| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
( میں کہتا ہوں) اور توفیق اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے، یہاں چند امور ایسے ہیں جن پر آگاہ ہونا ضروری ہے۔
اولہا : لیس المنقطع ھٰہنا فی کلام البیھقی بالاصطلاح المشہور عند الجمہور انہ الذی سقط من سندہ راوٍ امّا مطلقاً اوبشرط ان لایسقط ازید من واحد علی التوالی وھو المرسل علی الاول اومنہ علی الثانی باصطلاح الفقہاء واھل الاصول واذا نظفت رجالہ فعندنا وعند الجمھور مقبول کیف و ذلک خلاف الواقع فی روایۃ ابن اسحٰق فان سندہ علٰی مارأیت فی سیرۃ ابن ہشام ونقلہ الحافظ وغیرہ فی الفتح وغیرہ ھکذا حدثنی العباس بن عبداﷲ بن معبد عن بعض اھلہ عن ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما۱ وھذا لا انقطاع فید کما تری و لامساغ لا رادۃ الانقطاع من قبل ان ابن عباس لم یدرک الواقعۃ فانہ انما ولدعام مات ابوطالب ولد قبل الھجرۃ بثلث سنین کما فی التقریب۲ وکذلک ارخ ابن الجزار موت ابی طالب قبل ھجرتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بثلث سنین کما فی المواہب ۳
پہلا امر : منقطع یہاں پر بیہقی کے کلام میں اُس معنی میں استعمال نہیں ہوا جو جمہور کے نزدیک مشہور اصطلاح ہے، یعنی وہ حدیث جس کی سند سے کوئی راوی ساقط ہوگیا ہو یا مطلقاً یا اس شرط کے ساتھ کہ اس کی سند میں ایک سے زائد راوی پے درپے ساقط نہ ہوئے ہوں، بصورتِ اوّل وہ مرسل ہے، اور بصورت ثانی مرسل کی ایک نوع ہے فقہاء اور اہلِ اصول کی اصطلاح میں ، اور جب اس کے رجل عادل ہوں تو وہ ہمارے نزدیک اور جمہور کے نزدیک مقبول ہے اور جمہور کی اصطلاح میں یہ کیسے منقطع ہوسکتی ہے حالانکہ ابن اسحٰق کی روایت میں معنی مذکور کے خلاف واقع ہے، کیونکہ اس کی سند جیسا کہ میں نے سیرت ابنِ ہشام میں دیکھی اور حافظ وغیرہ نے اس کو فتح الباری وغیرہ میں نقل کیا وہ یوں ہے ، مجھے حدیث بیان کی عباس بن عبداﷲ بن معبد نے اپنے بعض گھر والوں سے انہوں نے عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور اس مین جیسا کہ تُو دیکھ رہا ہے کوئی انقطاع نہیں اور نہ ہی اس جہت سے انقطاع مراد لینے کی کوئی گنجائش ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ واقعہ نہیں پایا کیونکہ آپ اس سال پیدا ہوئے جس سال ابوطالب کا انتقال ہوا۔ آپ کی ولادت ہجرت سے تین سال قبل ہوئی جیسا کہ تقریب میں ہے اور یونہی ابوطالب کی موت کی تاریخ ابن جزار نے بیان کی وہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ہجرت سے تین سال پہلے فوت ہوئے جیسا کہ مواہب میں ہے۔
( ۱ ؎ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام وفاۃ ابی طالب و خدیجہ دارابن کثیر للطباعۃ القسم الاول ص۴۱۷) ( ۲ ؎ تقریب التہذیب ترجمہ ۳۴۲۰ دارلکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰۴) ( ۳ ؎ المواہب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۲)
وذٰلک لان مراسیل الصحابۃ مقبولۃ بالاجماع ولا عبرۃ بمن شذ، فی تقریب النووی ھذا کلہ فی غیر مرسل الصحابی اما مرسلہ فمحکوم بصحتہ علی المذھب الصحیح ۔۱ قال فی التدریب قطع بہ الجمھور من اصحابنا وغیرھم واطبق علیہ المحدثون ۔۲ وفی مسلم الثبوت ان کان من الصحابی یقبل مطلقا اتفا قا ولا اعتداد لمن خالف ۔۳ اھ وانما سماّہ البیقھی منقطعا علی اصطلاح لہ ولشیخہ الحاکم ان المبھم ایضامن المنقطع فی التقریب و التدریب ( اذا قال) الراوی فی الاسناد ( فلان عن رجل عن فلان فقال الحاکم) ھو (منقطع لیس مرسلا وقال غیرہ مرسل) قال العراقی کل من القولین خلاف ما علیہ الاکثرون ، فانھم ذھبوا الی انہ متصل فی سندہ مجھول ، وزاد البیہقی علی ھذا فی سننہ فجعل مارواہ التابعی عن رجل من الصحابۃ لم یسم مرسلا ۱ اھ مختصرا ۔
اور یہ اس لیے کہ مراسیل صحابہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے اور جو تنہا اس موقف کے خلاف ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں، تقریب نواوی میں ہے کہ یہ سب گفتگو مرسلِ صحابی کے غیر میں ہے۔ رہا مرسل صحابی تو صحیح مذہب میں اس کے صحیح ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ تدریب میں کہا کہ ہمارے اصحاب وغیرہ جمہور نے اس حکم کو قطعی قرار دیا اور محدثین نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ مسلم الثبوت میں ہے مرسل اگر صحابی سے ہے تو مطلقاً قبول کی جائے گی ، اور جس نے مخالفت کی اس کا کوئی اعبتار نہیں اھ بیہقی کا اُسے منقطع کہنا فقط ان کی اپنی اور ان کے شیخ امام حاکم کی اصطلاح ہے کہ ان کے نزدیک مبہم بھی منقطع ہے۔ تقریب اور تدریب میں ہے راوی نے اسناد میں جب کہا کہ فلاں نے ایک مرد سے اور اس نے فلاں سے روایت کی تو امام حاکم نے فرمایا کہ یہ منقطع ہے مرسل نہیں ہے جب کہ اس کے غیر نے کہا یہ مرسل ہے۔ عراقی نے کہا یہ دونوں قول اکثریت کے مؤقف کے خلاف ہیں کیونکہ اکثر کا مؤقف یہ ہےکہ یہ متصل ہے اس کی سند میں راوی مجہول ہے، امام بہقی نے اپنی سنن میں اس پر اضافہ کیا اور اس حدیث کو مرسل قرار دیا جس کو تابعی نے صحابہ میں سے ایک مرد سے روایت کیااس صحابی کے نام کی تصریح نہیں کی اھ اختصار۔
( ۱ ؎ تقریب النواوی مع تدریب الراوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۱) (۲ ؎ تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۱) ( ۳ ؎ مسلم البثوت الاصل الثانی السنۃ مسئلہ تعریف المرسل مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۰۱) ( ۱ ؎ تقریب النووی مع تدریب الراوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۱ ۔ ۱۶۲)
وفیھما (النوع العاشرالمنقطع الصحیح الذی ذھب الیہ الفقہاء والخطیب و ابن عبدالبروغیرھما من المحدثین ان المنطقع مالم یتصل اسناد ہ علی ای وجہ کان انقطاعہ) فھو و المرسل واحد ( واکثرمایستعمل فی روایۃ من دون التابعی عن الصحابۃ کمالک عن ابن عمر و قیل ھو ما اختل منہ رجل قبل التابعی ) الصواب قبل الصحابی (محذوفاکان ) الرجل (اومبھما کرجل) ھذا بناء علی ماتقدم ان فلانا عن رجل یسمّی منقطعا و تقدم ان فلانا عن رجل یسمّی منقطعا وتقدم ان الاکثرین علی خلافہ، ثم ان ھذا القول ھو المشہور بشرط ان یکون السا قط واحد افقط اواثنین لا علی التوالی کما جزم بہ العراقی وشیخ الاسلام۲ اھ ملخصاً۔
اور ان دونوں (تقریب وتدریب) میں ہے دسویں قسم منقطع ، صحیح مؤقف جس کی طرف فقہاء کرام اور محدثین میں سے خطیب و ابن عبدالبروغیرہ گئے ہیں وہ یہ ہے کہ منقطع اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو، چاہے کسی وجہ سے انقطاع ہو، وہ اور مرسل ایک ہی ہیں، اور اس کا اکثر اطلاق ایسی حدیث پر ہوتا ہے جس میں تابعی سے نیچے درجے کا کوئی شخص صحابہ سے روایت کرے جیسے امام مالک علیہ الرحمہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کریں۔ ایک قول کے مطابق منقطع وہ حدیث ہے جس میں تابعی سے قبل ( صحیح یہ ہے کہ صحابی سے قبل) کوئی راوی مختل ہو، چاہے تو وہ محذوف ہو یا مبہم ، جیسے کہا جائے "کوئی شخص" یہ اس پر مبنی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا " یعنی فلاں نے ایک شخص سے روایت کی" یہ منقطع کہلاتی ہے۔ اور ماقبل میں گزر چکا ہے کہ اکثریت اس کے خلاف ہے، پھر یہ قول اس شرط کے ساتھ مشہور ہے کہ ساقط فقط ایک راوی ہو یا دوہوں مگرپے درپے نہ ہوں جیسا کہ اس پر عراقی اور شیخ الاسلام نے جزم کیا ہے اھ تلخیص ۔
( ۲ ؎تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع العاشر المنقطع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۱ و ۱۷۲)
ثانیہا : لیس المبھم من المجھول المقبول عندنا وعند کثیر من الفحول اواکثرھم فان الراوی اذا لم یروعنہ الاواحد ا فمجہول العین نمشیہ نحن وکثیرمن المحققین واذا ز کی ظاھرا لا باطنا فمستور نقبلہ نحن واکثر المحققین کما بینتہ فی "منیرالعین فی حکم تقبیل الابہا مین" وظاھر ان شیئا من ھذا الایعرف الابالتسمیۃ فالمبھم لیس منھما فی شیئ بل ھو کمجھول الحال الذی لم تعرف عدالتہ باطن ولا ظاھرا وان خصصناہ ایضا بمن سمی فلیس من المجہول المصطلح علیہ اصلاً وان کان یطلق علیہ اسم المجہول نظر ا الی المعنی اللغوی ، وتحقیق الحکم فیہ ان ابھام راوغیرالصابی بغیر لفظ التعدیل کحدثنا وثقۃ لیس کحذفہ عندنا فی القبول فان الجزم مع الاسقاط امارۃ الاعتماد بخلاف الاسناد قال فی مسلم الثبوت وشرحہ فواتح الرحموت (قال رجل لایقبل فی) المذھب (الصحیح) ولیس ھذا کالارسال کما نقل عن شمس الائمۃ لان ھذا روایۃ عن مجہول والا رسال جزم بنسبۃ المتن الٰی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وھذا لایکون الا بالتوثیق فافترقا ( بخلاف) قال ثقہ اورجل من الصحابۃ لان ھذا روایۃ عن ثقۃ لان الصحابۃ کلھم عدول (ولواصطلح علی معین) معلوم العدالۃ علی التعیین برجل (فلااشکال) فی القبول۱ اھ۔
دوسرا امر : مبہم اس مجہول میں سے نہیں جو ہمارے نزدیک اور تمام علماء ماہرین یا اکثر کے نزدیک مقبول ہے،اس لیے کہ اگر کسی راوی سے فقط ایک ہی شخص روایت کرے تو وہ مجہول العین ہے ، ہم اور کثیر محققین اس کو قبول کرتے ہیں۔اور اگر اس کا ظاہری طور پر تزکیہ ہوجائے مگر باطنی طور پر نہ ہو تو وہ مستور ہے، ہمارے اور اکثر محققین کے نزدیک یہ مقبول ہے جیسا کہ میں نے اس کو رسالہ " منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین" میں بیان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مجہول کی دونوں قسموں میں سے کوئی نہیں پہچاناجاتا مگر نام ذکر کرنے سے تو مبہم ان دونوں قسموں میں سے کوئی قسم بھی نہ ہوا بلکہ وہ مجہول الحال کی مثل ہے جس کی عدالت نہ ظاہری طور پر معلوم ہوتی ہے نہ باطنی طور پر، اگر ہم اس ( مجہول الحال) کو بھی مختص کرلیں اس کے ساتھ جس کا نام ذکر کیا جاتا ہے تو اس صورت میں مبہم بالکل ہی مجہول اصطلاحی میں سے نہیں ہوگا۔ اگرچہ معنی لغوی کے اعتبار سے اس پر مجہول کا اطلاق ہوگا۔ اس میں حکم کی تحقیق یہ ہے کہ غیر صحابی کا ابہام بغیرلفظ تعدیل کے جیسے مجھے حدیث بیان کی ایک ثقہ نے۔ ہمارے نزدیک قبولیت میں حذف راوی کی مثل نہیں۔کیونکہ اسقاط راوی کے باوجود اس پر جزم، اعتماد کی نشانی ہے بخلاف اسناد کے۔ مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے کسی شخص نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ایک مرد نے ، تو مذہب صحیح میں قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ ارسال کی مثل نہیں جیسا کہ شمس الائمہ سے منقول ہے، کیونکہ یہ مجہول سے روایت ہے جبکہ ارسال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف متن کی نسبت کا جزم ہے اور یہ بغیر توثیق کے نہیں ہوسکتا، تو اس طرح دونوں میں فرق ہوگیا۔ بخلاف اس کے کہ اگر کسی نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ایک ثقہ نے یا صحابہ کرام میں سے ایک مرد نے کیونکہ یہ ثقہ سے روایت ہے، اس لیے کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔اگر یہ اصطلاح بنالی جائے کہ فلاں معین شخص جس کی عدالت معلوم ہے کہ " ایک مرد" کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا تو اس کے مقبول ہونے میں کوئی اشکال نہیں۔ اھ
( ۱ ؎ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۷۷)