Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
152 - 157
خامساً  یقیناً معلوم کہ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ اُس وقت تک مشرف باسلام نہ ہوئے تھے کہیں گیارہ برس بعد فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیں، اوراسی روایت میں ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو طالب کا کلمہ پڑھنا نہ سُنا اور اُن کی عرض پر بھی اطمینان نہ فرمایا : یہی ارشاد ہوا کہ ہم نے نہ سُنا ، اب نہ رہی مگر ایک شخص کی شہادت جو عدالت درکنار گواہی دیتے وقت مسلمان بھی نہیں وہ شرعاً کس قاعدہ وقانون سے قابل قبول یا لائق  التفات اصحابِ عقول ہوسکتی ہے۔
اقول:  پہلے جوابوں کا حاصل سندًا یا متناً روایت کی تصنعیف تھی اس جواب میں اُسے ہر طرح صحیح مان کر کلام ہے کہ اب بھی اثبات مدعی سے مس نہیں اُس سے یہ ثابت ہوا کہ ابو طالب نے کلمہ پڑھا بلکہ اس اس قدر معلوم ہوا کہ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی غیر اسلام کی حالت میں ایسا بیان کیا پھر اس سے کیا ہوتا ہے، یہ جواب امام سہیلی نے روض الانف میں ارشاد فرمایا اور ان کے بعد امام عینی و امام قسطلانی نے ذکر کیا۔
عمدہ میں ہے :
  قال السھیلی ان العباس قال ذٰلک فی حال کو نہ علی غیر الاسلام ولواداھا بعد الاسلام لقبلت منہ ۱؂۔
سہیلی نےکہا کہ حضرت عباس نے یہ بات حالتِ غیر اسلام میں کہی اگر بعد اسلام وہ اس کو ادا کرتے تو مقبول ہوتی۔(ت)
 ( ۱ ؎ عمدۃ القاری کتاب الجنائز       حدیث۱۳۶۰    دارالکتب العلمیہ بیروت   ۸ /۲۶۴)
اقول : وباﷲ التوفیق
خود اسی روایت کا بیان کہ سیّد عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن کی عرض پر یہی فرمایا کہ ہمارے مسامع قدسیہ تک نہ آیا۔ دلیل واضح ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن کے بیان پر اطمینان نہ فرمایا اس گواہی کو مقبول و معتبر نہ ٹھہرایا ورنہ کیا عقل سلیم قبول کرتی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو جس کے اسلام میں اس درجہ کوشش بلیغ ہونفس انفس نے اس حد شدت پر اُس کی خواہش فرمائی جب وہ امر عظیم محبوب و قوع میں آئی ایسے سہل لفطوں میں جواب دے دیا جائے، لاجرم اس ارشاد کا یہی مفاد کہ تمہارے کہنے پر کیا اعتماد ہم سُنتے تو ٹھیک تھا یہ صریح ردّ شہادت ہے تو جو گواہی خدا و رسول رَد فرماچکے دوسرا اس کا قبول کرنے والا کون۔
وبھٰذا التحقیق الانیق استنار واﷲ الحمد ان الامام العینی لقد احسن اذاقتصرفی نقل کلام الامام السہیلی علی مامرونعمافعل اذلم یتعدالٰی ما تعدی الیہ الامام القسطلانی وتبعہ العلامۃ الزرقانی حیث اثراکلامہ برمتہ واقرا علیہ ھذالفظھما(اجیب) کما قال السہیلی فی الروض (بان شہادۃ العباس لابی طالب لواداھا بعد مااسلم کانت مقبولۃ ولم ترد) شہادتہ (یقول علیہ الصلوۃ والسلام لم اسمع لان الشاھد العدل اذا قال سمعت وقال من ھو اعدل منہ لم اسمع اخذ بقول من اثبت السماع )قال السھیلی لان عدم السماع یحتمل اسبابا منعت الشاھد من السمع (ولکن العباس شہدبذلک قبل ان یسلم) فلا تقبل شہادتہ ۔۱؂ اھ
اور اس عمدہ تحقیق سے بحمداﷲ روشن ہوگیا کہ امام عینی نے امام سہیلی کے نقل کلام میں اقتصار کرکے بہت اچھا کیا اُس کی بنیاد پر جو گزرا اور اس کی طرف تجاوز نہ کرکے بھی اچھا کیا جس کی طرف امام قسطلانی نے تجاوز کیا اور ان کی اتباع کی علامہ زرقانی نے کیونکہ ان دونوں نے اس کے کلام کو پورا نقل کیا اور اس پر قائم رہے اور یہ لفظ ان دونوں کے ہیں۔( جواب دیا گیا) جیسا کہ امام سہیلی نے روض میں فرمایا کہ اگر ابوطالب کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت آپ کے اسلام لانے کے بعد ہوتی تو مقبول ہوتی، اس کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے ساتھ رَدنہ کیا جاتا کہ " میں نے نہیں سُنا" کیونکہ عادل گواہ جب کہے کہ میں " میں نے سُنا ہے"، اور اس سے زیادہ عدل والا کہے کہ " میں نے نہیں سُنا" تو اس کے قول کو قبول کیا جائے گا جو سماع کو ثابت کرنے والا ہے، سہیلی نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ عدمِ سماع کئی ایسے اسباب کا احتمال رکھتا ہے جو گواہ کو سننے سے روکتے ہوں، لیکن چونکہ حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام لانے سے قبل اس کی شہادت دی لہذا ان کی شہادت قبول نہ ہوگی ۔ اھ
 (۱؂شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ    المقصد الاول وفاۃ خدیجہ وابی طالب      دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۹۱ و ۲۹۲)
اقول : فلیس الکلام فی ان عباسا اثبت والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نفی فھما شہادتان جاء تاعندنا احدھما تثبت والاخری تنفی فتقدم التی تثبت لوکان صاحبہا عدلا ومعاذ اﷲ ان تقدم علی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم یقبل شہادۃ العباس و لم یرکن الیھا فھو صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قاض لاشاھد اٰخر وانما الشاھد العباس وحدہ، فاذا لم یقبلہا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فمن یقبلہا بعدہ ھذا ماعندی وانافی عجب عاجب ھٰھنا من کلام ھٰؤلاء الاعلام الاکا برفامعن النظر لعل لہ معنی قصرت عنہ ید فھمی القاصر "،
میں کہتا ہوں اس میں کلام نہیں کہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اثبات کیا اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نفی فرمائی یہ دو شہادتیں ہمارے پیش نظر ہیں، ایک ثابت کرنے والی اور دوسری نفی کرنے والی، لہذا مثبت گواہی نافی پر مقدم ہوگی جب کہ مثبت گواہی دینے والا عادل ہو اور معاذ اﷲ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قول پر مقدم ہو۔ نبی اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کو قبول نہیں فرمایا اور نہ ہی اس کی طرف میلان فرمایا، کیونکہ آپ تو قاضی تھے نہ کہ دوسرے گواہ، گواہ تو تنہا حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے جب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا تو آپ کے بعد کون قبول کرسکتا ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے۔
مجھے اس مقام پر ان اکابر علماء کے کلام پر سخت تعجب ہے، میں نے گہری نظر سے دیکھا کہ شاید اس کا کوئی معنی بن سکتا ہو مگر میرے فہم قاصر کا ہاتھ اس سے قاصر رہا۔(ت)
یہ اجوبہ علماء ہیں اور بحمد اﷲ کافی و وافی و صافی ہیں،
وانا اقول: وباﷲ التوفیق
 ( میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ت)
سادساً ہم تسلیم کرتے ہیں کہ روایت اُنہیں احادیث صحیحیں کی مثل سنداً ومتناً ہر طرح اعلٰی درجہ کی صحیح اور شہادت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی بروجہ کمال مقبول ونجیح ، پھر بھی نہ مستدل کو نافع نہ کفرِ ابی طالب کی اصلاً دافع ، آخر جب بحکمِ احادیث جلیلہ آیت قرآنیہ مشرک و ناری بتارہی ہے تو یہ کسی کے مٹائے مٹتا نہیں، یہ دوسری حدیث کہ فرضاً اُسی پلہ کی صحیح و جلیل ہے صرف اتنا بتاتی ہے کہ ابو طالب نے اخیر وقت
لا الہٰ الا اﷲ
کہا ، یہ نہیں بتاتی ، کہ وہ وقت کیا تھا ، آخر وقت کیا تھا، آخر وقت دو ہیں ایک وہ کہ ہنوز پر دے باقی ہیں اور یہ وقت وقتِ قبول ایمان ہے، دوسرا وہ حقیقی آکر جب حالت غر غرہ ہو، پردے اُٹھ جائیں جنت و نار پیش نظر ہوجائیں۔ " یؤمنون بالغیب " کا محل نہ رہے، کافر کا اس وقت اسلام لانا بالاجماع مردود و نامقبول ہے۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
فلم یک ینفعھم ایمانھم لما رأوا باسنا سنّۃ اﷲ التی قد خلت فی عبادہ و خسر ھنالک الکفرون۱؂ ۔
تو اُن کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اﷲ کا دستور حواس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں ۔ (ت )
 ( ۱ ؎     القرآن الکریم         ۴۰ /۸۵)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر، رواہ الحمد ۲؂ والترمذی و حسنہ و ابن ماجۃ والحاکم و ابن حبان والبیھقی فی الشعب کلھم عن سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما ۔
اﷲ تعالٰی سکراتِ موت سے پہلے پہلے توبہ قبول فرماتا ہے، اس کو روایت کیا احمد نے، ترمذی نے اور ترمذی نے اس کو حسن کہا۔ نیز روایت کیا اس کو ابن ماجہ، حاکم، ابن حبان اورا مام بیہقی نے شعب میں ، ان تمام نے سیدنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
 ( ۲ ؎ جامع الترمذی     ابواب الدعوات      باب ماجاء فی فضل التوبۃالخ    امین کمپنی دہلی         ۲ /۱۹۲)

(مسند احمد بن حنبل عن عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۱۳۲)

(المستدرک للحاکم     کتاب التوبۃ     باب ان اﷲ یغفر لعبدہ     دارالفکر بیروت    ۴ /۲۵۷)
Flag Counter