(۷) رات تجلی لطفی ہے اور دن تجلی قہری ، اور معراج کمالِ لطف ہے جس سے مافوق متصور نہیں، لہذا تجلی لطفی ہی کا وقت مناسب تھا۔ معراج وصلِ محب و محبوب ہے اور وصال کے لیے عادۃً شب ہی انسب مانی جاتی ہے معراج ایک معجزہ عظیم قاہرہ ظاہرہ تھا۔ اور سنتِ الہٰیہ ہے کہ ایسے واضح معجزہ کو دیکھ کر جو قوم نہ مانے ہلاک کردی جاتی ہے اُن پر عذاب عام بھیجا جاتا ہے ، جیسے اگلی امتوں میں بکثرت واقع ہوا۔ معراج کو شریف لے جانا اگر دن میں ہوتا تو یا سب ایمان لے آتے یا سب ہلاک کیے جاتے ، ایمان تو کفار کے مقدر میں تھا نہیں تو یہ ہی شِق رہی کہ اُن پر عذاب عام اُترتا اور حضور بھیجے گئے سارے جہان کے لیے رحمت ، جنہیں اُن کا رب فرماتا ہے :
وما کان اﷲ لیعذبھم وانت فیھم۱ ؎۔
اے رحمت عالم ! جب تک تم ان میں تشریف فرما ہو اﷲ انہیں عذاب کرنے والا نہیں۔
( ۱ ؎ القرآن لکریم ۸ /۳۳)
لہذا شب ہی مناسب ہوئی۔
(۸) تصانیف علماء میں قصص الانبیاء دیکھئے اگر کوئی خاص بات دریافت کرنی ہو تو پوچھیے۔
حضرت عزیز علیہ السلام کا قصہ قرآن عظیم ہی میں مذکور ہے کہ اُن کی روح قبض فرمائی پھر سو برس بعد زندہ فرمایا ، کھانا پانی جو ساتھ تھا وہ اس سو برس میں نہ بگڑا۔ اور سواری کے لیے جانور کی ہڈیاں بھی گل چکی تھیں، ان کی نظر کے سامنے اس کی ہڈیاں اُبھاریں اُن پر گوشت چڑھایا اسے زندہ فرمایا ۔۲ ؎۔
( ۲ ؎ القرآن لکریم ۲ /۲۵۹)
حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ سیدنا موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی قرآن عظیم میں ہے ۳ ؎۔
حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا سے مع جسم بہشت بریں میں اٹھالیا،
اورکتاب میں ادریس کو یاد کرو بے شک وہ صدیق تھا، غیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مقام کی طرف اٹھالیا۔(ت)
( ۳ ؎ القرآن لکریم ۱۸/ ۶۵ تا ۸۲)
( ۴ ؎ القرآن لکریم ۱۹/ ۵۶ و ۵۷)
الیاس علیہ الصلوۃ والسلام مرسلین کرام میں ہیں، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سب بحیات حقیقی روحانی جسمانی زندہ ہیں، ان کی موت صرف ایک آن کو تصدیقِ وعدہ الہٰیہ کے لیے ہوتی ہے، جمہور علماء کے نزدیک چار نبی بے عروضِ موت اب تک زندہ ہیں، دو آسمان پر، سیدنا ادریس و سیدنا عیسی اور دو ز مین میں، سیدنا الیاس و سیدنا خضر علیہم الصلوۃ والسلام ۱ اور یہ دونوں حضرات ہر سال حج کرتے ہیں اور ختم حج پر زمزم شریف کے پاس باہم ملتے ہیں، اور آبِ زمزم شریف پیتے ہیں کہ آئندہ سال تک ان کے لیے کافی ہوتا ہے پھر کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی۔
ان کلمات پر باہم ملاقات ختم فرماتے ہیں :
سبحان اﷲ ماشاء اﷲ لایسوق الخیر الاّ اﷲ ماشاء اﷲ لایصلح السوء الا اﷲ ماشاء اﷲ ماکان من نعمۃ فمن اﷲ ماشاء اﷲ لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۲ ؎۔
اللہ تعالٰی پاک ہے جو اﷲ چاہے، بھلائی نہیں لاتا، مگر اﷲ جس قدر چاہے جو بھی نعمت ہے وہ اﷲ ہی کی طرف ہے جس قدر اﷲ چاہے، نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت ہے مگر اﷲ تعالٰی کی توفیق سے۔(ت)
( ۱ ؎۔تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۱۵۵)
(۲ ؎تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت۹/ ۱۵۸)
الیاس علیہ الصلوۃ والسلام لشکرِ اقدس حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو ایک غار میں یہ دعا کرتے ملتے۔
اللھم اجعلنی من امۃ احمد المرحومۃ المبارکۃ المستجاب لھا ۳ ؎۔
اے اﷲ ! مجھے احمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی امت سے بنا دے جس پر تیری رحمت و برکت نازل ہوتی ہے اور جس کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔(ت)
( ۳ ؎تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ۱۰۰۴ الیاس بن عیسٰی علیہ السلام داراحیاء التراث العربی بیروت ۹/ ۱۵۹)
خضر علیہ الصلوۃ والسلام بعد وصال اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعزیت کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے، مسجد نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے راستہ میں امیرا لمومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے باتیں کرتے اور ان پر تکیہ لگاتے ہوئے راہ چلتے نظر آئے، اکابر اولیاء کے پاس اکثر تشریف لاتے ، حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی مجالس وعظ میں بکثرت کرم فرمایا، اور اب تک اولیاء سے ملتے ہیں، جنگل میں بے بسی کے وقت مسلمانوں کی مدد فرماتے ہیں۔
(۹) ان احادیث کی تفصیل خصائص کبرٰی امام جلال الدین سیوطی و کتاب الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ سیدنا علامہ محمد ابن عبدالرسول برزنجی وغیرہما میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹و۲۰۰: مرسلہ حکیم عبدالجبار خان دہام پور ضلع بجنور ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
(۱) کیا سید پر دوزخ کی آنچ قطع حرام ہے، اور وہ کسی بداعمالی کی پاداش میں دوزخ میں جاہی نہ سکے گا؟
(۲) آل فاطمہ کا مخصوص اعزاز و امتیاز کیا حضرت فاطمہ خاتونِ جنت کے ذریعہ سے ہے کیونکہ جناب سیدہ موصوفہ سید کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں یا حضرت علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی ذات خاص کی بدولت یہ رُتبہ سادات ہے فقط۔
الجواب :
(۱) ساداتِ کرام جوواقعی علمِ الہٰی میں سادات ہوں ان کے بارے میں رب عزوجل سے امید واثق یہی ہے کہ آخرت میں اُن کو کسی گناہ پر عذاب نہ دیا جائے گا۔ حدیث میں ہے :
انما سیت فاطمۃ لان اﷲ تعالٰی حرمھا وذریتہا علی النار ۱ ؎۔
ان کا فاطمہ نام اس لیے ہوا کہ اﷲ نے ان کو اور ان کی تمام ذریت کو نار پر حرام فرمادیا۔
دوسری حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا :
ان اﷲ غیر معذبک ولا ولدک اوکما قال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۲ ؎۔
اے فاطمہ ! اﷲ نہ تجھے عذاب کرے گا نہ تیری اولاد میں کسی کو، مگر حکم قطعی بے نص قطعی ناممکن ہے۔
( ۲ ؎المعجم الکبیر حدیث ۱۱۶۸۵المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۲۶۳)
(۲) امیر المومنین مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ کی اولاد امجاد اور بھی ہیں قریشی ہاشمی علوی ہونے سے ان کا دامان فضائل مالا مال ہے مگر یہ شرفِ اعظم حضرت سادات کرام کو ہے، اُن کے لیے نہیں یہ شرفِ حضرت بتول زہرا کی طرف سے ہے کہ۔
فاطمۃ بضعۃ منّی ۱ ؎۔
فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔
( ۱ ؎صحیح البخاری کتاب المناقب مناقبِ فاطمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۳۲)
( صحیح البخاری کتاب المناقب باب مناقب قرابت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۲۶)
(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فضائل من فاطمہ رضی اللہ عنہما قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۹۰)