اقول : اصل الذم النسائی وقد تشدد بالنھی فان الذنب بعد العلم اشد منہ حین الجہل فذکر النھی لا بانۃ شدۃ ما یلحقہ من الذم فی ذلک و عظمۃ ما یعتریہ من الوزر فیما ھنالک فان العلم حجۃ اﷲ مالک وعلیک الا تری الٰی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فی ابی طالب ولو لا انا لکان فی الدرک الا سفل من النار۲ کما سیأتی مع ما علم من حمایتہ وکفالتہ ونصرتہ ومحبتہ للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم طول عمرہ فانما کادیکون فی الدرک الاسفل لولا شفاعۃ رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لما ابی الایمان مع کما العرفان فالایۃ" علی وزان قولہ تعالی
اتامرون الناس بالبروتنسون انفسکم و انتم تتلون الکتب افلا تعقلون ۱ "۔
میں کہتا ہوں اصل مذمت تو نأی یعنی دور رہنے کی وجہ سے ہے جونہی کے سبب سے شدید ہوگئی، کیونکہ علم کے بعد گناہ اس گناہ سے زیادہ شدید ہوجاتا ہے جو زمانہ جہالت میں کیا گیا ہو۔ چنانچہ نہی کا یہاں ذکر اس شدت و عظمت کے اظہار کے لیے جو اس سے ملحق گناہ اور بوجھ سے متعلق ہوتی ہے کیونکہ علم اﷲ۱ تعالٰی کی حجرت ہے تیرے حق میں اور تیرے خلاف کیا تو ابو طالب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھا دیکھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔ جیسا کہ عنقریب آئے گا ابوطالب کی طرف سے تمام عمر نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ہوتی تو ابوطالب جنہم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے کیونکہ کمال معرفت کے باوجود نے انہوں سے انکار کیا۔ چنانچہ آیت مذکورہ اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی طرف پر ہے کہ کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے جان کوکو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
(۲صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸)
( صحیح مسلم باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۵)
(۱القرآن الکریم ۲/ ۴۴)
یا ایھا الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون کبر مقتاعند اﷲ ان تقولوا ما لاتفعلون۲۔
فشدد النکیر علی القول من دون عمل وان کان القول خیرا فی نفسہ قال فی معالم التنزیل : قال المفسرون ان المؤمنین قالو ا لونعلم ای الاعمال احب الی اﷲ عزوجل لعملناہ ولبذلنافیہ اموالنا وانفسنا فانزل عزوجل ان اﷲ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفافابتلوا بذلک یوم احد فولوا مدبرین فانزل اﷲ تعالٰی : لم تقولون ما لا تفعلون ۳ ۔ اھ وبہ ینحل الوجہان لمن انصف لاجرم ان قال الخفاء جی فی العنایۃ بعد نقلہ کلام الامام فیہ نظر اھ۱۔ بالجملۃ فعطاء اعلم منا ومنکم باسالیب القرآن ونظمہ فضلا عن ھذا الحبرالعظیم الذی قد فاق اکثر الامۃ فی علم القرآن وفھمہ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان کے نیکی کا حکم دینے اور کتاب پڑھنے کو مذمت کے سیاق میں ذکر کیا۔ مقصود تو ان کا اپنی جانوں کو بھلانا ہے اور ان دونوں باتوں کا ذکر بطور تمہید ہے بلکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے۔ کیسی سخت ناپسند ہے اﷲ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔ تو یہاں پر قول بلا عمل پر ستخ نفرت کا اظہار فرمایا اگرچہ فی نفسہ قول اچھا ہو۔ معالم التنزیل میں کہا کہ مفسرین نے فرمایا کہ مومنوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں محبوب ترین عمل کون سا ہے تو ہم اس کو ضرور کریں گے اور اس میں اپنے مال و جان قربان کردیں گے۔ تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بے شک اﷲ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پراباندھ کر پھر غزوہ اُحد میں انہیں اس میں مبتلا کردیا گیا تو پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو اﷲ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے ہو۔ اور اس سے منصف کے لیے دونوں وجہیں کھل گئیں۔ علامہ خفا جی نے عنایۃ میں امام کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا ۔ اس میں نظر ہے۔ اھ خلاصہ یہ کہ عطاء قرآن مجید کے اسالیب و نظم کو ہم سے اور تم سے زیادہ جاننے والا ہے۔ چہ جائیکہ یہ عظیم عالم متجر جو قرآن مجید کے علم و فہم میں اکثر امت پر فوقیت رکھتا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲القرآن الکریم ۶۱/ ۲ و۳) (۳معالم التنزیل (تفسیر بغوی) تحت آیۃ ۶۱/ ۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۳۰۷)
( ۱ ۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی تحت الایۃ ۶ /۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت۴ /۶۵)
فصل دوم ۔۔۔۔۔۔ احادیث
حدیث چہارم : صحیحین و مسند امام احمد میں حضرت سیدنا عباس عمِ رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے۔
انہ قال للنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ما اغنیت عن عمک فواﷲ کان یحوطک ویغضب لک قال ھو فی ضحضاح من نارولولا انا لکان فی الدرک الاسفل من النار۲ ۔ وفی روایۃ وجدتہ غمرات من النار فاخرجتہ الٰی ضحضاح۳ ۔
یعنی انہوں نے خدمت ِ اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں عرض کی حضور نے اپنے چچا ابوطالب کو کیا نفع دیا؟ خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا اور حضور کے لیے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھا۔ فرمایا میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا ہوا پایا تو اُسے کھینچ کر پاؤں تک آگ میں کردیا اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں ہوتا۔
( ۲ ۔ صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصۃ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۴۸)
( صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرک قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۷)
( صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۱۱۵)
(مسند احمد بن حنبل عن العباس المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۰۷ و ۲۱۰)
( ۳ ۔ صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب ۱ /۱۱۵)
امام ابن حجر فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
یؤید الخصوصیۃ انہ بعد ان امتنع شفع لہ جتی خفف لہ العذاب بالنسبۃ لغیرہ ۱ ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خصوصیت سے ہوا کہ ابو طالب نے باآنکہ ایمان لانے سے انکار کیا پھر بھی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت نے اتنا کام دیا کہ بہ نسبت باقی کافروں کے عذاب ہلکا ہوگیا۔
(۱ فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ القصص باب قولہ انک لاتہدی مصطفٰی البابی مصر۱۰/ ۱۲۳)
حدیث پنجم : صحیحین و مسند امام احمد میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ذکر عندہ عمہ ابوطالب فقال لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیمۃ فیجعل فی ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلی منہ دماغہ۲ ۔
یعنی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ابو طالب کا ذکر آیا فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ روزِ قیامت میری شِاعت اسے یہ نفع دے گی کہ جہنم میں پاؤں تک کی آگ میں کردیا جائے گا جو اس کے ٹخنوں تک ہوگی جس سے اس کا دماغ جوش مارے گا۔
( ۲ مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدر ی المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۰)
( صحیح البخاری کتاب مناقب الانصارباب قصہ ابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۸)
یونس بکر بکیر نے حدیث محمد بن اسحق سے یوں روایت کیا:
یعلی منہ دماغہ حتی یسیل علٰی قدمیہ ۳۔
اس کا بھیجا اُبل کر پاؤں پر گرے گا۔
( ۳ ۔ المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحق ا/۲۶۴ وارشاد الساری بحوالہ ابن اسحق تحت الحدیث ۳۸۸۵ , ۸ /۳۵۱)
عمدۃ القاری وارشاد الساری شروح صحیح بخاری و مواہب الدنیا وغیرہا میں امام سہیلی سے منقول :
الحکمۃ فیہ ان اباطالب کان تابعا لرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لجملتہ الا انہ استمرثابت القدم علٰی دین قومہ فسلط العذاب علٰی قدمیہ خاصۃ لتثبیتہ ایا ھما علی دین قومہ۴ ۔
یعنی ابو طالب کے پاؤں تک آگ رہنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ عزوجل جزا ہمشکل عمل دیتا ہے ابوطالب کا سارا بدن حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حمایت میں صرف رہا، ملتِ کفر پر ثابت قدمی نے پاؤں پر عذاب مسلط کیا۔
( ۴ ۔ عمدۃ القادری شرح صحیح البخاری مناقب الانصار باب قصہ ابی طالب حدیث ۳۸۸۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۷ /۲۴)
(ارشاد الساری بحوالہ السہیلی تحت الحدیث ۳۸۸۵ ، ۸ /۳۵۱ والمواہب اللدنیہ بحوالہ السہیلی ۱ /۲۶۴)