ثالثاً نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں اُن سے بعض وصایا ضرور منقول مگر جب اوروں کو وصیت ہو خود جاہلی حمیت ہو تو اس سے کیا حصول ۔
قال اﷲ تعالٰی : " کبر مقتاعنداﷲ ان تقولوا مالا تفعلون "۳ ۔
اﷲ کو سخت دشمن ہے یہ بات کہ کہو اور نہ کرو۔
( ۳ ؎ القرآن الکریم ۶۱ /۳)
تندرستی میں بھی یہی برتاؤ تھا کہ اوروں کو ترغیب دینا اور آپ بچنا وہی انداز وقتِ مرگ برتا۔اصابہ میں فرمایا :
وھوامرابی طالب ولدیہ باتباعہ فترکہ ذلک ھو من جملۃ العناد وھو ایضاً من حسن نصرتہ لہ و ذبہ عنہ و معاداتہ قومہ بسببہ۴ ۔
رہا یہ کہ ابو طالب کا اپنے بیٹوں حیدر کرار و جعفر طیار رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کہنا کہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیروی کرو تو خود اس کا ترک کرنا یہ عناد میں سے ہے اور یہ ترغیب پیروی بھی اُن کی اُسی خوبی مدد و حمایت اور حضور کے باعث اپنی قوم سے مخالفت ہی میں داخل ہے۔
( ۴ ؎ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصاد ر بیروت ۴ /۱۱۷)
یعنی جہاں وہ سب کچھ تھا این ہم برعلم ایمان بے اذعان ملنا کیا امکان، ولہذا علمائے کرام جہاں ابوطالب سے یہ امور نقل فرماتے ہیں وہیں موت علی الکفر کی بھی تصریح کر جاتے ہیں اسی مواہب اللدنیہ اور اُن کی دوسری کتاب ارشاد الساری کے کتنے کلمات اوپر گزرے۔
مجمع البحار میں ہے :
فی العاشرۃ دناموت ابی طالب فوصی بنی المطلب باعانتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ومات فقال علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان عمک الضال قدمات قال فاغسلہ وکفنہ و وارہ غفر اﷲ لہ فجعل یستغفرلہ ایاماحتی نزل " مکان للنّبی"۱ ۔
یعنی نبوت سے دسویں سال ابو طالب کو موت آئی بنی عبدالمطلب کو مددگاری نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وصیت کرکے مرگئے۔ اس پر مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم نے عرض کی : حضور کا چچا مر گیا۔ فرمایا : نہلا کفنا کر دبا دے اﷲ اُسے بخشے۔ دعائے مغفرت فرماتے رہے یہاں تک کہ آیت اتری نبی کو روا نہیں کہ مشرکوں جہنمیوں کی بخشش مانگے۔
( ۱ ؎ مجمع بحارالانوار فصل فی السیر بیان ارضاعہ مکتبہ دار الایمان مدینۃ المنورۃ ۵/ ۲۷۲)
علامہ حفنی حاشیہ شرح ہمزیہ میں لکھتے ہیں:
" قال القرطبی فی المفہم کان ابو طالب یعرف صدق رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی کل مایقولہ ویقول لقریش تعلمون واﷲ ان محمدا لم یکذب قط ویقول لا بنہ علی اتبعہ فانہ علی الحق غیرانہ لم یدخل فی الاسلام ولم یزل علی ذلک حتی حضوتہ الوفاۃ فدخل علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طامعاً فی اسلامہ حریصاً علیہ باذلافی ذلک جہدہ مستفرغا ما عندہ ولکن عاقت عن ذلک عوائق الاقدار التی لاینفع معہا حرص ولا اعتذار۱ ۔
یعنی امام قرطبی نے مفہم شرح صحیح مسلم میں فرمایا : ابو طالب خوب جانتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں سب حق ہے قریش سے کہتے خدا کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کوئی کلمہ خلافِ واقع نہ فرمایا اپنے بیٹے علی کرم اﷲ وجہہ سے کہتے ان کے پیرو رہنا کہ یہ حق پر ہیں پر سب کچھ تھا مگر خود اسلام میں نہ آئے موت آنے تک اسی حال پر رہے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف فرما ہوئے اس امید پر کہ شاید مسلمان ہوجائیں، اس کی حضور کو سخت خواہش تھی جو کچھ کوشش ممکن تھی سب خرچ فرمادی مگر وہ تقدیریں آڑے آئیں جن کے آگے نہ خواہش چلتی ہے نہ عذر۔
"وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم "۔
اور اﷲ تعالٰی ہمیں کافی ہے کیا ہی اچھا کارساز ہے، اور نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے ۔(ت)
شبہہ تاسعہ : الحمدﷲ عمرو کے سب شبہات حل ہوگئے اور وہ شبہات ہی کیا تھے محض مہملات تھے اب ایک شبہہ باقی رہا جس سے زمانہ قدیم میں بعض روافض نے اپنے رسالہ " اسلام ابی طالب" میں استناد کیا اور اکابرائمہ علمائے اہل سنت مثل امام اجل بیھقی و امام جلیل سہیلی و امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدر الدین محمود عینی و امام احمد قسطلانی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری وعلامہ محمد زرقانی و شیخ محقق دہلوی وغیرہم رحمہم اﷲ تعالٰی نے متعدد وجوہ سے جواب دیا۔ سُنّی کے لیے تو اسی قدر سے جواب ظاہر ہوگیا کہ استدلال کرنے والا ایک رافضی اور جواب دینے والےائمہ و علمائے اہلسنت مگر تتمیم فائدہ کے لیے فقیر غفرلہ المولی القدیر وہ شبہہ اور علماء کے اجوبہ ذکر کرکے جو کچھ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائض ہوا تحریر کرے۔ وباﷲ التوفیق : ابن اسحٰق نے سیرۃ میں ایک روایت شاذہ ذکر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض الموت میں اشرافِ قریش جمع ہو کر ان کے پاس گئے کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سمجھا دو کہ ہمارے دین سے غرض نہ رکھیں، ہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں ابو طالب نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو بلا کر عرض کی، حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں یہ ایک بات کہہ لیں جس سے تم تمام عرب کے مالک ہوجاؤ اور عجم تمہاری مطیع ابوجہل لعین نے عرض کی حصور ہی کے باپ کی قسم ایک بات نہیں دس باتیں ۔ فرمایا : تو
لا الہٰ اﷲ
کہہ لو۔ اس پر کافر تالیاں بجا کر بھاگ گئے۔ ابوطالب کے منہ سے نکلا ، خدا کی قسم حضور نے کوئی بے جا بات تو ان سے نہ چاہی تھی اس کہنے سے سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اُمید پڑی کہ شاید یہی مسلمان ہوجائے ۔ حضور نے بار بار فرمانا شروع کیا : اے چچا ! تو ہی کہہ لے جس کے سبب سے میں تیری شفاعت روزِ قیامت حلال کرلوں۔ جب ابوطالب نے حضور کی شدتِ خواہش دیکھی تو کہا۔ اے بھتیجے ! میرے خدا کی قسم اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ حضور کو اور حضورکے باپ ( یعنی خود ابو طالب ) کے بیٹو ں کو طعنہ دیں گے کہ نزع کی سختی پر صبر نہ ہوا کلمہ پڑھ لیا ۔ تو میں پڑھ لیتا ، اور وہ بھی اس طرح پڑھتا
" لا اقولھا الا لا سرک بہا "
( میں نہ کہتا وہ کلمہ مگر اس لیے کہ آپ کو خوش کروں) صرف اس لیے کہ حضور کی خوشی کردوں۔ یہ باتیں نزع میں تو ہو ہی رہی تھیں جب روح پرواز کرنے کا وقت نزدیک آیا عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان کے لبوں کی جنبش دیکھی کان لگا کر سنا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی :
" یا ابن اخی واﷲ لقد قال اخی الکلمۃ التی امرتہ ان یقولہا
"اے میرے بھتیجے ! خدا کی قسم میرے بھائی نے وہ بات کہہ لی جو حضور اقدس اس سے کہلواتے تھے :
قال فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لم اسمع۱ ۔
سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا میں نے نہ سُنی۔
( ۱ ؎ السیرۃ النبویۃ لابن ہشام وفاۃ ابی طالب وخدیجہ دارابن کثیر والتوزیع للطباعۃ والنشیر القسم الاول ۱۸۔۴۱۷)
یہ وہ روایت ہے علماء نے اس سے پانچ جواب دیئے۔
اوّل : یہ روایت ضعیف و مردود ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبہم موجود ہے، یہ جواب امام بیہقی پھر امام حافظ الشان ابن حجر عسقلانی و امام بدرالدین محمود عینی و امام ابن حجر مکی و علامہ حسین دیار بکری و علامہ زرقانی وغیرہم نے افادہ فرمایا ۔
خمیس میں ہے :
قال البیھقی انہ منقطع الخ وسیأتی تمامہ۲ ۔
بیہقی نے کہا یہ منقطع ہے الخ اس کی پوری تفصیل عقنریب آرہی ہے۔ (ت)
( ۲ ؎ تاریخ الخمیس وفاۃ ابی طالب مؤسستہ شعبان بیروت ۱ /۳۰۰)
عمدۃ القاری میں ہے :
فی سندہ من لم یسم ۳۔
اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔(ت)
( ۳ ؎ عمدۃ القاری کتاب المناقب الانصار باب قصۃ ابی طالب تحت حدیث ۳۸۸۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱۷ /۲۳)
شرح مواہب میں ہے :
روایۃ ابن اسحٰق ضعیفہ ۴ ۔
ابن اسحاق کی روایت ضعیف ہے۔(ت)
( ۴ ؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱)
اسی میں ہے :
فیہ من لم یسم ۱ ۔
اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔(ت)
(۱ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۱)
شرح حمزیہ میں ہے :
روایۃ ضعیفۃ عن العباس انہ اسرالیہ الاسلام عند موتہ۲ ۔
حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک ضعیف روایت ہے کہ ابو طالب نے بوقتِ موت راز داری سے انہیں اسلام کی خبر دی ۔ت)
(۲ )
اصابہ میں ہے :
لقدوقفت علٰی تصنیف لبعض الشیعۃ اثبت فیہ اسلام ابی طالب منہا مااخرجہ عن محمد بن اسحٰق الٰی ان قال بعد نقل متمسکات الرافضی، اسانید ھٰذہ الاحادیث واھیۃ۳ ۔
یعنی میں نے ایک رافضی کا رسالہ دیکھا جس میں اس نے بعض روایات سے اسلامِ ابی طالب ثابت کرنا چاہا ہے ، ازاں جملہ یہ روایت ابن اسحٰق ہے۔ ان سب کی سندیں واہی ہیں۔
(۳ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶)