| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
(۷۶) ہدایہ (۷۷)کافی شرح الوافی کلاہماللامام النفسی (۷۸) فتح القدیر للمحقق (۷۹)کفایہ شرح ہدایہ (۸۰) حلیہ شرح منیہ للامام الحلبی (۸۱) غنیہ شرح منیہ للمحقق الحلبی (۸۲) بحرالرائق شرح کنزالدقائق (۸۳) طحطاوی علی مراقی الفلاح للشر نبلالی (۸۴) ردالمحتار علی الدرالمختار (۸۵) بنایہ شرح ہدایہ للعینی (۸۶) برہان شرح مواھب الرحمان کلاھما للطرابلسی
کتب سیر
(۸۷) مواہب للدینہ و منح محمدیہ (۸۸) شرح مواہب للزرقانی (۸۹) صراط المستقیم للمجد (۹۰) شرح صراط المستقیم للشیخ (۹۱) مدارج النبوۃ لہ (۹۲) خمیس للدیار بکری (۹۳) اسعاف الراغبین للصبان (۹۴) روضۃ الاحباب (۹۵) تاریخ ابن عساکر (۹۶) روض سہیلی (۹۷) امتاع الاسماع للمقریزی
کتب عقائد واصول وعلوم شتی
(۹۸) فقہ اکبر للامام اعظم (۹۹) شرح المقاصد للعلامۃ الماتن (۱۰۰) اصابہ تمیز الصحابۃ للامام ابن حجر (۱۰۱) مسلک الحنفاء فی والدی المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم للامام سیوطی (۱۰۲) افضل القراء ام القری للامام ابن حجر (۱۰۳) شرح شفاء لعلی القاری (۱۰۴) نسیم الریاض للخفاجی (۱۰۵) حفنی شرح الہمزیہ (۱۰۶) مجمع البحار للفتنی (۱۰۷) فواتح الرحموت لبحر العلوم (۱۰۸) التقریر و التحریر فی الاصول للعلامۃ ابن امیر الحاج (۱۰۹) نہایہ فی غریب الحدیث لابن اثیر (۱۱۰) شرح تنقیح الفصول فی الاصول کلا ہما للقرانی (۱۱۱) ذخائر العقبی فی منا قب ذوی القر بی للحافظ المحب الطبری
تذییل
وہ کتابیں جن سے اس رسالہ میں مدد لی گئی:
(۱۱۲) شرح عقائد نسفی (۱۱۳) شرح عقائد عضدی (۱۱۴) سیرت ابن ہشام (۱۱۵) اتقان فی علوم القرآن (۱۱۶) میزان الاعتدال (۱۱۷) تقریب التہذیب (۱۱۸) تقریب امام نووی (۱۱۹) تدریب امام سیوطی (۱۲۰) مسلم الثبوت (۱۲۱) درمختار (۱۲۲) تاریخ الخلفاء (۱۲۳) تحفہ اثناء عشریہ (۱۲۴) صحیح ابن حبان (۱۲۵) القاب شیرازی (۱۲۶) استیعاب ابو عمر (۱۲۷) معرفۃ الصحابہ لابی نعیم (۱۲۸) مسند الفردوس دیلمی (۱۲۹) خادم الامام بدر الدین الزرکشی (۱۳۰) شعب الایمان للامام البیہقی
ختم اللہ تعالٰی لنا بالایمان والآمان آمین آمین الحمد للہ علی الاختتام و نسألہ حسن الختام ۔
اللہ تعالٰی ایمان اور امان کے ساتھ ہمارا ختمہ کرے ، آمین ۔حسن اختتامِ رسالہ پر تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں ،اور ہم اللہ تعالٰی سے حسنِ کاتمہ کا سوال کرتے ہیں ،(ت)
پہلے یہ سوال بدایوں سے آیا تھا جواب میں ایک موجز رسالہ چند ورق کا لکھا اور اس کا نام
"معتبر الطالب فی شیون ابی طالب"(۱۲۹۲ھ)
رکھا ، اب کہ دوبارہ احمد آباد سے سوال آیا اور بعض علمائے بمبئی نے بھی اس بارہ میں توجہ خاص کا تقاضا فرمایا حسب حالت راہنہ و فرصت حاضرہ شرح وبسط کا فی کو کام میں لایا اور اسے اس اجمال اول کی شرح بنایا نیز شرح مطالب وتسکین طالب میں بحمداللہ تعالی حافل وکامل پایا ،لہذا
"شرح المطالب فی مبحث ابی طالب"(۱۳۱۶ھ)
اس کانام رکھا اور یہی اس کی تاریخِ آغاز و انجام ۔
والحمدﷲ ولی الانعام وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سیّدنا محمد ھادی الانام وعلٰی اٰلہ وصحبہ الغرالکرام وعلینا بھم و لھم الٰی یوم القیٰمۃ ائمین یاذاالجلال والاکرام ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم۔
سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو انعام کا مالک ہے، اور افضل درود و اکمل سلام ہو ہمارے آقا محمد مصطفی پر جو کُل جہان کے ہادی ہیں، اور آپ کے روشن پیشانیوں والے اہل کرم آل و اصحاب پر اور انکے صدقے میں ہم پر اور اُن کے لیے یوم قیامت تک ہماری دعا قبول فرما اے بزرگی اور اکرام والے۔ اﷲ سبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے ، اور اس کا علم اتم اور مستحکم ہے۔(ت)
29-4.jpg
رسالہ شرح المطالب فی مبحث ابی طالب ختم ہوا نوٹ جلد ۲۹ "عقائد و کلام و دینیات" کے عنوان پر اختتام پذیر ہوئی۔ فتاوٰی رصویہ کی آخری جلد ۳۰ اِن شاء اﷲ تعالٰی سیرت اور فضائل رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عنوان پر مشتمل ہوگی۔