Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
133 - 157
وقال عزمن قائل :
فلما جاء ھم ما عرفوا کفر وا بہ فلعنۃ اﷲ علی الکفرین۲ ؂۔
تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر ۔(ت)
  وقال جل ذکرہ :
یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورٰۃ والانجیل۳؂۔
لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں۔ (ت)
 ( ۲ ؂۔ القرآن الکریم    ۲ /۸۹)

 ( ۳ ؂۔ القرآن الکریم    ۷ /۱۵۷)
بعض کو رچشم بدباطن وہابیہ عصر کہ اس میں کلام کرتے اور کہتے ہیں اگر اہل کتاب کے یہاں حضور کا ذکر رسالت ہوتا تو ایمان کیوں نہ لاتے۔ نصوص قاطعہ سے انکار اور خدا و رسول کی تکذیب اور یہودی و نصارٰی کی حمایت و تصدیق کرنے والے ہیں۔
اعوذ باﷲ من وسواس الشیطان
 ( میں شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ت)
شرح عقائد نفسی میں ہے :
لیست حقیقۃ التصدیق ان تقع فی القلب نسبۃ الصدق الی الخبر والمخبر من غیراذعان وقبول بل ھو اذعان وقبول لذٰلک بحیث یقع علیہ اسم التسلیم علی ماصرح بہ الامام الغزالی۳ ۔
حقیقت تصدیق یہ نہیں کہ دل میں خبر یا مخبر کی سچائی کی نسبت واقع ہوجائے بغیر اذعان وقبول کے ،  بلکہ وہ تو اذعان اور اس طرح قبول کرنا ہے کہ اس پر اسمِ تسلیم واقع ہو۔ جیسا کہ امام غزالی علیہ الرحمہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔(ت)
 ( ۴ ؂۔ شرح عقائد النسفی    والایمان فی اللغۃ التصدیق    دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ص ۸۹)
اسی میں ہے :
بعض القدریۃ ذھب الی ان الایمان ھوالمعرفۃ واطبق علماؤنا علٰی فسادہ لان اھل الکتاب کانوا یعرفون نبوۃ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کما کانوا یعرفون ابناء ھم مع القطع بکفرھم لعدم التصدیق ولان من الکفار من کان یعرف الحق یقینا وانما کان ینکرعناداً اواستکباراً قال اﷲ تعالٰی وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم  ۱؂۔
بعض قدریہ اس طرف گئے ہیں کہ ایمان فقط معرفت کو کہتے ہیں، اور ہمارے علماء کا اس قول کے فساد پر اجماع ہے ، کیونکہ اہل کتاب محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نبوت کوایسے پہچانتے تھے جیسے اپنے بیٹوں  کو پہچانتے تھے ، اس معرفت کے باوجود ان کا کفر قطعی ہے کیونکہ وہاں تصدیق نہیں پائی گی ، اور اس لئے بھی کہ بعض کافر یقینی طور پر حق کو پہچانتے تھے اور محض عنادوتکبر کی وجہ سے انکار کرتے تھے ، اللہ تعالی نے فرمایا؛ حالانکہ ان کےمنکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا (ت)
 ( ۱ ؂ شرح عقائد النسفی والایمان لایزید ولا ینقص دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان     ص ۹۳ و ۹۴)
التلفظ بکلمتی الشھادتین مع القدرۃ علیہ شرط فمن اخل بہ فھو کافر مخلد فی النار ولا تنفعہ المعرفۃ القلبیۃ من غیر اذعان وقبول فان من الکفار من کان یعرف الحق یقینا وکان انکارہ عنادا واستکبارا کما قال اللہ تعالی جحدوا بھا  واستیقنتھاانفسھم ظلما و علوا ۲ ؂۔
شہادت ( توحید و رسالت کی شہادت) کے دو کلموں کے ساتھ تلفظ کرنا جب کہ اس پر قادر ہو ایمان کی شرط ہے،  تو جس نے اس میں کوتاہی کی تو وہ کافر ہے اور دائمی طور پر جہنم میں رہنے والا ہے،  ا ور اذعان و قبول کے بغیر معرفتِ قلبی اس کو نفع نہیں دے گی۔ کیونکہ بعض کافر ایسے ہیں جو یقینی طور پر حق کو پہچانتے تھے۔ ان کا انکار عناد و تکبر کی وجہ سے تھا۔ جیسا کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا   اور ان کے منکر ہوئے حالانکہ ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ظلم اور تکبر کی وجہ سے۔  (ت)
 ( ۲ ؂ الدوانی العقائد العضدیۃ والکفر عدم الایمان مطبع مجتبائی دہلی       ص ۱۰۱)
آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کا ر اصحاب نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں،  ہم یہاں کلام کو سات فصل پر منقسم کریں۔
فصل اوّل ۔۔۔۔۔۔ آیاتِ قرآنیہ
آیتِ اُولٰی :  قال اﷲ تبارک و تعالٰی
 ( اﷲ تبارک و تعالٰی نے فرمایا ۔ت) :
انک لاتھدی من احببت ولکن اﷲ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین۱ ؂۔
اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو ہاں خدا ہدایت دیتا ہے جسے چاہے وہ خوب جانتا ہے جو راہ پانے والے ہیں۔
 ( ۱ ؂۔ القرآن الکریم   ۲۸ /۵۶)
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیہ کریمہ ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔

معالم التنزیل میں ہے :
نزلت فی ابی طالب ۲ ۔
ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
 (۲ ؂۔ معالم التنزیل    (تفسیر البغوی)تحت آیۃ ۲۸ /۵۶   دارالکتب العلمیہ بیروت   ۳ /۳۸۷)
جلالین میں ہے  :
  نزل فی حرصہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم علٰی ایمان عمّہ ا بی طالب۳ ؂۔
یہ آیت حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آپ کے چچا ابو طالب کے ایمان لانے کی حر    ص میں نازل ہوئی۔(ت)
 ( ۳ ؂۔ تفسیر جلالین    (تفسیرالبغوی) تحت آیۃ ۲۸/ ۵۶    اصح المطابع دہلی       ص۳۳۲)
مدارک التنزیل میں ہے :
قال الزجاج اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب۴ ؂۔
زجاج نے کہا کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
 ( ۴ ؂۔ مدارک التنزیل(تفسیرالنسفی )    تحت آیۃ ۲۸ /۵۶    دارالکتاب العربی بیروت   ۳ /۲۴۰)
کشاف زمحشری و تفسیر کبیر میں ہے :
قال الزجاج اجمع المسلمون انھا نزلت فی ابی طالب۱ ؂۔
زجاج نے کہا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت)
 (۱؂ مفاتیح الغیب  (التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۲۸ /۵۶  المطبعۃ البہیۃ مصر   ۲۵/۲)

(تفسیر الکشاف       تحت آیۃ ۲۸ /۵۶      دار الکتاب العربی بیروت  ۳/ ۴۲۲)
امام نووی شرح صحیح مسلم شریف کتاب الایمان میں فرماتے ہیں :
اجمع المفسرو ن علی انما نزلت فی ابی طالب و کذا نقل اجماعھم علی ھذا الزجاج وغیرہ۔۲؂
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی اور جیساکہ زجاج وغیرہ نے اس پر ان کا اجماع نقل کیا ہے (ت)
 (۲؂ شرح صحیح مسلم للامام النووی کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام  الخ  قدیمی کتب خانہ کرچی   ۱/ ۴۱)
مرقاۃ شرح مشکوۃ شریف میں ہے :
لقولہ تعالی فی حقہ باتفاق المفسرین انک لا تھدی من احببت ۳؂۔
اللہ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے جو  باتفاق مفسرین اس (ابو طالب) کے بارے میں ہے : اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو   ( ت)
 (۳؂مرقاۃ المفاتیح کتاب الفتن باب صفۃ النار و اھلھا تحت حدیث ۵۶۶۸ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ   ۹/ ۶۴۰ )
حدیث اول : صحیح حدیث میں اس آیہ کریمہ کا سبب نزول یوں مذکور کہ جب حضور اقدس سید المر سلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ابو طالب سے مرتے وقت کلمہ پڑھنے کو ارشاد فرمایا، صاف انکار کیا اور کھا مجھے قریش عیب لگائیں گے کہ موت کی سختی سے گھبراکر مسلمان ہوگیا ورنہ حضور کی خوشی کردیتا ۔ اس پر رب العزت تبارک و تعالی نے یہ آیت کریمہ اتاری یعنی اے حبیب تم اس کا غم نہ کرو تم اپنا منصب تبلیغ ادا کرچکے ہدایت دینا اور دل میں نور ایمان پیدا کرنا یہ تمھارا فعل نہیں اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا کسے محروم رکھے گا۔
صحیح مسلم شریف کتاب الایمان وجامع ترمذی کتاب التفسیر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ مروی: قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لعمہ (زاد مسلم فی اخری عند الموت ) قل لا الہ الا اللہ اشھد لک بھا یوم القیٰمۃ قال لولا ان تعیرنی قریش یقولون انما حملہ علی ذلک الجزع لاقررت بھا عینک فانزل اللہ عزوجل انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء  ۱؂۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ نے اپنے چچا سے فرمایا (مسلم نے دوسری روایت میں یہ اضافہ کیا کہ بوقت موت فرمایا) لاالہ الا اللہ کہہ دو میں تیرے لئے قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا۔ اس نے جواب دیا : اگر یہ بات نہ ہوئی کہ قریش مجھے عار دلائیں گے کہ موت کی شدت کے باعث مسلمان ہوگیا تو میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ : اے نبی ! "تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو، ہاں خدا ہدایت دیتاہے جسے چاہے "۔(ت)
 (۱؂ صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۴۰)

(جامع الترمذی ابواب التفسیر  سورۃ القصص امین کمپنی دہلی ۲/ ۱۵۰)
معالم ومدارک وبیضاوی وارشاد العقل السلیم وخازن و فتوحات الہیہ وغیرھا تفاسیر میں اسی حدیث کا حاصل اس آیت کے نیچے ذکر کیا۔
Flag Counter