Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
154 - 157
علماء نے کافر کے لیے دُعائے مغفرت پر سخت اشد حکم صادر فرمایا اور اس کے حرام ہونے پر تو اجماع ہے ، پھر دعائے رضوان تو اس سے بھی ارفع و اعلٰی۔
فان السید قدیعفوعن عبدہ وھوعند غیر ر اض کما ان العبدربما یحب سیدہ وھو علی امرہ غیر ماض وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل"
اس لیے کہ مالک بعض دفعہ اپنے غلام کو معاف کردیتا ہے حالانکہ وہ اُس پر راضی نہیں ہوتا، جیسا کہ غلام بسا اوقات اپنے مالک کو پسند کرتا ہے مگر اُس کے حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔اﷲ ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔(ت)
امام محمد محمد محمد حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں:
" صرح الشیخ شہاب الدین القرافی المالکی بان الدعاء بالمغفرۃ للکافر کفر لطلبہ تکذب اﷲ تعالٰی فیما اخبر بہ ولہذا قال المصنف وغیرہ ان کان مؤمنین "۔۱؂
یعنی امام شہاب قرآنی مالکی نے تصریح فرمائی کہ کفار کے لیے دعائے مغفرت کرنا کفر ہے، کہ اﷲ عزوجل نے جو خبر دی اس کا جھوٹا کرنا چاہتا ہے اس لیے منیہ وغیرہ کتب فقہ میں قید لگادی کہ ماں با پ کے لیے دعائے مغفرت کرے بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں۔
 ( ۱ ؎ حلیۃ المحلی)
پھر ایک ورق کے بعد فرمایا کہ
" تقدم ان کفر "۲؂ ۔
اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ کفر ہے۔
( ۲ ؎ حلیۃ المحلی)
ردالمحتار میں ہے :
الدعاء بہ کفر لعدم جوازہ عقلاً و لاشرعاً ولتکذیب النصوص القطعیۃ بخلاف الدعاء للمؤمنین کما علمت فالحق ما فی الحلیۃ۳؂ ۔
اس کی دُعا کفر ہے کیونکہ یہ عقلاً و شرعاً ناجائز ہے اور اس میں نصوص قطعیہ کی تکذیب ہے بخلاف مومنوں کے لیے دعا کے۔ جیسا کہ تُو جان چکا ہے، اور حق وہ ہے جو حلیہ میں ہے۔(ت)
 ( ۳ ؎ ردالمحتار   کتاب الصلوۃ    فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت   ۱ /۳۵۱)
درمختار میں ہے:
الحق حرمۃ الدعاء بالمغفرۃ للکافر۴؂ ۔
حق یہ ہے کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت حرام ہے۔
 ( ۴ ؎ الدرالمختار   کتاب الصلوۃ    فصل واذاارادالشروع فی الصلوۃ    داراحیاء مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۷۸)
اسی طرح بحرالرائق میں ہے:
اقول : ومانحاالیہ العلامۃ الشامی من عدم جواز عفوالکفرعقلافانما تبع فیہ الامام النسفی صاحب عمدۃ الکلام وشرذمۃ قلیلۃ من اھل السنۃ والجمھور علی امتناعہ شرعا وجوازہ عقلا کما فی شرح المقاصد و المسامرۃ وغیرھما وبہ تقضی الدلائل فہوالصحیح وعلیہ التعویل فاذن الحق ماذھب الیہ البحروتبعہ فی الدروتمام الکلام فی ھذاالمقام فیما علقنا ہ علی ردالمحتار ۔
اقول : ( میں کہتاہوں) جس کا قصد علامہ شامی نے کیا یعنی کفر کی معافی کا عقلاً عدم جواز تو اس میں انہوں نے عمدۃ الکلام کے مصنف امام نسفی اور اہلسنت کے گروہ قلیل کی پیروی کی ہے، جب کہ جمہور کے نزدیک یہ شرعاً ممتنع اور عقلاً جائز ہے جیسا کہ شرح المقاصد اور مسامرہ وغیرہ میں ہے۔ اور دلائل اسی کے مؤید ہیں لہذا یہی صحیح اور اسی پر بھروسا ہے، تو اب حق وہ ہے جس کی طرف صاحب البحر گئے ہیں اور دُر میں اسی کی پیروی کی ہے، اور مکمل کلام اس مقام پر ردالمحتار پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔(ت)
ہاں ابولہب وابلیس لعنہمااﷲ کی مثل کہنا محض افراط اور خون انصاف کرنا ہے، ابوطالب کی عمر خدمت و کفالت  و نصرت و حمایتِ حضرت رسالت علیہ وعلٰی آلہ الصلوۃ والتحیۃ میں کٹی اور یہ ملا عنہ درپردہ وعلانیہ درپے ایذاء واضرار رہے کہان وہ جس کا وظیفہ مدح وستائش ہواور کہاں وہ شقی جس کا ورد ذم ونکوہش ہو ایک اگرچہ خود محروم اور اسلام سے مصروف مگر بتسخیر تقدیر نفع اسلام میں مصروف اور دوسرا مردود و متمر دوعدو ومعاندہمہ تن کسر بیضہ اسلام میں مشغوف ۔ع
ببیں تفاوت رہ ازکجا ست تابہ کجا
 ( ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ت)
آخرنہ دیکھا جو صحیح حدیث میں ارشاد ہوا کہ ابوطالب پر تمام کفار سے کم عقاب ہے اور یہ اشقیاء اُن میں ہیں جن پر اشد العذاب ہے، ابوطالب کے صرف پاؤں آگ میں ہیں اور یہ ملا عنہ اُن میں کہ:
لھم من فوقھم ظلل من النارومن تحتھم ظلل۱؂ ۔
اُن کے اوپر آگ کی تہیں ہیں اور اُن کے نیچے آگ کی تہیں۔
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم     ۳۹ /۱۶)
لھم من جہنّم مھادٌ ومن فوقھم غواش ۲؂ ۔
ان کے نیچے آگ کا بچھونا اور اوپر آگ کے لحاف۔
 ( ۲ ؎ القرآن الکریم  ۷ /۴۱)
سراپا آگ، ہر طرف سے آگ۔
والعیاذ باﷲ رب العلمین
 ( اور اﷲ رب العالمین کی پناہ۔ت)
بلکہ دونوں کا ثبوتِ کفر بھی ایک سا نہیں، ابوطالب کے باب میں اگرچہ قول حق و صواب وہی کفر و عذاب،اور اس کا خلاف شاذ ومردود باطل و مطرود پھر بھی اس حد کا نہیں کہ معاذاﷲ خلاف پر تکفیر کا احتمال ہو اور ان اعداء اﷲ کا کافر و ابدی جہنمی ہونا تو ضروریاتِ دین سے ہے جس کا منکر خود جہنمی کا فر، توفریقین کا نہ کفر یکساں نہ ثبوت یکساں، نہ عمل یکساں نہ سزا یکساں، ہر جگہ فرقِ زمین و آسمان، پھر مماثلت کہاں۔
" نسأل اﷲ سلوک سوی الصراط ونعوذ باﷲ من التفریظ والافراط"۔
ہم اﷲ تعالٰی سے سیدھے راستے پر چلنے کا سوال کرتے ہیں، اور افراط و تفریط سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔(ت)
فصل نہم
ان ائمہ دین و علمائے معتمدین کے ذکر اسمائے طیبہ میں جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی اور اُن کے ارشادات کی نقل اس رسالہ میں گزری
" فمن الصحابۃ "
 (۱) امیر المومنین صدیقِ اکبر			(۲) امیر المومنین فاروق اعظم

(۳) امیر المومنین علی مرتضٰی		(۴) حبر الامتہ سیدنا عبداﷲ بن عباس 

(۴) حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ		(۶)صحابی ابن الصحابی سیدنا مسیّب بن حزن قریشی مخزومی 

(۷) حضرت سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     (۸) سیدنا ابوسعید خدری

(۹) سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری	(۱۰) حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین

(۱۱)سیدنا انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

(۱۲)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین
پہلے چھ حضرات سے تو خود اُن کے اقوال گزرے اور انس و ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہم کی تقریر اور باقی چار خود حضور پرُنور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد بیان فرماتے ہیں، اور پر ظاہر کہ یہاں اپنے کہنے سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد بتانا اور بھی ابلغ ہے۔
Flag Counter