قد کان ابوطالب یحوطہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و ینصرہ ویحبہ حبا طبعیا لاشرعیا فسبق القدرفیہ واستمر علی کفرہ وﷲ الحجۃ السامیۃ۱ ۔
یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نصرت و حمایت سب کچھ کی، طبعی محبت بہت کچھ رکھی۔ مگرشرعی محبت نہ تھی،آخر تقدیرِ الہٰی غالبآئی اور معاذ اﷲ کفر پر وفات پائی اور اﷲ ہی کے لیے ہے حجت بلند۔
( ۱ ؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصّہ ابی طالب دارالکتاب العربی بیروت ۶ /۲۰۱)
نسیم الریاض میں ہے :
حنونہ علی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و محبتہ لہ امر مشہور فی السیروکان یعظمہ ویعرف نبوتہ ولکن لم یوفقہ اﷲ للاسلام و فی الامتناع ان فیہ حکمۃ خفیۃ من اﷲ تعالٰی لانہ عظیم قریش لایمکن احدامنھم ان یتعدی علی ما فی جوارہ فکان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی بدء امرہ فی کنف حمایتہ یذبھم عنہ کما قال ؎ع
واﷲ لن یصلواالیک بجمعہم حتی اوسد فی التراب دفینا
فلواسلم لم یکن لہ ذمۃ عندھم ولذالم یکن لہ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم بعد موتہ بد من الھجرۃ۲
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ابوطالب کی مہرو محبت مشہور ہے اور تعظیم و معرفت نبوت معلوم، مگراﷲ تعالٰی نے مسلمان ہونے کی توفیق نہ دی،اور کتاب الامتاع میں فرمایا :ابوطالب کے مسلمان نہ ہونے میں اللہ تعالٰی کی ایک باریک حکمت ہے وہ سردارِ قریش تھے کوئی ان کی پناہ پر تعدی نہ کرسکتا تھا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابتدائے اسلام میں ان کی حمایت میں تھے وہ مخالفوں کو حضور سے دفع کرتے تھے ، خود ایک شعر میں کہا ہے۔
خدا کی قسم تمام قریش اکٹھے ہوجائیں تو حضور تک نہ پہنچ سکیں گے جب تک میں خاک میں دبا کر لٹا نہ دیا جاؤں ۔
تو اگر وہ اسلام لے آتے قریش کے نزدیک ان کی پناہ کوئی چیز نہ رہتی، آخر ان کے انتقال پر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ہجرت ہی فرمانی ہوئی۔
( ۲ ؎ نسیم الریاض القسم الاول الباب الاول الفصل الخامس مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۱ /۲۱۰)
اقول : قربِ انتقال تک اسلام نہلانے کی یہ حکمت ہوسکتی ہے، مرتے وقت کفر پر اصرار کی حکمت اﷲ جانے یا اس کا رسول ، شاید اس میں اولاً: یہ نکتہ ہو کہ اگر اسلام لا کر مرتے مخالف گمان کرتے کہ اﷲ کے رسول نے ہمارے ساتھ معاذ اﷲ فریب برتا ، اپنے چچا کو مسلمان تو کرلیا تھا مگر پناہ و ذمہ رکھنے کے لیے ظاہر نہ ہونے دیا جب اخیر وقت آیا کہ اب وہ کام نہ رہا ظاہرکروایا۔
ثانیا اُن مسلمانون کی تسکین بھی ہے جن کے بزرگ حالتِ کفر میں مرے جس کا پتا
حدیث ان ابی و باک ۔۱
دیتی ہے اوّل ناگوار ہوا جب اپنے چچا کو شامل فرمایا سکون پایا۔
(۱صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان من مات علی الکفر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۴)
ثالثا مسلمانوں کے لیے اُسوہ حسنہ قائم فرمانا کہ اپنے اقارب جب خدا کے خلاف ہوں اُن سے براء ت کریں مرنے پر جنازہ میں شریک نہ ہوں، نماز نہ پڑھیں، دُعائے مغفرت نہ کریں کہ جب خود اپنے حبیب کو منع فرمایا تو اوروں کی کیا گنتی۔
رابعاً عمل میں اخلاص ﷲ و خوف وانقیاد کی ترغیب اور محبوبانِ خدا سے نسبت پر بھول بیٹھنے سے ترہیب ، جب ابوطالب کو ایسی نسبت قریبہ بان کارہائے عجیبہ بوجہ نامنقادی کام نہ آئی تو اور کیا چیز ہے۔
" الٰی غیر ذلک مما اﷲ ورسولہ بہ اعلم جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم "
(اس کے علاوہ دیگر وجوہ جنہیں اﷲ تعالٰی جل جلالہ اور سول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ت)
شبہہ رابعہ ____ نعت شریف____
اقول : یہ تو اور حجت الہٰیہ قائم ہونا ہے جب ایسا جانتے ہو پھر کیوں نہیں مانتے یہود عنود قبلِ طلوعِ شمس رسالت کیا کچھ نعت و مدحت نہ کرتے جب کوئی مشکل آتی مصیبت منہ دکھاتی حضور سے توسّل کرتے جب دشمن کا مقابلہ ہوتا دُعا مانگتے۔
الہٰی ہمیں اُن پر مدد دے صدقہ نبی آخر الزمان کا جس کی نعت ہم تورات میں پاتے ہیں۔
(۲البحرالمحیط تحت الآیۃ ۲/ ۷۹ دار الفکر بیروت ۱/ ۳۰۳)
پھر جان کر نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوا یہ جو قرآن عظیم نے فرمایا:
وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ما عرفوا کفروابہ فلعنہ اﷲ علی الکفٰرین ۔۱
اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا تو ا سے منکر ہو بیٹھے، تو اللہ کی لعنت ہو منکروں پر۔(ت)
(۱القرآن الکریم ۲/ ۷۹)
اصابہ میں فرماتے ہیں:
اماشھادۃ ابی طالب بتصدیق النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم فالجواب عنہ وعما ورد من شعرابی طالب فی ذلک انہ نظیر ماحکی اﷲ تعالٰی عن کفار قریش "وجحدوا بہا واستیقنتہا انفسھم ظلماً وعلوا فکان کفرھم عنادا ومنشؤہ من الانفۃ والکبر والٰی ذلک اشار ابوطالب بقولہ لولا ان تعیرنی قریش "۔۲
یعنی ابوطالب کے ان اشعار وغیرہا (جن میں تصدیق نبی کی شہادت ہے) کا جواب یہ ہے کہ وہ اسی قبیل سے ہے جو قرآن عظیم نے کفار کا حال بیان فرمایا کہ براہ ظلم و تکبر منکر ہوتے اور دل میں خوب یقین رکھتے ہیں تو یہ کفر عناد ہوا اور اس کا منشاء تکبر اور اپنے نزدیک بڑی ناک والا ہوناہے خود ابوطالب نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اگر قریش کی طعنہ زنی کا خیال نہ ہوتا تو اسلام لے آتا۔
( ۲ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابو طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷)
شبہہ خامسہ____ حضور کا استغفار فرمانا ____
اقول: اوّلاً اس کا جواب خود رب الارباب جل جلالہ، دے چکا، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے قید لگادی تھی مالم انہ عند تیرے لیے استغفار فرماؤں گا جب تک منع نہ کیا جاؤں گا۔ رب العزۃ جل جلالہ نے منع فرمادیا اب اس سے استناد خرط القتاد۔
ثانیاً خود یہ وعدہ ہی کلمہ طیبہ سے انکار سُن کر ارشاد ہوا تھا۔ دیکھو حدیث دوم ، پھر اسے دلیلِ اسلام ٹھہرانا عجب ہے۔