Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
153 - 157
اب اگر وقت اول کہنا مانتے ہیں تو آیت قرآنیہ مع اُن احادیث صحیحہ کے اس حدیث صحیح مفروض سے مناقض ہوگی اور کسی نہ کسی حدیث صحیح کو رَد کے بغیر چارہ نہ ملے گا اور اگر وقت دوم پر مانتے ہیں تو آیت و احادیث سب حق و صحیح ٹھہرتے ہیں اور تناقض و تعارض بے تکلف دفع ہوا جاتا ہے کلمہ پڑھا اور ضرور پڑھا مگر کب، اس وقت جب کہ وقت نہ رہا تھا، لہذا حکمِ شرک و نار برقرار رہا۔
قال اﷲ تعالٰی
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
حتی اذا ادرکہ الغرق قال اٰمنت انہ لا الہٰ الاّ الذی اٰمنت بہ بنو اسرائیل وانا من المسلمین o۳؂ اٰلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین o۴؂ ۔
یہاں تک کہ جب اُسے ڈوبنے نے آلیا تو بولا مَیں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں کیا اب اور پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم         ۱۰ /۹۰ )		( ۴ ؎ القرآن الکریم         ۱۰ /۹۱ )
صورت اُولٰی ظاہر البطلان ، لہذا شق اخیر ہی لازم الاذعان ، اور فی الواقع اگر یہ روایت مطابق واقع تھی تو قطعاً یہی صورت واقعی ہوئی اور وہ ضرور قرینِ قیاس بھی ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کے قریب مرگ ہی جلوہ افروز ہوئے ہیں، اسی حالت میں کفارِ قریش سے وہ محاورات ہوئے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بار بار باصرار دعوتِ اسلام فرمائی کفار نے ملتِ کفر پر قائم رہنے میں جان لڑائی ، آخر پچھلا جواب وہ دیا کہ ابو طالب ملتِ جاہلیت پر جاتا ہے، یہاں تک بات چیت کی طاقت تھی اب سینے پر دم آیا پر دے اُٹھے غیب سامنے آیا اُس نار نے جس پر عار کو اختیار کیا تھا اپنی مہیب صورت سے منہ دکھایا
لیس الخبر کالمعاینۃ ۱؂
 ( خبر مشاہدہ کی مثل نہیں۔ ت)
 ( ۱ ؎ مسند احمد بن حنبل     عن ابن عباس رضی اللہ عنہ      المکتب الاسلامی بیروت  ۱ /۲۷۱)
اب کھلا کہ یہ بلا جھیلنے کی نہیں، ڈوبتا ہوا سوار پکڑتا ہے، اب
لا الہٰ الا اﷲ
کی قدر آئی، کہنا چاہا طاقت نہ پائی، آہستہ لبوں کو جنبش ہوئی مگر بے سود کہ وقت نکل چکا تھا۔
انّا اﷲ وانّا الیہ راجعون ولا حول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔
ہم اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں اور اسی کیطرف لوٹ کر جانے والے ہیں، نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔(ت)
تو حضرت عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ بھی سچے کہ کلمہ پڑھا ، اور قرآن و حدیث تو قطعاً سچے ہیں کہ حکمِ کفر بدستور رہا۔
والعیاذ باﷲ رب ّ العالمین ۔
 ( اﷲ کی پناہ جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
سابعاً  اس سے بھی در گزر یے ، یہ بھی مانا کہ حالتِ غرغرہ سے پہلے ہی پڑھا ہے پھر حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ تو ظاہر ہی کی گواہی دیں گے، دل کے حال کا عالم خدا ہے، کیا اگر کوئی شخص روزانہ لاکھ بار کلمہ پڑھے اورا ﷲ عزوجل اسے کافر بتائے تو ہم اس کے کلمہ پڑھنے کو دیکھیں گے یا اپنے رب عزوجل کے ارشاد کو، ایمان زبان سے کلمہ خوانی کا نام نہیں، جب دلوں کا مالک اس کے کفر پر حاکم تو قطعاً ثابت کہ اس کے قلب میں اذعان و اسلام نہیں، آخر نہ سُنا کہ جیتے جاگتے تندرستوں کے بڑی سے بڑی قسم کھا کر
نشھد انّک لرسول اﷲ ۲؂
 ( ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شک یقیناً اﷲ کے رسول ہیں۔ت) کہنے پر کیا ارشاد ہوا :
واﷲ یعلم انّک لرسولہ واﷲ یشھد ان المنٰفقین لکٰذبون ۔۱؂
اور اﷲ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اﷲ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔(ت)
 ( ۲ ؎ القرآن الکریم     ۶۳ /۱)	( ۱ ؎     القرآن الکریم      ۶۳ /۱)
غرض لاکھ جتن کیجئے آیت براء ت سے براء ت ملے یہ شُدنی نہیں رہے گی
ہمان آش درکاسہ
 ( وہی قسمت وہی نصیب۔ ت) کہ :
تبین لھم انّھم اصحب الجحیم ۲؂ ۔
کھُل چکا کہ وہ دوزخی ہیں۔(ت)
 ( ۲ ؎ القرآن الکریم   ۹ /۱۱۳)
والعیاذ باﷲ رب العٰلمین اللّٰھم ارحم الرحمین صل وسلم وبارک علی السید الامین الاتی من عندک بالحق المبین اللھم بقدر تک علینا وفاقتنا الیک ارحم عجزنا یا ارحم الراحمین امین امین امین والحمدﷲ رب العلمین لا الٰہ الا اﷲ عدۃ للقاء اﷲ محمد رسول اﷲ ودیعۃ عند اﷲ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیّدنا محمد واٰلہ اجمعین والحمدﷲ رب العٰلمین۔
اور اﷲ تعالٰی کی پناہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اے اﷲ بہترین رحم کرنے والے ۔ درود سلام اور برکت نازل فرما اُس امانت والے سردار پر جو تیری بارگاہ سے حق مبین لے کر آنے و الے ہے۔ اے اﷲ ! اپنی قدرت کے ساتھ جو ہم پر ہے اور ہماری محتاجی تیری طرف ہے، ہمارے عجز پر رحم فرما اے بہترین رحم فرمانے والے، ہماری دُعا قبول فرما، اور تمام تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں جو کل جہانوں کا پروردگار ہے۔ اﷲ کے بغیر کوئی سچا معبود نہیں ، محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اﷲ تعالٰی کی ملاقات کا وعدہ اﷲ تعالٰی کے پاس ودیعت ہے ، نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر اﷲ کی توفیق سے۔ اﷲ تعالٰی درود نازل فرمائے ہمارے آقا محمد مصطفٰی پر ، آپ کی آل اور سب صحابہ پر، اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
بحمداﷲ از احت شبہات سے بھی بروجہ احسن فراغ پایا۔"
وھناک شبھۃ اخر اوھن و اھون لم نوردھا اذلم تعرض ولم تعرف فلا نطیل الکلام بایرادھا و لنطوھا علی غرھالمیعا دھا "۔
یہاں ایک دوسرا شبہ ہے جو بہت کمزور اور بہت ہلکا ہے ہم اس کو اس لیے وارد نہیں کرتے۔ کہ نہ تو اُس کا تعرض کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ معروف ہے، چنانچہ ہم اس کو وارد کرکے کلام کو لمبا نہیں کرتے۔ لہذا چاہیے کہ ہم اس کے مقررہ وقت تک اس کو اس کے شکن پر لپیٹ دیں۔(ت)
اب بقیہ سوال کا جواب لیجئے اور اس رسالہ میں جن ائمہ و علماء و کتب سے یہ مسئلہ ثابت کیا آخر میں اُن کے اسماء شمار کردیجئے کہ جسے رسالہ دیکھنے میں کاہلی آئے ان ناموں ہی کو دیکھ کر خلاف سے ہاتھ اٹھائے لہذا تین فصل کا وصل اور مناسب کہ
تلک عشرۃ کاملۃ
 ( یہ پورے دس ہوئے۔ت) جلوہ دکھائے۔
فصل ہشتم
جب ابوطالب کا کفرادلّہ کالنہّار سے آشکار تو رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنے کا کیونکراختیار ، اگر اخبار ہے تو اﷲ تعالٰی عزوجل پر افترا، کفار کو رضائے الہٰی سے کیا بہرہ، اور اگر دُعا ہے
کما ھو الظاھر
 ( جیسا کہ ظاہر ہے۔ت) تو دعا بالمحال حضرت ذی الجلال سے معاذ اﷲ استہزاء ، ایسی دُعا سے حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نہی فرمائی۔
کما فی الصحیحین ۱؂ وقد بیّنّاہ فی رسالتنا  "ذیل المدعاء لاحسن الوعاء"  التی ذیلنا بہار سالۃ  "احسن الوعاء لاٰداب الدعاء"  لخاتمۃ المحققین سیدنا الوالدقدس سرہ الماجد"۔
جیسا کہ صحیحین میں ہے، اور ہم نے اس کو اپنے رسالہ
"ذیل المدعاء لاحسن الوعاء"
میں بیان کردیا۔ اس رسالے کو ہم نے حاشیہ بنایا رسالہ
" احسن الوعادء لآداب الدعاء"
کا جو تصنیف ہے خاتمۃ المحققین ہمارے سردار والد گرامی قدس سرّہ، کی۔ت)
 ( ۱ ؎صحیح البخاری   کتاب التفسیر سورۃ البراء ۃ      باب ماکان للنبی والذین اٰ منوا لخ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۶۷۵)

(صحیح مسلم  کتاب الایمان   باب الدلیل علٰی صحۃ الاسلام من حضرہ الموت الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۰)
Flag Counter