Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
120 - 157
امورِ عشرین درامتیازِ عقائد سُنّیین

(سُنیوں کے عقائد کی پہچان میں بیس ۲۰ امور)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمدﷲ رب الانس والجنۃ ،والصلٰوۃ والسلام علٰی نبینا العظیم والمنّۃ،  المنقذمن النار والمعطی الجنّۃ الذی ذکرہ حرز وحبہ جُنّۃ وعلٰی اٰلہ وصحبہ واَھل السّنۃ ۔
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو انسانوں اور جِنّوں کا رب ہے،  اور درود و سلام ہو ہمارے عظمت وا حسان والے نبی پر جو جہنم سے بچانے اور جنت عطا فرمانے والا ہے،  جس کا ذکر حفاظت اور اس کی محبت ڈھال ہے،  اورآپ کی آل پر اور صحابہ پر اور اہلسنت پر۔(ت)

ماہِ رمضان المبارک ۳۱۸ ہجریہ قدسیہ علی صاحبہاالصلوۃ و التحیۃ میں فقیر کے پاس سانبھر علاقہ ریاست جَے پور (راجستھان ) سے ایک خط بایں تلخیص آیا۔
نقل نامہ حافظ محمد عثمان صاحب بنام فقیر (مصنّف علیہ الرحمہ)
بخدمتِ فیض درجت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی محدّث و امام اہلِ سنت و جماعت بعد سلام سنت الاسلام کے عرض خدمت ہے کہ دریں ولا ہماری ملک مارواڑ (راجستھان) کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ آج کل یہاں سانبھر میں جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب حنفی نقشبندی اویسی تشریف لائے ہیں،  ہم لوگ آپ کی تصنیفات گوناگو سے مستفیض ہوچکے تھے۔ اب خوش بیانی ،  اثر پنہانی وتوجہ قلبی سے فیض یاب ہورہے ہیں،  غیر مقلدین و دیگر عقائد باطلہ والے توبہ کرکے وعظ سے اُٹھتے ہیں کوئی وعظ ایسا نہیں ہوتا جس میں آپ ندوہ ( یعنی صلہ کلی الحاد) کی برائی بیان نہ کرتے ہوں،  یہاں کے لوگ ندوے کے بڑے ثنا خواں تھے اب ایسے متنفر ہوگئے جیسے کسی خبیث ( جِن) سے کوئی متنفر ہوتاہے۔ ایک مولوی ندوی بھی یہاں آگیا ہے وہ کہتا ہے اگر مولوی احمد علی شاہ صاحب مخالف ہیں تو خود جاہل و بددین ہیں۔ چند لوگ اس کے کہنے سے بہک گئے،  وہ کہتے ہیں اگر مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی دربارہ مولوی احمد علی شاہ صاحب لکھ دیں تو ہم ان کی باتیں سنیں گے اور اپنے خیالات سے توبہ کریں گے،  لہذا عرض خدمت ہے کہ مولوی احمد علی شاہ صاحب آپ کے علم میں جیسے ہوں تحریر فرمایئے،  آپ کی یہ تحریر سرکشوں کے لیے بہت مفید ہوگی۔		العبد محمد عثمان۔
 (سیدامام اہل سنت اعلحضرت رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں) فقیر کو اس سے پہلے مولانا موصوف سے تعرف تفصیلی نہ تھا اور امر شہادت خصوصاً دربارہ عقائد اہم واعظم ،  لہذا جواب میں یہ خط ارسال فرمایا۔(مکتوبِ اعلحضرت)
نامہ فقیر (مصنّف علیہ الرحمہ) بنام حافظ (محمد عثمان) صاحب
بملاحظہ کرم فرما حافظ محمد عثمان صاحب زید لطفہم ،  السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، 

لطف نامہ آیا،  ممنون یاد آوری فرمایا،  مولوی احمد علی شاہ صاحب نے غریب خانہ پر کرم فرمایا تھا،  پہلی ملاقات تھی،  بعدہ،  جلسہ عظیم آباد (پٹنہ بہار) میں نیاز حاصل ہوا۔ و ہ اس سے بھی مجمل تھا کہ سوائے سلام و مصافحہ کے کسی مکالمہ کی نوبت نہ آئی۔ امرِ شہادت عظیم ہے،  میں معاذ اﷲ کوئی سوء ظن نہیں کرتا بلکہ مولانا موصوف کے جن فضائل کو اب اجمالاً وسماعاً (بذریعہ حافظ مذکور) جانتا ہوں تفصیلاً وعیاناً جان لوں۔ مولانا کی حق پسندی سے امید ہے کہ فقیر کی اس عرض پر کمال خوش و مسرور ،  آج کل غیر مقلدین یا ندوے ہی کا فتنہ ہندوستان میں ساری نہیں بلکہ معاذ اﷲ صدہا آفتیں ہیں،  فقیر بیس امور حاضر کرتا ہے مولانا موصوف ان پر اپنی تصدیق کافی و وافی جس سے بکشادہ پیشانی تسلیم کامل روشن طور پر ثابت ہو تحریر فرما کر اپنی مہر سے مزین فرما کر فقیر کے پاس روانہ کردیں۔

 فقیر احمد رضا قادری عفی عنہ

از بریلی ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۱۸ھ
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
اُمور عشرین تصدیق طلب از جناب مولانا مولوی احمد علی شاہ صاحب مرزا پوری
 (۱) سید احمد خاں علی گڑھ اور اس کے متبعین سب کفار ہیں۔

(۲) رافضی کہ قرآن عظیم کو ناقص کہے یا مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ یا کسی غیر نبی کو انبیاء سابقین علیہم السلام میں سے کسی سے افضل بتائے کافرو مرتد ہے۔

(۳) رافضی تبرائی فقہاء کے نزدیک کافر ہے اور اس کے گمراہ ،  بدعتی،  جہنمی ہونے پر اجماع ہے۔

(۴) جو مولی ٰ علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو حضرات شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما پر قربِ الہٰی میں تفضیل دے وہ گمراہ مخالفِ سنت ہے۔

(۵) جنگِ جمل و صفین میں حق بدست حق پرست امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ تھا ۔ مگر حضرات صحابہ کرام مخالفین کی خطا خطائے اجتہادی تھی جس کی وجہ سے ان پر طعن سخت حرام،  ان کی نسبت کوئی کلمہ اس سے زائد گستاخی کا نکالنا بے شک رفض ہے اور خروج از دائرہ اہلسنت جو کسی صحابی کی شان میں کلمہ طعن و توہین کہے،  انہیں بُرا جانے،  فاسق مانے،  ان میں سے کسی سے بغض رکھے مطلقاً رافضی ہے۔
 (۶) صدہا سال سے درجہ اجتہاد مطلق تک کوئی واصل نہیں ہے بے وصول درجہ اجتہاد تقلید فرض،  غیر مقلدین گمراہ بددین ہیں۔

(۷) اہلسنت صدہا سال سے چارگروہ میں منحصر ہیں جو ان سے خارج ہے بدعتی ناری ہے۔

(۸) وہابیہ کا معِلّم اوّل ابن عبدالوہاب نجدی اور معلمِ ثانی اسمعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان دونوں سخت گمراہ بددین تھے۔

(۹) تقویۃ الایمان و صراطِ مستقیم و رسالہ یکروزی و تنویر العینین تصانیف اسمعیل دہلوی صریح ضلالتوں،  گمراہیوں اور کلماتِ کفریہ پر مشتمل ہیں۔
 (۱۰ ) مائۃ مسائل مولوی اسحق دہلوی غلط و مردود مسائل و مخالفاتِ اہل سنّت و مخالفات جمہور سے پُر ہیں۔

(۱۱) انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء قدست اسرار ہم سے استمدادو استعانت اور انہیں وقتِ حاجت توسل واستمداد کے لیے ندا کرنا
یارسول اﷲ ،  یا علی،  یا شیخ عبدالقادر الجیلانی
کہنا اور انہیں واسطہ فیضِ الہٰی جاننا ضرور حق و جائز ہے۔
(۱۲) عالم میں انبیاء علیہم السلام اور اولیاء
قُدِّ سَتْ اَسْرارُھُم
کاتصرف حیاتِ دنیوی میں اور بعد وصال بھی بعطاءِ الہٰی جاری اور قیامت تک اُن کا دریائے فیض موجزن رہے گا۔
Flag Counter