ضرب ۶۹ : یونہی سورہ طٰہٰ میں تصریح فرمائی کہ عرش مکانِ الہی نہیں ، اللہ عزوجل مکان سے پاک ہے، عبارت سابقاً منقول ہوئی۔
ضرب ۷۰: سورہ یونس میں فرمایا :
ای استولی فقد یقدس الدیان جل و عزعن المکان والمعبود عن الحدود ۔۲
استواء بمعنی استیلاء وغلبہ ہے نہ بمعنی مکانیت اس لیے کہ اﷲ عزوجل مکان سے پاک اور معبود جل و علا حدو نہایت سے منزہ ہے۔
( ۲ ؎ مدارک النتزیل (تفسیرالنسفی) آیت ۱۰/ ۳ دارالکتاب العربی بیروت ۲/ ۱۵۳)
ہزار نفرین اُس بیحیا آنکھ کو جو ایسے ناپاک بول بول کر ایسی کتابوں کا نام لیتے ہوئے ذرا نہ جھپکے۔
ضرب ۷۱ : امام بیہقی کتاب الاسماء والصفات میں امام اجل ابوعبداﷲ حلیمی سے زیر اسم پاک متعالی نقل فرماتے ہیں:
معناہ المرتفع عن ان یجوز علیہ مایجوز علی المحدثین من الازواج والاولادو الجوارح والاعضاء واتخاذ السریرللجلوس علیہ، والا حتجاب بالستورعن ان تنفذ الابصار الیہ، و الانتفال من مکان الٰی مکان ، ونحو ذلک فان اثبات بعض ھذہ الاشیاء یوجب النہایۃ وبعضہا یوجب الحاجۃ، وبعضہا یوجب التغیر والاستحالۃ، و شیئ من ذٰلک غیر لا ئق بالقدیم ولا جائز علیہ ۔۱
یعنی نام الہٰی متعالی کے یہ معنی ہیں کہ اللہ عزوجل اس سے پاک و منزہ ہے کہ جو باتیں مخلوقات پر روا ہیں جیسے جورو، بیٹا ، آلات، اعضاء ، تخت پر بیٹھنا، پردوں میں چھپنا ، ایک مکان سے دوسرے کی طرف انتقال کرنا( جس طرح چڑھنے، اُترنے ، چلنے، ٹھہرنے میں ہوتا ہے) اس پر روا ہوسکیں اس لیے کہ ان میں بعض باتوں سے نہایت لازم آئے گی بعض سے احتیاج بعض سے بدلنا متغیر ہونا اور ان میں سے کوئی امر اﷲ عزوجل کے لائق نہیں، نہ اس کے لیے امکان رکھے ۔
(۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲ /۷۱ و۷۲)
کیوں پچتا ئے تو نہ ہوگے کتاب الاسماء کا حوالہ دے کر، تف ہزار تُف وہابیہ مجسمہ کی بے حیائی پر۔
ضرب ۷۲: باب ماجاء فی العرش میں امام سلیمٰن خطابی علیہ الرحمۃ سے نقل فرماتے ہیں:
لیس معنی قول المسلمین ان اﷲ تعالٰی استوٰی علی العرش ھوانہ مماس لہ او متمکن فیہ ، اومتحیز فی جہۃ من جہاتہ، لکنہ بائن من جمیع خلقہ، وانما ھو خبرجاء بہ التوقیف فقلنا بہ، ونفینا عنہ التکیف اذ لیس کمثلہ شیئ وھو السمیع العلیم ۔۱
مسلمانوں کے اس قول کے کہ اللہ تعالٰی عرش پر ہے، یہ معنی نہیں کہ وہ عرش سے لگایا ہوا ہے یا وہ ا س کا مکان ہے یا وہ اس کی کسی جانب میں ٹھہرا ہوا ہے بلکہ وہ تو اپنی تمام مخلوق سے نرالا ہے یہ تو ایک خبر ہے کہ شرع میں وارد ہوئی تو ہم نے مانی اور چگونگی اس سے دور و مسلوب جانی اس لیے کہ اللہ کے مشابہ کوئی چیز نہیں اور وہی ہے سننے دیکھنے والا۔
( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی العرش والکرسی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۳۹)
ضرب ۷۳: اس سے گزرا کہ اﷲ عزوجل کے علو سے اس کا امکان بالا میں ہونا مراد نہیں، مکان اسے نہیں گھیرتا۔
ضرب ۷۴: نیز یہ کلیہ بھی گزرا کہ جو اجسام پر روا ہے اﷲ عزوجل پر روا نہیں۔
ضرب ۷۵ : اُسی میں یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے طبقات آسمان پھر ان کے اوپر عرش پھر طبقاتِ زمین کا بیان کرکے فرمایا:
والذی نفس محمد بیدہ لو انکم دلیتم احدکم بحبل الی الارض السابعۃ لھبط علی اﷲ تبارک وتعالٰی ثم قرأرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و ھو الاول والاخرو والظاہر والباطن ۔۲
قسم اس کی جس کے دستِ قدرت میں محمدصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کسی کو رسی کے ذریعہ سے ساتویں زمین تک لٹکاؤ تو وہاں بھی وہ اﷲ عزوجل ہی تک پہنچے گا۔ پھر رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ اﷲ ہی ہے اول و آخرو ظاہر و باطن۔
( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴)
اس حدیث کے بعد امام فرماتے ہیں:
الذی روی فی اٰخر ھٰذا الحدیث اشارۃ الٰی نفی المکان عن اﷲ تعالٰی وان العبداینما کان فہو فی القرب والبعد من اﷲ تعالٰی سواء وانہ الظاھر، فیصح ادراکہ بالدلا لۃ، الباطن فلا یصح ادراکہ بالکون فی مکان ۔۳ ؎
اس حدیث کا پچھلا فقرہ اﷲ عزوجل سے نفی مکان پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ بندہ کہیں ہو اﷲ عزوجل سے قُرب و بعد میں یکساں ہے، اور یہ کہ اللہ ہی ظاہر ہے تو دلائل سے اُسے پہچان سکتے ہیں اور وہی باطن ہے کسی مکان میں نہیں کہ یوں اسے جان سکیں۔
(۳ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جماع ابواب ذکر الاسماء التی تتبع نفی التشبیہ المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۲/ ۱۴۴)
اقول : یعنی اگر عرش اُس کا مکان ہوتا تو جو ساتویں زمین تک پہنچا وہ اس سے کمال دوری و بعد پر ہوجاتا نہ کہ وہاں بھی اﷲ ہی تک پہنچتا، اور مکانی چیز کا ایک آن میں دو مختلف مکان میں موجود ہونا محال اور یہ اس سے بھی شنیع تر ہے کہ عرش تا فرش تمام مکانات بالا و زیریں دفعۃً اس سے بھرے ہوئے مانوکہ تجزیہ وغیرہ صدہا استحالے لازم آنے کے علاوہ معاذ اﷲ اﷲ تعالٰی کو اسفل وادنی کہنا بھی صحیح ہوگا لاجرم قطعاً یقیناً ایمان لانا پڑے گا کہ عرش وفرش کچھ اس کا مکان نہیں، نہ وہ عرش میں ہے نہ ماتحت الثرٰی میں، نہ کسی جگہ میں ہاں اس کا علم و قدرت و سمع و بصرو ملک ہر جگہ ہے ۔
جس طرح امام ترمذی نے جامع میں ذکر فرمایا:
واستدل بعض اصحابنا فی نفی المکان عنہ تعالٰی بقو ل النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انت الظاہر فلیس فوقک شیئ وانت الباطن فلیس دونک شیئ واذا لم یکن فوقہ شیئ ولادونہ شیئ لم یکن فی مکان ۔۱
یعنی اور بعض ائمہ اہلسنت نے اللہ عزوجل سے نفی مکان پر نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس قول سے استدلال کیا کہ اپنے رب عزوجل سے عرض کرتے ہیں تو ہی ظاہر ہے توکوئی تجھ سے اوپر نہیں ، اور تو ہی باطن ہے تو کوئی تیرے نیچے نہیں ، جب اللہ عزوجل سے نہ کوئی اوپر ہوا نہ کوئی نیچے تو اللہ تعالٰی کسی مکان میں نہ ہوا۔
( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات باب ماجاء فی العرش والکرسی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۴۴)
یہ حدیث صحیح مسلم شریف و سنن ابی داؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
ورواہ البیھقی فی الاسم الاول و الاخر
(اسے بیہقی نے اسم اول و آخر میں ذکر کیا ہے۔ت)
اقول : حاصل دلیل یہ کہ اﷲ عزوجل کا تمام امکنہ زیر و بالا کو بھرے ہونا تو بداہۃً محال ہے ورنہ وہی استحالے لازم آئیں ، اب اگر مکان بالا میں ہوگا تو اشیاء اس کے نیچے ہوں گی اور مکان زیریں میں ہوا تو اشیاء اُس سے اوپر ہوں گی اور وسط میں ہوا تو اوپر نیچے دونوں ہوں گی حالانکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی وسلم فرماتے ہیں، نہ اس سے اوپر کچھ ہے نہ نیچے کچھ ، تو واجب ہوا کہ مولٰی تعالٰی مکان سے پاک ہو۔
ضرب ۷۷ : عرش فرش جگہ کو معاذ اﷲ مکانِ الہٰی کہو اﷲ تعالٰی ازل سے اس میں متمکن تھا یا اب متمکن ہوا، پہلی تقدیر پر وہ مکان بھی ازلی ٹھہرا اور کسی مخلوق کو ازلی ماننا باجماع مسلمین کفر ہے دوسری تقدیر پر اﷲ تعالٰی عزوجل میں تغیر آیا اور یہ خلافِ شان الوہیت ہے۔
ضرب ۷۸ : اقول: مکان خواہ بعد موہوم ہو یا مجرد یا سطح حاوی مکین کو اُس کا محیط ہونا لازم،محیط یامماس بعض شے مکان یا بعض مکان ہے نہ مکان شے ، مثلاً ٹوپی کو نہیں کہہ سکتے کہ پہننے والے کا مکان ، تم جوتا پہنے ہو تو یہ نہ کہیں گے کہ تمہارا مکان جوتے میں ہے، تو عرش اگر معاذ اﷲ مکان الہٰی ہو لازم کہ اﷲ عزوجل کو محیط ہو، یہ محال ہے۔
قال اﷲ تعالٰی : وکان اﷲ بکل شیئ محیطا ۱
اﷲ تعالٰی عرش و فرش سب کو محیط ہے۔ وہ احاطہ جو عقل سے وراء ہے اور اس کی شان قدوسی کے لائق ہے اس کا غیر اسے محیط نہیں ہوسکتا۔
(۱القرآن الکریم ۴/ ۱۲۶)
ضرب ۷۹: نیز لازم کہ اﷲ عزوجل عرش سے چھوٹا ہو۔
ضرب ۸۰: نیز محدود محصور ہو۔
ضرب ۸۱: ان سب شناعتوں کے بعد جس آیت سے عرش کی مکانیت نکالی تھی وہی باطل ہوگئی ، آیت میں عرش پر فرمایا ہے اور عرش مکانِ خدا ہو تو خدا عرش کے اندر ہوگا نہ کہ عرش پر۔
ضرب ۸۲: اقول : جب تیرے نزدیک تیرا معبود مکانی ہوا تو دو حال سے خالی نہیں جزء، لایتجزی کے برابر ہوگا یا اس سے بڑا ، اول باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرا معبود ہر چھوٹی چیز سے چھوٹا ہوا ، ایک دانہ ریگ کے ہزارویں لاکھوں حصے سے بھی کمتر ہوا، نیز اس صورت میں صد ہا آیات و احادیث عین و ید ووجہ و ساق وغیرہا کا انکار ہوگا کہ جب متشابہات ظاہر پر محمول ٹھہریں تو یہاں بھی معانی مفہومہ ظاہرہ مراد لینے واجب ہوں گے اور جزء لایتجزی کے لیے آنکھ، ہاتھ، چہرہ، پاؤں ممکن نہیں۔ اگر کہیے وہ ایک ہی جز ء اِن سب اعضاء کے کام دیتا ہے، لہذا ان ناموں سے مسمّٰی ہوا تو یہ بھی باطل ہے کہ اوّلاً تو اس کے لیے یہ اشیاء مانی گئی ہیں نہ یہ کہ وہ خود یہ اشیاء ہے۔
ثانیاً با عیننا اور بل یداہ کا کیا جواب ہوگا کہ جزء لایتجزی میں دو فرض نہیں کرسکتے۔ اور مبسوطتان تو صراحۃً اس کا ابطال ہے جو ہر فرد میں بسط کہاں، اور ثانی بھی باطل ہے کہ اس تقدیر پر تیرے معبود کے ٹکڑے ہوسکیں گے اس میں حصے فرض کرسکیں گے اور معبود حق عزجلالہ اس سے پاک ہے۔
ضرب ۸۳ : اقول: جو کسی چیز پر بیٹھا ہو اس کی تین ہی صورتیں ممکن، یا تو وہ بیٹھک اس کے برابر ہے یا اس سے بڑی ہے کہ وہ بیٹھا ہے اور جگہ خالی باقی ہے یا چھوٹی ہے کہ وہ پورا اس بیٹھک پر نہ آیا کچھ حصہ باہر ہے، اللہ عزوجل میں یہ تینوں صورتیں محال ہیں، وہ عرش کے برابر ہوتو جتنے حصے عرش میں ہوسکتے ہیں اس میں بھی ہوسکیں گے، اور چھوٹا ہو تو اسے خدا کہنے سے عرش کو خدا کہنا اولی ہے کہ وہ خدا سے بھی بڑا ہے اور بڑا ہو تو بالفعل حصے متعین ہوگئے کہ خدا کا ایک حصہ عرش سے ملا ہے ا ور ایک حصہ باہر ہے۔
ضرب ۸۴: اقول: خدا اس عرش سے بھی بڑا بنا سکتا ہے یا نہیں، اگر نہیں تو عاجز ہوا حالانکہ
ان اﷲ علٰی کل شیئ قدیر ۔۱
بے شک اﷲ تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے۔ ت) اور اگر ہاں تو اب اگر خدا عرش سے چھوٹا نہیں برابر بھی ہو تو جب عرش سے بڑا بناسکتا ہے اپنے سے بڑا بھی بناسکتا ہے کہ جب دونوں برابر ہیں تو جو عرش سے بڑا ہے خدا سے بھی بڑا ہے اور اگر خدا عرش سے بڑا ہی تو غیر متناہی بڑا نہیں ہوسکتا کہ لاتناہی ابعاد دلائل قاطعہ سے باطل ہے لاجرم بقدر متناہی بڑا ہوگا۔ مثلاً عرش سے دونا فرض کیجئے ، اب عرش سے سوائی ڈیوڑھی ، پون دگنی ،تگنی مقداروں کو پوچھتے جائیے کہ خدا ان کے بنانے پر قادر ہے یا نہیں، جہاں انکار کرو گے خدا کو عاجز کہو گے اور اقرار کرتے جاؤ گے تو وہی مصیبت آڑے آئے گی کہ خدا اپنے سے بڑا بناسکتا ہے۔
(۱ القرآن الکریم ۲/ ۲۰ و ۱۰۶ و ۱۰۹ و ۱۴۸ وغیرہ)
ضرب ۸۵: اقول: یہ تو ضرو رہے کہ خدا جب عرش پر بیٹھے تو عرش سے بڑا ہو ورنہ خدا اور مخلوق برابر ہوجائیں گے یا مخلوق اس سے بڑی ٹھہرے گی، اور جب وہ بیٹھنے والا اپنی بیٹھک سے بڑا ہے تو قطعاً اس پر پورا نہیں آسکتا جتنا بڑا ہے اتنا حصہ باہر رہے گا تو اس میں دو حصے ہوئے ایک عرش سے لگا اور ایک الگ۔ اب سوال ہوگا کہ یہ دونوں حصے خدا ہیں یا جتنا عرش سے لگا ہے وہی خدا ہے باہر والا خدائی سے جدا ہے یا اس کا عکس ہے یا اُن میں کوئی خدا نہیں بلکہ دونوں کا مجموعہ خدا ہے پہلی تقدیر پر دو خدا لازم آئیں گے، دوسری پر خدا و عرش برابر ہوگئے کہ خدا تو اتنے ہی کا نام رہا جو عرش سے ملا ہوا ہے۔ تیسری تقدیر پر خدا عرش پر نہ بیٹھا کہ جو خدا ہے وہ الگ ہے اور جو لگا ہے وہ خدا نہیں، چوتھی پر عرش خدا کا مکان نہ ہوا کہ وہ اگر مکان ہے تو اُتنے ٹکڑے کا جو اس سے ملا ہے اور وہ خدا نہیں۔