رسالہ
شرح المطالب فی مبحث ابی طالب(۱۳۱۶ھ)
( مطالب کی وضاحت ابُوطالب کی بحث میں)
مسئلہ ۲۱۵ : ازبدایوں ۱۲۹۴ھ بعبارت سوال وثانیا بالاجمال از احمد آباد گجرات، محلہ جمال پور قریب مسجد کانچ مرسلہ جماعت اہل سنت ساکنان احمد آباد ۶ جمادی الاولٰی ۱۳۱۶ ہجری۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ابوطالب کو کافر اور ابولہب و ابلیس کا مماثل کہتا ہے اور عمرو بدین دلائل اس سے انکار کرتا ہے کہ ا نہوں نے جناب سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی کفالت و نصرت و حمایت و محبت بدرجہ غایت کی اور نعت شریف میں قصائد لکھے حضور نے انکے لیے استغفار فرمائی اور جامع الاصول میں ہے کہ : اہل بیت کے نزدیک وہ مسلمان مرے۔
شیخ محقق علیہ الرحمۃ نے شرح سفر السعادۃ میں فرمایا :
کم از ان نہ باشد کہ دریں مسئلہ توقف کنند و صرفہ نگہ دارند۔
کم از کم اس مسئلہ میں توقف کرتے ہیں اور احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہیں۔(ت)
اور مواہب لدنیہ میں ایک وصیّت نامہ اُن کا بنام قریشی منقول جو حرفاً حرفاً اُن کے اسلام پر شاہد، اِن دونوں میں کون حق پر ہے، اور ابوطالب کو مثل ابولہب وابلیس سمجھنا کیسا اور اُن کے کفر میں کوئی حدیث صحیح وارد ہوئی یا نہیں، برتقدیرثانی انہیں ضامن وکفیل رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا سمجھ کر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہیں یا مثلِ کفار سمجھیں؟
بیّنوابسند الکتاب توجروا من الملک الوھاب بیوم القیٰمۃ والحساب ۔
( کتاب کی سند کے ساتھ بیان فرمائیے قیامت او ر حساب کے دن ملک الوہاب سے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب :
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اللّٰھمّ ربناولوجھک الحمد احق ما قال العبدوکلنالک عبد لامانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولارادلما قضیت ولا ینفع ذا الجد منک الجدلک الحمد علٰی ما ھدیت وعفوت وعافیت و منحت واولیت تبارکت وتعالیت سبحٰنک ربّ البیت مستجیرین بجمال وجہک الکریم من عذابک الالیم و شاہدین بان لاحول ولاقوۃ الّا باﷲ العلی العظیم انت العزیز الغالب لایعجزک ھارب ولا یدرک مامنعت طالب ماعلیک من واجب قدرت الاقدار ودو رت الادوارو کتبت فی الاسفار ما انت کاتب، یعمل عامل بعمل الجنان فیظن الظان من الانس والجان ان سید خلہا وکأن قد کان فیغلبہ الکتاب فاذا ھو خائب ویفعل فاعل افعال النیران فیحسب الجیران ومن طلع علیہ النیران ان سیوردھا وکأن قد حان فیدرک القدرفاذاھوتائب ارسلت خیر خلقک وسراج افقک محمدا المبعوث بیسرک ورفقک بشیرا و نذیرا و سراجا منیرا ملأضؤوہ المشارق والمغارب وعم نورہ الاباعد والاقارب وحرم بقرب حضرتہ من حضرۃ قربہ ابوطالب فلک الحجۃ السامیۃ صل علٰی محمد صلاۃ نامیۃ وعلٰی اٰلہ وصحبہ واھلہ وحزبہ صلاۃ ترضیک وترضیہ وتحفظ المصلی عما یردیہ وبارک وسلم ابدا ابدا والحمدﷲ دائما سرمدًا امین اٰمین یا ارحم الراحمین !
اے اﷲ ! ہمارے پروردگار! اور حمد تیری ذات کے زیادہ لائق ہے بنسبت اس کے جو بندے نے کہا۔ اور ہم سب تیرے بندے ہیں، جو تُو نے عطا فرمایا اُسے کوئی روکنے والے نہیں، اور جسے تُو نے روک دیا اُسے کوئی دینے والا نہیں ، اور تیرے فی صلے کو کوئی رَد کرنے والا نہیں اور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اُس کے لیے نافع نہیں، اور تیرے سامنے کسی تونگر کی تونگری اسکے لیے نافع نہیں، تیرے لیے ہی حمد ہے اس پر جو تو نے ہدایت دی، معاف فرمایا ، عافیت دی، عطا فرمایا اور والی بنایا، تو برکت والا ہے اور برتر ہے، اے ربِ کعبہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیرے درناک عذاب سے تیری ذات کی پناہ مانگتے ہوئے اور اس پر گواہی دیتے ہوئے کہ اﷲ برتر و عظیم کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت تُو عزت والا غالب ہے، کوئی بھاگنے والا تیرے قابو سے باہر نہیں جاسکتا اور جو تُو روک دے کوئی طالب اس کو پا نہیں سکتا تجھ پر کچھ بھی واجب نہیں، تُو نے تقدیریں مقدر فرمائیں اور ادوار کو گردش دی۔ اور جو نے لکھنا تھا کتب تقدیر میں لکھ دیا۔ کوئی آدمی جنتیوں جیسے کام کرتا ہے تو انسانوں اور جِنّوں میں سے کچھ گمان کرنے والے گمان کرنے لگتے ہیں کہ عنقریب یہ جنت میں داخل ہوجائے گا گویا کہ ایسا ہوگیا۔ پھر اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے تو وہ ناکام ہوجاتا ہے اور کوئی عامل جنہمیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پڑوسی اور دیگر لوگ سمجھنے لگتے کہ عنقریب یہ اُس میں داخل ہوگا اور گویا کہ اس کا وقت قریب ہوچکا ہے، پھر تقدیر اُس کو پالیتی ہے تو وہ تائب ہوجاتا ہے ، تُو نے اپنی مخلوق میں سے بہترین کو بھیجا جو تیرے افق کا سراج ہے یعنی محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو تیری طرف سے آسانی اور نرمی کے ساتھ مبعوث ہوئے خوشخبری سناتے، ڈر سناتے، چمکادینے والے چراغ جس کی روشن نے مشرقوں اور مغربوں کو بھر دیا، اس کا نور دور و نزدیک والوں کو عام ہے۔ اور ابوطالب اس کی بارگاہ کے قریب کے باوجود اس کی بارگاہ قرب سے محروم رہے۔ چنانچہ تیری ہی حجت بلند ہے۔ محمد مصطفٰی آپ کی آل، آپ کے اصحاب، آپ کے اہلِ خانہ اور آپ کی جماعت پر ایسا پڑھنے والا درود نازل فرما جو تجھے بھی پسند ہو اور انہیں بھی پسند ہو جو درود پڑھنے والے کو ہلاکت سے بچائے اور برکت و سلام نازل فرما ہمیشہ کے لیے ۔ اور ہر حمد ہمیشہ ہمیشہ اﷲ ہی کے لیے ہے۔ اے بہترین رحم فرمانے والے! ہماری دُعا کو قبول فرما(ت)
اس میں شک نہیں کہ ابوطالب تمام عمر حضور سیّد المرسلین سیّدالاولین و الاخرین سیدالابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی آل وسلم الٰی یوم القرار کی حفظ و حمایت و کفایت و نصرت میں مصروف رہے ۔ اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھا، اور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایک عالم حضور کا دشمنِ جاں ہوگیا تھا، اور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزون قریبیوں سے مخالفت گوارا کی، سب کو چھوڑ دینا قبول کیا، کوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامرعی نہ رکھا، اور یقیناً جانتے تھے کہ حضور افضل المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے سچے رسول ہیں، ان پر ایمان لانے میں جنت ابدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہے، بنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تصدیق کرو فلاح پاؤ گے، نعت شریف میں قصائدان سے منقول ، اور اُن میں براہ فراست وہ امور ذکر کیے کہ اس وقت تک واقع نہ ہوئے تھے۔ بعد بعثت شریف ان کا ظہور ہوا، یہ سب احوال مطالعہ احادیث و مراجعتِ کُتب سیر سے ظاہر، ایک شعر ان کے قصیدے کا صحیح بخاری شریف میں بھی مروی :
( وہ گورے رنگ والے جن کے رُوئے روشن کے توسّل سے مینہ برستا ہے، یتیموں کے جائے پناہ بیواؤں کے نگہبان صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ت)
(۱صحیح البخاری ابواب الاستسقاء باب سوال الناس الامام الاستسقاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳۷)
محمد بن اسحٰق تابعی صاحبِ سیر و مغازی نے یہ قصیدہ بتما مہما نقل کیا جس میں ایک سو ۱۱۰ دس بیتیں مدحِ جلیل و نعتِ منیع پر مشتمل ہیں۔ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، شرح صراطِ مستقیم میں اس قی صدہ کی نسبت فرماتے ہیں :
دلالت صریح داروبرکمال محبت ونہایت نبوت او، انتہی۲ ۔
یہ قصیدہ ابوطالب کی رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ کمال محبت اور آپ کی نبوت کی انتہائی معرفت پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
(۲ شرح سفر السعادۃ فصل دربیان عیادت بیماراں مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۲۴۹)
مگر مجردان امور سے ایمان ثابت نہیں ہوتا۔ کاش یہ افعال واقوال اُن سے حالتِ اسلام میں صادر ہوتے تو سیّدنا عباس بلکہ ظاہراً سیّدنا حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بھی افضل قرار پاتے اور افضل الاعمام حضور افضل الانام علیہ وعلٰی آلہ وافضل الصلوۃ والسلام کہلائے جاتے ۔ تقدیر الہٰی نے بربنا اُس حکمت کے جسے وہ جانے یا اُس کا رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انہیں گروہِ مسلمین و غلامانِ شفیع المذنبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں شمار کیا جانا منظور نہ فرمایا
فاعتبروایا اولی الابصار۳ ۔
(تو عبر ت لو اے نگاہ والو! ت)
(۳۔ القرآن الکریم ۵۹/ ۲ )
صرف معرفت گو کیسی ہی کمال کے ساتھ ہوا یمان نہیں، دانستن و شناختن اور چیز ہے اور اذعان و گرویدن اور، کم کافر تھے جنہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سچے پیغمبر ہونے کا یقین نہ تھا۔
جحدوا بھا واستیقنتہا انفسھم ۴
( اور ان کے منکر ہوئے اور ان کے دلوں میں ان کا یقین تھا ۔ ت)
( ۴ ۔ القرآن الکریم ۲۷ /۱۴)
اور علمائے اہلِ کتاب تو عموماً جزمِ کلی رکھتے تھے حتی کہ یہ امران کے نزدیک کالعیان سے بھی زائد تھا معائنہ میں ب صر غلطی بھی کرتی ہے اور یہاں کسی طرح کا شبہ و احتمال نہ تھا۔
قال جل وعلا
(اﷲ جل وعلا نے فرمایا) :
یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم۱۔
وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔(ت)