اقول : سید اہلبیت رضی اللہ تعالٰی عنہم مولٰی کرم اﷲ وجہہ الکریم ابوطالب کو مشرک کہتے باوصف حکم اقدس غسل وکفن میں تامل عرض کرتے سیّدالسادات سیّد الکائنات علیہ وآلہ افضل الصلوۃ واکمل التحیات اسے مقرر رکھتے، جنازہ میں شرکت سے باز رہتے، سیدنا جعفر بن ابی طالب وامیر المومنین علی رضی اللہ تعالٰی عنہما بوجہ اسلام ترکہ کفارسے محرومی پاتے، سیدامام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کی وجہ کفرِ ابی طالب بیان فرماتے۔امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ختن اہل بیت اسے کافرکا ترکہ مومن کو نہ ملنے کی دلیل ٹھہراتے۔
سیدنا عباس عمّ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورضی اﷲ تعالٰی عنہ اُن کے حال سے سوال کرکے وہ جواب پاتے۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آیت
" وان یھلکون الا انفسہم "
کا ابو طالب کے حق میں نزول بتاتے اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حدیث ہشتم اور اُمّ المومنین ام سلمہ زوجہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ہفتم امیرالمومنین علی برادرِ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حدیث پانز دہم روایت فرماتے ہیں : یہ سروران وسردارانِ اہل بیت کرام ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ، ان کے بعد وہ کون سے اہلبیت قائلِ اسلام ابوطالب ہوئے، کیا قرآن و حدیث و اطباق ائمہ قدیم و حدیث کے مقابل ایسی حکایات بے زمام و خطام کچھ کام دے سکتی ہیں، حاشا ، لاجرم شیخ محقق مدارج النبوت میں فرماتے ہیں :
ازاعمام پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غیر حمزہ و عباس مسلمان نہ شدہ اند وابوطالب و ابولہب زمانِ اسلام را دریافتہ اما توفیق اسلام نیافتہ جمہور علماء برین اند و صاحبِ جامع الاصول آوردہ کہ زعم اہلبیت آن ست کہ ابوطالب مسلمان از دنیا رفتہ واﷲ اعلم بصحتہ کذا فی روضۃ الاحباب ۱ ۔
پیغمبر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چچوں میں سے حضرت حمزہ و عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے سوا کوئی مسلمان نہ ہوا، ابو طالب وا بولہب نے اسلام کا زمانہ پایا مگر اسلام لانے کی توفیق نہ پائی۔ جمہور علماء کا موقف یہی ہے ، اور صاحبِ جامع الاصول نے ذکر کیا ہے کہ اہل بیت کا گمان یہ ہے کہ ابو طالب مسلمان ہو کر دنیا سے گئے ہیں، اس کی صحت کا حال اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے، یونہی روضۃ الاحباب میں ہے۔(ت)
( ۱ ؎ مدارج النبوۃ باب سوئم در ذکر اعمام النبی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان ۲ /۴۹۰)
اقول : علماء کا جا بجا کفرِ ابی طالب پر اجماع نقل فرمانا اور اسلامِ ابی طالب کا قول مزعوم روافض بتانا، جس کے نقول اگلے فصول میں مذکور و منقول ، اس حکایت بے سرو پا کے رد کو بس ہے، کیا باوصف خلافائمہ اہلبیت اجماع منعقد ہوسکتا یا معاذ اﷲ ان کا خلاف لایعتد بہ ٹھہرا کر دعوٰی اتفاق فرمادیا جاتا اور جب خود اپنےائمہ کرام میں خلاف حاصل تو جانب اجانب اعنی روافض قصر نسبت پر کیا حامل، پس عندالتحقیق یہ حکایت بے اصل اور محکی عنہ معدوم و باطل ، ہاں اگر سادات زید یہ کہ ایک فرقہ روافض ہے مراد ہوں تو عجب نہیں اور شبہہ زائل۔
شبہہ سابعہ ____ عبارت شرح سفر السعادۃ ____
اقول : یہ تہمت محض ہے شیخ محقق رحمۃ اﷲ علیہ کی عبارتیں خود اسی شرح صراط المستقیم وغیرہ تصانیف سے اوپر گرچکیں جو اس کی تکذیب کو بس ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں : حدیث صحیح ابو طالب کا کفر ثابت کرتی ہے علمائے اہل سنت ابو طالب کا کفر مانتے ہیں شیعہ انہیں مسلمان جانتے ہیں انکے دلائل مردود و باطل ہیں۔ ان سب تصریحات کے بعد توقف کا کیا محل، ہاں یہ عبارت مدارج شریف میں نسبت آباء و اجداد حضور سید انام علیہ افضل الصلوۃ والسلام تحریر فرمائی ہے۔
حیث قال متاخران ثابت کردہ اندکہ آباء واجداد آن حضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پاک ومصفا بودند ازدنس شرک وکفر باری کم ازاں نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنندو صرفہ نگاہ دارند۱ ۔
جہاں فرمایا کہ متاخرین نے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آباء و اجداد شرک و کفر باری تعالٰی کی میل کچیل سے پاک و صاف ہیں کم از کم اس مسئلہ میں انہوں نے توقف کیا ہے اور احتیاط کو ملحوظ رکھا ہے۔(ت)
( ۱ ؎ مدارج النبوۃ باب سوم وفات یافتن ابوطالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۴۹ )
شبہہ ثامنہ ____ وصیت نامہ____
اقول: اولاً وہ ایک حکایت منقطعہ ہے جس کا منتہائے سند ایک رافضی غالی، مواہب شریف میں جس سے عمرو ناقل یہ وصیت نامہ یوں منقول :
حکی عن ھشام بن السائب الکلبی اوابیہ انہ قال لما حضرت ابا طالب الوفاۃ جمع الیہ وجوہ قریش ۲ ؎ الخ
یعنی ہشام بن سائب کلبی کو فی یا اس کے باپ کلبی سے حکایت کی گئی کہ ابوطالب نے مرتے وقت عمدگان قریش کو جمع کرکے وصیت کی۔
( ۲ ؎المواہب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵)
ہشام وکلبی دونوں رافضی مطعون ہیں۔ میزان الاعتدال میں ہے :
قال البخاری ابوالنضر الکلبی ترکہ یحیٰی وابن مھدی قال علی ثناء یحیٰی عن سفین قال الکلبی کلما حدثتک عن ابی صالح فہو کذب ،و قال یزیدبن زریع ثناء الکلبی وکان سبائیا قال الاعمش اتق ھذہ السبائیۃ فانی ادرکت الناس وانما یسمّونھم الکذابین، التبوذکی سمعت ھما ما یقول سمعت الکلبی یقول انا سبائی عن ابی عوانۃ سمعت الکلبی یقول انا سبائی عن ابی عوانۃ سمعت الکلبی یقول کان جبرئیل یملی الوحی علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فلما دخل النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخلاء جعل یملی علی علیٍّ ، قال الجوز جانی وغیرہ کذاب وقال الدار قطنی وجماعۃ متروک وقال ابن حبان مذھبہ فی الدین ووضوع الکذب فیہ اظھر من ان یحتاج الی الاغراق فی وصفہ لایحل ذکرہ فی الکتاب فکیف الاحتجاج بہ ۱ ا ھ ملتقطا"
امام بخاری نے فرمایا ابو نضرکلبی کو امام یحیٰی ی بن معین و امام عبدالرحمن بن مہدی نے اسے متروک کیا۔ امام سفین فرماتے ہیں۔ مجھ سے کلبی نے کاہ جتنی حدیثیں میں نے آپ کے سامنے ابوصالح سے روایت کی ہیں وہ سب جھوٹ ہیں، یزید بن زریع نے کہا : قلبی رافضی تھا۔ امام سلیمٰن اعمش تابعی نے فرمایا کہ ان رافضیوں سے بچو، میں نے علماء کو پایا کہ ان کا نام کذاب رکھتے تھے تبوذ کی کہتے ہیں میں نے ہمام سے سُنا وہ کہتی ہیں میں نے خود کلبی کو کہتے سنا کہ میں رافضی ہوں۔ ابوعوانہ کہتے ہیں کلبی نے میرے سامنے کہا کہ جبرئیل نبی کو وحی لکھاتے تھے جب حضور بیت الخلاء کو تشریف لے جاتے تو مولٰی علی ( کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم) کو لکھانے لگتے۔ جو زجانی وغیرہ نے کہا۔ کلبی کذاب ہے، دارقطنی اور ایک جماعت علماء نے کہا : متروک ہے۔ ابن حبّان نے کہا اس کا مذہب دین میں اور اس میں کذب کا وضوع ایسا روشن ہے کہ محتاجِ بیان نہیں کتابوں میں اس کا ذکر کرنا حلال نہیں اور نہ اس سے سند لانا اھ ملتقطاً۔
( ۱ ؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۷۵۷۴ محمد بن سائب الکلبی دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۵۷تا ۵۵۹)
اُسی میں ہے :
ہشام بن محمد بن السائب الکلبی قال احمد بن حنبل انما کان صاحب سمر و نسب ما ظننت ان احدا یحدث عنہ وقال الدارقطنی وغیرہ متروک وقال ابن عساکر رافضی لیس بثقۃ۲ ۔
امام احمد نے کلبی کے بیٹے ہشام کی نسبت فرمایا : وہ تو یہی کچھ کہانیاں کچھ نسبت نامے جانتا تھا مجھے گمان نہ تھا کہ کوئی اس سے حدیث روایت کرے گا۔ امام دارقطنی وغیرہ نے فرمایا : متروک ہے۔ امام ابن عساکر نے کہا : رافضی نامعتمدہے۔
( ۲ ؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۹۲۳۷ ہشام بن محمد السائب دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۳۰۴)
ثانیاً خود اُسی وصیت نامہ میں وہ لفظ منقول جن میں صاف اپنے حال کی طرف اشارہ ہےکہ اُن حاضرین سے کہا: