Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
26 - 157
ضرب ۹۷: وجوہ مخالفت بیان کرکے فرمایا :
ثم ان ھذہ القصۃ بطولہا انما ھی حکایۃ حکاھا شریک عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ من تلقاء نفسہ، لم یعزھا الٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولارواھا عنہ ولا اضافہا الی قولہ وقد خالفہ فیما تفرد بہ منہا عبداﷲ بن مسعود و عائشۃ و ابوہریرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہم وھم احفظ واکبر واکثر  ۔۱؂
یعنی پھر یہ قصہ حدیث مرفوع نہیں شریک نے صرف حضرت انس کا اپنا قول روایت کیا ہے جسے نہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کیا نہ حضور کا قول روایت کیا اور ان الفاظ میں ان کی مخالفت فرمائی حضرت عبداللہ بن مسعود وحضرت ام المومنین صدیقہ و حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے، اور وہ حفظ میں زائد ، عمر میں زائد، عدد میں زائد۔
 ( ۱ ؎کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲ /۱۸۷ )
ضرب ۹۸: پھر امام ابوسلیمٰن خطابی سے نقل فرمایا :
وفی الحدیث لفظۃ اخری تفرد بہا شریک ایضا لم یذکرھا غیرہ  وھی قولہ فقال وھو مکانہ والمکان لایضاف الی اﷲ تعالٰی سبحٰنہ انما ھو مکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و مقامہ الاول الذی اقیم فیہ ۔۲ ؎
یعنی یہ لفظ مکان بھی صرف شریک نے ذکر کیا اوروں کی روایت میں اس کا پتہ نہیں اور مکان اﷲ سبحٰنہ کی طرف منسوب نہیں، اس سے مراد تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مکان اور حضور کا وہ مقام ہے جہاں اس نزول سے پہلے قائم کیے گئے تھے۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲ /۱۸۷)
کیوں کچے تو نہ ہوئے ہو گے، مگر توبہ وہابی گمراہ کو حیا کہاں۔

ضرب ۹۹: اقول: مسند امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث مسند سیدنا ابی سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ایک بار اس سند سے مروی۔
حدثنا ابوسلمۃ انا لیث عن یزید بن الہاد عن عمرو بن ابی سعید الخدری۳۔
 ( ۳ ؎  مسند احمد بن حنبل مروی ازابوسعید الخدری         دارالفکر بیروت ۳/ ۲۹)
دوبارہ یوں    :    حدثنا یونس ثنالیث الحدیث سنداً ومتناً ۔۱؂
 ( ۱ ؎ مسند احمد بن حنبل         مروی از ابوسعید خدری        دارالفکر بیروت            ۳/ ۴۱)
ان میں صرف اس قدر ہے کہ رب عزوجل نے فرمایا ۔
  بعزتی وجلالی  ۔۲؂
مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم۔
ارتفاع مکانی کا اصلاً ذکر نہیں، سہ بارہ اس سند سے روایت فرمائی۔
حدثنا یحٰیی بن اسحٰق انا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری ۔
یہاں سرے سے قسم کا ذکر ہی نہیں صرف اتنا ہے کہ:
قال الرب عزوجل لا ازال اغفرلھم مااستغفرونی ۔۳؂
رب عزوجل نے فرمایا میں انہیں ہمیشہ بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کریں گے۔
( ۲ ؎  مسند احمد بن حنبل         مروی از ابوسعید خدری        دارالفکر بیروت            ۳/ ۲۹ و ۴۱)

( ۳؎  مسند احمد بن حنبل     مروی از ابوسعید خدری        دارالفکر بیروت            ۳/ ۷۱)
امام اجل حافظ الحدیث عبدالعظیم منذری نے بھی یہ حدیث کتاب الترغیب والترہیب میں بحوالہ مسند امام احمد و مستدرک حاکم ذکر فرمائی انہوں نے بھی صرف اسی قدر نقل کیا کہ
بعزتی وجلالی ۴ ؎
 ( ۴ ؎  الترغیب والترہیب    کتاب الذکروالدعاء            الترغیب فی الاستغفار مصطفی البابی مصر    ۲/ ۴۶۸)
اور امام جلیل جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر و جامع کبیر میں بھی بحوالہ مسند احمد و ابی یعلٰی و حاکم ذکر کی ان میں بھی اتنا ہی ہے ارتفاع مکانی کا لفظ کسی میں نہیں، ہاں بیہقی نے کتاب الاسماء میں یہ حدیث اس طریق اخیر ابن لہیعہ سے روایت کی۔
حیث قال اخبرنا علی بن احمد بن عبدان انا احمد بن عبید ثنا جعفر بن محمد ثنا قتیبۃ ثنا ابن لھیعۃ عن دراج عن ابی الھیثم عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۵؂
 ( ۵ ؎ کتاب الاسماء  والصفات     للبیہقی باب ماجاء فی اثبات العزۃ         المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ    ۱/ ۲۲۱)
یہاں وہ لفظ (ارتفاع مکانی)(ف) ہے اس سند میں اول تو ابن لہیعہ موجود اُن میں محدثین کا جو کلام ہے معلوم و معہود جب باب احکام میں اُن کی حدیث پرائمہ کو وہ نزاعیں ہیں تو باب صفات تو اشد الابواب ہے۔
ف : اسی مقام پر تحقیق والے نے بھی مکان سے مراد مکانتہ لیا ہے،
ضرب ۱۰۰: اقول : وہ مدلس ہیں
کما فی فتح المغیث
 ( جیسا کہ فتح المغیث میں ہے، ت) اور مدلس کا عنعنہ محدثین قبول نہیں کرتے۔
ضرب ۱۰۱: اقول : وہ درّاج سے راوی ہیں اور دراج ابوالہیثم سے، میزان الاعتدال میں دراج کی توثیق صرف یحٰیی سے نقل کی، اور امام احمد نے ان کی تضعیف فرمائی اور اُن کی حدیثوں کو منکر کہا۔ امام فضلک رازی نے کہا وہ ثقہ نہیں ، امام نسائی نے فرمایا: منکر الحدیث ہیں، امام ابوحاتم نے کہا ضعیف ہیں ابن عدی نے اُن کی حدیثیں روایت کرکے کہہ دیا۔ اور حفاظ ان کی موافقت نہیں کرتے ۔ امام دارقطنی نے کہا: ضعیف ہیں، اور ایک بار فرمایا : متروک ہیں، یہ سب اقوال میزان  الاعتدال میں ہیں۔۱؂،

بالاخر ان کے باب میں قولِ منقح یہ ٹھہرا جو حافظ الشان نے تقریب میں لکھا کہ:
  صدوق فی حدیثہ عن ابی الھیثم ضعیف   ۲ ؎
آدمی فی نفسہ سچے ہیں مگر ابوالہیثم سے ان کی روایت ضعیف ہے۔
 ( ۱ ؎     میزان الاعتدال ترجمہ ۲۶۶۷ دراج ابوالسمح المصری دارالمعرفۃ بیروت    ۲/ ۲۴، ۲۵)

( ۲ ؎   تقریب التہذیب ترجمہ ۱۸۲۹        دارالکتب العلمیہ بیروت        ۱/ ۲۸۴)
اور یہاں یہ روایت ابوالہیثم ہی سے ہے تو حدیث کا ضعف ثابت ہوگیا، بڑے محدث جی، اسی برتے پر احادیث صحیحہ کہا تھا۔
ضرب ۱۰۲: یہ سات ضربیں ان خاص خاص حدیثوں کے متعلق آپ کے دم پر تھیں۔ اب عام لیجئے کہ یہ حدیث اور اس جیسی اور جولاؤ سب میں منہ کی کھاؤ مکان و منزل و مقام بمعنی ( عہ) مکانت ومنزلت و مرتبہ ایسے شائع الاستعمال نہیں کہ کسی ادنٰی ذی علم پر مخفی رہیں مگر جاہل بےخرد کا کیا علاج ۔
عہ:  ولہذا مرقات میں اسی حدیث کے نیچے لکھا۔ وارتفاع مکانی ای مکانتی ۔ ۳ ؎  ۱۲ منہ

المرادھنا ارتفاع المکانۃ لیس المکان لان اﷲ موجود بلامکان ودلیلہ حدیث اھل الیمن ، نذیر احمد سعیدی
 (۳ ؎    مرقات المفاتیح باب الاستغفار والتوبہ     فصل ثانی،    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۵/ ۱۷۵)
ضرب ۱۰۳: اقول :
ممکن کہ مکان مصدر میمی ہو تو اس کا حاصل کون ووجود و ارتفاع و اعتلائے وجود الہٰی ہوگا۔

ضرب ۱۰۴: اضافت تشریفی بھی کبھی کسی ذی علم سے سُنی ہے ، کعبہ کو فرمایا : بیتی میرا گھر جبریل امین کو فرمایا : روحنا ہماری رُوح، ناقہ صالح کو فرمایا : ناقۃ اﷲ اﷲ کی اونٹنی اب کہہ دینا کہ اﷲ کا بڑا شیش محل تو اوپر ہے اور ایک چھوٹی سی کوٹھری رات کو سونے کی مکے میں بنا رکھی ہے اور تیرا معبود کوئی جاندار بھی ہے اونچی سی اونٹنی پر سوار بھی ہے۔
بیحیا باش وانچہ خواہی گوئے
 ( بے حیاہوجا اور جو چاہے کہہ ت)
وہی تیری جان کے دشمن امام بیہقی جن کی کتاب الاسماء کا نام تو نے ہمیشہ کے لیے اپنی جان کو آفت لگادینے کے واسطے لے دیا اُسی کتاب الاسماء میں بعد عبارت مذکورہ سابق فرماتے ہیں:
قال ابوسلیمٰن وھٰھنا لفظۃ اخری فی قصۃ الشفاعۃ رواھا قتادۃ عن انس رضی اللہ تعالٰی عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فیأ تونی یعنی اھل المحشریسأ لونی للشفاعۃ  فاستأذن علی ربی فی دارہ فیؤذن لی علیہ ای فی دارہ التی دوّرھا لاولیائہ وھی الجنۃ کقولہ عزوجل لھم دارالسلام عند ربھم وکقولہ تعالٰی واﷲ یدعوالٰی دارالسلمٰ وکما یقال بیت اﷲ و حرم اﷲ، یریدون البیت الذی جعل اﷲ مثابۃ للناس ، والحرم الذی جعلہ امنا ومثلہ روح اﷲ علی سبیل التفضیل لہ علی سائر الارواح، وانما ذٰلک فی ترتیب الکلام کقولہ جل وعلا (ای حکایۃ عن فرعون ) ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون فاضاف الرسول الیہم وانما ھو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ارسل الیھم اھ باختصار ۔۱؂
ابوسلیمان نے فرمایا کہ یہاں شفاعت کے واقعہ میں ایک دوسرا لفظ ہے جس کو حضرت قتادہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ اور انہوں نے نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا : تو میرے پاس اہلِ محشر آئیں گے شفاعت کی درخواست کریں گے، تو میں اللہ تعالٰی سے اجازت طلب کروں گا اس کے گھر میں تو مجھے اجازتِ شفاعت ہوگی، فی دارہ سے مراد وہ دار ہے جس کو اﷲ تعالٰی نے اپنے اولیاء کے لیے دار بنایا اور وہ جنت ہے، جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد ہے اور اﷲ تعالٰی دارالسلام کی طرف دعوت دیتا ہے۔( جنت کو اﷲ تعالٰی کا دار کہنا) ایسے ہی ہے جیسے بیت اﷲ اور حرم اﷲ کہا جاتا ہے اور یہ مراد لیتے ہیں کہ وہ بیت جس کو اﷲ تعالٰی نے لوگوں کے لیے مرجع بنایا اوروہ حرم جس کو اﷲ تعالٰی نے لوگوں کے لیے جائے امن بنایا، اس طرح روح اﷲ کہا گیا کہ جس کا مطلب ہے کہ اﷲ تعالٰی نے اس کو باقی روحوں پر فضیلت دی اور یہ صرف کلامی ترتیب ہے جیسے اﷲ تعالٰی کا ارشاد فرعون سے حکایت کرتے ہوئے ہے کہ اس نے کہا : بنی اسرائیل ! تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا وہ مجنون ہے، تو یہاں رسول کی اضافت بنی اسرائیل کی طرف کی حالانکہ وہ صرف اﷲ کے رسول ہیں، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، جس کو اﷲ تعالٰی نے ان کی طرف بھیجا ہے، ا ھ اختصاراً (ت)
 ( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی ثم دنا فتدلّٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۸۸و ۱۸۹)
ضرب ۱۰۵: کہ حدیث اول سے بھی جواب آخر ہے یہ دونوں حدیثیں بھی فرض کرلیں اور مکان اُسی تیرے گمان ہی کے معنی پر رکھیں اور اس کی نسبت جانب حضرت عزت بھی تیرے ہی حسب دلخواہ قرار دیں تو غایت یہ کہ دو حدیث آحاد میں لفظ مکان وارد ہوا اس قدر کیا قابل استناد ولائق اعتماد کہ ایسے مسائلِ ذات و صفاتِ الہی میں احادیث اصلاً قابل قبول نہیں وہی تیرے دشمن مستند، 

امام بیہقی اُسی کتاب الاسماء والصفات میں فرماتے ہیں:
  ترک اھل النظر اصحابنا الاحتجاج باخبار الآحاد فی صفات اﷲ تعالٰی اذا لم یکن لما انفرد منہا اصل فی الکتاب او الاجماع واشتغلوا بتاویلہ  ۔ ۲ ؎
ہمارے ائمہ متکلمین اہلسنت و جماعت نے مسائل صفاتِ الہیہ میں اخبار آحاد سے سند لانی قبول نہ کی جب کہ وہ بات کہ تنہا ان میں آئی اس کی اصل قرآن عظیم یا باجماع امت سے ثابت نہ ہوا اور ایسی حدیثوں کی تاویل میں مشغول ہوئے۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات باب ماذکرفی القدم والرجل ثم دنا فتدلّٰی الخ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ  ۲ /۹۲)
اُسی میں امام خطابی سے نقل فرمایا:
الاصل فی ھذا وما اشبہہ فی اثبات الصفات ، انہ لایجوز ذلک الاان یکون بکتاب ناطق اوخبر مقطوع بصحتہ فان لم یکونا فیما یثبت من اخبار الاحادیث المستندۃ الٰی اصل فی الکتاب اوفی السنۃ المقطوع بصحتہا او بموافقۃ معانیہا و ماکان بخلاف ذٰلک فالتوقف عن اطلاق الاسم بہ ھوالواجب ویتأول حینئذعلی مایلیق بمعانی الاصول المتفق علیہا من اقاویل اھل الدین والعلم مع نفی التشبیہ فیہ، ھذا ھوالاصل الذی یبنی علیہ الکلام والمعتمدۃ فی ھذاالباب  ۔۱؂
اس میں اور اس قسم کی صفات کے اثبات میں قاعدہ یہ ہے کہ یہ اثبات صرف کتاب اﷲ یا قطعی حدیث سے ہو، اگر ان دونوں سے نہ ہو پھر اس کا ثبوت ان احادیث سے ہو جو کتاب اﷲ اور قطعی صحیح حدیث سے مستند کسی ضابطہ کے مطابق اور ان کے معانی کے موافق ہو، اور جوان کے مخالف ہو تو پھر اس صفت کے اسم کے اطلاق پر ہی اکتفا کیا جانا ضروری ہوگا اور اس کی مراد کے لیے ایسی تاویل کی جائے گی جو اہلِ دین اور اہل علم کے متفقہ اقوال کے معانی کے موافق ہو، اور ضروری ہے کہ اس صفات میں کوئی تشبیہ کا پہلو نہ ہو، یہی وہ قاعدہ ہے جس پر کلام کو مبنی کیا جائے اور اس باب میں یہی قابل اعتماد قاعدہ ہے۔(ت)
 (۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات  للبیہقی باب ماذکرفی الاصابع  المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ  ۲ /۷۰)
ضرب ۱۰۶: اقول : تیری سب جہالتوں سے قطع نظر کی جائے تو ذرا اپنے دعوے کو سوجھ کہ احادیث صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکانِ الہی ہونا ثابت ہے، صریح ہونا بالائے طاق ان احادیث سے اگر بفرض باطل ثابت ہوگا تو یہ تیرے معبود کے لیے تیرے زعم میں مکان ہے اس سے یہ کیونکر نکلا کہ وہ مکان عرش ہی ہے، خود اپنا دعوٰی سمجھنے کی لیاقت نہیں اور چلے صفاتِ الہیہ میں کلام کرنے۔

ضرب ۱۰۷: اقول: بلکہ حدیث اول میں تو سدرۃ المنتہٰی کا ذکر ہے کہ:
ثم علابہ فوق ذٰلک بمالایعلمہ الا اﷲ حتی جاء سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین اوادنی فاوحٰی الیہ فیما اوحی خمسین صلوۃ الحدیث ۔۱؂
پھر آپ اس سے اوپر گئے جہاں کا صرف اﷲ تعالٰی کو ہی علم ہے حتی کہ آپ سدرۃ المنتہٰی  پر آئے اور رب العزت کا قرب پایا پھر اور قرب پایا حتی کہ دو کمانوں کے فاصلہ پر ہوئے یا اس سے بھی زیادہ قرب پایا، تو اللہ تعالٰی نے ان کی طرف وحی فرمائی جو فرمائی اس وحی میں پچاس نمازیں بھی ہیں۔الحدیث (ت)
 (۱ ؎  صحیح البخاری     کتاب التوحید باب کلم اﷲ موسٰی تکلیما             قدیمی کتب خانہ کراچی         ۲/ ۱۱۲۰)
تو اگر تیرے زعمِ باطل کے طور پر اطلاق مکان ثابت ہوگا تو سدرہ پر نہ عرش پر، انہیں کو احادیث صریحہ کہا تھا۔
لاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
Flag Counter