| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
اقول : والدلیل علی الاستمرار واستدامۃ الاستغفار قول سیدالابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لا ستغفرن لک مالم انہ عنہ ۳ فھذا مقام الجزم دون التجویز والاستظہار، علا ان الامام الجلیل الجلال السیوطی فی کتاب الاتقان ۴عقد فصلالبیان مانزل من اٰیات السور المکیۃ بالمدینۃ وبالعکس وذکر فیہ عن بعضھم ان اٰیۃ ماکان للنبی اٰیۃ مکیۃ نزلت فی قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لا بی طالب لا ستغفرن لک مالم انہ عنہ واقرہ ۱ علیہ فعلی ھذا یزھق الاشکال من راسہ ثم ان لفظ البخاری فی کتاب التفسیر فانزل اﷲ بعد ذلک قال الحافظ فی فتح الباری الظاھر نزولہا بعدہ بمدۃ الروایۃ التفسیر ۲ ا ھ وھذاایضا یطیع الشبھۃ من راسھا افادھٰذین العلامۃ الزرقانی فی شرح المواہب وبعد اللتیا والتی اذقدافصح الحدیث الصحیح بنزولہا فیہ فکیف ترد الصحاح بالھوسات ۔
میں کہتا ہوں کہ استغفار کے استمرار و دوام پر دلیل سید الابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا جب تک مجھے منع نہ کیا گیا۔ لہذا یہ مقام جزم ہے نہ کہ مقام تجویز و تائید ، علاوہ ازیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے کتاب الاتقان میں یہ بیان کرنے کے لیے ایک فصل قائم فرمائی ہے کہ مکی سورتوں کی کون سی آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے برعکس ( یعنی مدنی سورتوں کی کون سی آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں) اور اس میں بعض مفسرین کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ آیتِ کریمہ ماکان للنبی مکی ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بارے میں نازل ہوئی جو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہ کیا گیا میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور امام سیوطی نے اس کو برقرار رکھا اس بنیاد پر تو اشکال سرے سے ہی دفع ہوجائے گا ، ۔ پھر کتاب التفسیر میں بخاری کے لفظ یہ ہیں کہ اس کے بعد اﷲ تعالٰی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، حافظ نے فتح الباری میں کہا روایت تفسیر کی بنیاد پر ظاہر یہ ہے کہ اس کا نزول سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادِ مذکور سے کچھ مدت کے بعد ہوا ا ھ یہ بھی سرے سے شبہہ کا ازالہ کردیتا ہے ، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ان دونوں کا افادہ فرمایا ، اس لمبی اور مختصر گفتگو کے بعد جب حدیث صحیح نے ابوطالب کے بارے میں نزول آیت کی تصریح کردی تو خواہشات کے ساتھ صحیح حدیثوں کو کیسے رَد کیا جاسکتا ہے۔(ت)
(۳ صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب ۱ /۵۴۸ و سورۃ التوبۃ ۲/ ۶۷۵ وسورۃ القصص ۲/ ۷۰۳ ) ( صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضر الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰) (۴ الاتقان فی علوم القرآن فصل فی ذکر ما استثنی من المکی والمدنی دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۷۳) (۱ ۲شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ ذکر وفاۃ خدیجۃ وابی طالب دارالمعرفہ بیروت ۱/ ۲۹۳)
آیت ثالثہ : قال عزّ مجدہ
( اﷲ عزّمجدہ نے فرمایا ۔ت):
وھم ینھون عنہ وینأون عنہ وان یھلکون الا انفسھم و مایشعرون ۱ ۔
وہ اس نبی سے اوروں کو روکتے اور باز رکھتے ہیں اور خود اس پر ایمان لانے سے بچتے اور دور رہتے ہیں اور اس کے باعث وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں۔
( ۱ ۔ القرآن الکریم ۶ / ۲۶)
یعنی جان بوجھ کر جو بے شعوروں کے سے کام کرے اس سے بڑھ کر بے شعور کون ، سلطان المفسرین سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما اور اُن کے تلمیذ رشید سیدنا امام اعظم کے استاد مجید امام عطاء بن ابی رباح و مقاتل وغیرہم مفسرین فرماتے ہیں، یہ آیت ابو طالب کے باب میں اُتری ۔
تفسیر امام بغوی محی السنہ میں ہے :
قال ابن عباس و مقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینہی الناس عن اذی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ویمنعھم وینأی عن الایمان بہ ای یبعد۲ ۔
ابن عباس و مقاتل نے فرمایا کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی، وہ لوگوں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تکلفی دینے سے روکتا تھا اور انہیں منع کرتا تھااور خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتا ۔(ت)
( ۲ ۔ معالم النتزیل (تفسیر بغوی)تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالکتب بیروت ۲ /۷۵)
انوارالتنزیل میں ہے :
ینھون عن التعرض الرسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وینأون عنہ فلا یؤمنون بہ کابی طالب ۳ ۔
وہ لوگوں کو رسول پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تعاقب کرنے سے روکتے اور خود آپ سے دور رہتے چنانچہ آپ پر ایمان نہیں لاتے جیسے ابوطالب (ت)
( ۳ ۔ انوار التنزیل (تفسیر البیضاوی ) تحت آیۃ ۶/ ۲۶ دارالفکر بیروت ۲ /۴۰۱)
حدیث سوم : فریابی اور عبدالرزاق اپنے مصنف اور سعید بن منصور سنن میں اور عبد بن حمید اور ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم و طبرانی وا بوا لشیخ وابن مردویہ اور حاکم مستدرک میں بافادہ تصحیح اور بہیقی دلائل النبوۃ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اس کی تفسیر میں راوی :
قال نزلت فی ابی طالب کان ینھٰی عن المشرکین ان یؤذوا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یتباعد عما جاء بہ ۱ ۔
یعنی یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اُتری کہ وہ کافروں خو حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذا سے منع کرتے باز رکھتے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتے۔
( ۱ الدرالمنثور بحوالہ الفریابی و عبدالرزاق وغیرہ تحت آلایۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی ۳ /۲۳۷) (جامع البیان ( تفسیر طبری) تحت آیۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۲۰۲) (دلائل النبوۃ للبیھقی جماع ابواب المبعث باب وفاۃ ابی طالب ، دارالکتب العلمیہ بیروت۲ /۳۴۰) (تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیہ ۶/ ۲۶ مکتبہ نزار مصطفٰی البازمکہ مکرمہ ریاض ۴ /۱۲۷۷)
قال فی مفاتیح الغیب فیہ قولان منھم من قال المراد انھم ینھون عن التصدیق نبوتہ والاقرار برسالتہ وقال عطاء ومقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینھی قریشا عن ایذاء النبی علیہ الصلوۃ والسلام ثم یتباعد عنہ ولا یتبعہ علی دینہ، و القول الاول اشبہ لوجہین الاول ان جمیع الایات المتقدمۃ علی ھٰذہ الایۃ تقتضی ذم طریقتھم فلذلک قولہ وھم ینہون عنہ ینبغی ان یکون محمولا علی امر مذموم فلوحملناہ علی ان ابا طالب کان ینھٰی عن ایذاءہ لما ح صل ھذاالنظم، والثانی انہ تعالٰی قال بعد ذلک "وان یہلکون الا انفسھم" یعنی بہ ما تقدم ذکرہ ولا یلیق ذلک ان یکون المراد من قولہ "وھم ینہون عنہ" النھی عن اذیتہ لانّ ذلک حسن لایوجب الھلاک ۱۱ھ۔
مفاتیح الغیب میں فرمایا اس میں دو قول ہیں ان میں سے بعض نے کہا مراد یہ ہے کہ وہ حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق اور آپ کی رسالت کے اقرار سے روکتے ہیں جب کہ عطاء اور مقاتل نے کہا کہ وہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی وہ قریش کو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے پھر خود آپ سے دور رہتے اور دین میں آپ کی اتباع نہیں کرتے تھے، قولِ اوّل دو وجہ سےزیادہ مناسب ہے۔ وجہ اوّل : یہ ہے کہ اس آیۃ کریمہ سے ماقبل والٰی تمام آیتِ قریش کے طریقہ کی مذمت کا تقاضا کرتی ہیں۔ اسی طرح یہ اﷲ تعالٰی کا قول وھم ینہون عنہ( یعنی وہ اس سے روکتے ہیں) بھی امر مذموم پر محمول ہونا چاہیے اگر ہم اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ ابو طالب نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے تو یہ نظم مذکور حاصل نہ ہوگا۔ وجہ ثانی یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اس کے بعد فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔اس سے مراد وہی ہے جس کا پہلا ذکر ہوچکا ہے ۔ اور یہ مناسب نہیں کہ اللہ تعالٰی کے ارشاد "اور وہ اس سے روکتے ہیں " سے مراد نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذاء رسانی سے روکنا ہو اس لیے کہ یہ تو حسن ہے جو موجبِ ہلاکت نہیں ہوتا اھ (ت)
( ۱ مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) تحت آلایۃ ۶ /۲۶ المطبعۃ البہیۃ مصر ۱۲/ ۱۷۹)