| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۵۱ : ازسہسوان قاضی محلہ مرسلہ حاجی فرحت علی صاحب ۴ محرم ۱۳۱۸ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص یہ کہے کہ اللہ رب العزت عرش پر بیٹھا ہے اور کہیں نہیں ہے شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب : اﷲ عزوجل مکان وجہت وجلوس وغیرہا تمام عوارض جسم و جسمانیات و عیوب و نقائص سے پاک ہے، یہ لفظ کہ اس شخص نے کہا سخت گمراہی کے معنی دیتا ہے اس پر توبہ لازم ہے عقیدہ اپنا مطابق اہل سنت کرے، واﷲ الہادی۔
نقل تحریر ضلالت تخمیر از نجدی بقیر :
مسئلہ : اﷲ تعالٰی کا عرش پر ہی ہونا:
الجواب : الرحمن علی العرش استوٰی
اﷲ تعالٰی عرش پر بیٹھایا چڑھا یا ٹھہرا۔ ان تین معنی کے سوا اس آیت میں جو کوئی اور معنی کہے گا وہ بدعتی ہے، اﷲ تعالٰی نے اپنے کلام شریف میں سات جگہ اس مضمون کو ذکر فرمایا ہے۔ دیکھو فتح الرحمن تفسیر قاری شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی وتفسیر موضح القرآن مؤلفہ شاہ عبدالقادر صاحب دہلوی و ترجمہ لفظی شاہ رفیع الدین صاحبِ دہلوی و کتاب الاسماء و الصفات بیہقی و کتاب العلوامام ذہبی و تفسیر ابن کثیر و معالم التنزیل و جامع البیان و مدارک وغیرہا اور محیط ہونا باری تعالٰی کا ہر چیز پر فقط ازروئے علم ہے۔
قال تعالٰی:احاط بکل شیئ علما ۔۱
( اﷲ تعالٰی نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیا)
( ۱ ؎ القرآن الکریم ۶۵/ ۱۲)
احادیثِ صریحہ صحیحہ سے عرش کا مکانِ الہٰی ہونا ثابت ہے، چنانچہ بخاری کی معراج کی حدیث میں فرمایا :
وھو فی مکانہ، ۲؎
(اور وہ اپنے مکان میں ہے۔ت)
( ۲ ؎ صحیح بخاری کتاب التوحید باب قول اﷲ تعالٰی وکلم اﷲ موسٰی تکلیماً قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۱۲۰)
اورمشکوۃ کے باب الاستغفار و التوبہ میں مسند احمد کی حدیث میں وارد ہے کہ:
وعزتی و جلالی وارتفاع مکانی الخ ۔۳
میری عزت ، میرے جلال اور میرے بلند مکان کی قسم الخ (ت)
( ۳ ؎ مشکوۃ المصابیح باب الاستغفار والتوبۃ الفصل الثانی قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۲۰۴)
ہاں جن صفات سے کلامِ شارع ساکت ہے اُن میں سکوت لازم ہے بعض اشخاص بریلی نے جو علمِ منقول وعقائد اہلِ حق سے بے بہرہ ہیں اس عقیدہ صحیحہ کے معتقد کو بزورگمراہی گمراہ بنایا
و ما لھم بہ من علم ۔۴
(ان کو اس کا علم نہیں۔ت) ایسے شخص سے اہلِ اسلام کو بچنا چاہیے۔
( ۴ ؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۲۸)
ضرب قہاری (۱۸ ۱۳ھ)
مسلمانو! دیکھو اس گمراہ نے ان چند سطور میں کیسی کیسی جہالتیں ضلالتیں تناقض سفاہتیں اﷲ و رسول پر افتراء علما وکتب پر تہمتیں بھردی ہیں۔ اولاً ادعا کیا کہ استواء علی العرش میں بیٹھنے، چڑھنے، ٹھہرنے کے سوا جو کوئی اور معنی کہے بدعتی ہے اور اسی کی سند میں بکمال جرات و بے حیائی ان نو کتابوں کے نام گن دیئے۔ ثانیاً زعم کیا کہ احاطہ الہٰی صرف ازرُوئے علم ہے حالانکہ اس مسئلہ کا یہاں کچھ ذکر نہ تھا مگر اس نے اس بیان سے اپنی وہ گمراہی پالنی چاہی ہے۔ کہ اﷲ تعالٰی عرش پر ہے اور عرش کے سوا کہیں نہیں۔ ثالثاً مُنہ بھر کر اُس سبّوح قدوس کو گالی دی کہ اس کے لیے مکان ثابت ہے، عرش اس کا مکان ہے، اور اس کے ثبوت میں بزورِ زبان دو حدیثیں نقل کردیں۔ رابعاً یہ تین دعوے تو منطوق عبارت تھے مفہوم استثناء سے بتایا کہ استواء علی العرش کے معنی اﷲ تعالٰی کا عرش پر بیٹھنا ، چڑھنا، ٹھہرنا مطابق سنت ہیں۔ خامساً اپنے معبود کو بٹھانے، چڑھانے، ٹھہرانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ ان لفظوں کے مفہوم سے کہ جن صفات سے کلامِ شارع ساکت ہے ان میں سکوت لازم ہے تمام متشابہات استواء کی طرح انہیں معانی پر محمول کرلیں جو اُن کے ظاہر سے مفہوم ہوتے ہیں۔ سادساً باوصف ان کے اصل دعوٰی یہ ہے کہ خدا عرش کے سوا کہیں نہیں۔ ہم بھی ان چھ باتوں کو بعونہ تعالٰی ا سی ترتیب پر چھ تپانچوں سے خبر لیں اور ساتویں تپانچے میں دو مسئلہ باقیہ کے متعلق اجمالی گوشمالی کریں وباﷲ التوفیق۔