| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ١٨١ : ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک جاہل نے کوئی گناہ کیا جس کو قطعی نہ جانتا تھا کہ حلال ہے یا حرام۔ اور اسی یا دوسرے گناہ کو عالم نے کیا، تو ان دونوں کے لیے از جانبِ شریعت حکم مختلف ہے، یا نہیں؟ اور اگر مختلف ہے تو کیوں؟ اور اگر مختلف نہیں ہے تو کیوں؟ بیّنوا توجروا ( بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب : حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان ۱ ؎۔ قیل ولم یارسول اﷲ ، قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب والجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترک التعلم ۲ ؎۔
عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ ، عرض کی : یارسول اﷲ ! یہ کس لیے ؟ فرمایا : عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایک عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایک علم نہ سیکھنے کا۔
( ۱ ؎الجامع الصغیرحدیث ۴۳۳۵دارالکتب العلمیۃ بیروت۲ /۲۶۴) ( ۲ ؎۔ فیض القدیر تحت حدیث ۴۳۳۵دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۵۶۵)
مسئلہ ۱۸۲: از مارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ سرکار کلاں مرسلہ سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم ۲۴ ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ دوشنبہ مولانا المعظم ذوالمجدو الکرم معظم ومکرم دام مجدھم ، پس از سلامِ مسنون عارضِ خدمت ہوں۔ بفضلہ تعالٰی جناب کی صحت و عافیت کا مستدعی بخیر ہوں۔ میں نے جناب سے سیّد ظہور حیدر صاحب مرحوم کے لیے جو اُن کے نام سے ایک عدد کم کرکے تاریخ وفات ان کی کردینے کو کہہ آیا تھا اور جناب نے وعدہ فرمایا تھا ۔ اب اگر ہوگئی ہو تو روانہ فرمائیں۔ تقریظات الحدوث والقدوم اور التناسخ بھی روانہ ہوں جو بدایونی رسائل ہیں، اور اگر کوئی جدید رسالہ مبحث اذان میں شائع ہوا ہو تو روانہ ہو، کنزالآخرۃ جو چودھری صاحب سہاروی کی ہے وہ جدید الطبع سُنا ہے کہ جناب کی نظر و اصلاح سے بتما مہاگزری ہے، آیا یہ درست ہے؟ اور اس میں جو صفحہ ۷۲ پر امامت کے مسائل ہیں، قبروں پر چادریں چڑھانے کو بدعت سیئہ کے قسم اعتقاد یہ اور باب زیادۃ القبور میں قبر وں پر کچھ چڑھانے یا چُومنے کو جو حرام اور بدعت لکھ دیا ہے۔ آیا یہ بھی جناب کے نزدیک صحیح ہے؟ اس سے مطلع فرمائیے۔ والسلام
الجواب : بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ، ونصلی علٰی رسولہ الکریم
بشرف ملاحظہ عالیہ حضرت صاحبزادہ والا قدر بالا فخر حضرت جناب مولانا مولوی سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم بعد تسلیم مع التکریم ملتمس والا حضرت سیدنا شاہ مہدی میاں صاحب قبلہ کے حکم سے ان عظیم بے فرصتیوں میں یہ کتاب فقیر نے بنائی۔ اغلاطِ شدیدہ کثیرہ عظیمہ شرعیہ کا نکالنا تو لازم و واجب ہی تھا۔ حکم یہ ہوا کہ اشعار کی بھی اصلاح کر۔ جس سے بلا مبالغہ اتنی بڑی کتاب نظم اور اتنے کثیر حواشی از سرِ نو تصنیف کرنی ہوئی، بلکہ تصنیفِ جدیدہ میں اس کی نصف محنت بھی نہ ہوتی جو اس کے بنانے میں ہوئی، طبع اول صفحہ ۱۲۳ تک کہ طبع جدید کے صفحہ ۱۳۳ ہے، تمام اصلاحات کی نقل میں نے اپنے پاس رکھی ، اور جناب چودھری صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ بعد تبیضیں یہاں پھر دیکھنے کو بھیج دیا کریں۔ جناب موصوف نے کچھ اجزاء کافی شدہ دیکھنے کو بھیجے۔ اس کے مطالعہ سے واضح ہوا کہ اصلاح میں شدید تبدیلیں فرمادیں ہیں۔ اس کے بعد مجھے چاہیے تھا کہ باقی کتاب واپس کرتا۔ مگر حکمِ حاکم سے چارہ نہ تھا۔ باقی کی بھی اسی محنت سے اصلاح کی اور چودھری صاحب سے عرض کر بھیجی کہ اب مبیضہ یہاں بھیجنے کی حاجت نہیں۔ یہ مسئلہ چادر وغیرہ کا جو حضرت نے دریافت فرمایا ہے الحمد ﷲ کہ اسی صفحہ ۱۲۳ پر تھا جسے میں یہ دکھا سکتا ہوں کہ میری اصلاح یہ تھی، اور یہ حضرت خود ملاحظہ فرمالیں گے کہ طبع جدید میں اس کی کیا گت ہوگئی ہے۔
طبع اول کے صفحہ ۸۵ و ۸۶ پر کہ اب صفحہ ۹۲ تا ۹۴ہے، اس میں یہ شعر" کچھ چڑھانا قبر پر یا چومناالخ كا ٹ کر یہ بنام تھا: سجدہ قبر اور طوافِ باخضوع اُن کے آگے جھُکناتاحدِ رکوع۱
(۱ کنزالاخرۃ)
طبع دوم میں وہی اپنا شعر رہا، یہیں میں نے یہ اشعار اضافہ کیے تھے۔ ؎ع اولیاء سے استعانت ہے روا وہ وسائل ہیں تِرے پیشِ خدا معُطی و مالک فقط اﷲ ہے واسطہ اپنا ولی اﷲ ہے ہے توسّل کی طلب القرآن میں وابتغوا آیا ہے اس کی شان میں دیکھ تفسیر عزیزی پارہ عم لکھتے ہیں یوں شاہ صاحب محترم اولیاء کرتے ہیں امدادِ بشر جارحہ ہیں بہرِ امداد بشر اہلِ حاجت ان سے حاجت مانگ کر اپنی مشکل کرتے ہیں حل سربسر یہ بھی فرمایا کہ نذرِ اولیاء ہے تمام امت میں رائج بے خطا ہے یہ مقصودِ شہ عبدالعزیز نذر عرفی ہے، نہ شرعی اے عزیز تحفہ جولے جائیں شاہوں کے حضور نذر کہتے ہیں اسے اہل شعور فرقِ عُرف و شرع سے غافل نہ ہو کہہ نہ مشرک اہلِ الااﷲ کو اُمت احمد کوجو مشرک کہے خود ہے وہ نزدیک شرک و کفر سے اور سماع و علمِ موتی مطلقا اہلِ سنت کا ہے اجماع اے فتٰی مُردے مومن ہوں کہ کافر لاکلام دیکھتے سُنتے سمجھتے ہیں مُدام اس پہ ناطق ہے تواتر سے حدیث ہے فنائے رُوح تو قولِ خبیث وہ نہیں سُنتے تو کیوں اُن پر سلام کیا شریعت چاہے پتھر سے کلام عام کے یہ دھڑ نہیں سُنتے ضرور ہیں یہی موتی یہی من فی القبور یہ بھی جب حق چاہے سُنتے ہیں ندا کیونکہ
انّ اﷲ یسمع من یشاء ۱ ؎
(۱ کنزالاخرۃ)