امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی مسالک الحنفاء فی والدی المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں :
ماالمانع ان یکون المرادبہ عمہ ابوطالب فکانت تسمیۃ ابی طالب ابا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شائعۃ عندھم لکونہ عمہ وکونہ رباہ وکفلہ من صغرہ اھ ملخصاً۲ ۔
کون مانع ہے کہ اس حدیث میں ابوطالب مراد ہو کہ وہ دوزخ میں ہے، اُس زمانہ میں شائع تھا کہ ابو طالب کو حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا باپ کہا جاتا ۔ چچا ہونے اور بچپن سے حضور اقدس کی خدمت و کفالت کرنے کے باعث۔
( ۲ الحاوی للفتاوٰی مسالک الحنفاء فی والدالمصطفٰی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ /۲۲۷ و ۲۲۸)
اقول : جس طرح ابھی ابو طالب کے شعر سے گزرا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو طالب کی بی بی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنہما کو اپنی ماں فرمایا۔
اسی میں فرماتے ہیں :
اخرج تمام الرازی فی فوائدہ بسند ضعیف عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اذا کان یوم القیٰمۃ شفعت لا بی و امّی وابی طالب واخ لی کان فی الجاھلیۃ اوردہ المحب الطبری وھو من الحفاظ والفقہاء فی کتابہ ذخائر العقبٰی فی مناقب ذوی القربٰی وقال ان ثبت فہو مؤول فی ابی طالب علی ماورد فی الصحیح من تخفیف العذاب عنہ بشفاعتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انتہٰی وانما احتاج الٰی تاویلہ فی ابی طالب دون الثلٰثۃ ابیہ وامہ واخیہ یعنی من الرضاعۃ لان ابا طالب ادرک البعثۃ ولم یسلم والثلٰثۃ ماتوافی الفترۃ ۱ ۔
یعنی تمام الرازی نے بسند ضعیف ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : میں روزِ قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اورا پنے ایک رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔ امام محب طبرنی نے کہ حافظان حدیث و علمائے فقہ سے ہیں ذخائر العقبٰی میں فرمایا یہ حدیث اگر ثابت بھی ہو تو ابوطالب کے بارے میں اس کی تاویل وہ ہے جو صحیح حدیث میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت سے عذاب ہلکا ہوجائے گا۔ امام سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ خاص ابوطالب کے باب میں تاویل کی حاجت یہ ہوئی کہ ابوطالب نے زمانہ اسلام پایا اور کفر پر اصرار رکھا بخلاف والدین کریمین وبرادر رضاعی کہ زمانہ فترت میں گزرے۔
یعنی ایک حدیث ضعیف میں آیا کہ میں روز قیامت اپنے والدین اور ابو طالب اور اپنے ایک رضاعی بھائی کہ زمانہ جاہلیت میں گزرا شفاعت فرماؤں گا۔
اقول : یہاں تاویل بمعنی بیان مراد و معنی ہے جس طرح شرح معانی قرآن کو تاویل کہتے ہیں ، کفار سے تخفیف عذاب بھی حضور سیدالشافعین صلی اللہ تعالٰی کی اقساط شفاعت سے ہے شفاعت کبرٰی کہ فتح باب حساب کے لیے ہے تمام جہان کو شامل وعام ہے۔ امام نووی نے باآنکہ ابوطالب کو بالیقین کافر جانتے ہیں تبویب صحیح مسلم شریف میں حدیث چہارم و پنجم کا باب یوں لکھا۔
باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب والتخفیف عنہ بسببہ۲ ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ابو طالب کے لیے شفاعت اور اس کے عذاب میں تخفیف کا باب ۔
( ۲ صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵)
امام بدر الدین زرکشی نے خادم میں ابن دحیہ سے نقل کیا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اقسام شفاعت سے وہ تخفیف عذاب ہے جو ابولہب کو بروز دو شنبہ ملتی ہے۔
لسرورہ بولادۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واعتاقہ ثویبۃ حین بشربہ قال وانما ھی کرامۃ لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اس لیے کہ اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم کے میلاد مبارک کی خوشی کی اور اس کا مژدہ سن کر ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ یہ حضور ہی کا فضل ہے جس کے باعث اس نے تخفیف پائی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ،
نیز مسالک الحنفا پھر شرح مواہب علامہ زرقانی میں ہے :
قدثبت فی الصحیح واخبر الصادق المصدوق صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان ابا طالب اھون اھل النار عذاب ۲ ا ھ ملتقطا۔
بے شک صحاح میں ثابت ہے اورصادق مصدوق صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خبر دی کہ ابو طالب پر سب دوزخیوں سے کم عذاب ہے۔
( ۲ شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیہ وفات خدیجہ و ابی طالب ۱ /۲۹۴ والحاوی للفتاوی ۲ /۲۲۸)
اللھم اجرنا من عذابک الالیم بجاہ نبیّک الرؤف الرحیم علیہ وعلٰی اٰلہ افضل الصلوۃ و ادوم التسلیم امین والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
اے اﷲ ! ہمیں اپنے درد ناک عذاب سے بچا رؤف و رحیم نبی کے صدقے میں، آپ پر اور آپ کی آل پر بہترین درود اور دائمی سلام ہو۔ اے اﷲ ہماری دعا قبول فرما۔ اور سب تریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
فصل چہارم :
علامہ عبدالرؤف منادی تییسر پھر علامہ علی بن احمد عزیزی سراج المنیر شروح جامع صغیر میں زیر حدیث ہشتم فرماتے ہیں :
ھٰذا یؤذن بموتہ علٰی کفرہ وھو الحق ووھم البعض۳ ۔
یعنی یہ حدیث بتاتی ہے کہ ابو طالب کی موت کفر پر ہوئی اور یہی حق ہے اور اس کا خلاف وہم ہے۔
( ۳ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث اھون اھل النار عذابا الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۱ /۳۸۴)
امام عینی زیر حدیث دوم وچہارم فرماتے ہیں :
ھذا کلہ ظاھر انہ مات علی غیر الاسلام فان قلت ذکر السہیلی انہ رای فی بعض کتب المسعودی ا نہ اسلم قلت مثل ھذا لایعارض ما فی الصحیح ۱ ۔
ان سب حدیثوں سے ظاہر ہے کہ ابوطالب کی موت غیر اسلامی پر ہوئی، اگر تُو کہے کہ سہیلی نے ذکر کیا کہ انہوں نے مسعودی کی کسی کتاب میں دیکھا کہ ابو طالب اسلام لے آئے میں کہوں گا ایسی بے سروپا حکایت احادیث صحیح بخاری کی معارض نہیں ہوسکتی۔
( ۱ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار تحت حدیث ۳۸۸۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۴)
اقول : علاوہ بریں اگر یہ مسعودی علی بن حسین صاحبِ مروج ہے تو خود رافضی ہے اس کی کتاب مروج الذھب خلفائے کرام وصحابہ عظام عشرہ مبشرہ وغیرھم رضی اللہ تعالٰی عہنم پر صریح تبراسے جا بجا آلودہ و ملوث ہے
لوط بن یحیٰی ابو مخنف رافضی خبیث ہالک کے اقوال و نقول بکثرت لاتا ہے جس کے مردود و تالف ہونے پر آئمہ جرح و تعدیل کا اجماع ہے اسی طرح اور رفاض و فساق وہالکین کے اخبار پر اس کی کتاب کا مدار ہے جیسا کہ اس کے مطالعہ سے واضح و آشکار ہے، فقیر غفر اﷲ تعالٰی نے اپنے نسخہ مروج الذھب کے ہامش پر اِس کی تنبیہ لکھ دی ہے۔
شاہ عبدالعزیز صاحب تحفہ اثنا عشریہ میں فرماتے ہیں :
ہشام کلبی مفسر کہ رافضی غالی ست وہمچنیں مسعودی صاحبِ مروج الذہب وابوالفرح اصبہانی صاحبِ کتاب الاغالی وعلٰی ہذا القیاس امثال اینہارا ایں فرقہ دراعداد اہلسنت داخل کنند وبمقولات ومنقولات ایشاں الزام اہلسنت خواہند۲ ۔
ہشام کلبی مفسر جو کہ غالی رافضی ہے، اسی طرح مروج الذھب کا مصنف مسعودی اور ابوالفرح اصبہانی صاحبِ کتاب الاغالی اور علٰی ہذا القیاس ان جیسے دیگر رافضیوں کو یہ فرقہ، اہل سنت میں داخل کرتا ہے اور ان کے اقوال و منعقولات سے اہل سنت کو الزام دینا چاہتا ہے۔ت)
( ۲ تحفہ اثنا عشریہ باب دوم فصل دوم کیدبست وسوم سہیل اکیڈمی لاہور ص ۴۱)
علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
القول باسلام ابی طالب لایصح قالہ ابن عساکر وغیرہ۳ ۔
ابو طالب کا اسلام ماننا غلط ہے امام ابن عساکر وغیرہ نے اس کی صریح کی۔
( ۳ شرح الرزقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالثانی الفصل الرابع دارالمعرفۃ بیروت۳ /۲۸۶)
اسی طرح اصابہ میں ہے کماسیأتی ( جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)
علامہ شہاب نسیم الریاض میں فرماتے ہیں :
من الغریب مانقلہ بعضھم ان اﷲ تعالٰی احیاہ لہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فامن بہ کابویہ واظنہ من افتراء الشیعۃ۱ ۔
غرائب سے ہے یہ جو بعض نے نقل کیا کہ اﷲ تعالٰی نے والدین رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرح ابو طالب کو بھی نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے زندہ کیا کہ بعد مرگ جی کر مشرف باسلام ہوئے میرے گمان میں یہ رافضیوں کی گھڑت ہے۔
( ۱ نسیم الریاض القسم الاول الباب الاول الفصل الخامس مرکز اہلسنت گجرات الہند ۱ /۲۱۰)
اقول : وضّاع کذاب رافضیوں ہی میں منح صر نہیں مگر یہ اُن کے مسلک کے موافق ہے لہذا اس کی وضع کا گمانِ انہیں کی طرف جاتا ہے پھر بھی بے تحقیق جزم کی کیا صورت ممکن کہ کسی اور نے وضع کی ہو، اس بنا پر لفظ ظن فرمایا ، ورنہ اس کے موضوع ومفتری ہونے میں تو شُبہ نہیں، کما لایخفٰی ( جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
علامہ صبان محمد بن علی مصری کتاب اسعاف الراغبین میں فرماتے ہیں :
اما اعمامہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فاثنا عشرۃ حمزۃ العباس وھما المسلمان وابوطالب والصحیح انہ مات کافرا ۲ ۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارہ۱۲چچا تھے، حمزہ وعباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور یہی دو مشرف با سلام ہوئے اور ابو طالب اور صحیح یہی ہے کہ یہ کافر مرے۔
( ۲ اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفٰی علٰی ھامش نور الابصار دارالفکر بیروت ص ۹۴)