Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
129 - 157
مسئلہ ۲۰۷ تا ۲۱۱:  از کلکۃ نمبر ۲۴۷ پوسٹ شملہ مانک تلہ  مرسلہ منصور علی میاں بگاں قدمِ رسول ۱۷ شعبان ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ، 

(۱) مومن اور ولی میں کون سی نسبت ہے؟
 (۲) درود شریف کے اندر بجائے
علٰی ابراہیم وعلٰی آل ابراہیم کے علٰی ال داؤد یا علی اٰ ل زکریا وغیرھما
نہ آنے کی کیا وجہ ؟
 (۳) جو مضمون قران شریف کے ہے اس کو مدلولِ قرآنی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر کہہ سکتے ہیں تو
طھرابیتی وطھر اقلبی
میں کیا فرق ہے ؟ اور اگر مدلول نص نہیں تو کیوں؟
 (۴) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں اصحاب پر آل کو مقدم کیوں کیا ؟

(۵) درجہ ولایت باقی رہنے اور نبوت کے ختم ہوجانے کی کیا وجہ ہے؟
الجواب 

(۱) اگر ولایتِ عامہ مراد ہے تو تساوی،
اﷲ ولی الذین اٰمنوا ۱ ؎۔
 ( اﷲ تعالٰی ایمان والوں کا ولی ہے۔ت) اور خاصہ تو عموم خصوص مطلق
ان اولیاء ہٗ  الا المتقون ۲ ؎۔
 ( اس کے ولی تو پرہیزگار ہیں۔ت)
 ( ۱ ؎القرآن الکریم  ۲ /۲۵۷)

 ( ۲ ؎القرآن الکریم ۸ /۳۴)
 (۲) آل ابراہیم علیہ السلام میں آل داؤد و آل زکریا علیہما السلام سب داخل ولا عکس۔

(۳) جس مضمون پر قرآن عظیم دلالت فرمائے مدلولِ قرآنی ہے بیتی اور قلبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور متشابہات میں قیاس جاری کرنا ضلالت
اٰمنّا بد کل من عندربنا ۳ ؎۔
 ( ہم اس پر ایمان لائے سب ہمارے رب کے پاس ہے۔ ت) نہ کہ
من عند نفسک
 ( تیرے نفس کے پاس سے ۔ت)
 ( ۳ ؎القرآن الکریم ۳ /۷)
 (۴) آل اصحاب کو بھی شامل ہے ولا عکس یہ تخصیص بعد تمیم ہے۔
(۵) اﷲ عزوجل نے فرمایا :
وٰلکن الرسول اﷲ و خاتم النّبین  ۱ ؎۔
ہاں وہ اﷲ تعالٰی کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ۔(ت)
 ( ۱ ؎القرآن الکریم۳۳ /۴۰)
اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتزال طائفۃ من امتی ظاھرین علی الحق لایضرھم من خذلھم ولا خالفہم حتی یاتی امر اﷲ وھم علٰی ذٰلک۲ ؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
میری اُمت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا،  ان کی رُسوائی کا ارادہ کرنے والا اور ان کا مخالف ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالٰی کا امر ( قیامت) آجائے در آنحالیکہ وہ حق پر قائم ہوں گے۔ اور اﷲ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
 ( ۲ ؎الدرالمنثور بحوالہ مسلم والترمذی و ابن ماجہ تحت آیۃ ولولا دفع اﷲ الناس الخ مکتبہ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ۱ /۳۲۱)

(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب قولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۴۳)
مسئلہ ۲۱۲:ازتھانہ فتح پور چوراسی ضلع اناؤ ۔ مرسلہ علی احمد خان صاحب ہیڈ محرر ۲۳ جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے تیسری لڑکی ہوئی ،  اس دن سے زید نہایت پریشان ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا نصیب ور اور اچھا ہوتا ہے۔ زید نے ایک صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا یہ سب باتیں اہل ہنود اور عورتوں کی بنائی ہوئی ہیں اگر تم کو وہم ہو صدقات کردو  ایک گائے یا سات بکریاں قربانی کردو اور توشہ شاہنشاہِ بغداد رضی اللہ تعالٰی عنہ کر دو ، حق تعالٰی بتصدق سرکار غوثیت رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر طرح کی بلاو نحوست سے محفوظ رکھے گا۔ توشہ دو ہیں۔
ایک خشکہ گیلانی : برنج (۵ ماِ) ،  روغن زرد (۵ مِا) ،  شکر (۵ ماِ )،  میوہ (۵ ماِ) شیر گاؤ (۵ ماِ) زعفران (۵ تولہ) ،  گلاب (ایک بوتل ) ،  کیوڑا ( ایک بوتل ) الائچی خورد (۵ ماِ)،  لونگ (۳ تولہ)۔
اس کو پکا کر نیاز شہنشاہِ بغداد رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کرکے مسلمانوں کو تقسیم کردیا جائے دوسرا حلوہ اس طرح کہ : میدہ گندم (۵ ماِ) ،  روغن زرد (۵ ماِ ) شکر (۵ ماِ) میوہ (۵ مِار)
حلوہ پکا کر کیوڑا،  گلاب،  ورق نقرہ لگا کر فاتحہ دے کر تقسیم کردیا جائے۔ پانچ سیر سے کم ہونا اچھا نہیں زیادہ کا اختیار ہے۔ چونکہ زید اور اس کی اہلیہ متبع حضور کے ہیں اس وجہ سے حضور کو تکلیف دی جاتی ہے کہ یہ باتیں صحیح ہیں یا غلط آپ کچھ صدقات تحریر فرمادیجئے تاکہ ان کی تعمیل زید کرسکے کیونکہ ان صدقات میں مبلغ ایک سو روپے صرف ہوں گے اور زید کی تنخواہ صرف عہ روپے ہے یا ان صدقات میں کمی فرمادیں۔
الجواب

یہ محض باطل اور زنانے ادہام اور ہندوانہ خیالات شیطانیہ ہیں ان کی پیروی حرام ہے۔ تصدیق اور توشہ سرکار ابدقرار رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت اچھی چیز ہے مگر اس نیت سے کہ اس کی نحوست دفع ہو جائز نہیں کہ اس میں اس کی نحوست مان لینا ہوا اور یہ شیطان کاڈالا ہوا وہم تسلیم کرلینا ہوا والعیاذ باَ تعالٰی،  اس قسم کے خطرے وسوسے جب کبھی پیدا ہوں اُن کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر و بیشمار نافع دعائیں لکھتا ہوں انہیں ایک ایک بار خواہ زائد آپ اور آپ کے گھر میں پڑھ لیں۔ اگر دل پختہ ہوجائے اور وہ وہم جاتا رہے بہتر ورنہ جب وہ وسوسہ پیدا ہو ایک ایک دفعہ پڑھ لیجئے اور یقین کیجئے کہ اﷲ و رسول کے وعدے سچے ہیں اور شیطان ملعون کا ڈرانا جھوٹا۔ چند بار میں بعونہ تعالٰی وہ وہم بالکل زائل ہوجائے گا اور اصلاً کبھی کسی طرح اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ وہ دعائیں یہ ہیں :
لن یصیبنا ماکتب اﷲ لنا ھو مولٰینا وعلی اﷲ فلیتوکل المؤمنون  ۱ ؎۔
  ہمیں نہ پہنچے گی مگر جو ہمارے لیے اﷲ نے لکھ دی وہ ہمارا مولٰی،  اور اﷲ ہی پر بھروسا کرنالازم۔
 ( ۱ ؎القرآن الکریم ۹ /۵۱)
حسبنا اﷲ ونعم الوکیل  ۲ ؎۔
ا ﷲ ہمیں کافی ہے اور کیا اچھا بنانے والا۔
( ۲ ؎القرآن الکریم۳ /۱۷۳)
اللھم لایاتی بالحسنات الا انت ولا یذھب السیئات الا انت ولاحول ولاقوۃ الاّ بک  ۱ ؎۔
الہٰی ! اچھی باتیں کوئی نہیں لاتا تیرے سوا اور بُری باتیں کوئی دور نہیں کرتا تیرے سوا اور کوئی زور طاقت نہیں مگر تیری طرف سے۔
 ( ۱ ؎۔ کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۴  موسسۃ الرسالہ بیروت۱۰ /۱۱۶)
اللھم لا طیرا لاطیرک ولا خیر الا خیرک ولا الٰہ غیرک  ۲ ؎۔
الہٰی تیری فال فال ہے اور تیری ہی خیر،  خیر اور تیری سوا کوئی معبود نہیں۔
( ۲ ؎۔ کنزالعمال حدیث ۲۸۵۸۰موسسۃ الرسالہ بیروت۱۰ /۱۱۵)
یہ توشہ کہ انہوں نے بتایا نہایت مفید چیز ہے اور حاجتیں بر لانے کے لیے مجرب،  ہمارے خاندان کے مشائخ میں اس کی ترکیب یوں ہے۔

میدہ گندم (۵ ماِ) ،  شکر (۵ ماِ) ،  گھی (۵ ماِ) مغز بادام (۱ ماِ) ، پستہ (۱ ماِ) ،  کشمکش (۱ ۔ماِ) ناریل (۱ مِا) ۔لوگ ،  دار چینی ،  چھوٹی الائچی ہر ایک سوا چھٹانک۔
حضور کی نیاز دے کر صالحین کو کھلائے اور اپنے مطلب کی دُعا کرائے۔ اصل وزن یہ ہیں،  بقدرِ قدرت ان میں کمی بیشی کا اختیار ہے۔ نصف،  چوتھائی ،  آٹھواں حصہ یا جتنا مقدور ہو کرے وہی اثر دے گا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter