امام احمد بن محمد خطیب قسطلانی مواہب الدنیہ و منح محمدیہ میں فرماتے ہیں:
کان العباس اصغر اعمامہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولم یسلم منھم الا ھو وحمزۃ۳ ۔
عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سب میں چھوٹے چچا تھے ، حضور کے اعمام میں صرف یہ اور حضرت حمزہ مسلمان ہوئے و بس۔
( ۳ ۔ المواہب اللدنیۃ المقصد الثانی الفصل الرابعالمکتب الاسلامی بیروت ۲ /۱۱۱)
امام محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ شرح منیہ اواخرصلوۃ اس مسئلہ کے بیان میں کہ کافر کے لیے دعائے مغفر ت ناجائز ہے، آیت دوم تلاوت کرکے فرماتے ہیں :
ثبت فی الصحیحین ان سبب نزول الایۃ قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ابی طالب لاستغفرن لک مالم انہ عنک۱ ۔
صحیحین میں ثابت ہوچکا ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابوطالب کے لیے دعائے مغفرت کی تھی ۔ (یعنی یہ کہا تھا کہ جب تک مجھے منع نہ کیا گیا میں تیرے لیے استغفار کروں گا) اس پر یہ آیت اتری۔
(۱حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
امام محی السنہ بغوی معالم شریف اول رکوع سورہ بقر میں زیر قولہ تعالٰی
ان الذین کفروا سواء علیہم ،
پھر قاضی حسین بن محمد دیار بکری مالکی مکی کتاب الخمیس میں فرماتے ہیں، کفر چار قسم ہے کفر انکار و کفر حجود و کفر عناد و کفر نفاق، کفر انکار یہ کہ اﷲ عزوجل کو نہ دل سے جانے اور نہ زبان سے مانے مگر دل میں نہ جانے۔
وکفر العناد ان یعرف اﷲ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولایدین بہ ککفر ابی طالب حیث یقول۲ ۔
ولقدعلمت بان دین محمد من خیرادیان البریۃ دینا
لولا الملامۃ اوحذار مسبۃ لوجدتنی سمحابذاک مبینا ۲ ۔
یعنی کفر عنادیہ کہ اﷲ تعالٰی کو دل سے بھی جانے اور زبان سے بھی کہے مگر تسلیم و گریدگی سے باز رہے جیسے ابو طالب کا کفر کہ یہ شعر کہے۔
واﷲ ! میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا دین تمام جہان کے دین سے بہتر ہے، اگر ملامت یا طعنے سے بچنانہ ہوتا تو تُو مجھے دیکھتا کہ میں کیسی اہل دلی کے ساتھ صاف صاف اس دین کو قبول کرلیتا۔
امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرآنی نے شرح التنقیح پھر امام قسطلانی نے مواہب میں کفار کی ایک قسم یوں بیان فرمائی :
من اٰمن بظاہرہ وباطنہ وکفر بعدم الاذعان للفروع کما حکی عن ابی طالب انہ کان یقول انی لاعلم ان مایقولہ ابن اخی لحق ولو لا انی اخاف ان تعیرنی نساء قریش لا تبعتہ وفی شعرہ یقول
لقد علموا ان ابننا لامکذب یقیناً ولا یعزی لقول الاباطل
فھذا تصریح باللسان و اعتقاد بالجنان غیرانہ لم یذعن۱
یعنی ایک کافر وہ ہے جو قلب سے عارف زبان سے معترف ہو مگر اذعان نہ لائے جیسے ابو طالب سے مروی کہ بے شک میں یقیناً جانتا ہوں کہ جو کچھ میرے بھتیجے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) فرماتے ہیں ضرور حق ہے اگر اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش کی عورتیں مجھے عیب لگائیں گی تو ضرور میں اُن کا تابع ہوجاتااور اپنے ایک شعر میں کہا : خدا کی قسم کافران قریش خوب جانتے ہیں کہ ہمارے بیٹے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) یقیناً سچے ہیں اور معاذ اﷲ کوئی کلمہ خلاف حق کہنا، ان کی طرف نسبت نہیں کیا جاتا۔ تو یہ زبان سے تصریح اور دل سے اعتقاد سب کچھ ہے مگر اذعان نہ ہوا۔
( ۱ المواہب اللدنیہ عالم الحزن وفاۃ ابی طالب المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۶۵)
امام ابن اثیر جزری نہایہ ، پھر علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :
کفر عناد ھو ان یعرفہ بقلبہ ویعترف بلسانہ ولا یدین بہ کابی طالب۲ ۔
کفر عنادیہ ہے کہ دل سے پہچانے اور زبان سے اقرار کرے مگر تسلیم و انقیاد سے باز رہے جیسے ابو طالب۔
( ۲ شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ وفاۃ خدیجہ و ابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۵)
علامہ مجدد الدین فیروز آبادی سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں :
چوں عمِ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ابو طالب بیمار شد باوجود آنکہ مشرک بود او راعیادت فرمود و دعوتِ اسلام کرو ابو طالب قبول نہ کرو اھ ملخصاً۱ ۔
جب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب بیمار ہوگئے تو ان کے کافر ہونے کے باوجود حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کی عیادت کی اور اسلام لانے کی دعوت دی جسے ابو طالب نے قبول نہ کیا۔(ت)
( ۱ شرح سفر السعادت فصل در بیان عیادت بیماراں و نماز جنازہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹)
شیخ محقق مدارج النبوۃ میں فرماتے ہیں :
حدیث صحیح اثبات کردہ است برائے ابو طالب کفر را۲ ۔
حدیثِ صحیح نے کفرِ ابوطالب کو ثابت کردیا ہے۔(ت)
( ۲ مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۸)
پھر بعد ذکر احادیث فرمایا :
و در روضۃ الاحباب نیز اخبار موت ابوطالب برکفر آوردہ الخ۳ ۔
روضۃ الاحباب میں بھی ابو طالب کے کفر پر مرنے کی احادیث لائی گئی ہیں۔ الخ (ت)
( ۳ ۔ مدارج النبوۃ وفات یافتن ابو طالب مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲ /۴۹)
بحرالعلوم ملک العلماء مولانا عبدالعلی فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں :
احادیث کفرہ شھیرۃ وقد نزل فی حق رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی شان عمہ ابی طالب "انک لاتھدی من احببت" کمافی صحیح مسلم وسنن الترمذی وقد ثبت فی الخبر الصحیح عن الامام محمد ن الباقر کرم اﷲ تعالٰی وجھہ الکریم ووجوہ اٰبائہ الکرام ان رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ورث طالبا وعقیلا اباھما ولم یورث علیا وجعفر ا قال علی ولذا ترکنا نصیبنا فی الشعب کذا فی مؤطا الامام مالک۴ ۔
حدیثیں اُس کے کفر کی مشہور ہیں، نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ان کے چچا ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو جیسا کہ صحیح مسلم اور ترمذی میں ہے تحقیق امام محمد باقر، "اﷲ تعالٰی نے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے چہرے کو مکرم بنایا"، سے خبر صحیح میں ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے طالب و عقیل کو ان کے باپ کا وارث بنایا مگر علی و جعفر کو وارث نہیں بنایا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے فرمایا : اسی وجہ سے ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترک کردیا۔ مؤطا امام مالک میں یونہی ہے۔(ت)
( ۴ ۔ فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی منشورات الشریف رضی قم ایران ۱/ ۱۵۳و۱۵۴)
یعنی کفر ابوطالب کی حدیثیں مشہور ہیں پھر اس کے ثبوت میں آیت اولٰی کا اترنا اور حدیث دہم کفرا بی طالب کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا علی و جعفر کو ترکہ نہ دلانا بیان فرمایا۔
اقول : وذکرالا مام الباقر رضی اللہ تعالٰی عنہ وقع زلۃ من القلم وانما ھو الامام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ کما اسمعنا ک من المؤطا والصحیحین وغیرھا۔
میں کہتا ہوں امام محمد باقر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ذکر قلم کی لغزش سے واقع ہوا۔ درحقیقت وہ امام زین العابدین ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ، جیسا کہ ہم تجھے بحوالہئ مؤطاوصحیحین وغیرہ بتاچکے ہیں۔ت)
نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض فصل الوجہ الخامس من وجوہ السب امام ابن حجر مکی سے نقل فرمایا :
حدیث مسلم ان ابی وابا ک فی النار اراد بابیہ عمہ ابا طالب لان العرب تسمی العم ابا (ملخصاً) ۱ ۔
حدیث مسلم میں کہ میرا اور تیرا باپ جہنم میں ہیں، باپ سے مراد آپ کے چچا ابو طالب ہیں کیونکہ عرب چچا کو باپ کہہ دیتے ہیں۔( ملخصاً) ( ت)
( ۱ نسیم الریاض کی شرح شفاءالقاضی عیاض فصل الوجہ خامس مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات الہند ۴ /۴۱۴)
یعنی عرب کی عادت ہے کہ باپ کو چچا کہتے ہیں، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی اسی عادت پر اس حدیث میں اپنے چچا ابوطالب کو باپ کہہ کر فرمایا کہ وہ دوزخ میں ہے۔