اور جو نیا پیڑ اُگے نئی دیوار اُٹھے تیرے معبود کو سمٹنا پڑے ایک نیا جوف اس میں اور بڑھے اور اب استوا کے لیے عرش اور دار کے لیے جنت بیت کے لیے کعبے کی کیا خصوصیت رہے گی۔ لاجرم شق سوم ہی حق ہے اور آیاتِ استوا سے لے کر یہاں تک کوئی آیت و حدیث ان محال و بے ہودہ معنی پر محمول نہیں جو ناقص افہام میں ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتے ہیں بلکہ تفہیم عوام کے لیے اُن کے پاکیزہ معانی ہیں، اﷲ عزوجل کے جلال کے لائق جنہیں ائمہ کرام اور خصوصاً امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں مشرحاً بیان فرمایا اور ان کی حقیقی مراد کا علم اﷲ عزوجل کو سپرد ہے۔
امنّا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الااولو الالباب oوالحمد اﷲ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ و صحبہ اجمعین امین !
ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے، اور تمام تعریفیں اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں۔ اور درود و سلام نازل ہو سید المرسلین محمد مصطفی پر اور آپ کی آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔آمین (ت)