(۱۳) امام ابوالقاسم لالکائی کتاب السنہ میں سیدنا امام محمد سردار مذہب حنفی تلمیذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرماتے:
اتفق الفقہاء کلھم من المشرق الی المغرب علی الایمان بالقرآن و بالاحادیث التی جاء بہا الثقات عن رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی صفۃ الرب من غیر تشبیہ ولا تفسیر فمن فسر شیئا من ذلک فقد خرج عما کان علیہ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و فارق الجماعۃ فانہم لم یصفوا ولم یفسرواولکن اٰمنوا بما فی الکتاب والسنۃ ثم سکتوا ۔۲
شرق سے غرب تک تمام ائمہ مجتہدین کا اجماع ہے کہ آیات قرآن عظیم و احادیث صحیحہ میں جو صفاتِ الہیہ آئیں ان پر ایمان لائیں بلاتشبیہ و بلا تفسیر تو جو ان میں سے کسی کے معنی بیان کرے وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طریقے سے خارج اور جماعتِ علماء سے جدا ہوا اس لیے کہ ائمہ نے نہ ان صفات کا کچھ حال بیان فرمایا نہ اُن کے معنی کہے بلکہ قرآن و حدیث پر ایمان لا کر چپ رہے۔
( ۲ ؎ کتاب السنۃ امام ابوالقاسم لالکائی)
طرفہ یہ کہ امام محمد کے اس ارشاد و ذکر اجماع ائمہ امجاد کو خود ذہبی نے بھی کتاب العلو میں نقل کیا اور کہا محمد سے یہ اجماع لالکائی اور ابو محمد بن قدامہ نے اپنی کتابوں میں روایت کیا بلکہ خود ابن تیمیہ مخذول بھی اُسے نقل کرگیا۔
وﷲ الحمد ولہ الحجۃ السامیۃ
( حمد ﷲ تعالٰی کے لیے ہے اور غالب حجت اسی کی ہے۔ت)
(۱۴) نیز مدارک میں زیر سورہ طٰہٰ ہے:
والمذھب قول علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ الاستواء غیر مجہول والتکیف غیر معقول والایمان بہ واجب والسوال عنہ بدعۃ لانہ تعالٰی کان ولا مکان فھو علی ما کان قبل خلق المکان لم یتغیر عما کان ۔۱
مذہب وہ ہے جو مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ استواء مجہول نہیں اور اس کی چگونگی عقل میں نہیں آسکتی اُس پر ایمان واجب ہے اور اس کے معنی سے بحث بدعت ہے اس لیے کہ مکان پیدا ہونے سے پہلے اﷲ تعالٰی موجود تھا اور مکان نہ تھا پھر وہ اپنی اُس شان سے بدلا نہیں یعنی جیسا جب مکان سے پاک تھا اب بھی پاک ہے۔
( ۱ ؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی) آیت ۳/ ۵ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۴۸)
گمراہ اپنی ہی مستند کی اس عبارت کو سوجھے اور اپنا ایمان ٹھیک کرے۔
(۱۵) اسی میں زیر سورہ اعراف یہی قول امام جعفر صادق و امام حسن بصری و امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم سے نقل فرمایا ۔۲
( ۲ ؎ مدارک التنزیل (تفسیر النسفی) آیت ۷ /۵۴ دارالکتاب العربی بیروت ۲ /۵۶)
استواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول ہے اور اس سے بحث و سوال بدعت ہے۔(ت)
( ۳؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۰/۳ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۲۹۲)
(۱۷) یہی مضمون سورہ رعد میں سلف صالح سے نقل کیا کہ:
قال السلف الاستواء معلوم و الکیفیۃ مجھولۃ ۔۴ ؎
سلف نے فرمایا : استواء معلوم ہے اور کیفیت مجہول ہے۔(ت)
( ۴ ؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۱۳/ ۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱/ ۳۴۵)
(۱۸) سورہ طٰہٰ میں لکھا ہے:
سئل الشافعی عن الاستواء فاجاب اٰمنت بلاتشبیہ واتھمت نفسی فی الادراک وامسکت عن الخوض فیہ کل الامساک ۔۱
یعنی امام شافعی سے استواء کے معنی پوچھے گئے، فرمایا : میں استواء پر ایمان لایا اور وہ معنی نہیں ہوسکتے جن میں اﷲ تعالٰی کی مشابہت مخلوق سے نکلے اور میں اپنے آپ کو اُس کے معنی سمجھنے میں متہم رکھتا ہوں مجھے اپنے نفس پر اطمینان نہیں کہ اس کے صحیح معنی سمجھ سکوں لہذا میں نے اس میں فکر کرنے سے یک قلم قطعی دست کشی کی۔
( ۱ ؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۲۰/ ۵ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ۲/ ۱۶و ۱۵)
(۱۹) سورہ اعراف میں لکھا:
اجمع السلف علٰی ان استواء ہ علی العرش صفۃ لہ بلا کیف نؤمن بہ ونکل العلم الی اﷲ تعالٰی ۔۲
سلف صالح کا اجماع ہے کہ عرش پر استواء اﷲ تعالٰی کی ایک صفت بیچون و بے چگون ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا علم خدا کو سونپتے ہیں۔
( ۲ ؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۷/ ۵۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۱ /۲۲۳)
(۲۰) طرفہ یہ کہ سورہ اعراف میں تو صرف اتنا لکھا کہ اس کے معنی ہم کچھ نہیں جانتے اور سورہ فرقان میں لکھا۔
قدمرفی سورۃ الاعراف تفصیل معناہ ۔۳
اس کے معنی کی تفصیل سورہ اعراف میں گزری۔
( ۳؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۲۵/ ۵۹ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۸۹)
یونہی سورہ سجدہ میں لکھا
قدمر فی سورۃ الاعراف ۔۴
(سورہ اعراف میں گزرا۔ ت)
( ۴ ؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۳۲/ ۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۱۵۷)
یونہی سورہ حدید میں
قد مرتفصیلہ فی سورۃ الاعراف وغیرھا ۔۵
(اس کی تفصیل سورہ اعراف وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ت)
( ۵ ؎ جامع البیان محمد بن عبدالرحمن الشافعی آیۃ ۵۷ /۴ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ۲/ ۳۳۶)
دیکھو کیسا صاف بتایا کہ اس کے معنی کی تفصیل یہی ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے ، اب تو کھلا کہ وہابیہ مجسمہ کا اپنی سند میں کتاب الاسماء و معالم ومدارک وجامع البیان کے نام لے دینا کیسی سخت بے حیائی تھا ۔