Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
134 - 157
آیت ثانیہ : قال جل جلالہ
 ( اللہ جل جلالہ نے فرمایا) :
  ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوکانوا  اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحٰب الجحیم۔ ۲؂۔
روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ اپنے قرا بت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جانیوالے ہیں۔
 (۲؂القرآن الکریم ۹/ ۱۱۳)
یہ آیت کریمہ بھی ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔تفسیر امام نسفی میں ہے :
ھم علیہ الصلوۃ والسلام ان یستغفر لابی طالب فنزل ماکان للنبی ۳؂۔
 ( ۳؂۔ مدارک التنزیل(تفسیرالنسفی )    تحت آیۃ۹ /۱۱۳    دارالکتاب العربی بیروت  ۲ /۱۴۸)
جلالین میں ہے :
نزل فی استغفارہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لعمہ ابی طالب۱ ؂۔
یہ آیت حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اپنے چچا ابو طالب کے لیے استغفار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔(ت)
امام عینی عمدۃ القاری شرح     صحیح بخاری  میں فرماتے ہیں :
قال الواحدی سمعت ابا عثمان الحیری سمعت ابا الحسن بن مقسم سمعت ابا اسحق الزجاج یقول فی ھذہ الایۃ اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب۲ ؂۔
یعنی واحدی نے اپنی تفسیر میں بسند خود ابواسحاق زجاج سے روایت کی کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں اُتری ۔
اقول : ھکذااثرہ ھٰھنا والمعروف من الزجاج قولہ ھٰذا فی الایۃ الاولٰی کما سمعت والمذکور ھٰھنا فی المعالم وغیرھا فلیراجع تفسیر الواحدی فلعلہ اراد اتفاق الاکثر ین و لم یلق للخلاف بالالکونہ خلاف ماثبت فی الصحیح۔
میں کہتا ہوں یہاں تو وہ ایسا ہی منقول ہے حالانکہ زجاج کا یہ قول پہلی آیت کے بارے میں معروف ہے جیسا کہ تو سُن چکا ہے،  اور معالم وغیرہ میں اس مقام پر مذکور ہے کہ آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے چنانچہ تفسیر واحدی کی طرف مراجعت کی جائے ہوسکتا ہے کہ اُس کی مراد اکثر مفسرین کا اتفاق ہو اور اس نے مخالفت کی اس بنیاد پر کوئی پروانہ کی ہو کہ اس کے مخالف ہے جو صحیح میں ثابت ہوچکا ہے۔(ت) 

بیضاوی میں پہلا قول اس آیت کا نزول دربارہ ابی طالب لکھا۔
علامہ شہاب خفا جی اُس کی شرح عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں فرماتے ہیں:
ھوالصحیح فی سبب النزول۳ ؂۔
یعنی یہی صحیح ہے۔
( ۱ ؂۔ تفسیر جلالین    تحت آیۃ ۹ /۱۱۳   اصح المطابع  دہلی       ص ۱۶۷)

( ۲ ؂۔ عمدۃ القاری کتاب الجنائز   تحت حدیث ۱۳۶۰   دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۷/ ۲۶۲)

( ۳ ؂۔ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علٰی تفسیر البیضاوی تحت الایۃ   ۹ /۱۱۳   دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۶۴۸)
اسی طرح اس کی تصحیح فتوح الغیب و ارشاد الساری میں کی ہے اور فرمایا یہی حق ہے ۔
 کما سیأتی وھٰذہ التصحیحات ایضاً اٰیۃ الخلاف کما لیس بخاف ۔
(جیسا کہ عنقریب آئے گا اور یہ تصحیحیں بھی مخالفت کی علامت میں جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ت)
حدیث دوم :     صحیح بخاری  و     صحیح مسلم و سنن نسائی میں ہے :
واللفظ محمد قال حدثنا محمود فذکر بسندہ عن سعید بن المسیب عن ابیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ان اباطالب لما حضرتہ الوفاۃ دخل علیہا النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم و عندہ ابوجہل فقال ای عم قال لا الہٰ الا اللہ کلمۃ احاج لک بہا عند اﷲ فقال ابوجہل وعبداﷲ بن امیّۃ یا اباطالب اترغب عن ملّۃ عبدالمطلب فلم یزالا یکلمانہ حتی قال اخرشیئ کلمھم بہ علی ملۃ عبدالمطلب (زادالبخاری  فی الجنائز و تفسیر سورۃ القص    ص کمثل مسلم فی الایمان وابی ان یقول لا الٰہ الا اﷲ) فقال النبی صلی اللہ عالٰی علیہ وسلم لا ستغفرن لک مالم انہ عنہ،  فنزلت ماکان للنبی والذین اٰمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولوا اولی قربٰی من بعد ماتبین لھم انہم اصحب   الجحیم ، ونزلت انک لاتھدی من احببت ۱؂۔
اور لفظ محمد کے ہیں،  انہوں نے کہا ہم کو حدیث بیان کی محمود نے،  پھر اپنی سند کے ساتھ سعید بن مسیب سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ذکر کیا۔ رضی ا للہ تعالٰی عنہما ، کہ ابو طالب جب قریب الموت ہوئے تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے جب کہ ابوجہل اور عبداللہ بن امیّہ وہاں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا اے چچا کلمہ طیبہ لا الہٰ الا اﷲ پڑ ھ لو میں اس کے ذریعے تمہارے لیے جھگڑا کروں گا۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا: اے ابوطالب ! کیا عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرلو گے؟ وہ دونوں مسلسل ابوطالب سے یہی بات کہتے رہے ،  یہاں تک کہ ابوطالب نے جو آخری بات انہیں کہی وہ یہ تھی کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ (امام بخاری  نے جنائز اور سورہ قص    ص کی تفسیر میں یہ اضافہ کیا جیسا کہ امام مسلم نے کتاب الایمان میں کیا ہے کہ ابو طالب نے   لا الہٰ اﷲ کہنے سے انکار کردیا) تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک مجھے منع نہ کردیا گیا میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا۔،  چنانچہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی  روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لیے اگرچہ وہ اپنے قرابت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جائیں گے ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی ۔  اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو۔  (ت)
( ۱ ؂صحیح البخاری  کتاب الجنائز   باب اذاقال المشرک عندالموت لا الہٰ الا اﷲ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۸۱)

( صحیح البخاری  کتاب المناقب  باب قصہ ابی طالب  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۵۴۸)

(صحیح البخاری   کتاب التفسیرسورۃ البراء ۃ باب ماکان للنبی والذین اٰمنوا لخ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۶۷۵)

(صحیح البخاری   کتاب التفسیرسورۃ القصص    باب قولہ تعالٰی انک لاتہدی من احببت    قدیمی کتب خانہ    ۲ /۷۰۳)

(صحیح مسلم ، کتاب الایمان باب الدلیل علی  صحۃ الاسلام من حضر الموت  قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۴۰)

(سنن النسائی کتاب الجنائز      النہی عن الاستغفار للمشرکین   نور محمد کارخانہ تجارت کراچی  ۱ /۲۸۶)
اس حدیث جلیل سے واضح کہ ابو طالب نے وقتِ مرگ کلمہ طیبہ سے     صاف انکار کردیا اور ابوجہل لعین کے اغوا سے حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد قبول نہ کیا۔ حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر بھی وعدہ فرمایا کہ جب تک اﷲ عزوجل مجھے منع نہ فرمائے گا میں تیرے لیے استغفار کروں گا۔ مولٰی سبحنہ و تعالٰی نے یہ دونوں آیتیں اتاریں اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ابوطالب کے لیے استغفار سے منع کیا اور     صاف ارشاد فرمایا کہ مشرکوں دوزخیوں کے لیے استغفار جائز نہیں۔
نسأل اﷲالعفو والعافیۃ،  اماتزییف الزمخشری نزول الایۃ فیہ بان موت ابی طالب کان قبل الھجرۃ و ھذااٰخر مانزل بالمدینۃ ۲؂اھ فمردود بما فی ارشاد الساری عن الطیبی عن التقریب انہ یجوزان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کان یستغفر لا بی طالب الٰی حین نزولہا والتشدید مع الکفار انما ظہرفی ھذہ السورۃ۳ ؂اھ، قال اعنی القسطلانی قال فی فتوح الغیب وھذاھوالحق وروایۃ نزولہا فی ابی طالب ھی الصحیحۃ ۱؂ اھ وکذاردہ الامام الرازی فی الکبیر وقال العلامۃ الخفاجی فی عنایۃ القاضی بعد نقل کلام التقریب اعتمدہ من بعدہ،  من الشراح ولاینا فیہ قولہ فی الحدیث فنزلت لامتداداستغفار ہ لہ الی نزدلھا اولان الفاء للسببیۃ بدون تعقیب ۲؂ اھ۔
ترجمہ  ہم اللہ تعالٰی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں ، رہا زمخشری کا ابو طالب کے بارے میں اس آیت کے نزول کو اس بنیاد پر ضعیف قراردینا کہ ابو طالب کی موت ہجرت سے پہلے ہوئی،جبکہ یہ آیت کریمہ آخری مرحلہ پر مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ، تو وہ مردود ہے اس دلیل کی وجہ سے جو ارشاد الساری میں طیبی سے بحوالہ تقریب مذکور ہے کہ ہوسکتا ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی وسلم اس آیت کےنزول تک ابو طالب کے لئے استغفار کرتے رہے ہوں ۔کافروں کے ساتھ شدت پسندی تو اس سورۃمیں ظاہر ہوئی ہے ۔ اھ امام قسطلانی نے فرمایا کہ فتوح الغیب میں ہے کہ یہی حق ہے اور اس کے ابوطالب کے بارے میں نزول والی روایت ہی     صحیح ہے اھ امام رازی نے تفسیر کبیر میں یونہی زمخشری کا رد کیا ہے،  اور علامہ خفا جی نے عنایۃ القاضی میں تقریب کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا کہ بعد والے تمام شارحین نے اس پر اعتماد کیا ہے اور یہ حدیث میں وارد راوی کے قول فنزلت کے منافی نہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نزول آیتِ تک ابوطالب کے لیے استغفار میں استمرار فرمایا یا اس لیے کہ فاء سببیت کے لیے ہے نہ کہ تعقیب کے لیے ا ھ (ت)
 ( ۲ ؂۔ الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل تحت آیۃ ۹ /۱۱۳ مکتبۃ الاعلام الاسلامی فی الحورۃ  العلمیۃ قم ایران    ۲ /۳۱۵)

( ۳ ؂ و ۱؂  ارشاد الساری  شرح صحیح البخاری   کتاب التفسیر سورۃ توبہ دارالکتاب العربیۃ بیروت    ۷ /۱۵۸)

(  ۲؂ عنایۃ القاضی حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی  تحت آیۃ     ۹/ ۱۱۳  دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۴۸)
Flag Counter