Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
28 - 157
پانچواں تپانچہ
اقول : یہ تو اوپر واضح ہو لیا کہ یہ مدعی خود ہی دعوے پر نہ جما اور جن صفات سے کلامِ شارع ساکت نہیں ان سے سکوت درکنار، ان کا صاف انکار کر گیا مگر یہاں یہ کہنا ہے کہ اس مدعی بے باک کے نزدیک تسلیم وعدم سکوت کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو اہلسنت کے نزدیک ہے یعنی کچھ معنی نہ کہنا صرف اجمالاً اتنی بات پر ایمان لے آنا کہ جو کچھ مراد الہی ہے حق ہے یا تاویل کرکے صاف وپاک معنی کی طرف ڈھال دنیا جن میں مشابہت مخلوق و جسمیت و مکان وجہت کی بو اصلاً نہ پیدا ہو۔ اس مسلک پر ایمان لاتا تو استواء کے معنی بیٹھنا، چڑھنا، ٹھہرنا نہ بتاتا ان کے علاوہ اور معانی کو کہ ائمہ اہلسنت نے ذکر فرمائے بدعت و ضلالت نہ بتاتا لاجرم اس کا مسلک وہی مسلک مجسمہ ہے کہ جو کچھ وارد ہوا وہ اپنے حقیقی لغوی معنی مفہوم و متبادر پر محمول ٹھہرا کر مانا جائے گا۔ شروع سے اب تک جولکھا گیا وہ اسی ضلالت ملعونہ کے رَد میں تھا اتنا اور اس کے کان میں ڈال دوں  شاید خدا سمجھ دے اور ہدایت کرے کہ اے بے خرد ! یہ ناپاک مسلک جو استوا میں خصوصاً اور باقی متشابہات میں مطلقاً تیرا ہے۔( کھلی گمراہی کا نجس رستہ ہے) اس طریقہ پر تیرا معبود جسے تو اپنے ذہن میں ایک صورت تراش کر معبود سمجھ لیا ہے اگر بت خانہ چین کی ایک مورت ہو کر نہ رہ جائے تو میرا ذمہ۔
ضرب ۱۲۱ تا ۱۸۲: جانتا ہے وہ تیرا وہمی معبود کیسا ہے۔
لہ وجہ کوجہ الانسان فیہ عینان تنظران ولکن من سخط علیہ لاینظر الیہ ثم العجب ان وجہہ الی کل جہۃ واعظم عجبا انہ مع ذلک یصرفہ عمن یغضب علیہ فلیت شعری کیف یصرف عن جہۃ ما ھو الٰی کل وجہۃ بل المصلی مادام یصلی یقبل علیہ بوجہہ فاذا انصرف صرف لہ صوت فلتکن حنجرۃ ونفس ایضا بل قد وجد من قبل الیمن لہ اذنان یاذن لمن یرضی علیہ جعد ذو وفرۃ الٰی شحمۃ اذنیہ اما اللحیۃ فلم توجد بل شاب امردلہ یدان کا لانسان فیھما یمین و شمال وساعد وکف واصابع مبسو طتان الٰی بعید وربما قبض و قد یحثولہ جنب وضحکہ یخبر عن فم یغفر واسنان تکشرلہ حقو تعلقت بہ الرحم ورجلان وساق قد جلس علی السریر مدلیا قدمیہ واضعھما علٰی کرسی وربما استلقی 

واضعا احدی رجلیہ علی الاخری فلا بد من ظہر وقفا ویستانس للصدر ایضا فمن نور صدرہ خلقت الملئٰکۃ قد ماہ فی کل مسجد علیہما یسجد الساجدون وبقیۃ الاعضاء لم تفصل الاخبراعم واشمل انہ علٰی صورۃ الانسان اذخلق ادم علٰی صورۃ الرحمن یصعدوینزل ویمشی ویہرول وقد یاتی الارض و کانت اٰخر وطاتہ بموضع وج ثم یجیئ یوم القیمۃ فیطوف الارض مکتسٍ ثیابا ازارا و رداء یسترالمؤمن بکتفہ رداؤہ علٰی وجہ فی جنۃ عدن لہ ظل ظلیل یصیب بہ من یشاء ویصرف عنہ من یشاء یاتی یوم القیام فی ظلل من الغمام یتعجب ویستحیی و یمل ویتردد و یستھزئ وقد یتقذر نفسہ شیئا تحملہ وعرشہ اربعۃ املاک اثنان تحت رجلہ الیمنی و اثنان تحت رجلہ الیسری تقبل شدید الوزر ویأط منہ العرش اطیط الرجل الجدید من ثقل الراکب الشدید ربمالبس حلۃ خضراء ونعلین من ذہب وجلس علٰی کرسی ذہب تحتہ فراش من ذہب ودونہ سترمن لؤلؤ رجلاہ فی خضرۃ فی روضۃ خضراء الٰی غیر ذلک مما نطقت ببعضہ الایات ووردت بالباقی الاحادیث ، اتی علٰی اکثرھا فی کتاب الاسماء و الصفات ۔
اس کا انسان جیسا چہرہ، اس میں دوآنکھیں دیکھتی ہیں لیکن جس پر وہ ناراض ہو اس کی طرف نہیں دیکھتا پھر عجب ہے کہ اس کا چہرہ ہر طرف ہے اس سے بڑھ کر عجیب یہ کہ اس کے باوجود جس سے ناراض ہو اس سے چہرہ پھیرلے، کاش سمجھ ہوتی ، جو ہر طرف ہو وہ کس طرح دوسری طرف پھر جائے ، بلکہ جب تک نمازی نماز میں ہے تو وہ اپنے چہرہ کو نمازی کی طرف کرتا ہے اور جب وہ نمازی فارغ ہوجاتا ہے تو وہ بھی پھر جاتا ہے، اس کی آواز ہے تو آہٹ اور سانس بھی ہوگا ، بلکہ یمن کی طرف سے پایا جاتا ہے، اس کے دوکان ہیں جس سے راضی ہو اس پر کان لگاتا ہے قد آور ہے اس کے سر کے بال دونوں کانوں سے نیچے تک بڑھے ہوئے ہیں، لیکن داڑھی نہیں بلکہ نوجوان بے داڑھی ہے، انسان کی طرح اس کے دو ہاتھ ہیں انمیں ایک دایاں دوسرا بایاں ہے، اس کا بازو اور ہتھیلی اور انگلیاں ہیں، دور تک اس کے ہاتھ پھیلے ہوئے ، کبھی ہاتھوں کو بند کرتا ہے اور کبھی کھول کر پھرتا ہے، اس کا پہلو ہے، ہنستا ہے، اپنے منہ سے خبر بتاتا ہے، اس کے دانت ہیں جو چباتے ہیں، اس کا زیر جامہ ہے جس سے رحم لٹکتا ہے ، دو پاؤں ہیں، پنڈلی ہے، تخت پر بیٹھ کر دونوں پاؤں کو لٹکاتا ہے اور ان دونوں کو کرسی پر رکھتا ہے اور کبھی چِت لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھتا ہے لہذا اس کی پیٹھ اور گدی ہوگی، اور چھاتی سے مانوس کرتا ہے، اس کی چھاتی کے نور سے فرشتے پیدا ہوئے، اس کے قدم ہر مسجد میں ہیں تاکہ سجدہ کرنے والا ان قدموں پر سجدہ کرے، اور باقی اعضاء جن کی تفصیل نہیں صرف یہ خبر عام و اشمل ہے کہ وہ انسانی صورت پر ہے کیونکہ اس نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا، چڑھتا ہے، اترتا ہے، چلتا ہے، دوڑتا ہے، کبھی زمین پر آتا ہے اور آخری قدم موضع وج میں ہوتا ہے، پھر قیامت کو آکر زمین پر چکر لگائے گا، لباس والا تہبند اور چادر پہنے ہوئے ، اپنے دامن سے مومن کو ڈھانپتا ہے اس کی چادر چہرہ پر ہے جنت عدن میں اس کا گہرا سایہ ہے جس کو چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے اور جس چیز پر نہیں چاہتا نہیں ڈالتا، قیامت میں بادل کے سایہ میں آئے گا۔ تعجب و حیا کرتا ہے، میلان آگے پیچھے ہوتا ہے مذاق کرتا ہے، کبھی کسی چیز سے گھن کرتا ہے، اس کا عرش چار ملک ہیں، دو اس کے داہنے قدم اور دو اس کے بائیں قدم کے نیچے ہیں، شدید بوجھ ڈالے تو اس سے عرش اس طرح آواز نکالتا ہے جیسے نیا کجاوا بھاری سوار سے آواز پیدا کرتا ہے، کبھی سبز جوڑا پہنتا ہے، اور سونے کے جوتے ہیں اور سونے کی کرسی پر بیٹھا اور اس کے نیچے سونے کا بستر اور پاس موتیوں کے پردے ہوتے ہیں، اس کے پاؤں سبزے کے باغ میں سبزے پر ہوتے ہیں بعض ان میں وہ صفات ہیں جن کو قرآنی آیات نے بیان کیا اور باقی وہ جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے اکثر کو کتاب الاسماء و الصفات میں پیش کیا ہے۔(ت)
کیوں اے جاہل بے خرد ! اے حدیث احادو ضعیف ارتفاع مکانی سے سند لا کر اپنے معبود کو مکان ماننے والے، کیا ایسے ہی معبود کو پوجتا ہے پھر اس میں اور انسان کے جسم میں چھوٹے بڑے کے سوا فرق کیا ہے، مگر الحمد ﷲ اہلسنت ایسے سچے رب حقیقی معبود کو پوجتے ہیں جو احد، صمد، بے شبہہ و نمون و بیچون وچگون ہے۔
لم یلد ولم یولدoولم یکن لہ کفوا احد o  ؎
نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی (ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم ۱۱۲/۳ و۴ )
جسم و جسمانیات و مکان و جہالت و اعضاء و آلات و تمام عیوب و نقصانات سے پاک و منزہ ہے یہ سب اور اس کے مثل جو کچھ وارد ہوا ان میں کچھ روایۃً ضعیف ہے اور زیادہ وہی ہوگا اور صریح تشبیہہ کی صاف تصریحیں کہ تاویلی محاوروں سے بعید پڑیں اُسی میں ملیں گی اُسے تو یہ خدا کے موفق بندے ایک جو کے برابر بھی نہیں سمجھتے اور جو کچھ روایۃً صحیح مگر خبر احاد ہو اسے بھی جب کہ متواترات سے موافق المعنٰے نہ ہو پایہ قبول پر جگہ نہیں دیتے۔
فان الاحاد لاتفید الاعتماد فی باب الاعتقا دو لوفرضت فی اصح الکتب باصح الاسناد۔
اعتقاد کے باب میں اخبار احاد اگرچہ صحیح کتاب اور صحیح سند سے ہوں وہ اعتماد کے لیے مفید نہیں ہیں۔(ت)

رہ گئے متواترات اور وہ نہیں مگر معدود ے چند، اور وہ بھی معروف و مشہور محاوراتِ عرب کے موافق تاویل پسند
مثل ید و وجہ و  عین  و ساق واستواء واتیان ونزول  وغیرہا
ان میں تاویل کیجئے تو راہ روشن اور تفویض کیجئے تو سب سے احسن ، نہ یہ کہ منہ بھر کر خدا کو گالی دیجئے اور اس کے لیے صاف صاف مکان مان لیجئے، یا اٹھتا ، بیٹھتا ، چڑھتا ، اترتا، چلتا، ٹھہرتا ، تسلیم کیجئے ، اللہ عزوجل اتباعِ حق کی توفیق دے اور مخالفتِ اہلسنت سے ہر قول و فعل میں محفوظ رکھے ، آمین۔
Flag Counter