Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
121 - 157
 (۱۳) عام اموات احیاء کو دیکھتے،  ان کا کلام سُنتے سمجھتے ہیں،  سماعِ موتی حق ہے،  پھر اولیاء کی شان توارفع واعلی ٰ ہے۔

(۱۴) اﷲ عزوجل نے روزِ اوّل سے قیامت تک کے تمام ماکان ومایکون ایک ایک ذرّے کا حال اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو بتادیا حضور کا علم ان تمام غیبوں کومحیط ہے۔
 (۱۵) امکانِ کذب الہٰی جیسا کہ اسمعیل دہلوی نے رسالہ یکروزی اور اب گنگوہی نے براہین قاطعہ میں مانا صریح ضلالت ہے۔ اﷲ تعالٰی کا کذب قطعاً اجماعاً محال بالذات ہے۔ مسئلہ خلفِ وعید کوان کے اس ناپاک خیال سے اصلاً علاقہ نہیں۔

(۱۶) شیطان کے علم کو معاذ اﷲ حضور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے علم سے زائد وسیع تر ماننا جیسا کہ براہین قاطعہ گنگوہی میں ہے صریح ضلالت و توہین حضرت رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ ہے۔

(۱۷) مجلس میں میلاد مبارک اور اس میں قیام تعظیمی جس طرح صدہا سال سے حرمین محترمین میں شائع وذائع ہے جائز ہے۔

(۱۸) گیارھویں شریف کی نیاز اوراموات کی فاتحہ اور عرسِ اولیاء کہ مزامیر وغیرہا منکرات سے خالی ہو سب جائز و مندوب ہے۔
 (۱۹) شریعتِ وطریقت دو متبائن نہیں ہیں،  بے اتباعِ شرع وصول الٰی اﷲ ناممکن،  کوئی کیسے ہی مرتبہ عالیہ تک پہنچے،  جب تک عقل باقی ہے احکامِ الہٰیہ اس پر سے ساقط نہیں ہوسکتے،  جھوٹے متصوف کہ مخالف شرع میں اپناکمال سمجھتے ہیں سب گمراہ مسخرگان شیطان ہیں،  وحدتِ وجود حق ہے اور حلول واتحاد کہ آج کل کے بعض متصوفہ (بناوٹی صوفی) بکتے ہیں صریح کفر ہے ۔
 (۲۰) ندوہ سرمایہ ضلالت و مجموعہ بدعات ہے،  گمراہوں سے میل جول اتحاد حرام ہے،  ان کی تعظیم موجبِ غضبِ الہٰی اور ان کے رَد کا انسداد لعنتِ الہٰی کی طرف بلانا،  انہیں دینی مجلس کارکن بنانا دین کو ڈھانا ہے۔ ندوہ کے لیکچروں اور روائیداد میں وہ باتیں بھری ہیں جن سے اﷲ و رسول بیزار و بَری ہیں جل جلالہ،  وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم،  اﷲ تعالٰی سب بدمذہبوں و گمراہوں سے پناہ دے اور سنّتِ حقّہ خالص پر ثابت قدم رکھے۔
0 ۔ حضرت فاضل بریلوی مدظلہ العالی کے ان امور مقررئہ مذکورہ کی تصدیق جناب مولانا شاہ احمد علی صاحب مرزا پوری نے فرمائی اور یہ عبارت لکھی۔"امورِ عشرین مندرجہ بالا بہت درست و ٹھیک ہیں۔ وحدت وجود حق ہے مگر اس میں بحث و مباحثہ فقیر کے نزدیک خوب نہیں،  یہ امور کشفیہ سے ہیں اور متعلق بکفییت ایسے امور کو اولیاء اﷲ ہی خوب سمجھے ہوئے ہیں چونکہ فقیر کے پاس مہُر نہیں لہذا دستخط ہی پر اکتفاء کیا۔" 

   ۲ شوال ۱۳۱۸ھ روز چہار شنبہ۔
0  پھر امام اہلسنت فاضل بریلوی مدظلہم نے یہ تحریر فرما کر اپنے دستخط اور مہر ثبت فرمائی۔ " آج کل بہت لوگ اعادئے سنیت کرتے اور عوام بیچارے دھوکے میں پڑتے ہیں۔ بعض مصلحت وقت کے لیے زبان سے کچھ کہہ جاتے اور موقعہ پا کر پھر پلٹا کھاتے ہیں،  اکثر جگہ امتحان کے لیے ان شاء اﷲ العزیز یہ امور عشرین بطورِ نمونہ کافی ہیں جو بعونہ تعالٰی فراز سنیت پر سچا فائز ہے۔ بے تکلف دستخط کردے گا،  ورنہ پانی مرنا آپ ہی نشیب ضلالت کی خبر دے گا۔
فمن نکث فانما ینکث علٰی نفسہ ۱ ؎ ومن ینقلب علٰی عقبیہ فلن یضراﷲ شیئا۲ ؎۔ ومن یتول فان اﷲ ھو الغنی الحمید۳ ؎  والحمدﷲ رب العٰلمین۔
اور جس نے عہد توڑا اس عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور جو الُٹے پاؤں پھرے گا اﷲ کا کچھ نقصان نہ کرے گا،  اور جو منہ پھیرے تو بے شک اﷲ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،  اور سب تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔(ت)
 (۱؂القرآن الکریم ۴۸/ ۱۰)	(۲؂القرآن الکریم ۳/ ۱۴۴)	  (۳؂القرآن الکریم ۵۷/ ۲۴)
کتـــبـــــــــــــــــــــــــــہ

عبدہ المذنب احمد رضا البریلویعفی عنہ

بمحمدن المصطفٰی النبی الامّی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
مسئلہ ۱۸۰: از ضلع میرٹھ مسئولہ محمد فضل الرحمن صاحب ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

ایک قطعہ اشتہار " پروانہ خداوندی  " مجھے اس قصبہ میں دستیاب ہوا ہے،  لہذا ارسال بحضور ہے،  امید کہ مفصل مطلع فرمایا جائے کہ یہ اشتہار کہاں تک صحیح ہے۔

"پروانہ خداوندی"
بسم اﷲ الرحمن الرحیم،صلی اﷲ علی سیّدنا محمد وعلٰی اٰلہ واصحابہ وسلم،
یہ وصیت حضرت جناب محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے شیخ احمد خادمِ روضۃ النبی علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف ہے کہ جمعہ کی رات کو خواب میں قرآن شریف کی تلاوت فرماتے ہوئے دیکھا اور فرمایا : اے شیخ احمد ! یہ دوسری وصیت تیری طرف ہے علاوہ اس پہلی وصیت کے،  وہ یہ ہے کہ تم جملہ مسلمین کو رب العالمین کی طرف سے خبر کردو کہ میں ان کے بابت ان کے کثرتِ گناہ و معاصی کے سخت بیزار ہوں،  جس کا سبب یہ ہے کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک (کلمہ گو) نّوے ہزار اموات ہوئی ہیں جن میں ستّر ہزار اسلام باقی تمام غیر اسلام یعنی کفر پر مرے ہیں۔ جس وقت ملائکہ نے یہ بات سُنی تو انہوں نے کہا : یا محمد ! آپ کی امت گناہوں کی طرف بہت مائل ہوگئی ہے کہ انہوں نے اﷲ تعالٰی کی عبادت چھوڑدی ہے پس اﷲ تعالٰی نے ان کی صورتوں کی تبدیلی کاحکم فرمادیا۔ پھر حضرت رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : اے رب ! ان پرتھوڑا صبرکر اور ان کومہلت دے جب تک یہ خبر میں ان کو پہنچادوں ،  پس اگروہ تائب نہ ہوئے تو حکم تیرے ہاتھ میں ہے،  اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دائمی گناہوں ،  کبیرہ گناہوں، زنا کاری ،  کم تولنے،  کم میزان رکھنے،  سود کھانے ،  شراب کے پینے کی طرف بہت مائل ہوگئے ہیں،  اور فقراء و مساکین کو خیرات نہیں د یتے ،  اور دنیا کی محبت آخرت کی نسبت زیادہ کرتی ہیں اور نماز کو ترک کر بیٹھے ہیں،  اور زکوۃ نہیں دیتے پس اے شیخ احمد! تُو ان کو اس بات کی خبر دے،  ان کو کہو کہ قیامت قریب ہے،  اور وہ وقت قریب ہے کہ آفتاب مغرب سے طلوع کرے ان شاء اﷲ تعالٰی اور ہم نے اس سے پہلے بھی وصیت پہنچائی تھی لیکن یہ لوگ نافرمانی اور غرور میں زیادہ دلیر ہوگئے ۔ اوریہ آخر ی وصیت ہے۔ شیخ احمد خادمِ حجرہ شریف نے کہا کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ جو کوئی اس کو پڑھے اور اس کی نقل کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچائے وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا اور اس کی میں شفاعت کروں گا دن قیامت کے،  اور جو اس کو پڑھے اور اس کی نقل نہ کرے وہ قیامت کو میرا دشمن ہوگا۔اور کہا شیخ احمدنے میں اﷲ سبحانہ ،  و تعالٰی کی تین مرتبہ قسم کھاتا ہوں کہ یہ بالکل سچی بات ہے،  اور میں اس میں جھوٹا ہوں تو خدا مجھ کو دنیا سے کافر کرکے نکالے،  اور جو اس کی تصدیق کرے گا وہ دوزخ کی آگ سے نجات پائے گا۔
صلی اللہ علٰی سیدنا محمد و علٰی آلہ واصحابہ وسلم۔
الجواب : جن باتوں کی اس میں ہدایت ہے وہ باتیں اچھی ہیں،  انکے احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیں،  ان پر عمل ضرور ہے۔ باقی یہ تمہید جو اشتہار میں لکھی گئی ہے بے اصل ہے۔ بارہا اس قسم کے اشتہار شائع ہوئے ہیں،  کسی میں خادمِ روضہ انور کا نام صالح ہے کسی میں شیخ احمد ہے۔ اور ایسے ہی بے باکی کے کلمات لکھے ہیں کہ اتنے مسلمان مرے ان مین سے صرف اتنے ایمان کے ساتھ گئے اور باقی معاذ اﷲ بے ایمان مرے۔ اس اشتہار میں تو اتنی رعایت ہے کہ نوے ہزار اموات میں صرف بیس ہزار معاذ اﷲ کافر رکھے ہیں۔ اور اشتہار وں میں تو گنتی کے مسلمان رکھے۔ رب عزوجل سے جوحضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی عرض نسبت کی ہے ،  کس قدر بے معنی ہے۔
  نسأل اﷲ العفووالعافیۃ
ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور سلامتی کے طلبگار ہیں،  ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter