Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
137 - 157
اسی طرح تیسیرشرح جامع     صغیر وغیرہ میں ہے۔

حدیث ششم : بزارو ابویعلٰی وابن عدی و تمام حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی  :
قیل للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ھل نفعت اباطالب قال اخرجتہ من غمرۃ جھنم الٰی ضحضاح منہا۱ ؂۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا۔ فرمایا میں نے اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں کی آگ میں کھینچ لیا۔
 ( ۱ ؂ مسندابویعلی الموصلی    عن مسند جابر بن عبداللہ    حدیث ۲۰۴۳   موسسۃ علوم القرآن بیروت    ۲ /۳۹۹)
امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں۔
فان قلت اعمال الکفرۃ ھباء منثورا لافائدۃ فیھا قلت ھذاالنفع من برکۃ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وخصائصہ۲ ؂۔
اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ ابو طالب کو یہ نفع ملنا  صرف حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی برکت سے ہے ورنہ کافروں کے اعمال تو غبار ہیں ہوا پر اڑائے ہوئے۔
 ( ۲ ؂ عمدۃ القاری کتاب مناقبالانصار تحت الحدیث۳۸۸۳ ، دارالکتب العلمیہ    ۱۷ /۲۳)
حدیث ہفتم :  طبرانی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
ان الحارث بن ہشام اتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یوم حجۃ الوداع فقال یارسول اﷲ انی کنت علی     صلۃ الرحم والاحسان الی الجاروایواء الیتیم واطعام الضیف واطعام المسکین وکل ھذا قدن کا یفعلہ ھشام بن المغیرۃ فماظنک بہ یارسول اﷲ فقال رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کل قبر ای لایشہد    صاحبہ ان لا الہٰ الا اﷲ فہوجذوۃ من النار،  وقدوجدت عمی اباطالب فی طمطام من النار فاخرجہ اﷲ لمکانہ منی واحسانہ الی فجعلہ فی ضحضاح من النّار۱ ؂۔
یعنی حارث بن ہشام رضی اللہ تعالٰی نے روز حجۃ الوداع حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی۔ یارسول اﷲ ! میں ان باتوں پر عمل کرتا ہوں۔
 ( ۱ ؂ المعجم الکبیر عن ام سلم    حدیث ۹۷۲    المکتبۃ الفی    صلیۃ بیروت   ۲۳ /۴۰۵)

(المعجم الاوسط   حدیث ۷۳۸۵    مکتبۃ المعارف ریاض  ۸/ ۱۹۰)
رشتہ داروں سے نیک سلوک ،  ہمسایہ سے اچھا برتاؤ،  یتیم کو جگہ دینا،  مہمان کو مہمانی دینا،  محتاج کو کھانا کھلانا اور میر اباپ ہشام یہ سب کام کرتا تھا تو حضور کا اس کی نسبت کیا گمان ہے ؟ فرمایا جو قبر بنے جس کا مردہ
لاالٰہ الا اللہ
نہ مانتا ہو وہ دوزخ کا انگارا ہے میں نے خود اپنے چچا ابوطالب کو سر سے اونچی آگ میں پایا ،  میری قرابت و خدمت کے باعث اﷲ تعالٰی نے اُسے وہاں سے نکال کر پاؤں تک آگ میں کردیا۔
مجمع نجار الانوار میں بعلامت کاف امام کرمانی شارح بخاری  سے منقول  :
نفع اباطالب اعمالہ ببرکتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وان کان اعمال الکفرۃ ھباء منثورا۲ ؂۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی برکت سے ابوطالب کے اعمال نفع دے گئے ورنہ کافر وں کے کام تو نِرے برباد ہوتے ہیں۔
 ( ۲ ؂۔ مجمع بحار الانوار)
حدیث ہشتم : امام احمد مسند اور امام بخاری  و مسلم اپنی     صحاح میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اھون اھل النار عذابا ابوطالب وھو منتعل بنعلین من ناریغلی منھما دماغہ ۳ ؂ ۔
بے شک دوزخیوں میں سب سے کم عذاب ابوطالب پر ہے وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے۔
( ۳ ؂ صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لابی طالب  قدیمی کتب خانہ کراچی        ص۱۱۵)
نیز     صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت سے ہی رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ان اھون اھل النار عذابا من لہ نعلان و شراکان من ناریغلی منھما دماغہ کما یغلی المرجل مایرٰی ان احدااشد منہ عذابا وانہ لاھونھم عذابا۴ ؂۔
دوزخ میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہے جسے آگے کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ دیگ کی طرح جوش مارے گا وہ یہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی پر ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔
 ( ۴ ؂ صحیح مسلم  کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۱۱۵)
اسی حدیث میں امام احمد کی ر وایت یوں ہے :
  یوضع فی اخمص قدمیہ جمر تان یغلی منہما دماغہ۱ ؂۔
اس کے تلوؤں میں انگارے رکھے جائیں گے جس سے بھیجا اُبلے گا۔
( ۱ ؂ مسندا حمد بن حنبل عن نعمان بن بشیر    المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۲۷۴)
اور  صحیحین میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
یقول اﷲ لاھون اھل النار عذابا یوم القیمۃ لو ان لک مافی الارض من شیئ اکنت تفتدی بہ فیقول نعم فیقول اردت منک اھون من ھذا وانت فی     صلب اٰدم ان لاتشرک لی شیئا فابیتہ ان لاتشرک بی۲ ؂۔
دوزخیوں میں سب سے ہلکے عذاب والے سے اللہ عزوجل فرمائے گا تمام زمین میں جو کچھ ہے اگر تیری مِلک ہوتا تو کیا اسے اپنے فدیہ میں دے کر عذاب سے نجات مانگنے پر راضی ہوگا ؟ وہ عرض کرے گا ہاں فرمائے گا میں نے تو تجھ سے روزِ میثاق جب کہ تو پشت آدم میں تھا اس سے بھی ہلکی اور آسان بات چاہی تھی کہ کسی کو میرا شریک نہ کرنا مگر تو نے نہ مانا بغیر میرا شریک ٹھہرائے ہوئے۔
 ( ۲ ؂     صحیح البخاری     کتاب الرقاق باب     صفۃ الجنۃ والنار قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۷۰)

(    صحیح مسلم      کتاب  صفۃ المنافقین    باب فی الکفار      قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۷۴)

(مشکوۃ المصابیح    باب     صفۃ النار واھلھا الفصل الاول        قدیمی کتب خانہ کراچی    ص ۵۰۲)
اس حدیث سے بھی ابو طالب کا شرک پر مرنا ثابت ہے۔

کتا ب الخمیس فی احوال انفس نفیس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں ہے :
قبل ان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسح اباطالب بعد موتہ وانسی تحت قدمیہ ولذاینتعل بنعلین من النار۳ ؂۔
یعنی کہا گیا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بعد مرگ ابوطالب کے بدن پر دستِ اقدس پھیر دیا تھا مگر تلوؤں پر ہاتھ پھیرنا یاد نہ رہا اس لیے ابو طالب کو روزِ قیامت آگ کے دو جوتے پہنائے جائیں گے۔( باقی جسم بہ برکتِ دستِ اقدس محفوظ رہے گا۔)
 ( ۳ ؂ تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس   وفاۃ ابی طالب       موسسۃ  شعبان بیروت    ۱ /۳۰۰)
Flag Counter