امام ابن بطال نے فرمایا: اس حدیث سے مشرک کو بلفظ کنیت یاد کرنے کا جواز معلوم ہوا۔
( ۵ عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الادب تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹)
اُسی میں ہے :
فیہ دلالۃ انّ اﷲ تعالٰی قد یعطی الکافر عوضاً من اعمالہ التی مثلھا یکون قربۃ لا ھل الایمان باﷲ تعالٰی لانہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اخبر ان عمہ نفعتہ تربیتہ ایاہ وحیاطتہ لہ التخفیف ۱ ۔ الخ
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اﷲ عزوجل کافر کو بھی اس کے اعمال کا کچھ عوض دیتا ہے، جو اہلِ ایمان کریں تو قرُب الہٰی پائیں ۔ دیکھو نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خبر دی کہ حضور کے چچا کو حضور کی خدمت و حمایت نے تخفیف عذاب کا فائدہ دیا الخ۔
( ۱عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرک تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹)
امام عارف باﷲ سیدّی علی متقی مکی قدس سرہ الملکی نے اپنی کتبِ جلیلہ منہج العمال وکنزالعمال و منتخب کنزالعمال میں ایک باب منعقد فرمایا :
الباب السادس فی اشخاص لیسوا من الصحابۃ۲ ۔
اُن شخصوں کے ذکر میں جوصحابی نہیں، اور اسی باب میں ابو طالب و ابوجہل وغیرہما ذکر کیا۔
(۲ کنز العمال الباب السادس فی فضل اشخاص لیسوا من الصحابۃ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۰)
اسی طرح علامہ عبدالرحمن بن شیبا نے تیسیرا الوصول الٰی جامع الاصول میں احادیث ذکر ابی طالب کو فصل غیر صحابہ میں وارد کیا اور اس میں صرف حدیث دوم و چہارم و پنجم کو جلوہ دیا۔ اگر ابوطالب کو اسلام نصیب ہوتا تو کیا وہ شخص صحابہ سے خارج ہوسکتا جس نے بچپن سے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو گود میں پالا اور مرتے دم تک حضر و سفر کی ہمرکابی سے بہرہ یابی کا غلغلہ ڈالا۔
یونہی امام حافظ الحدیث ابوالفضل شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے کتاب اصابہ فی تمییز الصحابہ میں ابو طالب کو باب الکنی حرف الطاء المہملہ کی قسم رابع میں ذکر کیا۔ یعنی وہ لوگ جنہیں صحابی کہنا مردود ؤغلط و باطل ہے۔
اسی میں فرماتے ہیں :
ورد من عدۃ طرق فی حق من مات فی الفترۃ ومن ولد مجنونا ونحوذٰلک ان کلامنھم یدلی بحجۃ ویقول لوعقلت اوذکرت لآمنت فترفع لھم نار ویقال لھم ادخلوھا فمن دخلہا کانت علیھم بردًا وسلاماً ومن امتنع ادخلہا کرھا ونحن نرجو ان یدخل عبدالمطلب واٰل بیتہ فی جملۃ من یدخلہا طائعا فینجو، لکن وردفی ابی طالب ما یدفع ذلک وھو ما تقدم من اٰیۃ براء ۃ وما فی الصحیح انہ فی ضحضاح من النار، فھٰذ شان من مات علی الکفرفلوکان مات علی التوحید لنجامن النار اصلاو الاحادیث الصحیۃ والاخبار المتکاثرۃ طافحۃ بذلک ۱ ۔ اھ مختصراً۔
یعنی بہت اسانید سے حدیث آئی کہ جو زمانہ فترت میں اسلام آنے سے پہلے مرگیا یا مجنون پیدا ہوا اور جنون ہی میں گزر گیا اور اسی قسم کے لوگ جنہیں دعوتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نہ پہنچی ان میں ہر ایک روزِ قیامت ایک عزر پیش کرے گا کہ الٰہی ! میں عقل رکھتا یا مجھے دعوت پہنچتی تو میں ایمان لاتا ، ان کے امتحان کو ایک آگ بلند کی جائے گی اور ارشاد ہوگا اس میں جاؤ جو حکم مانے گا اور اس میں داخل ہوگا وہ اس پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے گی ، اور جو نہ مانے گا جبراً آگ میں ڈالا جائے گا، اور ہمیں امید ہے کہ عبدالمطلب اور انکے گھر والے کہ قبل ظہورِ نور اسلام انتقال کرگئے وہ سب انہیں لوگوں میں ہوں گے جو اپنی خوشی سے اس امتحانی آگ میں جا کر نا جی ہوجائیں گے، مگر ابوطالب کے حق میں وہ وارد ہو لیا جو اسے دفع کرتا ہے ، سورہ توبہ شریف کی آیت اور حدیث صحیح کا ارشاد کہ وہ پاؤں تک کی آگ میں ہے۔ یہ حال اس کا ہے جو کافر مرے، اگر اخیر وقت اسلام لاکر مرنا ہوتا تو دوزخ سے نجات کُلی چاہیے تھی، صحیح وکثیر حدیثیں کفر ابی طالب ثابت کررہی ہیں۔ اھ مختصر۔
(۱ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸)
پھر فرمایا :
وقد فخر المنصور علی محمد بن عبداﷲ بن الحسن لما خرج بالمدینۃ وکاتبہ المکاتبات المشہورۃ ومنہا فی کتاب المنصور وقد بعث النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ولہ اربعۃ اعمام فاٰمن بہ اثنان احدھما ابی وکفر بہ اثنان احدھما ابوک۲ ۔
یعنی جب امام نفس زکیہ محمد بن عبداﷲ بن حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالٰی عنہم نےخلیفہ عباسی عبداللہ بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما مشہور بہ منصور و وانیقی پر خروج فرمایا اور مدینہ طیبہ پر تسلط کرکے خلیفہ و امیر المومنین لقب پایا اُن میں اور خلیفہ مذکور منصور میں مکاتبات مشہورہ ہوئے ازاں جملہ منصور نے ایک نامہ میں لکھا جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت ظاہر ہوئی حضور کے چار چچا زندہ تھے حمزہ و عباس و ابوطالب وابولہب دو حضور پر ایمان لائے ایک ان میں میرے باپ ہیں یعنی حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ، اور دو کافر رہے ایک ان میں آپ کے باپ ہیں یعنی ابو طالب ۔
(۲ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء القسم الرابع ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸)
یہ منصور علاوہ خلیفہ و اہلبیت ہونے کے خود بھی علمائے تبع تابعین و فقہاء محدثین سے ہیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں انہیں فقیہ النفس و جید المشآرکہ فی العلم لکھا اور فرمایا :
ولد سنۃ خمس وتسعین وادرک جدّہ ولم یروعنہ وروی عن ابیہ و عن عطاء بن یسار و عنہ ولدہ المھدی ۱ ۔
وہ ۹۵ ھ میں پیدا ہوا، اپنے دادا کو پایا مگر ان سے روایت نہیں کی، اپنے باپ اور عطا ء بن یسار سے روایت کی اور اس سے اس کے بیٹے مہدی نے روایت کی ۔ (ت)
(۱ تاریخ الخلفاء احوال المنصور ابو جعفر عبداللہ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۸۰)
اور امام اجل نفس زکیہ کو یوں بے تامل لکھ بھیجنا اور امام کا اس پر رد نہ فرمانا بھی بتارہا ہے کہ کفر ابی طالب واضح و مشہور بات تھی، اصابہ میں اس کے بعد فرمایا :
ومن شعر عبداﷲ بن المعتزیخاطب الفاطمین۔ع
وانتم بنوبنتہ دوننا ونحن بنو عمہ المسلم۲
یعنی عبداﷲ بن محمد بن جعفر بن محمد بن ہارون بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما، یا یوں کہیے کہ چھ خلفاء کے بیٹے عبداللہ بن المعتزباﷲ ابن المتوکل ابن المعتصم ابن الرشید ابن المہدی ابن المنصور کا ایک شعر بعض ساداتِ کرام کے خطاب میں ہے کہ : "تم حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے نواسے ہو ہم نہیں، اور ہم حضور کے مسلمان چچا کے بیٹے ہیں"۔
(۲ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸)
اِس میں بھی کفرِ ابی طالب پرصاف تعریض موجود ہے عبداللہ اہل علم و فضل سے ہیں، حدیث میں علی بن حرب معاصر امام بخاری و مسلم کے شاگرد نیز امام ممدوح کتاب الاحکام پھر امام قسطلانی مواہب میں فرماتے ہیں :
نحن نرجوان یدخل عبدالمطلب واٰل بیتہ الجنۃ الاابا طالب فانہ ادرک البعثۃ ولم یؤمن ۱ اھ باختصار۔
ہم امید کرتے ہیں کہ عبدالمطلب اور ان کے اہلبیت سب جنت میں جائیں گے سوا ابوطالب کے کہ زمانہ اسلام پایا اور اسلام نہ لائے۔
( ۱ المواھب اللدنیۃ قضیۃ نجاۃ والدیہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رای المصنف فی المسئلۃ المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۱۸۳)
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء ترجمہ ۶۸۵ ابوطالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۸)
نیز فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
من عجائب الاتفاق ان الذین ادرکھم الاسلام من اعمام النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اربعۃ لم یسلم منھم اثنان واسلم اثنان وکان اسم من لم یسلم ینافی اسامی المسلمین وھما ابوطالب و اسمہ عبد مناف وابولھب و اسمہ عبدالعزّی بخلاف من اسلم وھما حمزۃ والعباس۲ ۔
عجائب اتفاق سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چار چچا زمانہ ئ اسلام میں زندہ تھے، دو اسلام نہ لائے اور دو مشرف باسلام ہوئے، وہ دو کے اسلام نہ لائے ان کے نام بھی پہلے ہی سے مسلمانوں کے نام کے خلاف تھے۔ ابو طالب کا نام عبدمناف تھا اور ابولہب کا عبدالعزی ، اور دو کہ مسلمان ہوئے انکے نام پاک وصاف تھے حمزہ و عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ۔
( ۲ ۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب مصطفٰی البابی مصر ۸ /۱۹۶)
(شرح الزرقانی علی المواہب الدنیۃ عام الحزن وفاۃ خدیجہ وابی طالب دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۹۶)