دُوسرا تپانچہ : جاہل بے خرد نے بَک دیا کہ اللہ تعالٰی کا احاطہ فقط ازرُوئے علم ہے اس میں اللہ تعالٰی کی قدرت کا بھی منکر ہوا، اﷲ عزوجل کی صفت بصر سے بھی بے بصر ہوا، اپنی مستندہ کتابوں کابھی خلاف کیا، خود اپنی بے ہودہ تحریر سے بھی تناقض و اختلاف کیا۔ وجوہ سنیئے۔ ضرب ۴۴ : قال اﷲ تعالٰی:
الا انھم فی مریۃ من لقاء ربھم الا ان بکل شیئ محیط ۲ ؎
سنتا ہے وہ شک میں ہیں اپنے رب سے ملنے سے ، سُنتا ہے خدا ہر چیز کو محیط ہے۔
(۲ ؎ القرآن الکریم ۴۱/ ۵۴)
ضرب ۴۵: قال اﷲ تعالٰی:
وکان اﷲ بکل شیئ محیطا ۳ ؎
اﷲ ہر شے کو محیط ہے۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۴/ ۱۲۶)
ضرب ۴۶ : قال اﷲ تعالٰی عنہ :
واﷲ من ورائھم محیط ۴ ؎
اﷲ ان کے آس پاس سے محیط ہے۔
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۸۵ /۲۰)
ان تینوں آیتوں میں اﷲ عزوجل کو محیط بتایا ہے، احاطہ علم کی آیت جُدا ہے۔
وان اﷲ قداحاط بکل شیئ علما ۔۱
بے شک اﷲ تعالٰی کاعلم ہر شے کو محیط ہے۔(ت)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۱۲)
ضرب ۴۷ : ترجمہ رفیعیہ میں ہے: خبردار ہو تحقیق وہ بیچ شک کے ہیں ملاقات پروردگار اپنے کی سے، خبردار ہو تحقیق وہ ہر چیز کو گھیررہا ہے ۔۲
( ۲ ؎ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴۱ / ۵۴ ممتاز کمپنی لاہور ص ۵۲۹ و۵۳۰)
ضرب ۴۸ : اسی میں ہے۔ اور ہے اﷲ ساتھ ہر چیز کے گھیرنے والا ، ۳ ؎
( ۳ ؎ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۴/ ۱۲۶ ممتاز کمپنی لاہور ص ۱۰۹)
ضرب ۴۹ : اُسی میں ہے: اور اﷲ اُن کے پیچھے سے گھیررہا ہے۔ ۴ ؎
(۴ ؎ترجمہ شاہ رفیع الدین آیۃ ۸۵/ ۱۲ ممتاز کمپنی لاہور ص ۶۵)
ضرب ۵۰ : موضح القرآن میں ہے : سنتا ہے وہ دھوکے میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے، سُنتا ہے وہ گھیررہا ہے ہر چیز کو۔ ۵؎
( ۵ ؎ موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۵۱۱)
ضرب ۵۱ : اُسی میں زیر آیتِ ثالثہ ہے: اور اﷲ نے اُن کے گرد سے گھیرا ہے ۔۶ ان دونوں تیرے مستند مترجموں نے بھی یہ احاطہ خود اﷲ عزوجل ہی کی طرف نسبت کیا۔
(۶ ؎ موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۷۱۶)
ضرب ۵۲ : اُسی میں زیر آیت ثانیہ ہے: اللہ کے ڈھب میں ہے، سب چیز ۔۷ یہ احاطہ ازروئے قدرت لیا۔
( ۷ ؎ موضح القرآن ترجمہ وتفسیر شاہ عبدالقادر ۱۲۱ تاج کمپنی لاہور ص ۱۲۰)
ضرب ۵۳: جامع البیان میں زیر آیت اُولٰی ہے:
الکل تحت علمہ وقدرتہ ۱ ؎
یعنی سب اُس کے علم و قدرت کے نیچے ہیں۔
( ۱ ؎ جامع البیان لمحمد بن عبدالرحمن آیہ ۴۱/ ۵۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۲۵۲)
ضرب ۵۴: زیر آیت ثانیہ ہے:
بعلمہ وقدرتہ۔
اﷲ علم و قدرت دونوں کی رُو سے محیط ہے ۔۲
(۲ ؎ جامع البیان لمحمد بن عبدالرحمن آیہ ۴۱/ ۵۴ دارنشرالکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱ /۱۴۶)
ضرب ۵۵: مدارک شریف میں زیر آیت ثالثہ ہے:
عالم باحوالھم وقادر علیھم وھم لایعجزونہ ۔۳
یعنی ا ﷲ اُن کے احوال کا عالم اور ان پر قادر ہے وہ اسے عاجز نہیں کرسکتے۔
کما حققہ عالم اھل السنۃ مدظلہ فی منھیات سبحن السبوح
جیسا کہ عالم اہلسنت نے سبحٰن السبوح کے منہیات میں اس کی تحقیق فرمائی ہے(ت)
ضرب ۵۹: قدرت بھی محیط ہے،
قال تعالٰی: ان اﷲ علٰی کل شیئ قدیر ۶ ؎
بے شک اللہ تعالٰی ہر شے پر قادر ہے۔(ت)
(۶ ؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۰ و ۲/ ۱۰۶ و ۲/ ۱۰۹ و ۲/ ۱۴۸ وغیرہ)
ضرب ۶۰: خالقیت بھی محیط ہے،
قال تعالٰی : خالق کل شیئ فاعبدوہ ۷ ؎
اللہ تعالٰی ہر شے کا خالق ہے پس اسی کی عبادت کرو۔(ت)
( ۷ ؎ القرآن الکریم ۶/ ۱۰۲)
ضرب ۶۱: مالکیت بھی محیط ہے
قال تعالٰی۔ بیدہ ملکوت کل شیئ ۱ ؎
اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ ہے۔(ت)
( ۱ ؎ القران الکریم ۳۶/ ۸۳)
اس بے خرد وہابی نے فقط ازروئے علم کہہ کر ان تمام صفات الہٰیہ کے احاطہ سے انکار کردیا، آنکھیں رکھتا ہو تو سوجھے کہ اپنی گہری جہالت کی گھٹا ٹوپ اندھیری میں کتنی آیتوں کا رد کرگیا۔
بالجملہ اگر مذہب متقد مین لیجئے تو ہم ایمان لائے کہ ہمارے مولٰی تعالٰی کا علم محیط ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں فرمایا، اور احاطہ علم کے معنی ہمیں معلوم ہیں کہ۔
لایعزب عنہ مثقال ذرّۃ فی السموٰت ولا فی الارض ۲ ؎
اس سے غائب نہیں ذرہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔(ت)
( ۲؎ القرآن الکریم ۳۴/ ۳)
اور ہمارا مولٰی عزوجل محیط ہے جیسا کہ سورہ نساء سورہ فصلت و سورہ بروج میں ارشاد فرمایا اور اس کا احاطہ ہماری عقل سے وراء ہے۔
اٰمنّا بہ کل من عند ربّنا ۳ ؎
ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔(ت)
( ۳؎القرآن الکریم ۳/ ۷)
اور اگر مسلک متاخرین چلیے تو اﷲ تعالٰی جس طرح ازروئے علم محیط ہے یونہی ازروئے قدرت و ازروئے
سمع و ازراہ بصروازجہت ملک و از وجہ خلق وغیر ذلک،
تو فقط علم میں احاطہ منحصر کردینا ان سب صفات و آیات سے منکر ہوجانا ہے۔
ضرب ۶۲: بے وقوف چند سطر بعد مانے گا کہ جتنی صفتیں کلامِ شارع میں وارد ہیں اُن سے سکوت نہ ہوگا، یہاں احاطہ ذات سے سکوت کیسا، انکار کرگیا مگر وہابی را حافظہ نباشد، یہ کیسا صریح تناقض ہے۔