Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
22 - 157
پہلا تپانچہ
گمراہ نے ادعا کیا کہ اللہ تعالٰی کے بیٹھنے ، چڑھنے ، ٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی استواء کے کہے بدعتی ہے، اور اس پر اُن نوکتابوں کا حوالہ دیا۔

ضرب اوّل : فقیر نے اگر یہ التزام نہ کیا ہوتا کہ اُس کی گنائی ہوئی کتابوں سے سند لاؤں گا تو آپ سیر دیکھتے کہ یہ تپانچہ اس گمراہ کو کیونکر خاک و خون میں لٹاتا مگر اجمالاً اقوال مذکورہ بالا ہی ملاحظہ ہوجائیں کہ اس گمراہ نے کس کس امامِ دین و سنت کو بدعتی بنادیا ، امام ابوالحسن علی ابن بطالی، امام ابن حجر عسقلانی ، امام ابوطاہر قزوینی ، امام عارف شعرانی، امام جلال الدین سیوطی، امام اسمعیل ضریر حتی کہ خود امام اہلسنت سیدنا امام ابوالحسن اشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، تو کم از کم اس ضرب کو سات ضرب سمجھئے بلکہ تیرہ کہ امام نسفی وامام بیہقی وامام بغوی و امام علی بن محمد ابوالحسن طبری و امام ابوبکر بن فورک وامام ابومنصور بن ابی ایوب کے اقوال عنقریب آتے ہیں۔ یہ حضرات بھی اس بدعتی کے طور پر معاذ اﷲ بدعتی ہوئے، اور بیس ضرب اوپر گزریں جملہ تینتس ۳۳ ہوئیں، آگے چلیے اور اب صرف اس کے مستندوں سے اس کی خبر لیجئے۔
ضرب ۳۴ : مدارک شریف سورہ سجدہ میں
استواء علی العرش
کا حاصل اس کا احداث اور پیدا کرنا لیا یہ انہیں معنی سوم کے قریب ہے جو اُوپر گزرے۔
ضرب ۳۵ : اس سورۃ اور سورہ فرقان کے سوا کہ وہاں استواء کی تفسیر سے سکوت مطلق ہے باقی پانچوں جگہ اُس کے معنی استیلاء و غلبہ و قابو بتائے۔ 

حدید میں ہے:
ثم استوی استولی علی العرش ۱؂۔
 (پھر عرش پر استواء فرمایا۔ت)
 ( ۱ ؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)    آیۃ ۵۷/ ۴    دارالکتاب العربی بیروت         ۴/ ۲۲۳)
رعد میں ہے:
استولی بالاقتدار ونفوذ السلطان   ۲ ؎
اقتدار اور حکومت کا مالک ہوا ۔(ت)
 (۲ ؎  مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)    آیۃ ۱۳/ ۲        دارالکتاب العربی بیروت         ۲/ ۲۴۱)
اعراف میں ہے:
اضاف الاستیلاء الی العرش وان کان سبٰحنہ وتعالٰی مستولیا علی جمیع المخلوقات لان العرش اعظمھا واعلاھا۳؂۔
یعنی اﷲ تعالٰی کا قابو اس کی تمام مخلوقات پر ہے، خاص عرش پر قابو ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرش سب مخلوقات سے جسامت میں بڑا اور سب سے اوپر ہے۔
 ( ۳ ؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)    آیۃ ۷/ ۵۴    دارالکتاب العربی بیروت         ۲/ ۵۶)
ضرب ۳۶ : سورہ طٰہٰ میں بعد ذکر معنیٰ استیلاء ایک وجہ یہ نقل فرمائی۔
لما کان الاستواء علی العرش وھو سریر الملک مما یردف الملک جعلوہ کنایۃ عن الملک فقال استوٰی فلان علی العرش ای ملک وان لم یقعد علی السریر البتۃ وھذا کقولک یدفلان مبسوطۃ ای جواد وان لم یکن لہ ید رأسا ۔ ۴؎
یعنی جب کہ تخت نشینی آثار شاہی سے ہے تو عرف میں تخت نشینی بولتے اور اس سے سلطنت مراد لیتے ہیں، کہتے ہیں فلاں شخص تخت نشین ہوا، یعنی بادشاہ ہوا اگرچہ اصلاً تخت پر نہ بیٹھا ہو، جس طرح تیرے اس کہنے سے کہ فلاں کا ہاتھ کشادہ ہے اُس کا سخی ہونا مراد ہوتا ہے اگرچہ وہ سرے سے ہاتھ ہی نہ رکھتا ہو۔
 ( ۴ ؎  مدارک التنزیل (تفسیر النسفی)    آیۃ ۲۰ /۵        دارالکتاب العربی بیروت         ۳/ ۴۸)
حاصل یہ کہ استواء علی العرش بمعنی بادشاہی ہے حقیقۃً بیٹھنا ہر گز لازم نہیں، جب خلق کے باب میں یہ محاورہ ہے جن کا اٹھنا بیٹھنا سب ممکن، تو خالق عزوجل کے بارے میں اُس سے معاذ اﷲ حقیقۃً بیٹھنا سمجھ لینا کیسا ظلمِ صریح ہے۔
ضرب ۳۷ : معالم سورہ اعراف کا بیان تو وہ تھا کہ اہلسنت کا طریقہ سکوت ہے اتنا جانتے ہیں کہ استواء اﷲ تعالٰی کی ایک صفت ہے اور اس کے معنیٰ کا علم اﷲ کے سپرد ہے، یہ طریقہ سلف صالحین تھا، سورہ رعد میں استواء کو علوسے تاویل کیا۔یہ معنی دوم ہیں کہ  اوپر گزرے۔

ضرب ۳۸ : امام بیہقی نے کتاب الاسماء میں دربارہ استواء ائمہ متقدمین کا وہ مسلک ارشاد فرمایا جس کا بیان اوپر گزرا۔ پھر فرمایا:
وذھب ابوالحسن علی بن اسمعیل الاشعری الٰی ان اﷲ تعالٰی جل ثناؤہ فعل فی العرش فعلا سمّاہ استواء کما فعل فی غیرہ فعلا سماہ رزقا اونعمۃ اوغیرھما من افعالہ ثم لم یکیف الاستواء الا انہ جعلہ من صفات الفعل لقولہ تعالٰی ثم استوی علی العرش وثم للتراخی والتراخی انما یکون فی الافعال وافعال اﷲ تعالٰی توجد بلامباشرۃ منہ ایاھا ولا حرکۃ  ۔۱؂
یعنی امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے عرش کے ساتھ کوئی فعل فرمایا ہے جس کا نام استواء رکھا ہے جیسے من و تو زید و عمرو کے ساتھ افعال فرمائے اور اُن کا نام رزق و نعمت وغیرہ رکھا اس فعل استواء کی کیفیت ہم نہیں جانتے اتنا ضرور ہے کہ اس کے افعال میں مخلوق کے ساتھ ملنا، چھونا، ان سے لگاہوا ہونا یا حرکت کرنا نہیں جیسے بیٹھنے چڑھنے وغیرہ میں ہے اور استواء کے فعل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا پھر عرش پر استواء کیا تو معلوم ہوا کہ استواء حادث ہے پہلے نہ تھا اور حدوث افعال میں ہوسکتا ہے اﷲ تعالٰی کی صفات ذات حدوث سے پاک ہیں، تو ثابت ہوا کہ استواء اﷲ تعالٰی کی کوئی صفت ذاتی نہیں بلکہ اس کے کاموں میں سے ایک کام ہے جس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں۔
 ( ۱ ؎کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲)
ضرب ۳۹ : ابوالحسن علی بن محمد طبری وغیرہ ائمہ متکلمین سے نقل فرمایا:
القدیم سبٰحنہ عال علی عرشہ لا قاعد ولاقائم ولا مماس و لامبائن عن العرش ، یریدبہ مباینۃ الذات التی ھی بمعنی الاعتزال اوالتباعد لان المماسۃ والمباینۃ التی ھی ضد ھا والقیام والقعود من اوصاف الاجسام ، واﷲ عزوجل احد صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوااحد ، فلایجوز علیہ مایجوز علی الاجسام تبارک وتعالٰی  ۔۱؂
مولٰی تعالیٰ عرش پر علو رکھتا ہے مگر نہ اُس پر بیٹھا ہے نہ کھڑا، نہ اس سے لگا ہوا نہ اس معنٰی پر جُدا کہ اس سے ایک کنارے پر ہو یا دور ہو کہ لگایا الگ ہونا اور اٹھنا بیٹھنا تو جسم کی صفتیں ہیں اور اﷲ تعالٰی احد صمد ہے، نہ جنا نہ جنا گیا، نہ اس کے جوڑ کا کوئی ، تو جو باتیں اجسام پر روا ہیں اﷲ عزوجل پر روا نہیں ہوسکتیں۔
 ( ۱ ؎کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲)
ضرب ۴۰ : امام استاذ ابوبکر بن فورک سے نقل فرمایا کہ انہوں نے بعض ائمہ اہلنست سے حکایت کی:
استوٰی بمعنی علا ولا یرید بذلک علوا بالمسافۃ والتحیز والکون فی مکان متمکنافیہ ولکن یرید معنی قول اﷲ عزوجل ء امنتم من فی السماء ای من فوقہا علٰی معنی نفی الحد عنہ وانہ لیس ممایحویہ طبق اویحیط بہ قطر  ۔۲؂
یعنی استواء بمعنی علو ہے اور اس سے مسافت کی بلندی یا مکان میں ہونا مراد نہیں بلکہ یہ کہ وہ حدو نہایت سے پاک ہے، عرش و فرش کا کوئی طبقہ اُسے محیط نہیں ہوسکتا نہ کوئی مکان اسے گھیرے، اسی معنی پر قرآن عظیم میں اُسے آسمان کے اوپر فرمایا، یعنی اس سے بلند و بالا ہے کہ آسمان میں سماسکے۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۲۔۱۵۳)
امام بیہقی فرماتے ہیں:
  قلت وھو علی ھذہ الطریقۃ من صفات الذات و کلمۃ ثم تعلقت بالمستوی علیہ، لابالاستواء وھو کقولہ عزوجل ثم اﷲ شھید علٰی مایفعلون یعنی ثم یکون عملھم فیشھدہ وقداشار ابوالحسن علی بن اسمعیل الٰی ھٰذہ الطریقۃ حکایۃ، فقال وقال بعض اصحابنا انہ صفۃ ذات ولا یقال لم یزل مستویا علٰی عرشہ کما ان العلم بان الاشیاء قد حدثت من صفات الذات ، ولایقال لم یزل عالما بان قد حدثت ولما حدثت بعد ۔۱؂
حاصل یہ کہ اس طریقہ پر استواء صفات ذات سے ہوگا کہ اللہ سبٰحنہ بذاتہ اپنی تمام مخلوق سے بلندوبالا ہے، نہ بلندی مکان بلکہ بلندیِ مالکیت وسلطان، اور اب پھر کا لفظ نظر بحدوث عرش ہوگا کہ وہ بلندی ذاتی ہر حادث سے اس کے حدوث کے بعد متعلق ہوتی ہے جیسے قرآن عظیم میں فرمایا کہ پھر اﷲ شاہد ہے اُن کے افعال پر یعنی جب ان کے افعال پیدا ہوئے تو شہود الہٰی ان سے متعلق ہوا جس طرح علمِ الہٰی قدیم ہے مگر یہ علم کہ چیز حادث ہوگئی اس کے حدوث کے بعد ہی متعلق ہوگا یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ازل میں جانتا تھا کہ اشیاء پیدا ہوچکیں حالانکہ ہنوز ناپیدا تھیں۔
 ( ۱ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علٰی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳)
ضرب ۴۱ : پھر امام اہلسنت قدس سرہ سے نقل فرمایا:
وجو ابی ھوالاول وھو انّ اﷲ مستوی علی عرشہ وانہ فوق الاشیاء بائن منہا بمعنی انہا لا تحلہ ولا یحلھا ولا یمسہا ولا یشبہہا ولیست البینونۃ بالعزلۃ ، تعالٰی اﷲ ربنا عن الحلول والمماسۃ علواً کبیرا ۔۲؂
میرا قول وہی پہلا ہے کہ اللہ عزوجل نے عرش کے ساتھ فعلِ استواء کیا اور ایک عرش ہی کیا وہ تمام اشیاء سے بالا اور سب سے جدا ہے بایں معنٰی کہ نہ اشیاء اس میں حلول کریں نہ وہ اُن میں، نہ وہ ان سے مَس کرے نہ اُن سے کوئی مشابہت رکھے، اور یہ جدائی نہیں کہ اﷲ تعالٰی اشیاء سے ایک کنارے پر ہو، ہمارا رب حلول و مس وفاصلہ وعزلت سے بہت بلند ہے، جل وعلا۔
 ( ۲ ؎ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علٰی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳)
دیکھو ائمہ اہلسنت بیٹھنے، چڑھنے، ٹھہرنے کی کیسی جڑ کاٹ رہے ہیں۔

ضرب ۴۲ : پھر امام اہلسنت سے نقل فرمایا:
وقد قال بعض اصحابنا ان الاستواء صفۃ اﷲ تعالٰی ینفی الاعوجاج عنہ  ۔۱؂
یعنی بعض ائمہ اہلسنت نے فرمایا کہ صفت استواء کے معنی ہیں کہ اﷲ عزوجل کجی سے پاک ہے۔
 ( ۱ ؎  کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳)
اقول : (میں کہتا ہوں، ت) اس تقدیر پر استواء صفات  سلبیہ سے ہوگا جیسے غنی یعنی کسی کامحتاج نہیں، یونہی مستوی یعنی اس میں کجی اور اعوجاج نہیں، اور اب علٰی ظرفِ مستقر ہوگا اور اسی علوملک وسلطان کا مفید، اور ثم تراخی فی الذکر کے لیے ، (ت)
کقولہ تعالٰی :ثم کان من الذین امنوا۲؂
 (پھر ایمان والوں میں ہوا۔ت)
وقولہ تعالٰی خلقہ  من تراب ثم قال لہ کن فیکون ۳ ؎
 (اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو فرمایا ہوجا، تو وہ ہوگیا۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
 ( ۲ ؎ القرآن الکریم     ۶۰/ ۱۷)	( ۳؎ القرآن الکریم     ۳/ ۵۹)
ضرب ۴۳ : پھر امام استاذ ابومنصور ابن ابی ایوب سے نقل فرمایا کہ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا:
ان کثیرا من متاخری اصحابنا ذھبوا الٰی ان الاستواء ھوالقھروالغلبۃ ، و معناہ ان الرحمٰن غلب العرش و قھرہ، وفائدتہ الاخبار عن قھرہ مملوکاتہ ، وانہا لم تقھرہ وانما خص العرش بالذکر لا نہ اعظم المملوکات فنبہ بالاعلی علی الادنی، قال والاستواء بعمنی القھر و الغلبۃ شائع فی اللغۃ کما یقال استوٰی فلان علی الناحیۃ اذا غلب اھلہا وقال الشاعر فی بشربن مروان ؂

قد استوی بشر علی العراق

من غیر سیف ودم مھراق

 یریدانہ غلب اھلہ من غیر محاربۃ  ۔۱؂
یعنی بہت متاخرین علمائے اہل سنت اس طرف گئے کہ استواء بمعنی قہر و غلبہ ہے، آیت کے معنی یہ ہیں کہ رحمن عزجلالہ عرش پر غالب اور اس کا قاہر ہے، اور اس ارشاد کا فائدہ یہ خبر دینا ہے کہ مولٰی تعالٰی اپنی تمام مملوکات پر قابو رکھتا ہے مملوکات کا اس پر قابو نہیں اور عرش کا خاص ذکر اس لیے فرمایا کہ وہ جسامت میں سب مملوکات سے بڑا ہے، تو اس کے ذکر سے باقی سب پر تنبیہ فرمادی اور استواء بمعنی قہر و غلبہ زبانِ عرب میں شائع ہے۔ پھر نژو نظم سے اس کی نظریں پیش کیں کہ جب کوئی شخص کسی بستی والوں پر غالب آجائے تو کہا جاتا ہے استوٰی فلان علی الناحیۃ اور شاعر نے بشر بن مروان کے بارے میں کہا تحقیق بشر عراق پر غالب آگیا تلوار کے ساتھ خون بہائے بغیر، شاعر کی مراد یہ ہے کہ وہ جنگ کیے بغیر بستی والوں پر غالب آگیا۔(ت)
 ( ۱ ؎  کتاب الاسماء والصفات للبیہقی باب ماجاء فی قول اﷲ تعالٰی الرحمن علی العرش استوٰی المکتبۃ الاثریۃ سانگلہ ہل شیخوپورہ ۲/ ۱۵۳)
گمراہ وہابیو! تم نے دیکھا کہ تمہاری ہی پیش کردہ کتابوں نے تمہیں کیا کیا سزائے کردار کو پہنچایا مگر تمہیں حیا کہاں!
Flag Counter