Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۹(کتاب الشتّٰی )
119 - 157
عرضِ اخیر
خوں شدم زاندیشہ انجام ایں معیارِ حق		کایں ہمہ اصلاحہا گرہست وحاصل شدچہ شد

ہر کہ چوں من آزمایدروشناسہ ہمچومن		ورنہ گرابلیس آدم روئے شامل شدچہ شد
 ( اس معیار ِ حق کے انجام کے اندیشہ سے میں خون ہوگیا ہوں۔ یہ تمام اصلاحات اگر حاصل ہوگئیں تو کیا ہوا،  جو میری طرح آزمائے وہ میری طرح آشنا ہوگا۔ ورنہ اگر ابلیس انسانی شکل اختیار کرکے شامل ہوگیا تو کیا ہوا۔ت)
"  من جرّب بتجربتی عرف معرفتی " ۔
جس نے میری طرح آزمایا وہ میری طرح جان لے گا۔

مولانا ! اس مسودہ سے بعض عقائدِ اہلسنت پر عوام کو صرف اطلاع دینا مقصود نہیںبلکہ ایک معیارِ سنیت قائم فرمانا ہے کہ اس پر تصدیق کردے ہمارا ہے۔ع
چشم و دل را از دست نور سرور
 ( اس سے آنکھ اور دل کو خوشی کا نور حاصل ہوگا۔ت)

اور جو نہ مانے بیگانہ ہے ۔ع
سایہ اش دُور باد ازما دور
(اس کا سایہ ہم سے دُور ہے۔ت)

مگر یہ ہزار افسوس یہ گزارش کہ یہ غرض اس مسودہ سے ہر گز حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ ضلالتیں کہ آج کل مدعیانِ اسلام بلکہ مدعیانِ سنیت میں پھیلی ہوئی ہیں۔ تصریحاً ان کا ذکر اور ان سے تبریہ نہ ہو۔
مولانا ! مجھے تجربہ ہوا ہے،  ایک دو نہیں صدہا ایسے ابلیس آدم روملیں گے کہ ان مسائل پر دستخط کردیں گے اور وہ نہ صرف سنیت بلکہ اسلام کے کٹر دشمن اور آپ کے جرگہ حق میں شامل ہو کر آپ کے مذہب کے بیخ کن ہوں گے۔ اسی لیے تو ائمہ کرام نے ایسوںکے اسلام کو کلمہ شہادت ہر گز کافی نہ جانا،  جب تک اپنے مسلک خبیثہ سے صراحۃً براء ت نہ کریں۔
جامع الفصولین و وجیز کردری و بحرالرائق و درمختار وغیرہا میں ہے:
"  ولواتی بہما ( ای بالشہادتین) علٰی وجہ العادۃ لم ینفعہ ما لم یتبرأ ۱ ؎۔
عادۃً کلمہ شہادت کا پڑھنا گمراہ کو مفید نہیں جب تک وہ اپنی ضلالتوں سے براء ت نہ کرے۔
 (۱؂ درمختار     کتاب الجھاد   باب المرتد  مجتبائی دہلی      ۱ /۲۵۶)
چند سال ہوئے ایک مولی صاحب ،  شاہ صاحب،  واعظ صاحب نے فقیر سے اپنی سنیت کی سند تحریر مانگی ،  فقیر نے انہیں لکھا۔ حضرت ! تصریح نفی فتن دائرہ چاہیے۔
الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا اٰمنا وھم لایفتنون ۲ ؎۔
کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اٰمنا کہنے سے چھٹی مل جائے گی اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔
 (۲؂  القرآن الکریم    ۲۹ /۲)
پھر امور عشرین لکھ کر بھیجے ،  انہوں نے بے تکلف دستخط فرمادیئے،  فقیر نے سندِ سنیت انہیں بھیج دی۔ وہ امور بعض اضافات جدیدہ ( کہ ان برسوں میں ان کی حاجت ہوئی کہ فتن روزانہ متجدد ہیں۔) عرض کروں انہیں غور فرمائیں۔ انجمن اگر ان کی اشاعت پسند فرمائے اور ان پر بلادغدغہ تصدیق کو معیارِ سنیت ٹھہرائے تو ان شاء اﷲ العزیز یہی کافی و وافی ہے،  زیادہ کی ضرورت نہیں،  اور یہ نہ ہوں تو شرح عقائد ومقاصد و مواقف کے ترجمے چھاپ کر اس پر دستخط لیجئے ہر گز کفایت نہیں۔ مولانا ! بحمداﷲ میں نے آپ کے رنگ تحریر سے سمجھا کہ آپ صاف گو ہیں اور امِر حق میں اسی کو پسند فرماتے ہیں اور الحق کو یہی پسند حق ہے،
"  فاصدع بما تؤمرواعرض عن المشرکین ۱ ؎۔
  جس کا حکم دیا گیا وہ علی الاعلان فرمادیں اور مشرکین سے اعراض فرمائیں۔
 (۱؂  القرآن الکریم      ۱۵ /۹۴)
بحمدہ سبحنہ یہی طریقہ فقیر کا ہے۔ ؎
فاش میگویم وازگفتہ خودرلشادم      بندہ عشقم وازہر دو جہاں آزادم
( میں کھلی بات کرتا ہوں اور اپنے کیے ہوئے پر میرا دل خوش ہے،  میں عشق کا غلام ہوں اور دونوںجہاں سے آزاد ہوں۔ت)
اب یہاں پانچ صورتیں ہیں۔

(۱) اقوالِ ضلال کے قائلین اور حاشیہ پر نامِ قائل و کتاب۔	(ب) صرف نام کتب

(ج) متن میں صرف اقوال اور حاشیہ پر نام قائل و کتاب۔          (د) حاشیہ پر صرف نام کتاب

(ہ) مجرداقوال بے اشعار نام قائل و کتاب۔
حاش ﷲ ! طریقہ خامسہ میں کفایت نہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے متعدد بار متعدد شہروں میں وہ دیکھے ہیں کہ ان عبارات کی نسبت ان سے سوال ہوا،  صاف صاف حکم کفر وضلال لکھ دیا ۔ جب کہا گیا کہ یہ قول فلاں شخص یا فلاں کتاب کا ہے۔ فوراً پلٹ گئے کہ ان کو تو ہر گز نہ کہوں گا۔
مولانا ! آج کل تو یہ حالتِ ایمان رہ گئی ہے،  اﷲ و رسول کو گالی دینا ضرور کفر ہے مگر زید گالی دے تو معاف ہے۔
"  انّاﷲ وانّا الیہ راجعون "
بہرحال میں یہاں طریقِ اوسط اختیار کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ مبارک انجمن کون سا پسند فرماتی ہے۔
"  وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل اور اﷲ تعالٰی
ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ت)
میں نے قصد کیا تھا کہ امورِ عشرین سے وہ باتیں کہ مسودہ میں آگئی ہیں ساقط اور بعض جدید اضافہ کروں۔ اب یہ مناسب سمجھتا ہوںکہ وہ تمام پہلے سے نفیس تر پیرایہ میں مع زیاداتِ کثیرہ جلیلہ جزیلہ ذکر کروں کہ انجمن پسند فرمائے تو یہی بس ہے،  ورنہ یادگار رہے گی۔ اور حق سبحانہ و تعالٰی جس کے لیے چاہے گا کام دے گی وباﷲ التوفیق۔
یہاں اسے لکھنا چاہا تھا مگر یہ بفضلہ تعالٰی ایک کافی وافی نفیس مستقل رسالہ ہوگیا جس کا نام
"نورالفرقان بین جندالالٰہ واحباب الشیطٰن"
رکھا گیا۔ بعد تبییض ان شاء اللہ العزیز اگر انجمن مبارک کی خواہش ہوئی جداگانہ مرسل ہوگا۔
وﷲ الحمد
 (۸ و ۹) کے جوابات اس فہرست سے واضح ہوں گے جسے لکھنے کے لیے فقیر نے ابوالعلاء امجد علی صاحب سے گزارش کردی ہے اور ان شاء اللہ تعالٰی اسی نیاز نامہ کے ساتھ مرسل ہوگی،  وہ امور کہ بعض جوابات سابقہ میں گزرے ضرور ملحوظِ خاطر رہیں۔
 (۱۰) تلک عشرۃ کاملۃ ۱ ؎۔
 ( یہ پورے دس ہوئے۔ت)
 (۱؂  القرآن الکریم      ۲/  ۱۹۶)
اﷲ عزوجل انجمن کو مبارک ترکرے اور اہل سنت کو اس سے نفع عظیم پہنچائے۔ کئی سال سے بحمد ہ تعالٰی فقیر اسے خالص انجمن اہل سنت و جماعت سمجھتا ہے۔ اور بفضلہ تعالی کوئی امر قابلِ شکایت معلوم نہ ہوا،  مگر مولانا اس فقیر حقیر کے ذمہ کاموں کی بے انتہا کثرت ہے،  اور اس پر نقاہت و ضعف ِ قوت اور اس پر محض تنہائی ووحدت ،  ایسے امور ہیں کہ فقیر کو دوسرے کام کی طرف متوجہ ہونے سے مجبورا نہ باز رکھتے ہیں۔ خود اپنے مدرسہ میں قدم رکھنے تک کی فرصت نہیں ملتی۔ یہ خدمت کہ فقیر سراپا تقصیر سے میرے مولائے اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم محض اپنے کرم سے لے رہے ہیں۔ا ہل سنت و مذہب اہل سنت ہی کی خدمت ہے جو صاحب چاہیں جتنے دن چاہیں فقیر کے یہاں اقامت فرمائیں۔ مہینہ دو مہینہ سال دو سال اور فقیر کا جو منٹ خالی دیکھیں یا جس وقت فقیر کو کوئی ذاتی کام کرتے دیکھیں اسی وقت مواخذہ فرمائیں کہ تو اتنی دیر میں دوسرا کام کرسکتا تھا، ۔ اور جب بحمدہ تعالٰی سارا وقت آپ ہی کے مذہب کی خدمت گاری میں گزرتا ہے تو اب یہ کام اگر فضول یا دوسرا اس سے اہم ہو تو مجھے ہدایت فرمائی جائے،  ورنہ فقیر کا عذر قابل قبول ہے۔
مولوی سید دیدار علی صاحب و مولوی ابوالفرح عبدالمحید صاحب نے فقیر سے ایک انجمن قائم کرکے اس کی خدمات انجام دینے کو فرمایا۔ فقیر نے گزارش کی کہ جو کام اﷲ عزوجل یہاں سے لے رہا ہے ۔ ضروری ہے یا نہیں؟ فرمایا : سخت ضروری ،  فقیر نے عرض کی۔دوسرے کوئی صاحب اس پر مقرر فرمادیجئے اور مجھ سے کوئی اور خدمت اہل سنت لیجئے،  فرمایا نہ دوسرا کوئی اسے کرسکتا ہے ۔ نہ دس آدمی مل کر انجام دے سکتے ہیں۔ فقیر نے گزارش کی پھر عذر واضح ہے۔
غرض انجمن اہلِ سنت جو اہم مقاصد چاہے ان میں سے ایک میرے مقدور بھر بالفعل موجود ہے تو اسی کو خدمتِ انجمن تصور فرمائیں ،  میں جہاں ہوں اور جس حال میں ہوں مذہب اہل سنت کا ادنٰی خدمت گار اور اپنے سنی بھائیوں کا خیر خواہ ہوں۔ البتہ وجوہِ مذکورہ بالا سے نہ کہیں آنے جانے کی فرصت نہ طاقت،  نہ اپنا کام چھوڑ کر دوسرا کام لینے کی لیاقت۔
"وحسبنا اﷲ و نعم الوکیل،  واﷲ یقول الحق ویہدی السبیل "۔
اﷲ تعالٰی ہمیں کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔ اﷲ تعالٰی حق فرماتا ہے اور سیدھی راہ کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔(ت)
اس نیاز نامہ میں جو امور معروض ہوئے ہیں،  جہاں کہیں مشورہ خیر ہو ضرور مطلع فرمائیں۔ فقیر کی کیا حاجت ہے۔ امیر المومنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے زمانہ خلافتِ راشدہ میں فرماتےہیں :
لاخیرفیکم مالم تقولوا ولا خیر فی مالم اسمع ۱ ؎۔
  تم مشورہ خیر نہ دو تو تم میں بھلائی نہیں اور میں اس کو نہ سنوں تو مجھ میں بھلائی نہیں۔
وفقنا اﷲ تعالٰی وایاکم وسائراخوانہ لکل خیر وحفظنا وایاکم من کل شر،  وصل اﷲ تعالٰی علیہ سیدنا و مولانا محمد والہ وصحبہ و ابنہ وحزبہ اجمعین وبارک وسلم امین ۔
اللہ تعالٰی ہمیں تمہیں اور ہمارے تمام بھائیوں کو ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ اللہ تعالٰی ہمارے آقا و مولٰی محمد مصطفٰی  ،  آپ کی آل ،  اصحاب ،  اولاد اور تمام امت پر درود و سلام اور برکت نازل فرمائے۔ آمین (ت)

۲۷ جمادی الاُخرٰی ۱۳۳۰ھ "
Flag Counter