Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
144 - 157
فصل پنجم :
شرح مقاصد و شرح تحریر پھر ردالمحتار حاشیہ درمختار باب المرتدین میں ہے :
  المصر علی عدم الاقرار مع المطالبۃ بہ کافر وفاقا لکون ذلک من امارات عدم التصدیق ولہذا اطبقوا علٰی کفر ابی طالب ۱ ؂۔
جس سے اقرارِ اسلام کا مطالبہ کیا جائے اور وہ اقرار نہ کرنے پر اصرار رکھے بالاتفاق کافر ہے کہ یہ دل میں تصدیق نہ ہونے کی علامت ہے۔ اسی واسطے تمام علماء نے کفرِ ابی طالب پر اجماع کیا ہے۔
 ( ۱ ؂ردالمحتار    کتاب السیر       باب المرتد           دار احیاء التراث   العربی بیروت           ۳/ ۲۸۳   و ۲۸۴)
مولانا علی قاری شرح شفا شریف میں فرماتے ہیں :
اذا امربھا وامتنع وابٰی عنہا کابی طالب فھو کافر بالاجماع۲ ؂۔
جسے شہادت کلمہ اسلام کا حکم دیا جائے اور وہ باز رہے اور ادائے شہادت سے انکار کرے جیسے ابو طالب،  تو وہ بالا جماع کافر ہے۔
 (۲؂)
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں اُس شخص کے بارے میں جو قلب سے اعتقاد رکھتا تھا اور بغیر کسی عذر و مانع کے زبان سے اقرار کی نوبت نہ آئی ،  علماء کا اختلاف کہ یہ اعتقاد بے اقرار اُسے آخرت میں نافع ہوگا یا نہیں ،  نقل کرکے فرماتے ہیں۔
قلت لکن بشرط عدم طلب الاقرار منہ فان ابی بعد ذٰلک فکافراجماعا لقضیۃ ابی طالب۳ ؂۔
یعنی یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اس سے اقرار طلب نہ کیا گیا ہو اور اگر بعد طلب باز رہے جب تو بالا جماع کافر ہے۔ ابو طالب کا واقعہ اس پر دلیل ہے۔
 (۳؂)
اُسی کی فصل ثانی باب اشراط الساعۃ میں ہے :
ابوطالب لم یؤمن عنداھل السنۃ۴ ؂۔
اہل سنت کے نزدیک ابوطالب مسلمان نہیں۔
 (۴؂ مرقات المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح   کتاب الفتن        حدیث ۵۴۵۸     المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ    ۹/ ۳۶۰ )
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں :
مشائخ حدیث وعلمائے سنت بریں اند کہ ایمان ابو طالب ثبوت نہ پذیر فتہ و در صحاح احادیث ست کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم در وقتِ وفات وے برسردے آمد و عرض اسلام کرد وے قبول نہ کرد۱ ؂۔
مشائخ حدیث اور علماءِ اہلسنت کا مؤقف یہ ہے کہ ابو طالب کا ایمان ثابت نہیں ہے،صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسکے پاس تشریف لائے اور سلام پیش فرمایا مگر اس نے قبول نہیں کیا۔ت)
 ( ۱ ؂  شرح سفر السعادۃ   فصل دربیان عیادت بیماراں و نماز جنازہ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ص ۲۴۹)
فصل ششم  :
امام ابن حجر مکی افضل القرٰی القراء ام القرٰی میں ابو طالب کی بیت مروی صحیح بخاری  کہ ہم نے شروع جواب میں ذکر کی لکھ کر فرماتے ہیں :
ھذا البیت من جملۃ قصیدۃ لہ فیھا مدح عجیب لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حتی اخذا الشیعۃ منھا القول باسلامہ۲ ؂۔
یہ بیت ابوطالب کے ایک قصیدہ کا ہے جس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عجب نعت ہے،  یہاں تک کہ رافضیوں نے اس سے ابوطالب کا مسلمان ہونا اخذ کرلیا۔
 ( ۲ ؂ افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی   ۱ /۲۸۶)
پھر فرماتے ہیں  :
صرائح الاحادیث المتفق علٰی صحتہا ترد ذٰلک۳ ؂۔
لیکن  صاف اور روشن حدیثیں جن کی صحت پر اتفاق ہے اسلام ابوطالب کو رَد کررہی ہیں۔
 ( ۳ ؂ افضل القرٰی القراء ام القرٰی تحت البیت ۴۵ المجمع الثقانی ابوظہبی ۱ /۲۸۶)
علامہ محمد بن عبدالباقی شرح مواہب میں روایت ضعیفہ ابن اسحٰق کہ اِن شاء اﷲ تعالٰی عنقریب مع اپنے جوابوں کے آتی ہے ذکر کرکے فرماتے ہیں :
  بھذا احتج الرفضۃ ومن تبعھم علٰی اسلامہ۴ ؂۔
رافضی اور جو اُن کے پیرو ہوئے وہ اسی روایت سے ابو طالب کے اسلام پر سند لاتے ہیں۔
 ( ۴ ؂ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب    دارالمعرفۃ بیروت   ۱ /۲۹۱)
انوار التنزیل وارشاد العقل میں زیر آیہ کریمہ
"انک لاتھدی من احببت"
فرمایا :
الجمھور علی انھا نزلت فی ابی طالب۵؂۔
جمہور آئمہ کے نزدیک یہ آیت دربارئہ ابوطالب اُتری۔
 ( ۵؂  انوارالتنزیل (تفسیر البیضاوی) تحت آلایۃ ۲۸ /۵۶    دارالفکر بیروت  ۴ /۲۹۸)
علامہ خفا جی اِس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:
  اشارۃ الی الردعلی بعض الرفضۃ اذ ذھب الٰی اسلامہ۱ ؂۔
یہ اشارہ ہے بعض رافضیوں کے رَد کی طرف کہ وہ اسلامِ ابوطالب کے قائل ہیں۔
 ( ۱ ؂ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علٰی تفسیر البیضاوی تحت آلایۃ۲۸ /۵۶   دارالکتب العلمیہ بیروت   ۷ /۳۰۹)
اصابہ میں ہے :
  ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما،۲؂  قال ابن عساکر فی  صدر ترجمتہ قیل انہ اسلم ولایصح اسلامہ مختصر۳ ؂۔
رافضیوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ ابو طالب مسلمان مرے۔ امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں شروع تذکرئہ ابوطالب میں فرمایا بعض اسلام ابو طالب کے قائل ہوئے اور یہ صحیح نہیں مختصر۔
 ( ۲ ؂ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاءالقسم الرابع ابوطالب      دار صادربیروت    ۴ /۱۱۶)

( ۳ ؂   تاریخ دمشق الکبیرترجمہ ۸۹۴۰ ابوطالب       داراحیاء التراث العربی     ۷۰ /۲۲۸)
زرقانی میں ہے :
الصحیح ان ابا طالب لم یسلم،  و ذکر جمع من الرفضۃ انہ مات مسلما وتمسکواباشعار واخبار واھیۃ تکفل بردھافی الاصابۃ۴ ؂۔
صحیح یہ ہے کہ ابوطالب مسلمان نہ ہوئے ،  رافضیوں کی ایک جماعت نے اُن کا اسلام پر مرنا مانا اور کچھ شعروں اور واہیات خبروں سے تمسک کیا جن کے رَد کا امام حافظ الشان نے اصابہ میں ذمہ لیا۔
 ( ۴ ؂۔ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابع      دارالمعرفتہ بیروت ۳ /۲۷۴)
نسیم فصل کیفیۃ الصلوۃ علیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم والتسلیم میں ہے :
ابو طالب توفی کافرا وادعاء بعض الشیعۃ انہ اسلم لا اصل لہ ۵؂۔
  ابوطالب کی موت کفر پر ہوئی اور بعض رافضیوں کا دعوٰی باطلہ کہ وہ اسلام لائے محض بے اصل ہے۔
 ( ۵ ؂نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند   ۳ /۴۸۴)
شیخ محقق شرح صراط مستقیم میں فرماتے ہیں :
شیخ ابن حجر در فتح الباری میگوید معرفت ابوطالب بہ نبوت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم د ربسیاری از اخبار آمدہ و تمسک کردہ بدان شیعہ بر اسلام وے و استدلال کردہ اند بردعوی خود بچیزے کہ دلالت ندارد برآں ۱ ؂۔
شیخ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں ابو طالب کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کی معرفت حاصل تھی۔ اس بارے میں متعدد احادیث وارد ہیں جن کو شیعہ اسلامِ ابوطالب کی دلیل بتاتی ہیں اور انے دعوٰی پر جس چیز اسے استدلال کرتے ہیں وہ اُن کے دعوٰی پر دلالت نہیں کرتی ۔ت)
 ( ۱ ؂ سفر السعادت فصل دربیان عیادت بیماراں الخ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ص ۲۴۹)
اسی میں ہے :
مخفی نماند کہ صحتِ اسلام ابوین بلکہ سائر آبائے دے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مشہورست و شیعہ اسلامِ ابو طالب رانیز ازیں قبیل دانند ۲ ؂ اھ مختصراً ۔
پوشیدہ نہ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے والدین بلکہ تمام آباء واجداد کے اسلام کا صحیح ہونا مشہور ہے،  اور شیعہ اسلامِ ابوطالب کو بھی اسی قبیل سے سمجھتے ہیں ا ھ اختصار (ت)
 ( ۲ ؂ سفر السعادت    فصل دربیان عیادت بیماراں الخ       مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ص ۵۰۔۲۴۹)
فصل ہفتم :
الحمدُ ﷲ کلام اپنی نہایت کو پہنچا بعد اس قدر نصوص علیہ وجلیہ قرآن و حدیث و ارشاداتِ صحابہ و تابعین و تبع تابعین و آئمہ قدیم و حدیث کے منصف کو چارہ نہیں مگر تسلیم اور شبہات کا حصہ نہیں مگر فنائے عمیم پھر بھی تبیین مرام و تسکین اوہام مناسب مقام ،  عمرو نے آٹھ شبہے ذکر کیے اور نواں کہ اگر شبہہ کہنے کے بھی کچھ قابل ہے تو وہی ہے اس سے متروک ہوا ہم اُن سب کو ذکر کرکے بتوفیق اﷲ تعالٰی اظہار جواب وابانتِ  صواب کریں۔
شبہہ اولٰی __کفالت__
اقول (میں کہتا ہوں ۔ ت) ہاں بالیقین مگر کفالت نبی مستلزم اطاعتِ نبی نہیں ،
  قال اﷲ تعالٰی
 ( اﷲ تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
فالتقطہ اٰل فرعون لیکون لھم عدوا  وحزنا الایۃ۳ ؂۔
تو اُسے اٹھالیا فرعون کے گھر والوں نے کہ وہ ان کا دشمن اور ان پر غم ہو الآیۃ(ت)
 ( ۳ ؂ القرآن الکریم    ۲۸ /۸)
قال تعالٰی
( اور اﷲ تعالٰی نے فرمایا۔ت) :
  قال الم نربک فینا ولیدا ولبثت فینا من عمرک سنین۱ ؂۔
بولا کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہمارے یہاں اپنی عمر کے کئی برس گزارے۔(ت)
 ( ۱ ؂ القرآن الکریم۲۶  /۱۸)
Flag Counter