Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
138 - 157
حدیث نہم : امام شافعی و امام احمد و امام اسحق بن راہویہ و ابوداؤد و طیالسی اپنی مسانید اور ابن سعد طبقات اور ابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور ابوداؤد و نسائی سنن اور ابن خزیمہ اپنی     صحیح اور ابن الجارود منتقی اور مروزی کتاب الجنائز اور بزار و ابویعلٰی مسانید اور بیھقی سنن میں بطریقِ عدیدہ حضرت سیدنا امیر المومنین مولا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی :
قال قلت للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان عمّک الشیخ الضال قد مات قال اذھب فوار اباک ۱ ؂۔
یعنی میں نے حضورِ اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی: یارسول اﷲ ! حضور کا چچا وہ بُڈھا گمراہ مرگیا ، جا، اسے دبا آ۔
 ( ۱ ؂۔ نصب الرایۃ    بحوالۃ الشافعی واسحق بن راہو یہ وابی داؤد الطیالسی وغیرھم کتاب الصلوۃفصل فی الصلوۃ علی المیت الحدیث الحادی العشرالنوریۃ الرضویۃ پبلشنگ کمپنی لاہور    ۲ /۲۸۹ و ۲۹۰)

(سُنن ابی داؤدکتاب الجنائز باب الرجل یموت لہ قرابۃ مشرک آفتاب عالم پریس   ۲ /۱۰۲)

(مسند احمد بن حنبل عن علی رضی اللہ عنہ  المکتب الاسلامی بیروت   ۱ /۱۲۹ و۱۳۰)

(السنن الکبری کتاب الجنائزباب المسلم یغسل ذاقرابتہ    دارصادر بیروت  ۳ /۳۵۸)
ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے مولا علی نے عرض کی :
ان عمّک الشیخ الکافرقدمات فما تری فیہ،  قال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اری ان تغسلہ وامرہ بالغسل۲ ؂۔
حضور کا چچا وہ بڈھا کافر مر گیا اس کے بارے میں حضور کی کیا رائے ہے یعنی غسل وغیرہ دیا جائے یا نہیں؟ سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا نہلا کر دبا دو۔
 ( ۲ ؂۔ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الجنائزباب فی الرجل یموت لہ قرابۃ المشرک    ادارۃ القرآن کراچی ۳ /۳۴۸)
امام شافعی کی روایت میں ہے :
   فقلت یارسول اﷲ انہ مات مشرکا قال اذھب فوارہ۳ ؂۔
میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ ! وہ تو مشرک مرا،  فرمایا : جاؤ ،  دبا آؤ۔
 (۳ ؂ نصف الرایہ بحوالۃ الشافعی کتاب الصلوۃ فصل فی الصلوۃ علی ا لمیت    النوریہ الرضویہ الخ  ۳ /۲۹۰)
امام الائمہ ابن خزیمہ نے فرمایا : حدیث     صحیح ہے۔

امام حافظ الشان اصابہ فی تیمیز الصحابہ میں فرماتے ہیں:
صححہ ابن خزیمہ  ۴ ؂۔
 ( ابن خزیمہ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ت)
 ( ۴ ؂۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ حرف الطاء    ابوطالب دارصادر بیروت  ۴ /۱۱۷)
اس حدیث جلیل کو دیکھئے ابوطالب کے مرنے پر خود امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ الکریم حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ حضور کا وہ گمراہ کافر چچا مر گیا۔ حضور اس پر انکار نہیں فرماتے نہ خود جنازے میں تشریف لے جاتے ہیں۔ ابو طالب کی بی بی امیر المومنین کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ تعالٰی عنہما نے جب انتقال کیا ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی چادر وقمیص مبارک میں انہیں کفن دیا۔ اپنے دستِ مبارک سے لحد کھودی،  اپنے دستِ مبارک سے مٹی نکالی،  پھر ان کے دفن سے پہلے خود ان کی قبر مبارک میں لیٹے اور دعا کی۔
اﷲ الذی یحیی ویمیت وھو حیّ لایموت اغفرلاُمّی فاطمۃ بنت اسد و وسّع علیہا مدخلہا بحق نبیک والانبیاء الذین من قبل،  فانّک ارحم الراحمین رواہ الطبرانی ۱؂ فی الکبیر والاوسط وابن حبان والحاکم وصححہ وابونعیم فی الحلیۃ عن انس ونحوہ ابن ابی شیبۃ عن جابروالشیرازی فی الالقاب وابن عبدالبر وابونعیم فی المعرفۃ ،  والدیلمی بسند حسن عن ابن عباس و ابن عساکر عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین ۔
اللہ جِلاتا ہے اور مارتا ہے اور خود زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا،  میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اُن کی قبر وسیع کر صدقہ اپنے نبی کا اور مجھ سے پہلے انبیاء کا ،  تو سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔(روایت کیا اس کو طبرانی نے کبیرواوسط میں،  ابن حبان نے حاکم نے اور اس نے اس کی تصحیح کی،  ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ،  اور اس کی مثل ابن ابی شیبیہ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے،  شیرازی نے القاب میں،  ابن عبدالبر نے ،  ابونعیم نے معرفہ میں،  ویلمی نے سند حسن کے ساتھ ابن عباس سے اور ابن عساکر نے حضرت علی سے ،  رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ت)
 ( ۱ ؂ مجمع الزوائد    کتاب المناقب باب مناقب بنت اسد   دارالکتاب بیروت   ۹ /۲۵۷)

(کنزالعمال    حدیث ۳۴۴۲۸  مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۲ /۱۴۷ )
کاش ابوطالب مسلمان ہوتے تو کیا سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُن کے جنازہ میں تشریف نہ لے جاتے ۔     صرف اتنے ہی ارشاد پر قناعت فرماتے کہ جاؤ اسے دباء آو  امیر المومنین کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم کی قوتِ ایمان دیکھئے کہ خاص اپنے باپ نے انتقال کیا ہے اور خود حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غسل کا فتوٰی دے رہے ہیں،  اور یہ عرض کرتے ہیں کہ یارسول اﷲ! وہ تو مشرک مرا۔ ایمان ان بندگانِ خدا کے تھے کہ اﷲ و رسول کے مقابلہ میں باپ بیٹے کسی سے کچھ علاقہ نہ تھا،  اﷲ و رسول کے مخالفوں کے دشمن تھے اگرچہ وہ اپنا جگر ہو،  دوستانِ خدا و رسول کے دوست تھے اگرچہ اُن سے دنیوی ضرر ہو۔
اولٰئک کتب فی قلوبھم الایمان و ایدھم بروح منہ ویدخلہم جنت تجری من تحتہا الانھٰر خٰلدین فیہا رضی ا عنہم ورضواعنہ اولئک حزب اﷲ الا ان حزب اﷲ ھم المفلحون o ( ۱ ؂۔
جعلنا اﷲ منھم بھم ولھم بفضل رحمۃ بھم انہ ھو الغفور الرحیم ،  والحمدﷲ رب العلمین وصلی اللہ تعالٰی علیہ سیدنا ومولٰینا محمد وٰلہ واصحابہ اجمعین اٰمین ۔
یہ ہیں جن کے دلوں میں اﷲ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے انکی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں،  ان میں ہمیشہ رہیں۔ اﷲ ان سے راضی اوروہ اﷲ سے راضی۔ یہ اﷲ کی جماعت ہے،  سنتا ہے اﷲ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔ اﷲ تعالٰی ہمیں ان کے صدقے میں ان میں سے کردے۔ بے شک وہ ہی بہت بخشنے والا مہربان ہے،  اور سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا،  اور درود نازل فرمائے اﷲ تعالٰی ہمارے آقا محمد مصطفٰی ! آپ کی آل اورآپ کے تمام     صحابہ پر،  اے اﷲ ! ہماری دُعا قبول فرما ! (ت)
 (۱؂القرآن الکریم  ۵۸/ ۲۲)
حدیث دہم : بخاری  و مسلم اپنی     صحاح اور ابن ماجہ اپنی سنن اور طحاوی شرح معانی آلاثار اور اسماعیلی مستخرج علٰی صحیح البخاری  میں بطریق امام علی بن حسین زین العابدین عن عمر و بن عثمان الغنی رضی اللہ تعالٰی عنہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
انہ قال یارسول اﷲ این تنزل فی دارک بمکۃ فقال وھل ترک عقیل من رباع او دور وکان عقیل ورث اباطالب ھو وطالب ولم یرثہ جعفر ولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہما شیئا لانھما کان مسلمین وکان عقیل وطالب کافرین فکان عمرین الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ یقول لایرث المؤمن الکافر ۱ ؂۔ ولفظ ابن ماجۃ والطحاوی فکان عمر من اجل ذٰلک یقو ل ۱؂۔ الخ ولفظ الاسماعیلی فمن اجل ذٰلک کان عمر یقول۳ ؂۔
یعنی انہوں نے خدمتِ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کی کہ یارسول اﷲ ! حضور کل مکہ معظمہ میں اپنے محلے کے کون سے مکان میں نزول اجلال فرمائیں گے۔ فرمایا ،کیا ہمارے لیے عقیل نے کوئی محلہ یا مکان چھوڑ دیا ہے۔ امام زین العابدین نے فرمایا : ہوا یہ تھا کہ ابوطالب کا ترکہ عقیل اور طالب نے پایا،  اور جعفر و علی رضی اللہ تعالٰی عنہما کوکچھ نہ ملا۔ یہ دونوں حضرات وقتِ موت ابی طالب مسلمان تھے اور طالب کافر تھا اور عقیل رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی ا س وقت تک ایمان نہ لائے تھے۔ اسی بناء پر امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرمایا کرتے کہ کافر کا ترکہ مسلمان کو نہیں پہنچتا۔
 ( ۱ ؂    صحیح البخاری  کتاب المناسک    باب توریث دور مکۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۲۱۶)

(    صحیح مسلم کتاب الحج   باب النزول بمکۃ وتوریث دورہا    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۴۳۶)

( ۲ ؂ سُنن ابن ماجہ ابو اب الفرائضباب میراث اھل الاسلام من اہل الشرک الخ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۰۰)

( ۳ ؂ )
تنبیہ :  لاشک ان قولہ وکان عقیل ورث اباطالب مدرج فی الحدیث ولم یبین قائلہ فی الکتب الذی ذکرنا واخترت انا انہ الامام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ و قال الامال العینی فی العمدۃ قولہ وکان عقیل ادراج من بعض الرواۃ ولعلہ من اسامۃ کذا قال الکرمانی۴ ؂ اھ والصواب ما ذکرتہ وقد کتبت علٰی ھامش العمدۃ ما نصہ ۔
تنبیہ : اس میں شک نہیں کہ اس قول   اور عقیل وارث ہوا ابوطالب کا حدیث میں داخل کیا گیا اس کا قائل ان کتابوں میں مذکور نہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور میں نے اختیار کیا ہے کہ وہ امام زین العابدین رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں۔ امام عینی نے عمدۃ القاری میں کہا کہ اس کا قول   وکان عقیل  بعض راویوں کی طرف سے حدیث میں داخل کیا گیا ہے ،  ممکن ہے یہ ادراج و ادخال اسامہ کی طرف سے ہو۔کرمانی نے یوں ہی کہا ہے اھ ،  اور درست وہی ہے جو میں نے ذکر کیا،  اور میں نے عمدۃ القاری پر حاشیہ لکھا جس کی صراحت یہ ہے۔ (ت)
 ( ۴ ؂۔ عمدۃ القاری   کتاب المناسک    باب توریث دور مکہ الخ    تحت الحدیث ۱۵۸۸    دارالکتب العلمیۃ بیروت  ۹ /۳۲۴)
اقول : بل ھو من علی بن حسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم ،  بیّنہ مالک فی مؤطاہ فانہ اسند اولا عن ابن شہاب بالسند المذکور فی الکتاب اعنی  صحیح البخاری  ان رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال لایرث المسلم الکافر اھ ۱ ؂۔ ثم قال مالک عن ابن شہاب عن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب انہ اخبرہ انما ورث اباطالب عقیل وطالب ولم یرثہ علی قال علی فلذٰلک ترکنا نصیبنا من الشعب اھ وھٰکذا رواہ محمد فی مؤطاہ عن مالک مفرقا مصرحا فقد بین واحسن احسن اﷲ الیہ والینا بہ امین ۔
میں کہتا ہوں بلکہ وہ علی بن حسین بن علی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اس کو امام مالک نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے،  پہلے اس کو امام مالک نے ابن شہاب سے ذکر یعنی صحیح بخاری  میں مذکور سند کے ساتھ ذکر کیا کہ رسول اﷲ  صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا ا ھ پھر کہا مالک نے ابن شہاب سے روایت کی اس نے علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب سے،  اس نے خبر دی کہ عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث بنے جب کہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے وارث نہ بنے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا یہی وجہ ہے کہ ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترک کردیا۔ اسی طرح امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں امام مالک سے صراحتاً روایت کیا انہوں نے خوب ظاہر کیا اور احسان کیا،  اﷲ تعالٰی ان پر اور ہم پر احسان فرمائے ۔امین (ت)
 ( ۱ ؂ مؤطا امام مالک کتاب ا لفرائض باب میراث اہل الملل میر محمد کتب خانہ کراچی    ص ۶۶۶)

( ۲ ؂ مؤطا امام مالک کتاب ا لفرائض باب میراث اہل الملل میر محمد کتب خانہ کراچی    ص ۶۶۶)
Flag Counter