Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
145 - 157
شبہہ ثانیہ _____ نصرتِ وحمایت _____
نقول :  ضرور مگر مدعا سے دور، رافضی اس سے دلیل لائے اور علمائے سنت جواب دے چکے ۔
اصابہ میں فرمایا :
استدل الرافضی بقول اﷲ تعالٰی "فالذین اٰمنوا بہ و عزروہ و نصروہ واتبعواالنور الذی معہ اولئک ھم المفلحون"  قال وقد عزرہ ابوطالب بما اشتھرو علم ونابذقریشا وعاداھم بسبلبہ مما لایدفعہ احد من نقلۃ الاخبار فیکون من المفلحین انتھی وھذا مبلغھم من العلم وانانسلم انہ نصرہ وبالغ فی ذلک لکنہ لم یتبع النور الذی معہ وھو الکتاب العزیز الداعی الی التوحید ولا یحصل الفلاح الا بحصول مارتب علیہ من الصفات کلہا۲؂ ۔
یعنی اسلامِ ابی طالب پر رافضی اس آیت سے دلیل لایا کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے "جو لوگ اس نبی پر ایمان لائے اور اس کی نصرت و مدد کی اور جو نورِ اس نبی کے ساتھ اتارا گیا اس کے پیرو ہوئے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"۔  رافضی نے کہا : ابوطالب کی مدد و نصرت مشہور و معروف ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پیچھے قریش سے مخالفت کی عداوت باندھ لی جس کا کوئی راوی اخبار انکار نہ کرے گا تو وہ فلاح پانے والوں میں ٹھہرے۔ رافضیوں کے علم کی رسائی یہاں تک ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابوطالب نے ضرور نصرت کی اور بدرجہ غایت کی مگر اس نور کا اتباع نہ کیا جو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ اترا یعنی قرآن مجید داعی توحید اور فلاح تو جب ملے کہ جتنی صفات پر اسے مرتب فرمایا ہے سب حاصل ہوں۔
 ( ۲ ؎الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء     ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب     دارصادر بیروت    ۴ /۱۱۸)
اقول: اولاً یہ نصرت وحمایت کا قصہ بارگاہِ رسالت میں پیش ہوچکا، عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یارسول اﷲ ! ابو طالب چنیں و چنان کرتا اسے کیا نفع ملا ؟ جواب جو ارشآد ہوا۔ حدیث چہارم میں گزرا۔

ثانیاً  بلکہ تفسیر ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما پر خود رب العزت جواب دے چکا کہ اوروں کو نبی کی ایذا سے روکتے اور خود ایمان لانے سے بچتے ہیں، دیکھو آیت وحدیث سوم۔

ثالثاً  اعتبار خاتمہ کا ہے
"انما الاعمال بالخواتیم"۱؂ ۔
 ( اعمال کا دارو مدار خاتموں پر ہے۔ت)
 (۱؂مسند احمد بن حنبل حدیث سہل بن سعد      المکتب الاسلامی بیروت    ۵/ ۳۳۵)
جب ابوطالب کا کفر پر مرنا قرآن وحدیث سے ثابت تو اب اگلے قصّے سنانا اور گزشتہ کفالت و نصرت سے دلیل لانا محض ساقط ۔ صحاح ستہّ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود سے ایک حدیثِ طویل میں ہے ، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
" فواﷲ الذی لا الٰہ غیرہ ان احدکم لیعمل بعمل اھل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الاذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اھل النار فید خل النار "۔۲؂
قسم اﷲ کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں تم میں کوئی شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں صرف ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہی اتنے میں تقدیر غالب آجاتی ہے کہ وہ دوزخیوں کے کام کرکے دوزخ میں جاتا ہے۔
 (والعیاذ باﷲ رب العالمین)۔
 (۲؂ صحیح البخاری      کتاب التوحید  باب قولہ تعالٰی  ولقد سبقت کلمتنا   الخ      قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۱۱۱۰)

(صحیح مسلم      کتاب القدر   باب کیفیۃ خلق الآدمی الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۳۳۲)

(سنن ابی داؤد      کتاب السنۃ باب القدر     آفتاب عالم پریس لاہور      ۲/ ۲۹۲)
رابعاً نہ صرف اسلام مستلزم اسلام نہ ثبوت خاص نہ ثبوت عام، صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہی غزوہ خیبر میں ایک مدعِی اسلام نے ہمراہ رکاب اقدس سخت جہاد اور کافروں سے عظیم قتال کیا، صحابہ اس کے مداح ہوئے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دوزخی ہے۔ اس پر قریب تھا کہ بعض لوگ متزلزل ہوجاتے ۔( یعنی ایسے عالی درجہ کے عمدہ کام ایسی جلیل وجمیل نصرت اسلام اور اس پر ناری ہونے کے احکام) بالاخر خبر پائی کہ وہ معرکہ میں زخمی ہوا درد کی تاب نہ لایا رات کو اپنا گلا کاٹ کر مر گیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر فرمایا اﷲ اکبر میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اﷲ تعالٰی کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،
پھر بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں منافی کردیں :
" انہ لا یدخل الجنۃ الا نفس مسلمۃ وان اﷲ لیؤید ھذاالدین بالرجل الفاجر " ۱؂ ۔
بے شک جنت میں کوئی نہ جائے گا مگر مسلمان جان، اور بے شک اﷲ اس دین کی مدد کرتا ہے فاسق کے ہاتھ پر۔
 (۱؂ صحیح البخاری      کتاب المغازی  باب غزوۃ الخیبر       قدیمی کتب خانہ کراچی  ۲/ ۶۰۴)

(صحیح مسلم      کتاب الایمان    باب بیان غلظ تحریم قتل الانسان          قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱/ ۷۲)
اسی کے قریب طبرانی نے کبیر میں عمرو بن نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔ نسائی و ابن حبان حضرت انس بن مالک اور احمد و طبرانی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہا سے بسند جید راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ یؤید ھٰذاالدین باقوام لا خلاق لہم۲؂۔
بے شک اﷲ عزوجل اس دین کی مد د ایسے لوگوں سے فرماتا ہے جن کا کوئی حصہ نہیں۔
 (۲؂کنزالعمال   برمز ن حب و حم  طب عن ابی بکرۃ    حدیث ۲۸۹۵۶  مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۰ /۱۸۴ )
طبرانی کبیر میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲ تعالٰی لیؤید الاسلام برجال ماھم من اھلہ۳؂۔
بے شک اﷲ تعالٰی اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کراتا ہے جو خود اہلِ اسلام سے نہیں۔
 (۳؂ کنزالعمال   برمز   طب عن ابن عمرو    حدیث ۲۸۹۵۶  مؤسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۰ /۱۸۴ )
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ
 ( ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ ت)
شبہہ ثالثہ _____ محبت _____
اقول : بے شک مگر حد طبعی تک جیسے چچا کو بھتیجے سے چاہیے اور بھتیجے بھی کیسے کہ حقیقی بھائی نوجوان گزرے ہوئے کی اکلوتی نشانی، پھر اس پر جمال صورت و کمال سیرت وہ کہ اپنے تو اپنے غیر دیکھیں تو فدا ہوجائیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم خاندان ہاشمی ایک اسی چراغ محمود و شمع بے دُود سے روشن تھا۔ خاندانی حمیت ہر عاقل کو ہوتی ہے خصوصاً عرب خصوصاً قریش خصوصاً بنی ہاشم میں اس کے عظیم مادہ و لہذا جب آیہ کریمہ "
فاصدع بما تؤمر ؕ   واعرض عن المشرکین "۱؂ ۔
 ( تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیرلو۔ ت) نازل ہوئی اور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے علانیہ دعوتِ اسلام شروع کی اشرافِ قریش جمع ہو کر ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ تمام عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے بڑھ کر اچھی اٹھان والا لڑکا ہم سے لے لو اُسے بجائے محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پرورش کرو اور انہیں ہم کو دے دو، اور اسی ارادہ فاسد پر عمارہ بن ولید کو لے کر گئے تھے کہ ابوطالب نے مانا تو اسے انہیں دے دیں گے، ابو طالب نے کہا :
"واﷲ لبئس ماتسوموننی اتطوننی ابنکم اغذوہ لکم واعطیکم ابنی تقتلونہ ھذا واﷲ مالا یکون ابدا حین تروح الابل فانہ حنت ناقۃ الی غیر فصیلہا دفعتہ الیکم "۔
خدا کی قسم کیا بُری گاہکی میرے ساتھ کررہے ہو، کیا تم اپنا بیٹا مجھے دو کہ میں تمہارے لیے اسے کھلاؤں پرورش کروں اور میں اپنا بیٹا تمہیں دے دوں کہ تم اسے قتل کرو، خدا کی قسم یہ کبھی ہونی نہیں، جب اُونٹ شام کو نکلتے ہیں تو اگر کوئی ناقہ اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میل کرتی ہو تو میں بھی تم سے اپنا بیٹا بدل لوں۔
لخصناہ حدیث ابن اسحٰق ذکرناہ بلاغا ومن حدیث مقاتل ذکر ہ فی المواہب۲؂
 ( ہم نے اس کو حدیث ابن اسحق سے ملحض کیا جسے انہوں نے مفصل بیان کیا اور ہم نے ملحض کیا اور حدیث مقاتل سے جس کو مواہب میں ذکر کیا گیا ہے۔ت)
 ( ۱ ؎ القرآن الکریم   ۱۵ /۹۴)    (۲؂المواھب اللدنیۃ)
ابوطالب نے صاف بتادیا کہ ان کی محبت وہی ہے جو انسان تو انسان حیوان کو بھی اپنے بچے سے ہوتی ہے، ایسی محبت ایمان نہیں، ایمان حُبِّ شرعی ہے، ابوطالب میں اس کی شان نہیں، محبت شرعی وایمانی ہوتی تو نار کو عار پر اختیار اور دمِ مرگ کلمہ طیبہ سے انکار اور ملتِ جاہلیت پر اصرار کیوں ہوتا۔
Flag Counter