Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
151 - 157
یہ کلام حضرت شیخ رحمہ اﷲ تعالٰی کا ہے اور فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے یہاں ہامش مدارج پر اپنے دو حاشیے لکھے پائے جن کی نقل خالی از نفع نہیں۔
" اوّل قول شیک جز آنچہ درروایت ابن اسحٰق آمدہ بربریں عبارت اقول ایں استثناء منقطع ست ائمہ فن ہمچوامام بیہقی وامام ابن حجر عسقلانی و امام عینی و امام ابن حجر مکی وغیرھم تصریح کردہ اند بضعف ایں روایت زیرا کہ درو راوی مبہم واقع شدہ باز بمخالف صحاح منکر ست وشیخ در آخر کلام خود ارشارہ بضعف او میکندکہ با آنکہ حدیث صحیح اثبات کردہ است الخ معلوم شد کہ ایں صحیح نیست ،۔
اوّل شیخ کے قول
" جز آنچہ در روایت ابن اسحٰق آمدہ"
پر اس عبارت کے ساتھ حاشیہ لکھا :میں کہتا ہوں یہ استثناء منقطع ہے۔ائمہ فن جیسے امام بیہقی ، امام ابن حجر عسقلانی، امام عینی اور امام ابن حجر مکی وغیرہ نے اس روایت کے ضعیف ہونے کی تصریح کی ہے کیونکہ اس میں ایک راوی مبہم واقع ہوا ہے ، پھر صحیح حدیثوں کی مخالفت کی وجہ سے منکر ہے، اور شیخ علیہ الرحمہ اپنے کلام کے آخر میں ان لفظوں کے ساتھ اس کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ " باوجود یہ کہ حدیث صحیح نے اس کے کفر کو ثابت کردیا ہے" معلوم ہوگیا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
دوم قوم شیخ ودر روایتے آمدہ پر بایں الفاظ اقول ایں لفظ ایہام میکندآں راکہ ایں جادو روایت ست وروایت مذکورہ ابن اسحٰق عاری ست از ذکر رَد فرمودن نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بقول مبارکش لم اسمع حالانکہ نہ چنان ست بلکہ ایں تتمہ ہماں روایت ابن اسحٰق ست بریں معنی آگاہ بایدبود۱؂ ۔
دوم : شیخ کے قول
" و درروایتے آمدہ"
پر ان الفاظ کے ساتھ حاشیہ لکھا : میں کہتا ہوں یہ وہم میں ڈالتا ہے کہ یہاں دو روایتیں ہیں، اور روایت ابن اسحٰق میں نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے یہ کلماتِ رَد نہیں ہیں کہ " میں نے نہیں سُنا" حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اسی روایت ابن اسحٰق کا تتمہ ہے، اس معنی پر آگاہ ہونا چاہیے۔(ت)
 (۱؂ )
ثالثاً خود قرآنِ عظیم اسے رَد فرمارہا ہے اگر اسلام پر موت ہوتی سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو استغفار سے کیوں ممانعت آئی۔ یہ جواب حافظ الشان کا ہے اور اُسے خمیس میں بھی ذکر کیا۔
اصابہ میں بعد عبارت مذکورہ قریبہ ہے :
" اذلوکان قال کلمۃ التوحید مانھی اﷲ تعالٰی نبیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم عن الاستغفار لہ۔۲؂
اگر اس نے کلمہ توحید کہہ لیا ہوتا تو ا ﷲ تعالٰی اپنے نبی کو اُس کے حق میں استغفار سے منع نہ فرماتا ۔(ت)
( ۲ ؎الاصابۃ      فی تمییز الصحابۃ        حرف الطاء     القسم الرابع ابوطالب            دارصادر بیروت        ۴ /۱۱۷)
اقول : استغفار سی نہی کفر میں صریح نہیں حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں میت مدیون کے جنازہ پر نماز پڑھنے سے ممنوع تھے۔علمائے متاخرین نے
حدیث استاذنت ربی ان استغفرلا می فلم یا ذن لی ۔۳؂
 (میں نے اپنے رب سے اذن طلب کیا کہ میں اپنی ماں کے لیے استغفار کروں تو اُس نے مجھے اذن نہ دیا۔ت)
کا یہی جواب دیا ہے استدلال اسی آیت کریمہ کے لفظ للمشرکین و لفظ اصحٰب الجحیم سے اولٰی وانسب ہے اگر کلمہ اسلام پر موت ہوتی تو رب العزۃ ابو طالب کو مشرک کیوں بتاتا، اصحابِ نار سے کیوں ٹھہراتا۔ لاجرم یہ روایت بے اصل ہے۔
 ( ۳ ؎ صحیح مسلم     کتاب الجنائز        فصل فی جواز زیارۃقبور المشرکین الخ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۱۴)
رابعاً اقول : اس میں ایک علّت اور ہے، حدیث صحیح چہارم دیکھئے خود یہی عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ جن سے یہ حکایت ذکر کی جاتی ہے موت ابی طالب کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں۔ یارسول اﷲ ! حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو بھی کچھ نفع دیا وہ حضور کا غمخوار طرفدار تھا ارشاد ہواہم نے اُسے سراپا جہنم میں غرق پایا اتنی تخفیف فرمادی کہ ٹخنوں تک آگ ہے میں نہ ہوتا تو
اسفل السافلین اس کا ٹھکانا تھا۔۔۴؂
 ( ۴ ؎ صحیح البخاری     مناقب الانصار    باب قصّہ ابی طالب     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۵۴۸)

(صحیح مسلم    کتاب الایمان    باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۱۵)

(مسند احمد بن حنبل     عن العباس        المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰)
سُبٰحن اﷲ!
اگر عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے کانوں سے مرتے وقت کلمہ توحید پڑھنا سُنتے تو اس سوال کا کیا محل تھا، وہ نہ جانتے تھی کہ الاسلام یجب ماقبلہ مسلمان ہوجانا گزرے ہوئے سب اعمالِ بدکو ڈھادیتا ہے، کیا وہ نہ جانتے تھے کہ اخیر وقت جو کافر مسلمان ہوکر مرے بے حساب جنت میں جائے،
من قال لا الہٰ الّا اﷲ دخل الجنّۃ۱؂ ۔
 ( جس نے لا الہٰ الاّ اﷲ کہا جنّت میں داخل ہوا۔ت)
 ( ۱ ؎ الدرالمنثور         تحت آلایۃ                    مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران        ۶ /۶۳)

(المستدرک للحاکم         کتاب التوبۃ     من قال لا الہٰ الا اﷲ         دارالفکر بیروت             ۴ /۲۵۱)

(المعجم الکبیر      حدیث ۶۳۴۷        المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۷ /۴۸)
اور پھر سوال میں کیا عرض کرتے ہیں وہی پرانے قصّے نصرت ویاری و حمایت و غمخواری یہ نہیں کہتے یارسول اﷲ ! وہ تو کلمہ اسلام پڑھ کر مرا ہے، یہ پوچھتے ہیں کہ حضور نے اسے بھی کچھ نفع بخشا، یا نہیں  کہتے یارسول اللہ ! وہ تو کلمہ اسلام پڑھ کر مرا ہے، یہ پوچھتے ہیں کہ حضور نے اسے بھی کچھ نفع بخشآ یہ نہیں عرض کرتے کہ کون سے اعلٰی درجاتِ جنت عطا فرمائے ، وہ حالت صحیح میں ہوتے تو پرواز سوال یوں ہوتا کہ یارسول اﷲ! ابو طالب کا خاتمہ ایمان پر ہوا اور حضور کے ساتھ اُن کی غایت محبت و کمال حمایت تو قدیم سے تھی اﷲ عزوجل نے فردوس اعلٰی کا کون سا محل انہیں کرامت فرمایا تو نظرِ انصاف میں یہ سوال ہی اس روایت کی بے اصلی پر قرینہ و انحہ ہے اور جواب تو جو ارشاد ہوا ظاہر ہے
" والعیاذ با ﷲ تعالٰی ارحم الراحمین "
یہ جواب فقیر غفر اﷲ تعالٰی لہ نے اپنے فتوائے سابقہ مختصرہ میں ذکر کیا تھا
اب شرح مواہب میں دیکھا کہ علامہ زرقانی نے بھی اس کی طرف ایما کیا، فرماتے ہیں :
" فی سوال العباس عن حالہ دلیل علی ضعف روایۃ ابن اسحٰق لانہ لوکانت الشہادۃ عندہ لم یسأل لعلمہ بحالہ۲؂۔
ابو طالب کے حال کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سوال میں روایت ابن اسحٰق کے ضعف پر دلیل ہے، کیونکہ اگر ابوطالب نے حضرت عباس کے نزدیک کلمہ شہادت پڑھ لیا تھا تو وہ یہ سوال نہ کرتے اس لیے کہ ان کو اس کا حال معلوم ہوتا،۔(ت)
 ( ۲ ؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ     المقصد الاول وفاۃ خدیجہ         دارالمعرفۃ بیروت            ۱ /۲۹۳)
اقول: یونہی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا جن کی طرف اس کی روایت کی نسبت جاتی ہے علاوہ اُس تفسیر کے جو آیت ثالثہ میں اُن سے مروی خود بسند صحیح معلوم کہ وہ حضور پرنور سید یوم النشور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ابو طالب کے بارے میں وہ ارشاد پاک حدیث ہشتم میں سُن چکے ہیں جس میں ناری ہونے کی صریح تصریح ہے یہ روایت اگر صحیح ہوتی تو اِس کا مقتضٰی یہ تھا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ابو طالب کو ناجی جانیں کہ ان امور میں نسخ وتغیر کو راہ نہیں مگر لازم بحکمِ حدیث صحیح مسلم باطل تو ملزوم بھی حلیہ صحت سے عاطل، فافہم۔
Flag Counter