حدیث یاز دہم : عمر بن شبہ کتاب مکہ میں اور ابویعلٰی وابوبشر اور سمویہ اپنے فوائد اور حاکم مستدرک میں بطریق محمد بن سلمہ بن ہشام بن حسان عن محمد بن سیرین قصہ اسلام ابی قحافہ والد امیر المومنین صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہما میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال فلما مدیدہ یبایعہ بکی ابوبکر فقال النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ما یبکیک قال لان تکون ید عمّک مکان یدہ ویسلم ویقراﷲ عینک احب الیّ من ان یکون ۱ ۔
یعنی جب حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا دست انور ابوقحافہ سے بیعت اسلام لینے کے لیے بڑھایا ، صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ روئے، حضور پرُنورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں روتے ہو؟ عرض کی : ان کے ہاتھ کی جگہ آج حضور کےچچاکا ہاتھ ہوتا اور ان کے اسلام لانے سے اﷲ تعالٰی حضور (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی آنکھ ٹھنڈی کرتا تو مجھی اپنے باپ کے مسلمان ہونے سے زیادہ یہ بات عزیز تھی۔
( ۱ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ عمر بن شیبہ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶)
حاکم نے کہا : یہ حدیث برشرطِ شیخین صحیح ہے۔ حافظ الشان نے اصابہ میں اسے مسلم رکھا اور فرمایا :
سندہ صحیح۲ ۔
(اس کی سند صحیح ہے۔ت)
( ۲ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ عمر بن شیبہ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۶)
حدیث دوازدہم : ابوقرہ موسٰی بن طارق وہ موسٰی بن عبید ہ وہ عبداﷲ بن دینار وحضور عبدا ﷲ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قال جاء ابوبکر یابی قحافۃ یقودہ یوم فتح مکۃ فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الا ترک الشیخ حتی نأتیہ قال ابوبکر ادرت ان یأجرہ اﷲ والذی بعثک بالحق لانا کنت اشد فرحا باسلام ابی طالب لوکان اسلم منی بابی۳ ۔
یعنی صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ فتح مکہ کے دن ابو قحافہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر لائے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اس بوڑھے کو وہیں کیوں نہ رہنے دیا کہ ہم خود اس کے پاس تشریف فرما ہوتے،صدیق نے عرض کی کہ میں نے چاہا کہ اُن کو اجر دے قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے سے زیادہ ابوطالب کے مسلمان ہونے کی خوشی ہوتی اگر وہ ا سلام لے آتے۔(ت)
( ۳ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ ابی قرۃ وغیرہ ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷)
اﷲ اﷲ یہ محبوب میں فنائے مطلق کا مرتبہ ہے ،
صدق اﷲ والذین اٰمنوا اشد حبّاﷲ۴۔
( اﷲ تعالٰی نے سچ فرمایا اور ایمان والوں کو اﷲ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔ت)
( ۴ القرآن الکریم ۲ /۱۶۵)
اسی طرح امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ عَمِّ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے کہا :
مجھے آپ کے اسلام کی جتنی خوشی ہوئی اپنے باپ خطاب کے اسلام کی اتنی نہ ہوتی۔ (اس کو ابواسحق اس کی سیرت میں ذکر کیا۔ت)
(۱ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃبحوالہ ابن اسحاق ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷)
حدیث سیزدہم : یونس بن بکیر فی زیادات مغازی ابن اسحق عن یونس بن عمرو عن ابی السفر : قال بعث ابوطالب الی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقال اطعمنی من عنب جنتک فقال ابوبکر ان اﷲ حرمھا علی الکافرین۳ ۔
یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کر بھیجی کہ مجھے اپنی جنت کے انگور کھلائے۔ اس پر صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا : بے شک اﷲ نے انہیں کافروں پر حرام کیا ہے۔
( ۳ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ بحوالہ ابن اسحاق ذکر ابی طالب دارصادر بیروت ۴ /۱۱۷)
حدیث چہار دہم : الواحدی من حدیث موسٰی بن عبیدۃ قال اخبرنا محمد بن کعب القرظی قال بلغنی انہ لما اشتکی ابوطالب شکواہ التی قبض فیہا قالت لہ قریش ارسل الٰی ابن اخیک یرسل الیک من ھٰذہ الجنۃ التی ذکرھا یکون لک شفاء فارسل الیہ فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ حرمھا علی الکافرین طعامھاوشرابہا ثم اتاہ فعرض علیہ الاسلام ، فقال لولاان تعیربھا فیقال جزع عمّک من الموت لاقررت بہا عینک واستغفرلہ بعد مامات فقال المسلمون مایمنعنا ان نستغفر لآبائنا ولذوی قرابتنا قداستغفر ابراہیم علیہ السلام لابیہ ومحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعمہ فاستغفر وا للمشرکین حتی نزلت ما کان للنبی والذین اٰمنوا الاٰیۃ ۔
یعنی ابو طالب کے مرض الموت میں کافرانِ قریش نے صلاح دی کہ اپنے بھتیجے (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) سے عرض کرو کہ یہ جنت جو وہ بیان کرتے ہیں اس میں سے تمہارے لیے کچھ بھیج دیں کہ تم شفاء پاؤ۔ ابوطالب نے عرض کر بھیجی حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اﷲ تعالٰی نے جنت کا کھانا پانی کافروں پر حرام کیا ہے، ۔ پھر تشریف لا کر ابو طالب پر اسلام پیش کیا۔ ابو طالب نے کہا : لوگ حضور پر طعنہ کریں گے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا چچا موت سے گھبرا گیا اس کا خیال نہ ہوتا تو میں حضور کی خوشی کردیتا۔ جب وہ مر گئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انکے لیے دعا ئے مغفرت کی ، مسلمانوں نے کہا ہمیں اپنے والدوں قریبوں کےلیےدعائے بخشش سے کون مانع ہے،ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نےاپنےباپ کے لیے استغفار کی، محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے چچا کے لیے استغفار کررہے ہیں، یہ سمجھ کر مسلمانوں نے اپنے اقارب مشرکین کے واسطے دعائے مغفرت کی، اﷲ عزوجل نے آیت اتاری کہ مشرکوں کے لیے یہ دعا نہ نبی کو روا نہ مسلمانوں کو، جب کہ روشن ہولیا کہ وہ جہنمی ہیں۔ والعیاذ باﷲ تعالٰی
( ۱ ۔ )
حدیث پانزدہم : ابونعیم حلیہ میں امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی، رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
کانت مشیّۃ اﷲ عزوجل فی اسلام عمی العباس و مشیتی فی اسلام عمی ابی طالب فغلبت مشیۃ اﷲ مشیتی ۲ ۔
اﷲ تعالٰی نے میرے چچا عباس کا مسلمان ہونا چاہا اور میری خواہش یہ تھی کہ میرا چچا ابوطالب مسلمان ہو، اﷲ تعالٰی کا ارادہ میری خواہش پر غالب آیا کہ ابو طالب کا فر رہا اور عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ مشرف با سلام ہوئے ۔
فللّٰہ الحجۃ البالغۃ
( ۲ ۔کنزالعمال برمز ابی نعیم عن علی حدیث ۳۴۴۳۹ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ /۱۵۲)
فصل سوم :
چون ۵۴ اقوال ائمہ کرام و علمائے اعلام اُوپر گزرے اور بعد کلام خدا و رسول جل جلالہ، وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیا حالتِ منتظرہ باقی ہے خاتمہ کا حال خدا و رسول سے زیادہ کون جانے، عزمجدہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،
مگر تکثیر فوائد و تسکین زائد کے لیے بعض اور بھی کہ سردست پیش نظر ہیں اضافہ کیجئےکہ زیادت خیر زیادت خیر ہے۔ وباﷲ التوفیق۔
امام الائمہ، مالک الازمّہ ، کاشف الغمہ، سراج الائمہ ، سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فقہ اکبرمیں فرماتےہیں :
ابوطالب عمہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مات کافرا ۱۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت کُفر پر ہوئی۔ والعیاذباﷲ
( ۱ الفقہ الاکبر مع وصیّت نامہ ملک سراج الدین اینڈ سنز پبلشرز کشمیری بازار لاہور ص ۲۱)
امام برہان الدین علی بن ابی بکر فرغانی ہدایہ میں فرماتے ہیں :
اذا مات الکافر ولہ ولی مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ بذلک امر علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فی حق ابیہ ابی طالب لکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ و یحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین واللحد ولایوضع فیہ بل یلقی۲ ۔
جب کافر مرجائے اور اس کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود ہو تو وہ اس کو غسل دے، کفن پہنائے اور دفن کرے، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کے باپ ابو طالب کے بارے میں ایسا ہی حکم دیا گیا ۔ لیکن اس کو غسل ایسے دیا جائے جیسے پلیڈ کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے گڑھا کھودا جائے، کفن پہنانے اور لحد بنانے کی سنت ملحوظ نہ رکھی جائے اور نہ ہی اس کو گڑھے میں رکھا جائے بلکہ پھینکا جائے۔(ت)
( ۲ الہدایہ باب الجنائز فصل فی الصلوۃ علی المیت المکتبۃ العربیۃ دستگیر کالونی کراچی ۱ /۶۲۔۱۶۱)