اقول : ویتراأی لی استثناء من ابھم وقدعلم من عادتہ انہ لایروی الا عن ثقۃ کامامنا الاعظم والا مام احمد وغیرھما ممن سمیناھم فی "منیرالعین " فان المبھم امام من مجھول الحال او کمثلہ وقدصرحوا فیہ بھذا التفصیل قال فی الکتابین (فی روایۃ العدل ) عن المجہول (مذاہب) احدھا (التعدیل) فان شان العدل لایروی الاعن عدل (و) الثانی (المنع ) لجواز روایتہ تعویلا علی المجتھدانہ لایعمل الا بعد التعدیل (و) الثالث (التفصیل بین من علم) من عادتہ (انہ لایروی الاعن عدل) فیکون تعدیلا (اولا) فلا (وھو) ای الثالث (الاعدل ) وھو ظاھر ۱ اھ باختصار۔
اقول :( میں کہتا ہوں) میرے لیے اُس شخص کا استثناء ظاہر ہوا جس نے ابہام کیا حالانکہ اس کی عادت معروف ہے کہ بغیر ثقہ کے کسی سے روایت نہیں کرتا جیسا کہ ہمارے امام اعظم اور امام احمد اور دیگرائمہ کرام جن کے نام ہم نے "منیر العین" میں ذکر کیے ہیں۔اس لیے کہ مبہم مجہول الحال سے ہوگا یا اس کی مثل سے تحقیق اس میں علماء نے اس تفصیل کے سات تصریح فرمائی ہے، دونوں کتابوں میں کہا کہ مجہول سے عادل کی روایت کے بارے میں چند مذہب ہیں، ان میں سے ایک مذہب اس کی تعدیل ہے، کیونکہ عادل کی شان یہ ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے۔ دوسرا مذہب منع تعدیل ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے متجہد پر بھروسا کرتے ہوئے یہ روایت کرتی ہو کیونکہ مجتہدتعدیل کے بعد ہی عمل کرتا ہے، اور تیسرا مذہب تفصیل یعنی اگر اس کی یہ عادت معلوم ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے غیر عادل سے نہیں، تو تعدیل ہوگی ورنہ نہیں، اور یہ تیسرا مذہب زیادہ عدل والا ہے اور وہ ظاہر ہے اھ اختصار۔
( ۱ ؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی مسئلہ مجہول الحال الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۵۰)
ثالثھا : لیس الحکم علی کافر معلوم الکفرلاسیما المدرک صحۃ لغویۃ بطریان الاسلام من باب الفضائل المقبول فیہ الضعاف باتفاق الاعلام، کیف وانہ یبتنی علیہ کثیر من الاحکام کتحریم ذکرہ الابخیر و وجوب تعظیمہ بطلب الترضی علیہ اذا ذکر بعد ماکان ذاک حراما بل ربما المنجرالی الکفر، والعیاذ باﷲ تعالٰی، وقبول قولہ فی الروایات ان وقعت الی غیر ذلک والیقین لایزول الشک والضعیف لایرفع الثابت وانما السرفی قبول الضعاف حیث تقبل انہا ثمہ لم تثبت شیئا لم یثبت کما حققناہ بما لامزید علیہ مادفع الاوھام المتطرقۃ الیہ فی رسالتنا "الھادا الکاف فی حکم الضعاف " فاذا لم تکن لتثبت مالم یثبت فکیف ترفع ماقدثبت ماھذا الاغلط وشطط وھذا واضح جدا فاتضح بحمد اﷲ ان الروایۃ ضعیفۃ واھیۃ وانہا فی اثبات ماریم منھا غیر مغنیۃ ولا کافیۃ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق۔
تیسرا امر : جس کافر کا کفر معلوم ہو خصوصاً جب کہ وہ صحت لغویہ کو پانے والا ہو۔ اُس پر اسلام کے طاری ہونے کا حکم از قبیل فضائل نہیں ہے جس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہیں، ایسا کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ اس پر بہت سے احکام کی بنیاد ہے مثلاً بھلائی کے سوا اس کے ذکر کا حرام ہونا، اس کی تعظیم کا واجب ہونا اور اس کے ذکرکے ساتھ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہنا، بعد اسکے یہ حرام بلکہ بسا اوقات کفر تک پہنچادینے والی چیز ہے، اور اﷲ تعالٰی کی پناہ ، اور روایات میں اس کے قول کو قبول کرناجب کہ واقع ہوں وغیرہ ذلک ، حالانکہ یقین شک کے ساتھ زائل نہیں ہوتا، اور ضعیف حدیث ثابت کو رفع نہیں کرسکتی، ضعیف حدیثیں جہاں قبول کی جاتی ہیں وہاں ان کو قبول کرنے میں راز یہ ہے کہ وہاں ضعیف حدیثیں کسی غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرتیں جیسا کہ ہم اپنے رسالہ " الھاد الکاف فی حکم الضعاف"میں اس کی تحقیق کردی ہے جس پر زیادتی نہیں کی جاسکتی جس نے اس مسئلہ میں پیدا ہونے والے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہے، چنانچہ جب وہ ضعیف حدیثیں غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرسکتی ہیں تو ثابت شدہ چیز کو رفع کیسے کرسکیں گی۔ یہ محض غلط اور حق سے دُوری ہے، یہ خوب واضح ہے۔ بحمداﷲ واضح ہوگیا کہ روایت مذکورہ ضعیف اور بے ہودہ ہے اور اس سے جس مقصد کو ثابت کرنا مطلوب تھااسکے لیے یہ مفید و کافی نہیں ہے۔ یونہی تحقیق چاہیے اور اﷲ تعالٰی توفیق کا مالک ہے۔(ت)
ثانیا اگر بالفرض صحیح بھی ہوتی تو ان احادیث جلیلہ جزیلہ صحاح اصح کے مخالف تھی لہذا مردود ہوتی نہ کہ خود صحیح بھی نہیں اب اُن کے مقابل کیا التفات کے قابل اقول جواب اول بنظر سند تھا یہ بلحاظ متن ہے یعنی اگر سنداً صحیح بھی ہوتی تو متناً شاذ تھی اور ایسا شذوذ قاوح صحت یوں بھی ضعیف رہتی اب کہ سنداً بھی صحیح نہیں خاص منکر ہے اور بہرحال مردود و نامعتبر، یہ جواب بھی علمائے ممدوحین نے دیا اور امام قسطلانی و شیخ محقق نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔
خمیس میں بعد عبارت مذکورہ امام بیہقی سے ہے :
والصحیح من الحدیث قد اثبت لابی طالب ابوفاۃ علی الکفر والشرک کما رویناہ فی صحیح البخاری۱ ۔
یعنی حدیث صحیح ابو طالب کا کفر وشرک پر مرنا ثابت کررہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود۔
( ۱ ؎ تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس وصیت ابی طالب مؤسسۃ شعبان للنشربیروت ۱ /۳۰۰)
بعنیہ اسی طرح مواہب میں ہے۔
عمدہ میں بعد عبارت مذکورہ اور زرقانی میں امام حافظ الشان سے ہے :
ولوکان صحیحا العارضہ حدیث الباب لانہ اصح منہ فضلا عن انہ لم یصح ۔۱
اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس باب میں وارد حدیث اس کے معارض ہوتی کیونکہ وہ اس سے اصح ہے چہ جائیکہ یہ صحیح ہی نہیں ۔(ت)
اور اس کے ثبوت کی تقدیر پر وہ حدیث اس کے معارض ہے جو اس سے اصح ہے۔(ت)
( ۲ ؎ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶)
پھر حدیث دوم لکھ کر فرمایا :
فھذا ھوالصحیح الذی یردالروایۃ التی ذکرھا ابن اسحٰق۳ ۔
یہ حدیث صحیح روایت ابن اسحاق کو رَد کررہی ہے۔
( ۳ ؎ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷)
شرح ہمزیہ کی عبارت اوپر گزری:
صرائح الاحادیث المتفق علی صحتہا ترد ذٰلک ۴ ۔
صریح حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسے رَد کررہی ہیں۔
( ۴ ؎ شرح ھمزیۃ)
مدارج النبوۃ میں ہے :
دراحادیث و اخبار اسلام دے ثبوت نیافتہ جزانچہ درروایت ابن اسحق آمدہ کہ وے اسلام آور د نزدیک بوقتِ مرگ و گفتہ کہ چوں قریب شد موت وے و عباس گفت یا ابنَ اخی ! واﷲ بتحقیق گفت برادر من کلمہ را کہ امرکردی تو او رابداں کلمہ و درروا تیے آمدہ کہ آنحضرت گفت من نشنیدم باآنکہ حدیث صحیح اثبات کردہ است برائے ابوطالب کفر را ھ مختصراً ۱۔
اخبار و احادیث میں ابوطالب کا اسلام ثابت نہیں ہوا سوائے اُس روایت کے جو ابن اسحاق سے مروی ہے کہ وہ وقتِ موت کے قریب اسلام لے آئے تھے ابن اسحاق نے کہا کہ جب ابوطالب کا وقت موت قریب ہوا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا : اے میرے بھیتجے ! بخدا میرے بھائی نے وہ کلمہ کہہ دیا ہے جس کا آپ نے اس کو حکم دیا ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نہیں سنا باوجود یہ کہ حدیث صحیح نے کفر ابوطالب کو ثابت کردیا ہے اھ اختصار (ت)
( ۱ ؎ مدارج النبوۃ باب دوئم وفات یافتن ابوطالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھرپاکستان ۲ /۴۸)