Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
27 - 157
چوتھا تپانچہ
یہ ادعا کہ استواء علی العرش کے معنی بیٹھنا، چڑھنا، ٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔

ضرب ۱۰۸: اقول: تم وہابیہ کے دھرم میں تشریع کا منصب تین قرن تک جاری رہا تھا، اور اس کے بعد عمومات و اطلاقاتِ شرعیہ کا دروازہ بھی بند ہوگیا، تو نے اسی تحریر میں لکھا ہے۔ جو بات امورِ دین میں بعد قرون ثلثہ کے ایجاد ہوئی بالاتفاق بدعت ہے
وکل بدعۃ ضلالۃ
 ( اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ ت)
اب ذرا تھوڑی دیر کو مردبن کر استواء علی العرش کے ان تینوں معنی کا صحابہ کرام یا تابعین یا تبع تابعین کے ائمہ سنت سے باسانید صحیحہ معتمدہ ثبوت دیجئے ورنہ خود اپنی بدعتی گمراہ بددین فی النار ہونے کا اقرار کیجئے تیرہ صدی کے دو ایک ہندیوں کا لکھ دینا سنت نہ ثابت کرسکے گا۔

ضرب ۱۰۹: اقول : تُو نے اسی تحریر میں نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کے انکار میں لکھا:کسی صحیح حدیث قولی و فعلی و تقریری سے ثابت نہیں، کہے کی شرم اور غیر مقلدی کی لاج ہے تو ان تینوں معنی کا ثبوت بھی کسی حدیث صحیح سے دو ورنہ اپنے لکھے کو سر پر ہاتھ رکھ کر روؤ۔

ضرب ۱۱۰: اقول: یہ تو الزامی ضربیں تھیں اور تحقیقاً بھی قرآن عظیم کے معنی اپنی رائے سے کہنا سخت شنیع و ممنوع ہے تو ایسے معنی کا سلف صالح سے ثابت دینا ضرور اور قول بے ثبوت مردود و مہجور۔
ضرب ۱۱۱: ہر عاقل سمجھتا ہے کہ مولٰی سبحٰنہ و تعالٰی نےاستواء کو اپنی مدح و ثناء میں ذکر فرمایا ہے۔ معاذ اﷲ بیٹھنے، چڑھنے، ٹھہرنے میں اس کی کیا تعریف نکلتی ہے کہ ان سے اپنی مدح فرماتا اور مدح بھی ایسی کہ بار بار بتکرار سات سورتوں میں اس کا بیان لاتا تو ان معانی پر استواء کو لینا مدح و تعریف میں قدح و تحریف میں کر دینا ہے لاجرم بالیقین یہ ناقص و بے معنی معانی ہر گز مراد رب العزۃ نہیں۔
ضرب ۱۱۲: اوپر معلوم ہوچکا کہ آیاتِ متشابہات میں اہل سنت کے صرف دو طریق ہیں۔ 

اوّل : تفویض کہ کچھ معنی نہ کہے جائیں، اس طریق پر اصلاً (عہ) ترجمے کی اجازت ہی نہیں کہ جب معنی ہم جانتے ہی نہیں ترجمہ کیا کریں، امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد گزرا کہ ان کی تفسیر میں منتہائے علم بس اس قدر ہے کہ کہیں ہم ان پر ایمان لائے، کتاب الاسماء سے گزرا کہ ہمارے اصحاب متقدمین رضی اللہ تعالٰی عنہم استواء کے کچھ معنی نہ کہتے نہ اس میں اصلاً زبان کھولتے۔

امام سفین کا ارشاد گزرا کہ ان کی تفسیر یہی ہے کہ تلاوت کیجئے اور خاموش رہئے، کسی کو جائز نہیں کہ عربی یا فارسی کسی زبان میں اس کے معنی کہے۔

سید نا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ارشاد گزرا کہ ان کے معنی نہ کہنا ہی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ، اور اسی پر سلف صالح کا اجماع ہے۔
عہ:  فائدہ جلیلہ : امام حجۃ الاسلام محمد محمد محمد غزالی قدس سرہ العالی کتاب الجام العوام میں فرماتے ہیں:
یجب علی من سمع اٰیات الصفات  واحادیثہا من العوام والنحوی و المحدث والمفسروالفقیہ ان ینزہ اﷲ سبحنہ من الجسمیۃ وتوابعہا من الصورۃ والمکان والجہۃ فیقطع بان معنا ہ التحقیق اللغوی غیرمر اد لانہ فی حق اﷲ تعالٰی محال وان لہذا معنی یلیق بجلالہ تعالٰی وان لایتصرف فی الالفاظ الواردۃ لابالتفسیر ای تبدیل اللفظ بلفظ آخر عربی اوغیرہ لان جواز التبدیل فرع معرفۃ المعنی المراد ولا بالاشتقاق من الوارد کان یقول مستوٍ اخذا من استوی ولا بالقیاس کان یطلق لفظۃ الساعد والکف قیاسا علی ورودالید وان یکف باطنہ عن التفکر فی ھذہ الامور فان حدثتہ نفسہ بذلک تشاغل بالصلوۃ والذکروقراء ۃ القرآن فان لم یقدر علی الدوام علی ذلک تشاغل بشیئ من العلوم فان لم یمکنہ فبحرفۃ 

اوصناعۃ فان لم یقدرفبلعب ولہوفان ذلک خیر من الخوض فی ھذاالبحر بل لواشتغل لملاھی البدنیۃ کان اسلم من الخوض فی ھذا البحرالبعید غورہ بل لو اشتغل بالمعاصی البدنیۃ کان اسلم فان ذلک غایتہ لفسق وھذا عاقبتہ  الشرک اھ مختصراً  ۔۱؂
یعنی جو شخص عامی یا نحوی یا محدث یا مفسر یا فقیہ اس قسم کی آیات و احادیث سنے اس پر فرض ہے کہ جسمیت اور اس کے توابع مثل صورت و مکان و جہت سے اللہ تعالٰی کی تنزیہ کرے۔یقین جانے کہ ان کے حقیقی لغوی معنی مراد نہیں کہ وہ اﷲ تعالٰی کے حق میں محال ہیں اور جانے کہ ان کے کچھ معنی ہیں جو اﷲ سبحنہ کے جلال کے لائق ہیں اور جو لفظ وارد ہوئے ان میں اصلاً تصرف نہ کرے، نہ کسی دوسرے لفظ عرب سے بدلے ، نہ کسی اور زبان میں ترجمہ کرے کہ تبدیل و ترجمہ تو جب جائز ہو کہ پہلے معنی مراد ہولیں ، نہ لفظ وارد سے کوئی مشتق نکال کر اطلاع کرے جیسے استوٰی آیا ہے مستوی نہ کہے نہ لفظ وارد پر قیاس کرے ید آیا ہے اس کے قیاس سے ساعد و کف نہ بولے اور فرض ہے کہ اپنے دل کو بھی اس میں فکر سے روکے اگر دل میں اس کا خطرہ آئے تو فوراً نماز و ذکر و تلاوت میں مشغول ہوجائے ، اگر ان عبادات پر دوام نہ ہوسکے تو کسی علم میں مشغول ہو  کر دھیان بٹادے۔ یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی حرفت یا صنعت میں یہ بھی نہ جانے تو کھیل کود میں کہ متشابہات میں فکر کرنے سے کھیل کود ہی بھلا ہے بلکہ اگر گناہوں میں مشغول ہو تو اس سے بہتر ہے کہ اُن کی نہایت فسق ہے اور اس کا انجام کفر، والعیاذ باﷲ تعالٰی ۱۲ منہ۔
 (۱ ؎ الجام العوام )
طریق دوم : کہ متاخرین نے بضرورت اختیار کیا اس کا یہ منشا تھا کہ وہ معنی نہ رہیں جن سے اللہ عزوجل کا خلق سے مشابہ ہونا متوہم ہو بلکہ اس کے جلال و قدوسیت کے معنی پیدا ہوجائیں۔ بیٹھنا، چڑھنا، ٹھہرنا تو خاص اجسام کے کام اور باری عزوجل کے حق میں صریح عیب ہیں تو تم نے تاویل خاک کی بلکہ اور وہم کی جڑ جمادی۔

بالجملہ یہ تینوں معانی دونوں طریقہ اہلسنت سے دور و مہجور ہیں ان کو مطابق سنت کہنا نام زنگی کافور رکھنا ہے اب آپ ملاحظہ ہی کریں گے کہ ائمہ اہلسنت نے ان معانی کو کیسا کیسا رد فرمایا ہے دو ایک ہندیوں کے قدم نے اگر لغزش کی اور خیال نہ رہا کہ ان لفظوں سے ترجمہ ہر گز صحیح نہیں تو ان کا لکھنا ائمہ سلف و خلف کے اجماع کو رد نہیں کرسکتا، نہ وہ مسلک اہلسنت قرار پاسکتا ہے مگر وہابیوں بلکہ سب گمراہوں کی ہمیشہ یہی حالت رہی ہے کہ ڈوبتا سوار پکڑتا ہے جہاں کسی کا کوئی لفظ شاذ مہجور پکڑ لیا خوش ہوگئے اور اس کے مقابل تصریحات قاہرہ سلف و خلف بلکہ ارشادات صریحہ قرآن و حدیث کو بالائے طاق رکھ دیا مگر اہل حق بحمد اللہ تعالٰی خوب جانتے ہیں کہ شاہراہ ہدایت اتباع جمہور ہے جس سے سہواً خطا ہوئی اگرچہ معذور ہے مگر اس کا وہ قول متروک و مہجور ہے، وہ جانتے ہیں کہ لکل جواد کبوۃ لکل صارم نبوۃ و لکل عالم ھفوۃ ہر تیز گھوڑا کبھی ٹھوکر کھا لیتا ہے اور ہر تیغ براں کبھی کر جاتی ہے اور ہر عالم سے کبھی کوئی لغزش وقوع پاتی ہے۔ وباﷲ العصمۃ۔
ضرب ۱۱۳: اب اپنے مستندات سے ان معانی کا رَد سُنتے جائیے جنہیں آپ نے براہ جہالت مطابق سنت بلکہ سنت کو انہیں میں منحصر بتایا۔ مدارک شریف سے گزرا:
الاستواء بمعنی الجلوس لایجوز علی اﷲ تعالٰی  ۱ ؎
استواء بیٹھنے کے معنی پر اللہ تعالی عزوجل کے حق میں محال ہے۔
 ( ۱ ؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی) آیت ۳/ ۷     دارالکتاب العربی بیروت     ۱/ ۱۴۶)
ضرب ۱۱۴: کتاب الاسماء سے گزرا:
متعال عن ان یجوز علیہ اتخاذ السریر للجلوس  ۲ ؎
اﷲ تعالٰی عزوجل اس سے پاک و برتر ہے کہ بیٹھنے کے لیے تخت بنائے۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر اسماء التی تتبع المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ  ۱/ ۷۱، ۷۲)
ضرب ۱۱۵: اسی میں امام ابوالحسن طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے گزرا ا ستواء کے یہ معنی نہیں کہ مولٰی تعالٰی عرش پر بیٹھا یا کھڑا ہے ، یہ جسم کی صفات ہیں اور اﷲ عزوجل ان سے پاک۔

ضرب ۱۱۶: اُسی میں فرا نحوی سے یہ حکایت کرکے کہ استواء بمعنی اقبال ہے، اور ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے چڑھنے سے تفسیر کی ، فرمایا:
  استوی بمعنی اقبل صحیح لان الا قبال ھو القصد والقصد ھو الارادۃ وذٰلک جائز فی صفات اﷲ تعالٰی ، اما ماحکی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فانما اخذہ عن تفسیر الکلبی والکلبی ضعیف والروایۃ عنہ فی موضع اٰخرعن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما استوٰی یعنی صعدا مرہ اھ ملخصاً ۔۱؂
یعنی استوا بمعنی اقبال صحیح کہ اقبال قصد ہے اور قصد ارادہ ہے، یہ تو اللہ سبحنہ کی صفات میں جائز ہے، مگر وہ جو ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما سے حکایت کی کہ استواء چڑھنے (عہ)کے معنی پر ہے فراء نے کلبی کی تفسیر سے اخذ کیا اور کلبی ضعیف ہے اور خود ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس کلبی نے دوسری جگہ یوں روایت کی کہ استواء کے معنی حکمِ الہی کا چڑھنا ہے۔
عہ:  امام جلال الدین سیوطی نے اتقان میں فرمایا :
رد بانہ تعالٰی منزہ عن الصعود ایضاً ۔۳؂
یہ معنی یوں مردود ہوئے کہ اﷲ تعالٰی چڑھنے سے پا ک ہے ۱۲ منہ،
 ( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۴و ۱۵۵) 

( ۳ ؎الاتقان فی علوم القرآن النوع الثالث والاربعون     داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۶۰۵)
ضرب ۱۱۷: اُسی میں فرمایا :
عن محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فی قولہ تعالی ثم استوی علی العرش یقول استقر علی العرش ، ھذہ الروایۃ منکرۃ وقد قال فی موضع اٰخر بھٰذاالاسناد ا استوی علی العرش یقول استقرامرہ علی السریر  ورد الاستقرار الی الامر ، وابوصالح ھذا والکلبی و محمد بن مروان کلھم متروک عنداھل العلم بالحدیث لایحتجون بشیئ من روایا تھم لکثرۃ المناکیر فیہا وظہور الکذب منہم فی روایا تھم، اخبرنا ابوسعید المالینی (فذکر باسنادہ) عن حبیب بن ابی ثابت قال کنا نسمیہ  دروغ زن یعنی ابا صالح مولی ام ھانی، واخبرنا ابوعبداللہ الحافظ ( فاسند) عن سفٰین قال قال الکلبی قال لی ابوصالح کل ما حدثک کذب، واخبرنا المالینی (بسندہ) عن الکلبی قال قال لی ابو صالح انظر کل شیئ رویت عنی عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فلا تروہ، اخبرنا ابوسہل احمد بن محمد المزکی ثنا ابوالحسین محمد بن حامد العطار اخبرنی ابوعبداﷲ الرواسانی قال سمعت محمد بن اسمعیل البخاری یقول محمد بن مروان الکوفی صاحب الکلبی سکتواعنہ لایکتب حدیثہ البتّۃ اھ مختصراً ۔۱؂
یعنی محمد بن مروان نے کلبی سے اس نے ابوصالح سے اس نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ  اللہ تعالی کے قول ثم استوی علی العرش میں عرش پر استوا کے معنی ٹھہرنا ہے یہ روایت منکر ہے، اور خود کلبی نے اسی سند سے دوسری جگہ یوں روایت کی کہ عرش پر استوا کے معنی حکم الہی کاٹھہرنا ہے یہاں ٹھہرنے کو حکم کی طرف پھیرا اور یہ ابوصالح اور کلبی اور محمد بن مروان سب کے سب علمائے محدثین کے نزدیک متروک ہیں ان کی کوئی روایت حجت لانے کے قابل نہیں کہ ان کی روایتوں میں منکرات بکثرت ہیں اور ان میں ان کا جھوٹ بولنا آشکارا ہے، حبیب بن ابی ثابت نے فرمایا ہم نے اس ابوصالح کا نام ہی دروغ زن رکھ دیا تھا امام سفیان نے فرمایا خود کلبی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو صالح نے مجھ سے کہا جتنی حدیثیں میں نے تجھ سے بیان کی ہیں سب جھوٹ ہیں نیز کلبی نے کہا مجھ سے ابوصالح نے کہا دیکھو جو کچھ تو نے میرے واسطے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے اس میں سے کچھ روایت نہ کرنا، امام بخاری فرماتے ہیں کلبی کے شاگرد محمد بن مروان کوفی سے ائمہ حدیث نے سکوت کیا ہے، یعنی اس کی روایات متروک کردیں اس کی حدیث کا ہر گز اعتبار نہ کیا جائے۔
 ( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۲۵۵ تا ۲۵۷)
ضرب ۱۱۸: پھر فرمایا :
وکیف یجوزان یکون مثل ھٰذہ الاقاویل صحیحۃ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما ثم لایرویھا ولایعرفہا احد من اصحابہ الثقات الاثبات مع شدۃ الحاجۃ الی معرفتہا ، وما تفردبہ الکلبی وامثالہ یوجب الحد والحد یوجب الحدث لحاجۃ الحد الٰی حادخصہ بہ والباری تعالٰی قدیم لم یزل  ۔۲؂
بھلا کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایسی باتیں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے صحیح ہوں پھر ان کے ثقہ شاگرد محکم فہم و حفظ والے نہ اُنہیں روایت کریں نہ ان سے آگاہ ہوں حالانکہ ان کے جاننے کی کیسی ضرورت ہے اور جو کچھ کلبی اور اس کی حالت کے اور لوگ تنہا روایت کررہے ہیں اس سے تو اللہ عزوجل کا محدود ہونا لازم آتا ہے اور محدود ہونا حادث ہونے کو واجب کرتا ہے کہ حد کے لیے کوئی ایسا درکار ہے جو خاص اس حد معین سے اس محدود کو مخصوص کرے اور اللہ عزوجل تو قدیم ہے ہمیشہ سے ہے۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب الرحمن علی العرش استوی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۷)
ضرب ۱۱۹: اُسی میں ہے:
ان اﷲ تعالٰی لامکان لہ ولا مرکب و ان الحرکۃ والسکون والانتقال والا ستقرار من صفات الاجسام واﷲ تعالٰی احد صمد لیس کمثلہ شیئ  ۔۱؂ اھ باختصار
بے شک اﷲ تعالٰی کے لیے نہ مکان ہے نہ کوئی چیز ایسی جس پر سوار ہو اور بے شک حرکت اور سکون اور ہٹنا اور ٹھہرنا یہ جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالٰی احد صمد ہے کوئی چیز اس سے مشابہت نہیں رکھتی ا ھ باختصار۔
 ( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات         باب  ھل ینظرون الا ان یاتیہم اﷲ الخ     المکتبۃ الاثر یہ شیخوپورہ            ۲/ ۱۹۴)
ضرب ۱۲۰: مدارک شریف میں فرمایا :
تفسیرالعرش بالسریرو والاستواء بالاستقرار کما تقولہ المشبہۃ باطل  ۔۲؂
عرش کے معنی تخت اور استواء کے معنی ٹھہرنا کہنا جس طرح فرقہ مجسمہ کہتا ہے باطل ہے۔

دیکھا تو نے حق کیسا واضح ہوا ، وﷲ الحمد۔
 ( ۲ ؎  مدارک التنزیل (تفسیر النسفی ) آیۃ ۷/ ۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۵۶)
Flag Counter