| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
(۱۳)آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم و کرم وجوھہم (۱۴)امام عطاء بن ابی رباح استاذ سیّدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہا (۱۵) امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلّہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔ (۱۶) سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیّدنا جبیرین مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔ (۱۷) امام الائمہ سراج الاُمہ سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ومن تبع تابعین :
(۱۸) عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیّدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ (۱۹) محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ (۲۰)امام تفسیر مقاتل بلخی
(۲۱)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین
جن کے آنے کی سیّدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے بشارت دی تھی کہ :
" منّا السفاح ومنّا المنصور ومنّا المھدی رواہ الخطیب و ابن عساکر وغیرھما بطریق سعید بن جبیرعنہ قال السیوطی قال الذھبی اسنادہ صالح "۔
ہمیں میں سے ہوگا سفاح اور ہمیں میں منصور اور ہمیں میں مہدی۔(اس کو خطیب و ابن عساکروغیرہ نے سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا اور اُسی کے طریق سے امام سیوطی نے کہا : ذہبی نے کہا اس کا اسناد صالح ہے۔ت)
بلکہ دو حدیثوں میں یہی الفاظ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے آئے :
رواہ کذلک الخطیب من طریق الضحاک عن ابن عباس وابن عساکر فی ضمن حدیث عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالٰی عنہم رفعاہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم"
اس کو اسی طرح خطیب نے بطریق ضحاک سیّدنا ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کیا جب کہ ابن عساکر نے ایک حدیث کے ضمن میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ان دونوں نے اس کا رفع نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک کیا۔(ت)
اعنی امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
ومن اتباع التبع ومن یلیھم :
(۲۲) امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبداﷲ محمد بن اسمعیل بخاری ۔ (۲۳) امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی (۲۴) امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔ (۲۵) امام ابو عبداﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
یہ چاروں ائمہ اصحاب صحاح مشہورہ ہیں اور یہی طبقہ اخیرہ عبداﷲ بن المعتز کا ہے۔
وممن بعد ھم من المفسرین :
(۲۶) امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فّراء بغوی (۲۷) امام ابواسحٰق زجاج ابراہیم بن السری۔ (۲۸) جار اﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری (۲۹) ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحبِ بسیط ووسیط ووجیز۔ (۳۰) امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔ (۳۱) قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔ (۳۲) علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحبِ تقریب۔ (۳۳) امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔ (۳۴) امام علامۃ الوجود مفتی ممالک رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔ (۳۵) علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحبِ تفسیر لباب شہیربہ خازن ۔ (۳۶) امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔ (۳۷) علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
ومن المحدثین والشارحین
(۳۸) امام اجل احمد بن حسین بیہقی (۳۹) حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر ۔ (۴۰) امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔ (۴۱) امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔ (۴۲) امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی۔ (۴۳) امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔ (۴۴) امام ابوالسعادات مبارک بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحبِ نہایہ وجامع الاصول ۔ (۴۵) امام جلیل محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری۔ (۴۶) امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ (۴۷) امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔ (۴۸) علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔ (۴۹) امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔ (۵۰) امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ۔ (۵۱) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحبِ تنقیح الاصول۔ (۵۲) امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔ (۵۳) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔ (۵۴) علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔ (۵۵) علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔ (۵۶) مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔ (۵۷) علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔ (۵۸) امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔ (۵۹) شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔