Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
140 - 157
امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں :
مات کافر یغسلہ ولیہ المسلم ویکفنہ ویدفنہ،  والاصل فیہ انہ لما مات ابوطالب اتی علی رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وقال انّ عمّک الشیخ الضال قد مات فقال اغسلہ واکفنہ وادفنہ و لاتحدث حدثا حتی تلقانی ای لاتصل علیہ۱ ؂۔
کافر مرجائے تو اس کا مسلمان رشتہ دار اس کو غسل دے،  کفن پہنائے اور دفن کرے،  اس میں اصل یہ ہے کہ جب ابوطالب مرگئے تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا مرگیا ہے،  رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اس کو غسل دو، کفن پہناؤ اور دفن کرو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا یہاں تک کہ مجھے آملو یعنی اس کی نمازِ جنازہ مت پڑھنا الخ ۔(ت)
( ۱ ؂الکافی شرح الوافی)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
مات للمسلم قریب کافر لیس لہ ولی من الکفار یغسلہ غسل الثوب الجنس ویلفہ فی خرقۃ ویحفرلہ حفرۃ ویلفیہ فیہا من غیر مراعاۃ السنۃ فی ذلک لماروی ان اباطالب لما ھلک جاء علیّ فقال یارسول انّ عمّک الضال قدمات ۲ ؂۔ الخ
مسلمان کا کوئی قریبی کافر رشتہ دار مر گیا۔ اس کا کافروں میں کوئی وارث موجود نہیں ہے تو وہ مسلمان اُسے غسل دے جیسے پلید کپڑے کو دھویا جاتا ہے،  ایک کپڑے میں لپیٹے اور ایک گڑھا کھود کر اس میں پھینک دے اور اس سلسلے میں سنت کا لحاظ نہ کرے کیونکہ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا انتقال ہوا تو حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آکر کہا یارسول اﷲ ! آپ کا گمراہ چچا مرگیا ہے۔الخ
 ( ۲ ؂۔ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الجنائز   سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۶۰۳)
علامہ ابراہیم طرابلسی برہان شرح مواہب الرحمن پھر علامہ سیّد احمد طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں زیر قول نور الایضاح
ان کان للکافر قریب مسلم غسلہ
 ( اگر کسی کافر کا کوئی قریبی رشتہ دار مسلمان ہو تو وہ اس کو غسل دے ۔  ت) فرماتے ہیں :
الاصل فیہ ما رواہ ابوداؤد وغیرہ عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ قال لما مات ابوطالب۳ ؂۔ الحدیث  ۔
اصل اس میں وہ حدیث ہے جس کو ابوداؤد وغیرہ نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ جب ابوطالب مرگیا تو انہوں نے کہا ۔(الحدیث ۔ ت)
 ( ۳ ؂ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب احکام الجنائز فصل السلطان احق بصلٰوتہ  نور محمد کارخانہ کراچی   ص ۳۲۹ و ۳۳۰)
علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
یغسل ولی مسلم الکافر ویکفنہ ویدفنہ بذلک امر علی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان یفعل بابیہ حین مات۱ ؂۔
مسلمان رشتہ دار کا فر کو غسل دے،  کفن پہنائے اور دفن کرے،  حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا جب اُن کا باپ مرگیا۔(ت)
 ( ۱ ؂بحرالرائق   کتاب الجنائز  فصل السلطان احق بصلٰوتہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹۰)
ان سب عبارتوں کا حاصل یہ ہےکہ مسلمان اپنے قرابت دار کا فر مردہ کو نہلاسکتا ہے کہ مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، نے اپنے باپ ابوطالب کو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اجازت سے نہلایا۔
فتح القدیر وکفایہ وبنایہ وغیرہا تمام شروح ہدایہ میں اس مضمون کو مقبول و مقرر رکھا۔ کتبِ فقہ میں اس کی عبارات بکثرت ملیں گی سب کی نقل سے اطالت کی حاجت نہیں،  واضح ہوا کہ سب علمائے کرام ابوطالب کو کافر جانتے ہیں۔ یونہی امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں
"باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک" ۲ ؂
وضع فرمایا یعنی "باب اُس شخص کا جس کا کوئی قرابت دار مشرک مرے،"  اور امام نسائی نے
"باب مواراۃ المشرک" ۳؂
یعنی "دفن مشرک کا باب"، اور دونوں نے اس میں یہی حدیث موتِ ابی طالب ذکر کی،
 ( ۲ ؂ سُنن ابی داؤد کتاب الجنائز   باب الرجل یموت لہ الخ آفتاب عالم پریس لاہور   ۲ /۱۰۲)

(۳ ؂سُنن النسائی کتاب الجنائز   باب مواراۃ المشرک  نور محمد کارخانہ کراچی   ۱ /۲۸۳)
انہیں نسائی کے اسی مجتبٰی میں ایک باب
" النھی عن الاستغفار للمشرکین" ۴ ؂
ہے اس میں حدیث دوم روایت کی،  ابن ماجہ نے سُنن میں باب میراث
"اھل الاسلام من اھل الشرک " ۵؂
لکھا یعنی مشرک کا ترکہ مسلم کو ملے گا یا نہیں۔ اس میں حدیث دوم وارد کی۔
 (۴ ؂ سنن النسائی کتاب الجنائز    باب النہی عن الاستغفار للمشرکین   نور محمد کارخانہ کراچی   ۱ /۲۸۶)

(۵ ؂سنن ابن ماجہ   ابواب الفرائض   باب میراث اہل الاسلام من اھل الشرک   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۲۰۰)
امام اجل صاحب المذہب سیّدنا امام مالک نے مؤطا شریف میں باب
"التوارث بین اھل الملل"۶؂
منعقد فرمایا یعنی مختلف دین والوں میں ایک کو دوسرے کا ترکہ ملنے کا حکم،  اور اس میں حدیثیں مسلم و کافر کے عدمِ توارث کی روایت فرمائیں جن میں یہ حدیث امام زین العابدین دربارہ ترکہ ابوطالب مذکور حدیث دہم بھی ارشاد کی ۔
 (۶ ؂ مؤطا الامام مالک کتاب الفرائض     باب میراث اہل الملل   میرمحمد کتب خانہ کراچی        ص ۶۶۶)
یونہی امام محرر المذہب سیّدنا امام محمد نے مؤطا شریف میں باب
"لایرث المسلم الکافر" ۷؂
منعقد فرما کر حدیث مذکور ایراد کی۔
 ( ۷؂ مؤطا الامام محمد کتاب الفرائض    باب لایرث المسلم کافر   نور محمد کارخانہ کراچی       ص ۳۱۹ و۳۲۰)
امام اجل محمد بن اسمعیل بخاری  نے جامع صحیح کتاب الجنائز میں ایک باب وضع فرمایا :
"باب اذاقال المشرک عندالموت لا الٰہ الاّ اﷲ" ۱ ؂۔
یعنی باب اس کے بیان کا کہ مشرک مرتے وقت لا الٰہ الا اﷲ کہے تو کیا حکم ہے اور اس میں حدیث دوم روایت فرمائی۔اُسی کی کتاب الادب میں لکھا
"باب کنیۃ المشرک"۲ ؂۔
 ( ۱ ؂صحیح البخاری    کتاب الجنائز  باب اذاقال المشرک عندالموت الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۸۱ )

 ( ۲؂صحیح البخاری     کتاب الادب   باب کنیۃ المشرک   قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۶)
اس میں حدیث چہارم روایت اور حدیث مذکور :
سمعت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یقول وھو علی المنبر ان بنی ھاشم بن المغیرۃ استاذنونی ان ینکحو ا ابنتھم علی بن ابی طالب۳ ؂۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب کے ساتھ کردیں۔(ت)
 ( ۳ ؂صحیح البخاری  کتاب النکاح    باب ذب الرجل عن ابنتہ فی الغیرہ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۸۷)
ذکر کی______ امام قسطلانی نے تطبیقِ حدیث و ترجمہ میں لکھا
"فذکرابا طالب المشرک بکنیۃ"
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو طالب مشرک کو کنیت سے یاد فرمایا۔
پھر لکھا :
قد جوزواذکر الکافر بکنیتہ اذا کان لایعرف الا بہا کما فی ابی طالب اوکان علٰی سبیل التالف رجاء اسلامھم اوتحصیل منفعۃ منھم لا علی سبیل التکریم فانا ما مورون بالاغلاظ علیھم۴ ؂۔
علماء نے کافر کو کنیت سے ذکر کرنا ناجائز رکھا جب کہ وہ اور نام سے نہ پہچانا جائے جیسے ابو طالب یا بامیدِ اسلام تالیف مقصود یا کام نکالنا ہو مگر بطورِ تکریم جائز نہیں کہ ہمیں ان پر سختی کرنے کا حکم ہے۔
( ۴ ؂ ارشاد الساری    کتاب الادب    باب کنیۃ المشرک تحت الحدیث ۶۲۰۸    بیروت    ۲۳ /۲۰۷ و ۲۱۰)
Flag Counter